امریکہ کا ایرانی جہاز پر قبضہ، جنگ بندی کا مستقبل غیر یقینی کا شکار
- ایران نے امریکہ کے ساتھ مجوزہ دوسرے مذاکراتی دور میں شرکت سے انکار کر دیا ہے
امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے مستقبل پر خدشات پیر کے روز مزید بڑھ گئے، جب امریکہ نے دعویٰ کیا کہ اس نے ایک ایرانی کارگو جہاز کو قبضے میں لے لیا ہے جو اس کی بحری ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کر رہا تھا، جبکہ ایران نے اس اقدام کا بھرپور جواب دینے کا عندیہ دیا ہے۔
امریکی فوج کے مطابق اس نے اتوار کے روز ایرانی پرچم بردار جہاز پر فائرنگ کی، جو بندر عباس کی جانب جا رہا تھا، اور بعد ازاں اسے اپنی تحویل میں لے لیا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ جہاز مکمل طور پر امریکی کنٹرول میں ہے اور اس میں موجود سامان کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب ایران نے اس اقدام کو مسلح قزاقی قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ جلد اس کا جواب دیا جائے گا۔
خطے میں امن کی کوششیں بھی غیر یقینی صورتحال کا شکار دکھائی دیتی ہیں، کیونکہ ایران نے امریکہ کے ساتھ مجوزہ دوسرے مذاکراتی دور میں شرکت سے انکار کر دیا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ امریکی ناکہ بندی، دھمکی آمیز بیانات اور غیر واضح پالیسیوں کے باعث مذاکرات ممکن نہیں۔ ایران کے نائب صدر محمد رضا عارف نے کہا کہ یا تو سب کے لیے تیل کی آزاد منڈی ہوگی یا پھر سب کو اس کی قیمت چکانا پڑے گی۔
امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی برقرار رکھی ہوئی ہے جبکہ ایران نے آبنائے ہرمز میں آمد و رفت پر بار بار پابندیاں عائد کی ہیں، جس سے عالمی تیل سپلائی شدید متاثر ہو رہی ہے۔
ادھر پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ممکنہ مذاکرات کی تیاریاں جاری ہیں، جہاں امریکی وفد کی آمد متوقع تھی، تاہم اس حوالے سے اب بھی غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ یہ جنگ، جو اب آٹھویں ہفتے میں داخل ہو چکی ہے، عالمی توانائی منڈی کے لیے ایک بڑا جھٹکا ثابت ہو رہی ہے۔




















Comments