ایس ای سی پی نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ وہ غیر معمولی یا یقینی منافع کا لالچ دینے والی سرمایہ کاری اسکیموں سے دور رہیں، خصوصاً ایسی اسکیموں سے جو نئے افراد کو شامل کرنے پر انعامات دیتی ہیں
’’مالی سال 2025-26 میں پاکستان نے بیرونی مالی معاونت کا 19.9 ارب ڈالر کا ہدف عبور کرتے ہوئے 4 ارب ڈالر اضافی حاصل کیے، تاہم آئندہ برس آئی ایم ایف پروگرام سے نکلنے کے لیے زرمبادلہ کے مناسب ذخائر اور کم لاگت طویل مدتی قرضوں کا حصول ناگزیر ہے۔‘‘
’’آئی ایم ایف کی پالیسیوں کا بنیادی زور حکومتی اخراجات میں کمی کے بجائے ٹیکس وصولیوں کے بلند اہداف پر ہے، جس کا بوجھ بالآخر عام آدمی کو اٹھانا پڑتا ہے۔‘‘
گیس بحران کے اثرات گھریلو بجٹ سے آگے بڑھ رہے ہیں، چھوٹے ہوٹل اور کھانے پینے کے مراکز ایل پی جی پر انحصار کرتے ہیں، ایندھن مہنگا ہونے سے ان کے اخراجات اور کھانوں کی قیمتیں بڑھتی ہیں، جبکہ سپلائی میں تعطل کاروباری سرگرمیوں اور روزگار کو متاثر کرتا ہے