بجلی کے بڑھتے نرخ، 10 کلوواٹ سولر نیٹ میٹرنگ سسٹم منافع بخش سرمایہ کاری بن گیا
- اس وقت نیٹ میٹرنگ اور آف گرڈ سولر سسٹمز سے تقریباً 20 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا ہو رہی ہے
اگرچہ حکومت نے قومی گرڈ پر مالی دباؤ کے باعث ملک میں سولر نیٹ میٹرنگ کی تنصیبات کو سخت ضوابط کے تحت محدود کر دیا ہے، تاہم وہ صارفین جو سولر پینلز کی لاگت برداشت کر سکتے ہیں، تیزی سے نیٹ میٹرنگ اور آف گرڈ نظام کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔
بجلی کے مسلسل بڑھتے نرخوں اور گھریلو بجٹ پر بڑھتے دباؤ کے باعث 10 کلوواٹ ( کے وی) نیٹ میٹرنگ سولر سسٹم کی تنصیب صارفین کے لیے مالی طور پر ایک پرکشش اور منافع بخش سرمایہ کاری بن کر سامنے آئی ہے، جو نہ صرف نمایاں بچت فراہم کرتی ہے بلکہ طویل مدت کے لیے توانائی کا تحفظ بھی یقینی بناتی ہے۔
اس وقت نیٹ میٹرنگ اور آف گرڈ سولر سسٹمز سے تقریباً 20 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا ہو رہی ہے، جس کے باعث دن کے اوقات میں بجلی کی طلب اور رسد میں نمایاں فرق (ڈک کَرو) پیدا ہوتا ہے، جو خاص طور پر سردیوں میں پورے بجلی کے نظام کے لیے خطرات کا باعث بنتا ہے۔
توانائی کے شعبے کے ماہرین کے مطابق پاکستان میں 10 کلوواٹ کا روف ٹاپ سولر سسٹم محلِ وقوع اور موسم کے لحاظ سے ماہانہ تقریباً 1,200 سے 1,500 یونٹ بجلی پیدا کر سکتا ہے۔ یہ مقدار ایک اوسط بالائی متوسط طبقے کے گھر کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہے اور قومی گرڈ پر انحصار کو نمایاں حد تک کم کر دیتی ہے۔
ایک تجزیہ کار کے مطابق گزشتہ چھ برسوں کے دوران پاکستان میں سولر نیٹ میٹرنگ کی صلاحیت تقریباً 37 گنا بڑھ کر جون 2026 تک تقریباً 7 ہزار میگاواٹ تک پہنچ گئی، جس کے بعد حکومت نے بڑھتے مالی اور تکنیکی دباؤ کے باعث نیٹ میٹرنگ سے نیٹ بلنگ کی جانب پالیسی تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا۔
نیٹ میٹرنگ کے نظام کے تحت صارفین پہلے اپنی پیدا کردہ سولر بجلی خود استعمال کرتے ہیں، جبکہ اضافی یونٹس قومی گرڈ میں بھیج دیے جاتے ہیں۔ اس کے بدلے میں بجلی تقسیم کار کمپنیاں (ڈسکوز) صارفین کو کریڈٹ دیتی ہیں، جو ماہانہ بل میں ایڈجسٹ کر دیا جاتا ہے۔
تخمینوں کے مطابق جو صارفین فی یونٹ 45 سے 60 روپے تک بجلی کا ٹیرف ادا کرتے ہیں، وہ صرف اپنی پیدا کردہ بجلی استعمال کرکے ماہانہ 50 ہزار سے 90 ہزار روپے تک بچا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ گرڈ کو فروخت کیے گئے اضافی یونٹس پر بھی فی یونٹ تقریباً 19 سے 27 روپے تک ادائیگی کی جاتی ہے، جس سے مزید مالی فائدہ حاصل ہوتا ہے۔
مثال کے طور پر اگر کوئی گھرانہ ماہانہ تقریباً 1,200 یونٹ بجلی استعمال کرتا ہے اور 10 کلوواٹ سولر سسٹم سے 1,400 یونٹ پیدا کرتا ہے تو تقریباً 400 یونٹ گرڈ میں برآمد کیے جا سکتے ہیں۔ اس طرح بجلی کے بل میں بچت اور برآمدی کریڈٹس ملا کر ماہانہ تقریباً 55 ہزار سے 60 ہزار روپے کا مجموعی مالی فائدہ حاصل ہو سکتا ہے۔
