<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Latest News</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 24 Jul 2026 17:45:50 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 24 Jul 2026 17:45:50 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسحاق ڈار کا ایس سی او سے افغانستان میں طالبان حکومت کو دہشت گردی پر جوابدہ ٹھہرانے کا مطالبہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289152/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) پر زور دیا ہے کہ وہ افغان طالبان کو ان کی دہشت گردی مخالف اہم ذمہ داریاں یاد دلائے اور ان پر عمل درآمد کروائے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے خبردار کیا کہ افغان سرزمین سے جنم لینے والی دہشت گردی اس خطے کو درپیش شدید ترین سیکیورٹی چیلنجز میں سے ایک ہے۔ چولپون آتا میں ایس سی او کی کونسل آف فارن منسٹرز کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان ایک پرامن، مستحکم، علاقائی طور پر منسلک اور خوشحال افغانستان کا خواہاں ہے اور انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایسا نتیجہ تمام ایس سی او رکن ممالک کے مفاد میں ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارا خطہ ایک اہم دور سے گزر رہا ہے۔ ایک پرامن، مستحکم، علاقائی طور پر منسلک اور خوشحال افغانستان دیکھنا ہمیشہ سے پاکستان کی خواہش رہی ہے اور آئندہ بھی رہے گی۔وزیر خارجہ نے کہا کہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ (ای ٹی آئی ایم) سمیت دیگر دہشت گرد گروہ افغان سرزمین سے بھرتیوں، تربیت اور حملوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ صرف اس سال 2,000 سے زائد دہشت گردانہ واقعات میں 560 سے زائد پاکستانی شہید ہو چکے ہیں اور مزید کہا کہ ان میں سے بعض حملوں میں افغان شہری بھی ملوث پائے گئے ہیں۔انہوں نے ایس سی او پر زور دیا کہ وہ افغان طالبان سے علاقائی اور عالمی امن کے لیے دہشت گردی کے خاتمے سے متعلق کیے گئے اپنے وعدوں اور ذمہ داریوں کو پورا کرنے کا مطالبہ کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ پائیدار امن، استحکام اور معاشی ترقی صرف دہشت گردی کے ناسور کو ختم کرکے ہی حاصل کی جا سکتی ہے۔پاکستان کی سفارتی کوششوں کو اجاگر کرتے ہوئے نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ اسلام آباد کا ماننا ہے کہ مذاکرات اور سفارت کاری ہی تنازعات کو حل کرنے اور پائیدار امن کو یقینی بنانے کا واحد طریقہ ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اپریل 2026ء میں ایران اور امریکہ کے درمیان اسلام آباد ٹاکس کی سہولت کاری اور میزبانی کی، جس کے نتیجے میں 47 سال بعد دونوں ممالک کے درمیان پہلی اعلیٰ سطح کی براہ راست سفارتی بات چیت ہوئی اور  اسلام آباد ایم او یو (یادداشتِ نہم) پر دستخط ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نائب وزیر اعظم نے کہا کہ بین الاقوامی برادری کو اسلام آباد ایم او یو اور جاری تکنیکی مذاکرات سے پیدا ہونے والے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے تنازع کے مستقل اور پرامن حل کی کوشش کرنی چاہیے۔انہوں نے یہ خبردار بھی کیا کہ اس کے ساتھ ساتھ ہمیں ان عناصر سے بھی ہوشیار رہنا ہوگا جو علاقائی استحکام کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔ ایسے عناصر امن کے عمل کو سبوتاژ کرنے اور حاصل کردہ پیشرفت کو معکوس کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیں گے۔ایس سی او کے حوالے سے بات کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے تنظیم کے مقاصد کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا اور کہا کہ 2005ء میں مبصر کی حیثیت سے شروع ہونے والا پاکستان کا سفر 2017ء میں مکمل رکنیت تک پہنچنا کثیر الجہتی سفارت کاری کے لیے اس کے غیر متزلزل عزم کی عکاسی کرتا ہے۔انہوں نے نشاندہی کی کہ پاکستان اس وقت سال 26-2025 کے لیے ایس سی او کے علاقائی انسدادِ دہشت گردی ڈھانچے کی صدارت کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد رواں سال کے آخر میں ایس سی او کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ کی صدارت سنبھالنے اور پھر 2027ء میں پاکستان میں ایس سی او سربراہی اجلاس کی میزبانی کے لیے پرامید ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) پر زور دیا ہے کہ وہ افغان طالبان کو ان کی دہشت گردی مخالف اہم ذمہ داریاں یاد دلائے اور ان پر عمل درآمد کروائے۔</strong></p>
<p>انہوں نے خبردار کیا کہ افغان سرزمین سے جنم لینے والی دہشت گردی اس خطے کو درپیش شدید ترین سیکیورٹی چیلنجز میں سے ایک ہے۔ چولپون آتا میں ایس سی او کی کونسل آف فارن منسٹرز کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان ایک پرامن، مستحکم، علاقائی طور پر منسلک اور خوشحال افغانستان کا خواہاں ہے اور انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایسا نتیجہ تمام ایس سی او رکن ممالک کے مفاد میں ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارا خطہ ایک اہم دور سے گزر رہا ہے۔ ایک پرامن، مستحکم، علاقائی طور پر منسلک اور خوشحال افغانستان دیکھنا ہمیشہ سے پاکستان کی خواہش رہی ہے اور آئندہ بھی رہے گی۔وزیر خارجہ نے کہا کہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ (ای ٹی آئی ایم) سمیت دیگر دہشت گرد گروہ افغان سرزمین سے بھرتیوں، تربیت اور حملوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ صرف اس سال 2,000 سے زائد دہشت گردانہ واقعات میں 560 سے زائد پاکستانی شہید ہو چکے ہیں اور مزید کہا کہ ان میں سے بعض حملوں میں افغان شہری بھی ملوث پائے گئے ہیں۔انہوں نے ایس سی او پر زور دیا کہ وہ افغان طالبان سے علاقائی اور عالمی امن کے لیے دہشت گردی کے خاتمے سے متعلق کیے گئے اپنے وعدوں اور ذمہ داریوں کو پورا کرنے کا مطالبہ کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ پائیدار امن، استحکام اور معاشی ترقی صرف دہشت گردی کے ناسور کو ختم کرکے ہی حاصل کی جا سکتی ہے۔پاکستان کی سفارتی کوششوں کو اجاگر کرتے ہوئے نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ اسلام آباد کا ماننا ہے کہ مذاکرات اور سفارت کاری ہی تنازعات کو حل کرنے اور پائیدار امن کو یقینی بنانے کا واحد طریقہ ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اپریل 2026ء میں ایران اور امریکہ کے درمیان اسلام آباد ٹاکس کی سہولت کاری اور میزبانی کی، جس کے نتیجے میں 47 سال بعد دونوں ممالک کے درمیان پہلی اعلیٰ سطح کی براہ راست سفارتی بات چیت ہوئی اور  اسلام آباد ایم او یو (یادداشتِ نہم) پر دستخط ہوئے۔</p>
