پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ سمیت خطے کی اہم طاقتوں نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے تنازعے اور حوثیوں کی جارحیت سے نمٹنے کے لیے تہران میں ایران سے مذاکرات کیے
مصر کی پارلیمان نے صدر عبدالفتاح السیسی کو حوثیوں کے خطرات کے مقابلے میں سعودی عرب کے دفاع کی اجازت دے دی، تاہم قاہرہ نے واضح کیا ہے کہ اس کی معاونت سعودی سرزمین کے تحفظ تک محدود رہے گی
”سبسڈی، سازگار ٹیکس انتظامات، تحفظ اور حکومتی سطح پر قیمتوں کے تعین کے ذریعے کاروباری اداروں کی معاونت نے متحرک اور بیرونی منڈیوں پر توجہ مرکوز کرنے والی معیشت کی ترقی کو نقصان پہنچایا ہے۔“
پاکستان کی صنعتی پالیسی کی کامیابی کا دارومدار مقامی صنعت کو عالمی منڈی میں مسابقت کے قابل بنانے پر ہے۔ برآمدات، معیار اور پیداواری صلاحیت میں بہتری، واضح حکمتِ عملی اور مؤثر عمل درآمد سے صنعتی ترقی اور معیشت کو تقویت مل سکتی ہے
”ایسے خطے میں جہاں تنازعات، جہازرانی میں خلل اور جغرافیائی و سیاسی رقابتوں کے خطرات موجود ہوں، ایسا قابل اعتماد شراکت دار قیمتی اثاثہ بن جاتا ہے جس کے تمام فریقوں سے روابط ہوں۔“