اس وقت 10 کلوواٹ سولر سسٹم کی تنصیب پر تقریباً 15 لاکھ سے 22 لاکھ روپے تک لاگت آتی ہے، جو استعمال ہونے والے آلات اور تنصیب کے معیار پر منحصر ہے۔ تاہم موجودہ بجلی کے نرخوں کے باعث اس سرمایہ کاری کی واپسی کا عرصہ کم ہو کر تقریباً ڈھائی سے چار سال رہ گیا ہے، جس سے یہ سرمایہ کاری مزید پرکشش بن گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق 20 سے 25 سالہ متوقع عمر کے دوران ایسا سولر سسٹم صارفین کو مجموعی طور پر تقریباً ایک کروڑ 50 لاکھ سے ڈھائی کروڑ روپے تک کی بچت فراہم کر سکتا ہے، جبکہ مستقبل میں بجلی کے نرخوں میں اضافے اور لوڈشیڈنگ کے اثرات سے بھی تحفظ دیتا ہے۔
تاہم متعلقہ حلقوں کا کہنا ہے کہ نیٹ میٹرنگ کی پالیسی اور گرڈ کو برآمد کی جانے والی بجلی کے نرخ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) اور پاور ڈویژن کی آئندہ پالیسیوں کے مطابق تبدیل ہو سکتے ہیں، جس سے مستقبل میں حاصل ہونے والے منافع پر اثر پڑ سکتا ہے۔
اس غیر یقینی صورتحال کے باوجود شہری علاقوں، خصوصاً پنجاب میں، جہاں سورج کی روشنی زیادہ دستیاب ہے، سولر نیٹ میٹرنگ کی مقبولیت مسلسل بڑھ رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بجلی کی قیمتیں مستقبل قریب میں بھی بلند رہنے کا امکان ہے اور حکومت قابلِ تجدید توانائی پر توجہ دے رہی ہے، اس لیے روف ٹاپ سولر سسٹمز نہ صرف صارفین کا مالی بوجھ کم کریں گے بلکہ ملک کے مجموعی توانائی نظام میں بھی اہم کردار ادا کریں گے۔
ماہرین کے مطابق سولر نیٹ میٹرنگ میں تیزی سے اضافے کی بنیادی وجہ صرف حکومتی پالیسی نہیں بلکہ معاشی عوامل بھی ہیں۔ مالی سال 2021 سے 2025 کے دوران روپے کی قدر میں تقریباً 75 فیصد کمی، بجلی کے نرخوں میں تقریباً 140 فیصد اضافہ اور سولر پینلز کی درآمدی قیمتوں میں تقریباً 60 فیصد کمی نے اس رجحان کو نمایاں طور پر فروغ دیا۔
دوسری جانب مارکیٹ چھوٹے گھریلو بیٹری ماڈیولز سے تیزی سے بڑی، 14 سے 16 کلوواٹ آور (کے ڈبلیو ایچ) صلاحیت کی بیٹریوں کی طرف منتقل ہو رہی ہے، جو صارفین کے بڑھتے اعتماد، بیٹریوں کی کم ہوتی قیمتوں اور نیٹ میٹرنگ قوانین میں تبدیلی کے بعد اپنی پیدا کردہ بجلی خود استعمال کرنے کے بڑھتے رجحان کی عکاسی کرتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹمز کا استعمال بڑھ رہا ہے، پاکستان کے پاس یہ موقع موجود ہے کہ وہ تکنیکی معیارات، گرڈ انضمام، حفاظتی تقاضوں، مارکیٹ میں شمولیت اور طویل المدتی منصوبہ بندی پر مبنی جامع فریم ورک تشکیل دے تاکہ توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام سے صارفین اور بجلی کے نظام دونوں کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچایا جا سکے۔
اس وقت حکومت بھی بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹمز کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے تاکہ خاص طور پر سردیوں کے موسم میں قومی گرڈ پر دباؤ کو کم کیا جا سکے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026


























Comments