<p>نائب وزیر اعظم نے کہا کہ بین الاقوامی برادری کو اسلام آباد ایم او یو اور جاری تکنیکی مذاکرات سے پیدا ہونے والے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے تنازع کے مستقل اور پرامن حل کی کوشش کرنی چاہیے۔انہوں نے یہ خبردار بھی کیا کہ اس کے ساتھ ساتھ ہمیں ان عناصر سے بھی ہوشیار رہنا ہوگا جو علاقائی استحکام کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔ ایسے عناصر امن کے عمل کو سبوتاژ کرنے اور حاصل کردہ پیشرفت کو معکوس کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیں گے۔ایس سی او کے حوالے سے بات کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے تنظیم کے مقاصد کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا اور کہا کہ 2005ء میں مبصر کی حیثیت سے شروع ہونے والا پاکستان کا سفر 2017ء میں مکمل رکنیت تک پہنچنا کثیر الجہتی سفارت کاری کے لیے اس کے غیر متزلزل عزم کی عکاسی کرتا ہے۔انہوں نے نشاندہی کی کہ پاکستان اس وقت سال 26-2025 کے لیے ایس سی او کے علاقائی انسدادِ دہشت گردی ڈھانچے کی صدارت کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد رواں سال کے آخر میں ایس سی او کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ کی صدارت سنبھالنے اور پھر 2027ء میں پاکستان میں ایس سی او سربراہی اجلاس کی میزبانی کے لیے پرامید ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289152</guid>
      <pubDate>Fri, 24 Jul 2026 17:45:26 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/241734238a4c5fa.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/241734238a4c5fa.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بنگلہ دیشی صدر شہاب الدین نے علالت کے باعث عہدہ چھوڑ دیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289151/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین، جو معزول وزیراعظم شیخ حسینہ کے سابق اتحادی ہیں، نے صحت کے شدید مسائل کا حوالہ دیتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے، یہ بات ان کے دفتر سے جاری بیان میں کہی گئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;76 سالہ شہاب الدین اپریل 2023ء سے صدر کے عہدے پر فائز تھے، جس میں 2024ء میں طلبا کی قیادت میں ہونے والے عوامی احتجاج کے بعد شیخ حسینہ کے بھارت فرار ہونے کے بعد کے پرتشدد اور بے یقینی سے بھرپور مہینے بھی شامل ہیں۔شہاب الدین نے اپنے پریس سکرٹری کی جانب سے جاری بیان میں کہا کہ حالیہ طبی معائنوں میں مجھ میں  آٹونومک نیوروپیتھی نامی بیماری کی تشخیص ہوئی ہے۔ اس بیماری کی وجہ سے میں کبھی کبھار لمحاتی طور پر ہوش و حواس کھو بیٹھتا ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہاب الدین کے استعفے سے شیخ حسینہ کے متوقع اقتدار میں واپسی کے منصوبے سے پانچ ماہ قبل اعلیٰ ترین سرکاری عہدوں پر ان کا کوئی اتحادی نہیں بچے گا۔ ان کی سیاسی جماعت عوامی لیگ پر پابندی عائد ہے اور 2024ء میں ان کی حکومت کے خاتمے کا سبب بننے والے خونی احتجاج کے بعد سے ان کے بیشتر رہنما اور کارکنان يا تو جیلوں میں ہیں یا روپوش ہو چکے ہیں۔بیان میں مزید کہا گیا کہ نیا صدر منتخب ہونے تک قومی اسمبلی (جاتیا سنگسد) کے اسپیکر صدر کے فرائض سرانجام دیں گے۔ریاست کے سربراہ کی حیثیت سے شہاب الدین مسلح افواج کے سپریم کمانڈر ہیں، تاہم 17 کروڑ 30 لاکھ کی آبادی پر مشتمل اس مسلم اکثریتی ملک میں انتظامی اختیارات وزیراعظم اور کابینہ کے پاس ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رائٹرز نے جمعرات کو ہی رپورٹ کر دیا تھا کہ معزول وزیراعظم شیخ حسینہ کے سابق اتحادی، شہاب الدین، جمعہ کو اپنے عہدے سے مستعفی ہو جائیں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین، جو معزول وزیراعظم شیخ حسینہ کے سابق اتحادی ہیں، نے صحت کے شدید مسائل کا حوالہ دیتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے، یہ بات ان کے دفتر سے جاری بیان میں کہی گئی۔</strong></p>
<p>76 سالہ شہاب الدین اپریل 2023ء سے صدر کے عہدے پر فائز تھے، جس میں 2024ء میں طلبا کی قیادت میں ہونے والے عوامی احتجاج کے بعد شیخ حسینہ کے بھارت فرار ہونے کے بعد کے پرتشدد اور بے یقینی سے بھرپور مہینے بھی شامل ہیں۔شہاب الدین نے اپنے پریس سکرٹری کی جانب سے جاری بیان میں کہا کہ حالیہ طبی معائنوں میں مجھ میں  آٹونومک نیوروپیتھی نامی بیماری کی تشخیص ہوئی ہے۔ اس بیماری کی وجہ سے میں کبھی کبھار لمحاتی طور پر ہوش و حواس کھو بیٹھتا ہوں۔</p>
<p>شہاب الدین کے استعفے سے شیخ حسینہ کے متوقع اقتدار میں واپسی کے منصوبے سے پانچ ماہ قبل اعلیٰ ترین سرکاری عہدوں پر ان کا کوئی اتحادی نہیں بچے گا۔ ان کی سیاسی جماعت عوامی لیگ پر پابندی عائد ہے اور 2024ء میں ان کی حکومت کے خاتمے کا سبب بننے والے خونی احتجاج کے بعد سے ان کے بیشتر رہنما اور کارکنان يا تو جیلوں میں ہیں یا روپوش ہو چکے ہیں۔بیان میں مزید کہا گیا کہ نیا صدر منتخب ہونے تک قومی اسمبلی (جاتیا سنگسد) کے اسپیکر صدر کے فرائض سرانجام دیں گے۔ریاست کے سربراہ کی حیثیت سے شہاب الدین مسلح افواج کے سپریم کمانڈر ہیں، تاہم 17 کروڑ 30 لاکھ کی آبادی پر مشتمل اس مسلم اکثریتی ملک میں انتظامی اختیارات وزیراعظم اور کابینہ کے پاس ہوتے ہیں۔</p>
<p>رائٹرز نے جمعرات کو ہی رپورٹ کر دیا تھا کہ معزول وزیراعظم شیخ حسینہ کے سابق اتحادی، شہاب الدین، جمعہ کو اپنے عہدے سے مستعفی ہو جائیں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289151</guid>
      <pubDate>Fri, 24 Jul 2026 17:30:57 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/241723254be944a.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/241723254be944a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>16 ہزار کلومیٹر کا تنہا سفر، پاکستانی پرچم کے ساتھ امریکی چکر مکمل کرنے کا اعزاز</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289147/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;”کیا آپ واقعی پاکستان سے بائیک چلاتے ہوئے یہاں تک آئے ہیں؟“ اس شخص نے شانِ علی کی رائیڈنگ جیکٹ پر سلے پاکستانی پرچم کو دیکھتے ہوئے حیرت سے پوچھا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ سوال بے جا نہیں تھا۔ اگرچہ علی کینیڈا سے امریکا میں داخل ہوئے تھے، لیکن ان کے پاکستانی پاسپورٹ اور جیکٹ پر لگے پاکستانی پرچم کو دیکھ کر اکثر لوگ یہی سمجھتے کہ وہ بائیک پر ہی پاکستان سے مختلف براعظموں کا سفر طے کرکے امریکا پہنچے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شانِ علی نے خود پر یہ ذمہ داری عائد کی کہ وہ کینیڈا سے آغاز کرتے ہوئے بائیک پر امریکا کا مکمل سولو لوپ (دائرہ نما سفر) مکمل کریں، اور وہ یہ کارنامہ انجام دینے والے واحد پاکستانی بن گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لاہور سے تعلق رکھنے والے اس مہم جو کے لیے یہ سفر محض امریکا میں ہزاروں کلومیٹر بائیک چلانے کا نام نہیں تھا، بلکہ اپنی جسمانی و ذہنی صلاحیتوں کو آزمانے اور غیر یقینی حالات کا براہِ راست سامنا کرنے کا ایک منفرد تجربہ بھی تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;33 روزہ یہ مہم کئی ماہ کی باریک بینی سے کی گئی منصوبہ بندی کا نتیجہ تھی۔ سفر کے آغاز کے لیے علی نے سوزوکی ڈی آر 650 کا انتخاب کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ”جب آپ اکیلے سفر کر رہے ہوں تو بائیک کے گرنے کا امکان ہمیشہ موجود رہتا ہے، خاص طور پر دشوار گزار راستوں پر۔ ایسے میں سوزوکی ڈی آر 650 جیسی نسبتاً ہلکی بائیک، جسے آپ خود اٹھا سکیں، ایک بہت بڑا فائدہ ثابت ہوتی ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سفر کے آغاز ہی سے شانِ علی جانتے تھے کہ انہیں ہر مرحلے پر حالات کے مطابق خود کو ڈھالنا ہوگا۔ موسم کی بدلتی صورتِ حال، سڑکوں کی کیفیت، روزانہ طے ہونے والا فاصلہ، کیمپنگ کے مواقع اور سب سے بڑھ کر پاکستانی پاسپورٹ کے ساتھ سفر—یہ تمام عوامل ان کی منصوبہ بندی کا اہم حصہ تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ”تقریباً ہر شخص نے مجھے مشورہ دیا کہ ایسے غیر یقینی حالات میں، خاص طور پر ایک پاکستانی کی حیثیت سے اکیلے امریکا کا سفر نہ کروں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم علی نے اس خوف سے پیچھے ہٹنے کے بجائے اس کا سامنا کرنے کا فیصلہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا کے وسیع و عریض مناظر، کھلے میدانوں، پہاڑوں اور وادیوں کے درمیان بل کھاتی شاہراہوں پر سفر کے دوران جلد ہی انہیں احساس ہوا کہ ان کے بیشتر خدشات بے بنیاد تھے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/22170112af8aff5.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/22170112af8aff5.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;16 ہزار کلومیٹر کے اس طویل سفر کے دوران شانِ علی کی ملاقات ایسے بے شمار لوگوں سے ہوئی جنہوں نے نہ صرف ان کا پرتپاک استقبال کیا بلکہ پاکستان کے بارے میں سوالات کیے اور اپنی مقامی برادریوں کی دلچسپ کہانیاں بھی سنائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ گزشتہ برسوں کے دوران پاکستان اور امریکا کے تعلقات میں کئی نشیب و فراز آئے، تاہم علی کا کہنا ہے کہ سیاست نے ان کے ذاتی روابط پر شاذ و نادر ہی اثر ڈالا۔ ان کے مطابق زیادہ تر امریکی صرف پاکستان کے بارے میں جاننے کے خواہش مند تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، “جن لوگوں سے میری ملاقات ہوئی، ان میں سے بہت سے چھوٹے قصبوں اور دیہی علاقوں سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی زندگی میں پہلی بار کسی پاکستانی سے مل رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ نہایت خوش اخلاق، مہمان نواز اور میرے ملک کے بارے میں جاننے میں حقیقی دلچسپی رکھتے تھے۔ دوسری جانب میں بھی ان کی زندگی، ثقافت اور مقامی برادریوں کے بارے میں جاننے کے لیے اتنا ہی پرجوش تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوں یہ سفر ایک خوبصورت ثقافتی تبادلے میں بدل گیا، جہاں دونوں جانب سے ایک دوسرے پر مثبت تاثر چھوڑنے کی خواہش نمایاں تھی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/2217011258276f7.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/2217011258276f7.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;شانِ علی کا یہ سفر ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان میں موٹر سائیکل پر سیاحت کا رجحان تیزی سے مقبول ہو رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں ابرار حسن اور زینت عرفان جیسے بائیک سواروں اور ٹریول کریئیٹرز نے موٹر سائیکل کے ذریعے طویل سفروں کو نمایاں مقام دلایا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زینت عرفان، جنہیں ”موٹر سائیکل گرل“ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، محض 20 برس کی عمر میں پاکستان کے شمالی علاقوں کا تنہا موٹر سائیکل سفر مکمل کرنے والی پہلی پاکستانی خاتون بنیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم امریکا بھر کا یہ سولو سفر شانِ علی کے لیے جلد ہی عزم، استقامت اور برداشت کا کڑا امتحان ثابت ہوا۔ سب سے مشکل مرحلہ ییلو اسٹون نیشنل پارک میں پیش آیا، جہاں بارش اچانک برفانی طوفان میں بدل گئی اور انہیں جولائی کے مہینے میں برفباری کے دوران موٹر سائیکل چلانا پڑی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/22170112c06a454.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/22170112c06a454.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;علی نے بتایا، ”اس رات میں مکمل بھیگے ہوئے خیمے میں سویا۔ اگلی صبح بارش ہی میں اپنا سامان سمیٹا اور یخ بستہ سردی کے باعث نیلی پڑ جانے والی انگلیوں کے ساتھ دوبارہ سفر پر نکل کھڑا ہوا۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہی وہ لمحات تھے جو ان کے ذہن میں ہمیشہ تازہ رہیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک بالکل مختلف تجربے کا ذکر کرتے ہوئے علی نے بتایا کہ امریکا کی ریاست ایریزونا میں انہیں کئی گھنٹوں تک تپتے سورج اور شدید گرمی کا سامنا کرتے ہوئے بائیک چلانی پڑی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  ' data-original-src='https://www.instagram.com/accounts/password/reset/'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://www.instagram.com/accounts/password/reset/'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;علی نے بتایا، “امریکا کے جنوبی صحرائی علاقے انتہائی جھلسا دینے والی گرمی سے بھرے ہوئے تھے۔ ایک موقع پر مجھے ایریزونا کے تپتے سورج تلے تقریباً 45 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت میں کئی گھنٹوں تک مسلسل بائیک چلانا پڑی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میں پسینے میں شرابور تھا، بار بار پانی پی رہا تھا اور محفوظ انداز میں سفر جاری رکھنے کے لیے پوری طرح ذہنی طور پر یکسو تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پوری مہم کے دوران میرے لیے جسمانی لحاظ سے سب سے کڑا امتحان تھا۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علی نے بتایا کہ ایک موقع ایسا بھی آیا جب وہ ہمت ہار کر سفر ادھورا چھوڑنے کے لیے تیار ہو گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس مہم کا سب سے خوفناک لمحہ خراب موسم نہیں بلکہ ایریزونا کے صحرا میں مانیومنٹ ویلی کے قریب پیش آنے والا ایک حادثہ تھا۔ زمین پر گرنے کے بعد ان کے ذہن میں سب سے پہلا خیال یہی آیا کہ ان کا سفر یہیں ختم ہو گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;”بس، اب سفر ختم ہو گیا۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم خود کو اور موٹر سائیکل کو چیک کرنے کے بعد انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور سفر جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ”میں نے خود سے وعدہ کیا تھا کہ اس مہم کو اسی انداز میں مکمل کروں گا جس طرح اس کا خواب دیکھا تھا، اور میں نے اپنا وعدہ پورا کیا۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تمام مشکلات کے باوجود علی کے مطابق کیلیفورنیا کی ہائی وے ون اس پوری مہم کی سب سے یادگار منزل ثابت ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ”ہر موڑ پر بحرالکاہل کا ایک نیا دلکش منظر سامنے آ جاتا تھا۔ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے کسی خوبصورت تصویری پوسٹ کارڈ کے اندر سفر کر رہا ہوں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علی نے کہا کہ پورے سفر کے دوران انہیں اس بات کا بھرپور احساس رہا کہ وہ جہاں بھی جا رہے ہیں، پاکستان کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ ان کی جیکٹ پر لگا پاکستانی پرچم اکثر ثقافت، سیاست اور روزمرہ زندگی سے متعلق دلچسپ گفتگو کا آغاز بن جاتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ”جب آپ اپنے ملک کا پرچم ساتھ لیے پھرتے ہیں تو آپ اپنے ہر عمل کے بارے میں زیادہ ذمہ دار ہو جاتے ہیں، کیونکہ آپ جانتے ہیں کہ بہت سے لوگوں کے لیے آپ ہی ان کے ملک میں ملنے والے پہلے پاکستانی ہوتے ہیں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنے اس منفرد سفر پر نظر ڈالتے ہوئے علی نے کہا کہ اگر انہیں کچھ تبدیل کرنے کا موقع ملتا تو وہ صرف ایک چیز بدلتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ”میں مسلسل ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کے بجائے کچھ مقامات پر زیادہ وقت گزارتا۔ امریکا بے حد وسیع اور حیرت انگیز طور پر متنوع ملک ہے۔ چند سو میل کا سفر طے کرنے کے بعد ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کسی نئے ملک میں داخل ہو گئے ہوں۔ امریکا کے تمام رنگوں اور تجربات کو ایک ہی زندگی میں سمیٹنا ممکن نہیں۔“&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/221701121d41254.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/221701121d41254.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;علی کا ماننا ہے کہ مثالی حالات کا انتظار ہی اکثر کسی بھی سفر کے آغاز میں سب سے بڑی رکاوٹ بن جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دنیا کی سیر اور نئی منزلیں سر کرنے کا خواب دیکھنے والے پاکستانی نوجوانوں کے لیے ان کا پیغام نہایت سادہ مگر حوصلہ افزا ہے: اپنے خوابوں سے کبھی دستبردار نہ ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ”اپنے قدم رکتے نہ دیں، آگے بڑھتے رہیں، چاہے آپ کی رفتار سست ہی کیوں نہ ہو۔ آپ کبھی نہیں جانتے کہ درست موقع کب مل جائے، لیکن جب وہ موقع آئے تو خود کو اس سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے تیار رکھیں۔“&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>”کیا آپ واقعی پاکستان سے بائیک چلاتے ہوئے یہاں تک آئے ہیں؟“ اس شخص نے شانِ علی کی رائیڈنگ جیکٹ پر سلے پاکستانی پرچم کو دیکھتے ہوئے حیرت سے پوچھا۔</strong></p>
<p>یہ سوال بے جا نہیں تھا۔ اگرچہ علی کینیڈا سے امریکا میں داخل ہوئے تھے، لیکن ان کے پاکستانی پاسپورٹ اور جیکٹ پر لگے پاکستانی پرچم کو دیکھ کر اکثر لوگ یہی سمجھتے کہ وہ بائیک پر ہی پاکستان سے مختلف براعظموں کا سفر طے کرکے امریکا پہنچے ہیں۔</p>
<p>شانِ علی نے خود پر یہ ذمہ داری عائد کی کہ وہ کینیڈا سے آغاز کرتے ہوئے بائیک پر امریکا کا مکمل سولو لوپ (دائرہ نما سفر) مکمل کریں، اور وہ یہ کارنامہ انجام دینے والے واحد پاکستانی بن گئے۔</p>
<p>لاہور سے تعلق رکھنے والے اس مہم جو کے لیے یہ سفر محض امریکا میں ہزاروں کلومیٹر بائیک چلانے کا نام نہیں تھا، بلکہ اپنی جسمانی و ذہنی صلاحیتوں کو آزمانے اور غیر یقینی حالات کا براہِ راست سامنا کرنے کا ایک منفرد تجربہ بھی تھا۔</p>
<p>33 روزہ یہ مہم کئی ماہ کی باریک بینی سے کی گئی منصوبہ بندی کا نتیجہ تھی۔ سفر کے آغاز کے لیے علی نے سوزوکی ڈی آر 650 کا انتخاب کیا۔</p>
<p>انہوں نے بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ”جب آپ اکیلے سفر کر رہے ہوں تو بائیک کے گرنے کا امکان ہمیشہ موجود رہتا ہے، خاص طور پر دشوار گزار راستوں پر۔ ایسے میں سوزوکی ڈی آر 650 جیسی نسبتاً ہلکی بائیک، جسے آپ خود اٹھا سکیں، ایک بہت بڑا فائدہ ثابت ہوتی ہے۔“</p>
<p>سفر کے آغاز ہی سے شانِ علی جانتے تھے کہ انہیں ہر مرحلے پر حالات کے مطابق خود کو ڈھالنا ہوگا۔ موسم کی بدلتی صورتِ حال، سڑکوں کی کیفیت، روزانہ طے ہونے والا فاصلہ، کیمپنگ کے مواقع اور سب سے بڑھ کر پاکستانی پاسپورٹ کے ساتھ سفر—یہ تمام عوامل ان کی منصوبہ بندی کا اہم حصہ تھے۔</p>
<p>انہوں نے کہا، ”تقریباً ہر شخص نے مجھے مشورہ دیا کہ ایسے غیر یقینی حالات میں، خاص طور پر ایک پاکستانی کی حیثیت سے اکیلے امریکا کا سفر نہ کروں۔“</p>
<p>تاہم علی نے اس خوف سے پیچھے ہٹنے کے بجائے اس کا سامنا کرنے کا فیصلہ کیا۔</p>
<p>امریکا کے وسیع و عریض مناظر، کھلے میدانوں، پہاڑوں اور وادیوں کے درمیان بل کھاتی شاہراہوں پر سفر کے دوران جلد ہی انہیں احساس ہوا کہ ان کے بیشتر خدشات بے بنیاد تھے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/22170112af8aff5.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/22170112af8aff5.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>16 ہزار کلومیٹر کے اس طویل سفر کے دوران شانِ علی کی ملاقات ایسے بے شمار لوگوں سے ہوئی جنہوں نے نہ صرف ان کا پرتپاک استقبال کیا بلکہ پاکستان کے بارے میں سوالات کیے اور اپنی مقامی برادریوں کی دلچسپ کہانیاں بھی سنائیں۔</p>
<p>اگرچہ گزشتہ برسوں کے دوران پاکستان اور امریکا کے تعلقات میں کئی نشیب و فراز آئے، تاہم علی کا کہنا ہے کہ سیاست نے ان کے ذاتی روابط پر شاذ و نادر ہی اثر ڈالا۔ ان کے مطابق زیادہ تر امریکی صرف پاکستان کے بارے میں جاننے کے خواہش مند تھے۔</p>
<p>انہوں نے کہا، “جن لوگوں سے میری ملاقات ہوئی، ان میں سے بہت سے چھوٹے قصبوں اور دیہی علاقوں سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی زندگی میں پہلی بار کسی پاکستانی سے مل رہے ہیں۔</p>
<p>وہ نہایت خوش اخلاق، مہمان نواز اور میرے ملک کے بارے میں جاننے میں حقیقی دلچسپی رکھتے تھے۔ دوسری جانب میں بھی ان کی زندگی، ثقافت اور مقامی برادریوں کے بارے میں جاننے کے لیے اتنا ہی پرجوش تھا۔</p>
<p>یوں یہ سفر ایک خوبصورت ثقافتی تبادلے میں بدل گیا، جہاں دونوں جانب سے ایک دوسرے پر مثبت تاثر چھوڑنے کی خواہش نمایاں تھی۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/2217011258276f7.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/2217011258276f7.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>شانِ علی کا یہ سفر ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان میں موٹر سائیکل پر سیاحت کا رجحان تیزی سے مقبول ہو رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں ابرار حسن اور زینت عرفان جیسے بائیک سواروں اور ٹریول کریئیٹرز نے موٹر سائیکل کے ذریعے طویل سفروں کو نمایاں مقام دلایا ہے۔</p>
<p>زینت عرفان، جنہیں ”موٹر سائیکل گرل“ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، محض 20 برس کی عمر میں پاکستان کے شمالی علاقوں کا تنہا موٹر سائیکل سفر مکمل کرنے والی پہلی پاکستانی خاتون بنیں۔</p>
<p>تاہم امریکا بھر کا یہ سولو سفر شانِ علی کے لیے جلد ہی عزم، استقامت اور برداشت کا کڑا امتحان ثابت ہوا۔ سب سے مشکل مرحلہ ییلو اسٹون نیشنل پارک میں پیش آیا، جہاں بارش اچانک برفانی طوفان میں بدل گئی اور انہیں جولائی کے مہینے میں برفباری کے دوران موٹر سائیکل چلانا پڑی۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/22170112c06a454.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/22170112c06a454.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>علی نے بتایا، ”اس رات میں مکمل بھیگے ہوئے خیمے میں سویا۔ اگلی صبح بارش ہی میں اپنا سامان سمیٹا اور یخ بستہ سردی کے باعث نیلی پڑ جانے والی انگلیوں کے ساتھ دوبارہ سفر پر نکل کھڑا ہوا۔“</p>
<p>تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہی وہ لمحات تھے جو ان کے ذہن میں ہمیشہ تازہ رہیں گے۔</p>
