یہ تازہ جھڑپ ایسے وقت میں ہوئی ہے جب چند روز قبل، 27 اکتوبر کی شب افغان طالبان فورسز نے پاکستانی شہریوں کے گھروں اور انگور اڈہ بازار پر بلااشتعال فائرنگ کی تھی
وفاقی حکومت کے لیے بظاہر یہ ضروری ہوگیا ہے کہ وہ اپنے ہی ملازمین کو تیسری مرتبہ یاد دہانی کرائے کہ انہیں یہ ظاہر کرنا ہوگا کہ آیا ان کے پاس کسی دوسرے ملک کی شہریت بھی ہے یا نہیں
طرزِ حکمرانی کے مسائل کا برقرار رہنا اور کئی شعبوں میں ان کی شدت میں بظاہر اضافہ ہونا، بنیادی وجوہات کا تنقیدی جائزہ لینے کا تقاضا کرتا ہے۔ کیا ان ناکامیوں کی بنیادی وجہ اصلاحات کی ناقص منصوبہ بندی اور کمزور عمل درآمد ہے یا ہم ایک گہرے ادارہ جاتی مسئلے کو نظرانداز کر رہے ہیں، یعنی بیوروکریسی کی سوچ، تنظیمی ثقافت اور انتظامی طریقہ کار، جن کے ذریعے اصلاحات تیار، سمجھی اور نافذ کی جاتی ہیں؟
پاکستان میں ہمیشہ ظاہر شدہ آمدن پر ٹیکس عائد ہوتا رہا ہے اور غیر واضح ذرائع سے حاصل ہونے والی دولت کے معاملے میں سودے بازی ہوتی رہی، یہ سلسلہ اب ختم ہونا چاہیے