امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ مفاہمت، جس میں پاکستان نے مبینہ طور پر سہولت کاری کا کردار ادا کیا ہے، نہ صرف خطے میں کشیدگی میں کمی کی علامت ہے بلکہ اسلام آباد کے لیے ایک نادر سفارتی موقع بھی پیش کرتی ہے
تاہم اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان اس سفارتی پیش رفت کو محض علامتی کامیابی کے طور پر دیکھے گا یا اسے ٹھوس معاشی، تزویراتی اور علاقائی فوائد میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہو سکے گا
پاکستان کی ثالثی میں امریکا-ایران امن معاہدہ فعال ہو گیا ہے، جس کے نتیجے میں وزیرِاعظم شہباز شریف نے تکنیکی مذاکرات کے آگے بڑھنے کے ساتھ ہی اپنا سوئٹزرلینڈ کا دورہ منسوخ کر دیا ہے۔
امریکا اور اسرائیل اب بھی اسلامی جمہوریہ کا تختہ الٹنے اور ملک کو تقسیم کرنے کے منصوبے پر عمل پیرا ہیں، اور حالیہ جنگ میں ناکامی کے بعد اب معاشی دباؤ، داخلی تقسیم اور تخریبی کارروائیوں کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے،ایرانی وزارت انٹیلی جنس