<p>ایک بالکل مختلف تجربے کا ذکر کرتے ہوئے علی نے بتایا کہ امریکا کی ریاست ایریزونا میں انہیں کئی گھنٹوں تک تپتے سورج اور شدید گرمی کا سامنا کرتے ہوئے بائیک چلانی پڑی۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  ' data-original-src='https://www.instagram.com/accounts/password/reset/'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://www.instagram.com/accounts/password/reset/'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>علی نے بتایا، “امریکا کے جنوبی صحرائی علاقے انتہائی جھلسا دینے والی گرمی سے بھرے ہوئے تھے۔ ایک موقع پر مجھے ایریزونا کے تپتے سورج تلے تقریباً 45 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت میں کئی گھنٹوں تک مسلسل بائیک چلانا پڑی۔</p>
<p>میں پسینے میں شرابور تھا، بار بار پانی پی رہا تھا اور محفوظ انداز میں سفر جاری رکھنے کے لیے پوری طرح ذہنی طور پر یکسو تھا۔</p>
<p>یہ پوری مہم کے دوران میرے لیے جسمانی لحاظ سے سب سے کڑا امتحان تھا۔“</p>
<p>علی نے بتایا کہ ایک موقع ایسا بھی آیا جب وہ ہمت ہار کر سفر ادھورا چھوڑنے کے لیے تیار ہو گئے تھے۔</p>
<p>اس مہم کا سب سے خوفناک لمحہ خراب موسم نہیں بلکہ ایریزونا کے صحرا میں مانیومنٹ ویلی کے قریب پیش آنے والا ایک حادثہ تھا۔ زمین پر گرنے کے بعد ان کے ذہن میں سب سے پہلا خیال یہی آیا کہ ان کا سفر یہیں ختم ہو گیا ہے۔</p>
<p>”بس، اب سفر ختم ہو گیا۔“</p>
<p>تاہم خود کو اور موٹر سائیکل کو چیک کرنے کے بعد انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور سفر جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔</p>
<p>انہوں نے کہا، ”میں نے خود سے وعدہ کیا تھا کہ اس مہم کو اسی انداز میں مکمل کروں گا جس طرح اس کا خواب دیکھا تھا، اور میں نے اپنا وعدہ پورا کیا۔“</p>
<p>تمام مشکلات کے باوجود علی کے مطابق کیلیفورنیا کی ہائی وے ون اس پوری مہم کی سب سے یادگار منزل ثابت ہوئی۔</p>
<p>انہوں نے کہا، ”ہر موڑ پر بحرالکاہل کا ایک نیا دلکش منظر سامنے آ جاتا تھا۔ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے کسی خوبصورت تصویری پوسٹ کارڈ کے اندر سفر کر رہا ہوں۔“</p>
<p>علی نے کہا کہ پورے سفر کے دوران انہیں اس بات کا بھرپور احساس رہا کہ وہ جہاں بھی جا رہے ہیں، پاکستان کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ ان کی جیکٹ پر لگا پاکستانی پرچم اکثر ثقافت، سیاست اور روزمرہ زندگی سے متعلق دلچسپ گفتگو کا آغاز بن جاتا تھا۔</p>
<p>انہوں نے کہا، ”جب آپ اپنے ملک کا پرچم ساتھ لیے پھرتے ہیں تو آپ اپنے ہر عمل کے بارے میں زیادہ ذمہ دار ہو جاتے ہیں، کیونکہ آپ جانتے ہیں کہ بہت سے لوگوں کے لیے آپ ہی ان کے ملک میں ملنے والے پہلے پاکستانی ہوتے ہیں۔“</p>
<p>اپنے اس منفرد سفر پر نظر ڈالتے ہوئے علی نے کہا کہ اگر انہیں کچھ تبدیل کرنے کا موقع ملتا تو وہ صرف ایک چیز بدلتے۔</p>
<p>انہوں نے کہا، ”میں مسلسل ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کے بجائے کچھ مقامات پر زیادہ وقت گزارتا۔ امریکا بے حد وسیع اور حیرت انگیز طور پر متنوع ملک ہے۔ چند سو میل کا سفر طے کرنے کے بعد ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کسی نئے ملک میں داخل ہو گئے ہوں۔ امریکا کے تمام رنگوں اور تجربات کو ایک ہی زندگی میں سمیٹنا ممکن نہیں۔“</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/221701121d41254.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/221701121d41254.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>علی کا ماننا ہے کہ مثالی حالات کا انتظار ہی اکثر کسی بھی سفر کے آغاز میں سب سے بڑی رکاوٹ بن جاتا ہے۔</p>
<p>دنیا کی سیر اور نئی منزلیں سر کرنے کا خواب دیکھنے والے پاکستانی نوجوانوں کے لیے ان کا پیغام نہایت سادہ مگر حوصلہ افزا ہے: اپنے خوابوں سے کبھی دستبردار نہ ہوں۔</p>
<p>انہوں نے کہا، ”اپنے قدم رکتے نہ دیں، آگے بڑھتے رہیں، چاہے آپ کی رفتار سست ہی کیوں نہ ہو۔ آپ کبھی نہیں جانتے کہ درست موقع کب مل جائے، لیکن جب وہ موقع آئے تو خود کو اس سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے تیار رکھیں۔“</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289147</guid>
      <pubDate>Fri, 24 Jul 2026 16:55:31 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عائشہ محمود)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/241624570c67b04.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/241624570c67b04.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسٹیٹ بینک نے مالی سال 2026-27 کے لیے پرائمری ڈیلرز مقرر کردیے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289150/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے مالی سال 2026-27 کے لیے پرائمری ڈیلرز اور اسپیشل پرپز پرائمری ڈیلرز کے تقرر کا اعلان کردیا ۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک نے رواں مالی سال کے لیے تمام اہل اداروں سے پرائمری ڈیلرز اور اسپیشل پرپز پرائمری ڈیلرز کے انتخاب کے لیے درخواستیں طلب کی تھیں۔ قواعد و ضوابط میں مقررہ معیار کے مطابق تمام درخواستوں کا جائزہ لینے کے بعد 10 مالیاتی اداروں کو پرائمری ڈیلرز جبکہ دو اداروں کو اسپیشل پرپز پرائمری ڈیلرز کے طور پر منتخب کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک نے یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ ، نیشنل بینک آف پاکستان ، بینک الفلاح لمیٹڈ، حبیب بینک لمیٹڈ، حبیب میٹروپولیٹن بینک لمیٹڈ، ایم سی بی بینک لمیٹڈ، دی بینک آف پنجاب، پاک عمان انویسٹمنٹ کمپنی لمیٹڈ، جے ایس بینک لمیٹڈ اور سٹی بینک این اے پاکستان برانچ کو پرائمری ڈیلرز مقرر کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ سینٹرل ڈپازٹری کمپنی آف پاکستان لمیٹڈ (سی ڈی سی) اور نیشنل کلیئرنگ کمپنی آف پاکستان لمیٹڈ (این سی سی پی ایل) کو اسپیشل پرپز پرائمری ڈیلرز منتخب کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2025-26 کے دوران بہترین کارکردگی دکھانے والے تین پرائمری ڈیلرز میں یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ ، نیشنل بینک آف پاکستان  اور بینک الفلاح لمیٹڈ شامل ہیں۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق مالی سال 2025-26 میں دیگر تمام پرائمری ڈیلرز اور اسپیشل پرپز پرائمری ڈیلرز  کی کارکردگی کی درجہ بندی علیحدہ خطوط کے ذریعے متعلقہ اداروں کو آگاہ کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے مالی سال 2026-27 کے لیے پرائمری ڈیلرز اور اسپیشل پرپز پرائمری ڈیلرز کے تقرر کا اعلان کردیا ۔</strong></p>
<p>اسٹیٹ بینک نے رواں مالی سال کے لیے تمام اہل اداروں سے پرائمری ڈیلرز اور اسپیشل پرپز پرائمری ڈیلرز کے انتخاب کے لیے درخواستیں طلب کی تھیں۔ قواعد و ضوابط میں مقررہ معیار کے مطابق تمام درخواستوں کا جائزہ لینے کے بعد 10 مالیاتی اداروں کو پرائمری ڈیلرز جبکہ دو اداروں کو اسپیشل پرپز پرائمری ڈیلرز کے طور پر منتخب کیا گیا ہے۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک نے یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ ، نیشنل بینک آف پاکستان ، بینک الفلاح لمیٹڈ، حبیب بینک لمیٹڈ، حبیب میٹروپولیٹن بینک لمیٹڈ، ایم سی بی بینک لمیٹڈ، دی بینک آف پنجاب، پاک عمان انویسٹمنٹ کمپنی لمیٹڈ، جے ایس بینک لمیٹڈ اور سٹی بینک این اے پاکستان برانچ کو پرائمری ڈیلرز مقرر کیا ہے۔</p>
<p>اس کے علاوہ سینٹرل ڈپازٹری کمپنی آف پاکستان لمیٹڈ (سی ڈی سی) اور نیشنل کلیئرنگ کمپنی آف پاکستان لمیٹڈ (این سی سی پی ایل) کو اسپیشل پرپز پرائمری ڈیلرز منتخب کیا گیا ہے۔</p>
