شاید فنانس بل 2026 کا سب سے اہم پہلو وہ ہے جسے یہ چھیڑنے سے گریز کرتا ہے۔ یہ زرعی آمدنی پر ٹیکس کے مسئلے کو بنیادی سطح پر حل نہیں کرتا، نہ ہی ریٹیل سیکٹر کی ٹیکسیشن میں جامع اصلاحات متعارف کراتا ہے۔
یہ ودہولڈنگ ٹیکسوں پر حد سے زیادہ انحصار ختم کرنے کی کوشش نہیں کرتا، قومی سطح پر یکساں سیلز ٹیکس نظام قائم نہیں کرتا
اگرچہ تمام تر ذمہ داری ملازمین پر ڈال دینا آسان ہے، لیکن اصل سوال جو رہنماؤں کو خود سے پوچھنا چاہیے، یہ نہیں کہ ”وہ کمپنی کے وفادار کیوں نہیں؟“ بلکہ یہ ہے کہ ”ہم نے ان کی ادارے سے وابستگی اور تعلق کو مضبوط بنانے کے لیے کیا کیا ہے؟“
پاکستان کا مستقبل اس فیصلے پر منحصر ہے کہ اس کے رہنما خود انحصاری، اصلاحات اور عوامی خدمت کا راستہ اختیار کرتے ہیں یا ایسی پالیسیوں کو جاری رکھتے ہیں جو انحصار اور عدم مساوات کو مزید گہرا کرتی ہیں