ٹرمپ حتمی معاہدے کے تحت ایران کی جانب سے جوہری معاملے پر ٹھوس پیش رفت کی شرط پر پابندیوں میں ریلیف اور منجمد فنڈز جاری کرنے پر تیار تھے، امریکی عہدیدار
دونوں ممالک کی جانب سے قائم کیے جانے والے تجارتی کونسل کے تحت ابتدائی اقدامات میں 30 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر باہمی ٹیرف میں کمی پر بات چیت شامل ہے۔
واشنگٹن میں مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ کے الیکس واتانکا نے کہا کہ سوال اب یہ نہیں رہا کہ مجتبیٰ زندہ ہیں یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ آیا ایران کے پاس ایک فعال سپریم لیڈر موجود ہے