<p>مالی سال 2025-26 کے دوران بہترین کارکردگی دکھانے والے تین پرائمری ڈیلرز میں یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ ، نیشنل بینک آف پاکستان  اور بینک الفلاح لمیٹڈ شامل ہیں۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق مالی سال 2025-26 میں دیگر تمام پرائمری ڈیلرز اور اسپیشل پرپز پرائمری ڈیلرز  کی کارکردگی کی درجہ بندی علیحدہ خطوط کے ذریعے متعلقہ اداروں کو آگاہ کی جائے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289150</guid>
      <pubDate>Fri, 24 Jul 2026 16:47:52 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/24164514d831e0a.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/24164514d831e0a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان سنگل ونڈو نے موبائل ایپ متعارف کرا دی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289149/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان سنگل ونڈو (پی ایس ڈبلیو) نے سرحد پار تجارت سے متعلق خدمات تک ڈیجیٹل رسائی بہتر بنانے کے لیے اپنی  موبائل ایپ لانچ کر دی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ایپلی کیشن اب ایپل ایپ اسٹور اور گوگل پلے اسٹور دونوں پر ڈاؤن لوڈ کے لیے دستیاب ہے، اس ایپ کے ذریعے درآمد کنندگان، برآمد کنندگان اور دیگر تجارتی شعبے سے وابستہ افراد اہم تجارتی خدمات محفوظ اور آسان انداز میں اپنے موبائل فون پر حاصل کر سکیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ موبائل ایپ پاکستان سنگل ونڈو کے موجودہ ڈیجیٹل نظام کا حصہ ہے جس کا مقصد صارفین کو کسی بھی وقت اور کسی بھی جگہ اپنی تجارتی سرگرمیوں کی تازہ ترین معلومات سے آگاہ رکھنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے ذریعے درآمد کنندگان، برآمد کنندگان اور کسٹمز کلیئرنگ ایجنٹس اپنی ڈیکلریشنز کی پیش رفت دیکھ سکتے ہیں، ریگولیٹری تقاضوں کی نگرانی کر سکتے ہیں اور کسٹمز کلیئرنس سے متعلق تازہ معلومات فوری طور پر اپنے اسمارٹ فون پر حاصل کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایپ صرف ڈیکلریشنز کی صورتحال جاننے تک محدود نہیں بلکہ اس کے ذریعے ریگولیٹری اور مالیاتی سرٹیفکیٹس بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ صارفین مختلف اہم درخواستیں بھی جمع کرا سکتے ہیں جن میں ڈیکلریشن منسوخ کرنے، ڈرے آف کی درخواست، صوبائی سیس سے استثنیٰ یا چھوٹ کی درخواست، بینک گارنٹی جاری کرنے کی درخواست اور دیگر آپریشنل خدمات شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موبائل ایپ میں ادائیگیوں کی سہولت بھی شامل کی گئی صارفین پیمنٹ سلپ آئی ڈیز بنا سکتے ہیں، ادا شدہ اور باقی پیمنٹ سلپس دیکھ سکتے ہیں، ادائیگیوں کی تفصیلات حاصل کر سکتے ہیں اور اپنے پرسنل ڈپازٹ (پی ڈی) اکاؤنٹس کے ذریعے ادائیگیاں بھی کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان سنگل ونڈو (پی ایس ڈبلیو) نے سرحد پار تجارت سے متعلق خدمات تک ڈیجیٹل رسائی بہتر بنانے کے لیے اپنی  موبائل ایپ لانچ کر دی ہے۔</strong></p>
<p>یہ ایپلی کیشن اب ایپل ایپ اسٹور اور گوگل پلے اسٹور دونوں پر ڈاؤن لوڈ کے لیے دستیاب ہے، اس ایپ کے ذریعے درآمد کنندگان، برآمد کنندگان اور دیگر تجارتی شعبے سے وابستہ افراد اہم تجارتی خدمات محفوظ اور آسان انداز میں اپنے موبائل فون پر حاصل کر سکیں گے۔</p>
<p>یہ موبائل ایپ پاکستان سنگل ونڈو کے موجودہ ڈیجیٹل نظام کا حصہ ہے جس کا مقصد صارفین کو کسی بھی وقت اور کسی بھی جگہ اپنی تجارتی سرگرمیوں کی تازہ ترین معلومات سے آگاہ رکھنا ہے۔</p>
<p>اس کے ذریعے درآمد کنندگان، برآمد کنندگان اور کسٹمز کلیئرنگ ایجنٹس اپنی ڈیکلریشنز کی پیش رفت دیکھ سکتے ہیں، ریگولیٹری تقاضوں کی نگرانی کر سکتے ہیں اور کسٹمز کلیئرنس سے متعلق تازہ معلومات فوری طور پر اپنے اسمارٹ فون پر حاصل کر سکتے ہیں۔</p>
<p>ایپ صرف ڈیکلریشنز کی صورتحال جاننے تک محدود نہیں بلکہ اس کے ذریعے ریگولیٹری اور مالیاتی سرٹیفکیٹس بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔</p>
<p>اس کے علاوہ صارفین مختلف اہم درخواستیں بھی جمع کرا سکتے ہیں جن میں ڈیکلریشن منسوخ کرنے، ڈرے آف کی درخواست، صوبائی سیس سے استثنیٰ یا چھوٹ کی درخواست، بینک گارنٹی جاری کرنے کی درخواست اور دیگر آپریشنل خدمات شامل ہیں۔</p>
<p>موبائل ایپ میں ادائیگیوں کی سہولت بھی شامل کی گئی صارفین پیمنٹ سلپ آئی ڈیز بنا سکتے ہیں، ادا شدہ اور باقی پیمنٹ سلپس دیکھ سکتے ہیں، ادائیگیوں کی تفصیلات حاصل کر سکتے ہیں اور اپنے پرسنل ڈپازٹ (پی ڈی) اکاؤنٹس کے ذریعے ادائیگیاں بھی کر سکتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289149</guid>
      <pubDate>Fri, 24 Jul 2026 16:38:41 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/24163757c4e6cea.webp" type="image/webp" medium="image" height="764" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/24163757c4e6cea.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ادویات کی قیمتوں کا تعین شفاف اور شواہد پر مبنی کرنے کی ہدایت</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289148/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے ہدایت کی کہ ادویات کی قیمتوں سے متعلق فیصلے شفاف، شواہد پر مبنی اور مشاورتی انداز میں کیے جائیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بات انہون نے ڈرگ پرائسنگ کمیٹی اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) کے پالیسی بورڈ کی سفارشات پر غور کرنے کیلئے وزیراعظم کی طرف سے تشکیل دی گئی کابینہ کمیٹی کے آٹھویں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فنانس ڈویژن کے مطابق کمیٹی کو ڈریپ کی جانب سے نئی ادویات کی قیمتوں، ہارڈ شپ درخواستوں اور ضروری ادویات کی دستیابی سے متعلق بریفنگ دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس کے دوران وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ ادویات کی قیمتوں کا تعین عوامی مفاد اور ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خزانہ نے کہا کہ ضروری ادویات تک رسائی، مناسب قیمتوں اور ان کی مسلسل فراہمی کے درمیان توازن برقرار رکھنا ناگزیر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ہدایت کی کہ ادویات سے متعلق کیے جانے والے فیصلوں کی وجوہات بھی عوام کے سامنے واضح انداز میں پیش کی جائیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے ہدایت کی کہ ادویات کی قیمتوں سے متعلق فیصلے شفاف، شواہد پر مبنی اور مشاورتی انداز میں کیے جائیں۔</strong></p>
<p>یہ بات انہون نے ڈرگ پرائسنگ کمیٹی اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) کے پالیسی بورڈ کی سفارشات پر غور کرنے کیلئے وزیراعظم کی طرف سے تشکیل دی گئی کابینہ کمیٹی کے آٹھویں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔</p>
<p>فنانس ڈویژن کے مطابق کمیٹی کو ڈریپ کی جانب سے نئی ادویات کی قیمتوں، ہارڈ شپ درخواستوں اور ضروری ادویات کی دستیابی سے متعلق بریفنگ دی گئی۔</p>
<p>اجلاس کے دوران وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ ادویات کی قیمتوں کا تعین عوامی مفاد اور ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے۔</p>
