غیر فعال قرار دی گئی کمپنیوں میں لاہور کی 13,927، اسلام آباد کی 13,859، کراچی کی 4,868، پشاور کی 2,031، ملتان کی 1,861، فیصل آباد کی 1,384، گلگت کی 1,102، کوئٹہ کی 436 اور سکھر کی 236 کمپنیاں شامل ہیں
حکومت نے ابتدائی طور پر دسمبر میں بولی کا عمل مکمل کرنے کا منصوبہ بنایا تھا، تاہم اس میں معمولی تاخیر ہوسکتی ہے اور اب اسے آئندہ سال کی پہلی سہ ماہی تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، چیئرمین نجکاری کمیشن
وفاقی حکومت کے لیے بظاہر یہ ضروری ہوگیا ہے کہ وہ اپنے ہی ملازمین کو تیسری مرتبہ یاد دہانی کرائے کہ انہیں یہ ظاہر کرنا ہوگا کہ آیا ان کے پاس کسی دوسرے ملک کی شہریت بھی ہے یا نہیں
پاکستان میں ہمیشہ ظاہر شدہ آمدن پر ٹیکس عائد ہوتا رہا ہے اور غیر واضح ذرائع سے حاصل ہونے والی دولت کے معاملے میں سودے بازی ہوتی رہی، یہ سلسلہ اب ختم ہونا چاہیے