<p>وزیر خزانہ نے کہا کہ ضروری ادویات تک رسائی، مناسب قیمتوں اور ان کی مسلسل فراہمی کے درمیان توازن برقرار رکھنا ناگزیر ہے۔</p>
<p>انہوں نے ہدایت کی کہ ادویات سے متعلق کیے جانے والے فیصلوں کی وجوہات بھی عوام کے سامنے واضح انداز میں پیش کی جائیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289148</guid>
      <pubDate>Fri, 24 Jul 2026 16:28:58 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/24162632aa57a18.webp" type="image/webp" medium="image" height="764" width="1280">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/24162632aa57a18.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاک ویسٹ انڈیز ٹیسٹ سیریز کا کل سے آغاز، ٹرافی کی رونمائی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289146/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان 2 میچوں پر مشتمل ٹیسٹ سیریز کا پہلا میچ کل سے تروبا میں کھیلا جائے گا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیریز کے آغاز سے قبل برائن لارا کرکٹ اکیڈمی میں ٹیسٹ سیریز کی ٹرافی کی رونمائی کی تقریب منعقد ہوئی جس میں پاکستان کے کپتان بابر اعظم اور ویسٹ انڈیز کے کپتان روسٹن چیز نے ٹرافی کی رونمائی کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2 ٹیسٹ میچز کی سیریز کا پہلا ٹیسٹ 25 جولائی سے برائن لارا اکیڈمی میں شروع ہو گا جبکہ سیریز کا دوسرا ٹیسٹ میچ 2 اگست سے کھیلا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیریز کی تیاری کے لیے قومی ٹیسٹ اسکواڈ نے برائن لارا کرکٹ اکیڈمی میں پریکٹس سیشن میں حصہ لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کھلاڑیوں نے کوچز کی زیر نگرانی بیٹنگ اور باؤلنگ کی نیٹ پریکٹس بھی کی اور پہلے ٹیسٹ میچ کی تیاریوں کو حتمی شکل دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ویسٹ انڈیز نے پہلے ٹیسٹ میچ کے لیے 16 رکنی سکواڈ کا اعلان کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان 2 میچوں پر مشتمل ٹیسٹ سیریز کا پہلا میچ کل سے تروبا میں کھیلا جائے گا۔</strong></p>
<p>سیریز کے آغاز سے قبل برائن لارا کرکٹ اکیڈمی میں ٹیسٹ سیریز کی ٹرافی کی رونمائی کی تقریب منعقد ہوئی جس میں پاکستان کے کپتان بابر اعظم اور ویسٹ انڈیز کے کپتان روسٹن چیز نے ٹرافی کی رونمائی کی۔</p>
<p>2 ٹیسٹ میچز کی سیریز کا پہلا ٹیسٹ 25 جولائی سے برائن لارا اکیڈمی میں شروع ہو گا جبکہ سیریز کا دوسرا ٹیسٹ میچ 2 اگست سے کھیلا جائے گا۔</p>
<p>سیریز کی تیاری کے لیے قومی ٹیسٹ اسکواڈ نے برائن لارا کرکٹ اکیڈمی میں پریکٹس سیشن میں حصہ لیا۔</p>
<p>کھلاڑیوں نے کوچز کی زیر نگرانی بیٹنگ اور باؤلنگ کی نیٹ پریکٹس بھی کی اور پہلے ٹیسٹ میچ کی تیاریوں کو حتمی شکل دی۔</p>
<p>دوسری جانب ویسٹ انڈیز نے پہلے ٹیسٹ میچ کے لیے 16 رکنی سکواڈ کا اعلان کر دیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289146</guid>
      <pubDate>Fri, 24 Jul 2026 15:56:01 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/241553523311692.webp" type="image/webp" medium="image" height="701" width="1052">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/241553523311692.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ڈالر کے مقابلے روپے کی پیش قدمی برقرار</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289145/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;انٹربینک مارکیٹ میں جمعہ کو بھی ڈالر کے مقابلے روپے کی قدر میں بہتری کا سلسلہ جاری رہا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک کے مطابق کاروبار کے اختتام پر ڈالر کے مقابلے میں روپیہ 3 پیسے کی بہتری سے 277.87 روپے پر بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ جمعرات کو مقامی کرنسی 277.90 روپے پر بند ہوئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعہ کو امریکی ٹریژری ییلڈ میں اضافے کے باعث ڈالر میں تیزی آئی اور تیل کی قیمتوں میں اچھال اور تجارتی جنگ کی بحالی کی وجہ سے مہنگائی کے خدشات بڑھنے پر یہ ین کے مقابلے میں 40 سال کی بلند ترین سطح کے قریب منڈلاتا رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی پاؤنڈ ایشیائی مارکیٹ کے آغاز میں تین ہفتے کی کم ترین سطح کے قریب سست رو رہا اور ایک مضبوط ہوتے ہوئے ڈالر کے مقابلے میں راتوں رات تقریباً 0.5 فیصد گرنے کے بعد 1.3313 ڈالر میں فروخت ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورو بھی اسی طرح نقصانات کا شکار رہا اور 1.1376 ڈالر پر کمزور دکھائی دیا جسے یورپی مرکزی بینک کی جانب سے شرح سود میں قریبی اضافے کے امکانات سے بھی کوئی خاص سہارا نہیں ملا، جب کہ ڈالر دیگر کرنسیوں کے مقابلے میں 101.45 کی سطح پر تین ہفتے کی بلند ترین سطح کے قریب برقرار رہا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>انٹربینک مارکیٹ میں جمعہ کو بھی ڈالر کے مقابلے روپے کی قدر میں بہتری کا سلسلہ جاری رہا۔</strong></p>
<p>اسٹیٹ بینک کے مطابق کاروبار کے اختتام پر ڈالر کے مقابلے میں روپیہ 3 پیسے کی بہتری سے 277.87 روپے پر بند ہوا۔</p>
<p>یاد رہے کہ جمعرات کو مقامی کرنسی 277.90 روپے پر بند ہوئی تھی۔</p>
<p>جمعہ کو امریکی ٹریژری ییلڈ میں اضافے کے باعث ڈالر میں تیزی آئی اور تیل کی قیمتوں میں اچھال اور تجارتی جنگ کی بحالی کی وجہ سے مہنگائی کے خدشات بڑھنے پر یہ ین کے مقابلے میں 40 سال کی بلند ترین سطح کے قریب منڈلاتا رہا۔</p>
<p>برطانوی پاؤنڈ ایشیائی مارکیٹ کے آغاز میں تین ہفتے کی کم ترین سطح کے قریب سست رو رہا اور ایک مضبوط ہوتے ہوئے ڈالر کے مقابلے میں راتوں رات تقریباً 0.5 فیصد گرنے کے بعد 1.3313 ڈالر میں فروخت ہوا۔</p>
<p>یورو بھی اسی طرح نقصانات کا شکار رہا اور 1.1376 ڈالر پر کمزور دکھائی دیا جسے یورپی مرکزی بینک کی جانب سے شرح سود میں قریبی اضافے کے امکانات سے بھی کوئی خاص سہارا نہیں ملا، جب کہ ڈالر دیگر کرنسیوں کے مقابلے میں 101.45 کی سطح پر تین ہفتے کی بلند ترین سطح کے قریب برقرار رہا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289145</guid>
      <pubDate>Fri, 24 Jul 2026 15:52:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/2415504631091c7.webp" type="image/webp" medium="image" height="576" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/2415504631091c7.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پہلی ششماہی، نیسلے پاکستان کی ترقی کی رفتار برقرار</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289144/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نیسلے پاکستان نے 30 جون 2026 کو ختم ہونے والی پہلی ششماہی کے مالی نتائج جاری کردیے ہیں جن کے مطابق کمپنی کی مجموعی فروخت (نیٹ سیلز) 107 ارب روپے تک پہنچ گئی جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 5.7 فیصد زیادہ ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کے مطابق برانڈز میں سرمایہ کاری، صارفین کی ضروریات کے مطابق نئی مصنوعات اور موجودہ مصنوعات میں بہتری، موثر مارکیٹ حکمت عملی اور برآمدی نیٹ ورک کو مضبوط بنانے کی بدولت کاروباری سرگرمیوں میں مثبت رفتار برقرار رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کے بیان کے مطابق فروخت میں اضافے، اخراجات پر موثر کنٹرول اور ویلیو چین کی بہتری کے اقدامات کے باعث مجموعی منافع (گراس پرافٹ) میں بھی گزشتہ سال کے مقابلے میں 5.7 فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا، تاہم برانڈز پر زیادہ سرمایہ کاری اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے باعث ڈسٹریبیوشن کے اخراجات بڑھنے سے آپریٹنگ منافع میں اضافہ محدود ہو کر 2.8 فیصد رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی نے بتایا کہ ٹیکسوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ کے باعث بعد از ٹیکس خالص منافع (نیٹ پرافٹ آفٹر ٹیکس) میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 4.3 فیصد کمی واقع ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیسلے پاکستان کا کہنا ہے کہ جاری جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال، توانائی اور دیگر خام مال کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ، اور دو ہندسوں پر مشتمل بلند افراطِ زر کے باعث 2026 کے باقی عرصے کے لیے کمپنی محتاط حکمت عملی اختیار کیے ہوئے ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کے مطابق اگرچہ مہنگائی کے دباؤ سے صارفین کے اخراجات اور آپریٹنگ لاگت متاثر ہو رہی ہے، تاہم نیسلے پاکستان برانڈز میں مناسب سرمایہ کاری، آپریشنل بچت کے اقدامات، مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ اعلیٰ کارکردگی کی حامل ٹیموں کی تشکیل اور پائیدار ترقی کے اہداف پر عمل درآمد کے ذریعے ان چیلنجز سے موثر انداز میں نمٹنے کے لیے پرعزم ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>نیسلے پاکستان نے 30 جون 2026 کو ختم ہونے والی پہلی ششماہی کے مالی نتائج جاری کردیے ہیں جن کے مطابق کمپنی کی مجموعی فروخت (نیٹ سیلز) 107 ارب روپے تک پہنچ گئی جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 5.7 فیصد زیادہ ہے۔</strong></p>
<p>کمپنی کے مطابق برانڈز میں سرمایہ کاری، صارفین کی ضروریات کے مطابق نئی مصنوعات اور موجودہ مصنوعات میں بہتری، موثر مارکیٹ حکمت عملی اور برآمدی نیٹ ورک کو مضبوط بنانے کی بدولت کاروباری سرگرمیوں میں مثبت رفتار برقرار رہی۔</p>
<p>کمپنی کے بیان کے مطابق فروخت میں اضافے، اخراجات پر موثر کنٹرول اور ویلیو چین کی بہتری کے اقدامات کے باعث مجموعی منافع (گراس پرافٹ) میں بھی گزشتہ سال کے مقابلے میں 5.7 فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا، تاہم برانڈز پر زیادہ سرمایہ کاری اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے باعث ڈسٹریبیوشن کے اخراجات بڑھنے سے آپریٹنگ منافع میں اضافہ محدود ہو کر 2.8 فیصد رہا۔</p>
<p>کمپنی نے بتایا کہ ٹیکسوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ کے باعث بعد از ٹیکس خالص منافع (نیٹ پرافٹ آفٹر ٹیکس) میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 4.3 فیصد کمی واقع ہوئی۔</p>
<p>نیسلے پاکستان کا کہنا ہے کہ جاری جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال، توانائی اور دیگر خام مال کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ، اور دو ہندسوں پر مشتمل بلند افراطِ زر کے باعث 2026 کے باقی عرصے کے لیے کمپنی محتاط حکمت عملی اختیار کیے ہوئے ہے۔</p>
<p>کمپنی کے مطابق اگرچہ مہنگائی کے دباؤ سے صارفین کے اخراجات اور آپریٹنگ لاگت متاثر ہو رہی ہے، تاہم نیسلے پاکستان برانڈز میں مناسب سرمایہ کاری، آپریشنل بچت کے اقدامات، مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ اعلیٰ کارکردگی کی حامل ٹیموں کی تشکیل اور پائیدار ترقی کے اہداف پر عمل درآمد کے ذریعے ان چیلنجز سے موثر انداز میں نمٹنے کے لیے پرعزم ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289144</guid>
      <pubDate>Fri, 24 Jul 2026 15:39:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/24153555eabb8b1.webp" type="image/webp" medium="image" height="506" width="680">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/24153555eabb8b1.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کےالیکٹرک کے صنعتی صارفین کا بجلی کا استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289143/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کے الیکٹرک کے صنعتی فیڈرز پر استعمال کی جانے والی بجلی مالی سال 2026 میں ریکارڈ 6.08 ارب یونٹس تک پہنچ گئی جبکہ اسی عرصے کے دوران پاکستان کی جی ڈی پی  کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی۔ یہ کامیابی کراچی جو ملک کی معاشی شہ رگ ہے کو قابلِ اعتماد اور مسلسل بجلی کی فراہمی میں کےالیکٹرک کے کردار کی عکاسی کرتی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید محمد طهٰ نے کہا کہ اس کامیابی کو اِنفرادی نقطہ نظر سے نہیں دیکھا جاسکتا۔ یہ حکومتِ پاکستان، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) اور کراچی کی صنعتی برادری کی مشترکہ کاوشوں کا نتیجہ ہے جن کے مسلسل تعاون نے سرمایہ کاری اور معاشی ترقی کیلئے مستحکم اور سازگار کاروباری ماحول فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ ملک کی معاشی شہ رگ ہونے کے ناطے کراچی پاکستان کی صنعتی اور تجارتی ترقی میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ کے الیکٹرک نے 2013 سے صنعتوں کو بجلی فراہم کرنے والے فیڈرز کو لوڈ شیڈنگ سے مستثنیٰ رکھا ہوا ہے اور ہم قابلِ اعتماد اور پائیدار توانائی کے ذریعے اس ترقی کے سفر میں اپنا کردار جاری رکھنے کے لیے پُرعزم ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کےالیکٹرک کے صنعتی فیڈرز مختلف صنعتی زونز میں واقع مختلف پیداواری اور صنعتی یونٹس کو بجلی فراہم کرتے ہیں، جہاں ہر صنعتی صارفین کے پاس اسمارٹ میٹرز نصب ہیں۔ یہ سہولت کاروباری اداروں کو اپنی بجلی کے استعمال کو براہ راست مانیٹر کرنے کے قابل بناتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سب سے زیادہ بجلی کا استعمال B3 کیٹیگری میں ریکارڈ کیا گیا جس میں 501 سے 5,000 کلو واٹ تک بجلی استعمال کرنے والی صنعتیں شامل ہیں۔ اس زمرے میں سیمنٹ، اسٹیل، ٹیکسٹائل اور دیگر سیکٹرز کے متعدد صنعتی یونٹس شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہانہ بنیادوں پر سب سے زیادہ صنعتی بجلی کا استعمال جون 2026 میں ریکارڈ کیا گیا جبکہ اپریل 2026 دوسرے نمبر پر رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل صنعتی فیڈرز پر سب سے زیادہ سالانہ بجلی کی فراہمی مالی سال 2022 میں ریکارڈ کی گئی تھی جب صنعتی صارفین نے گرڈ سے 5.84 ارب یونٹس بجلی استعمال کی تھی، اسی سال ملک کی جی ڈی پی کی شرح نمو بھی 6 فیصد سے تجاوز کر گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2022 کے بعد معاشی چیلنجز کے باعث صنعتی بجلی کا استعمال نسبتاً معتدل رہا تاہم مالی سال 2026 میں یہ شرح نمایاں طور پر مستحکم رہی اور مالی سال 2025 کے 5.04 ارب یونٹس کے مقابلے میں 20 فیصد سے ذیادہ سالانہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صنعتوں کو کیپٹو پاور سے گرڈ پر منتقل کرنے کے حکومتی اقدامات اور جی ڈی پی  کی شرح نمو میں بہتری کے نتیجے میں صنعتی بجلی کی طلب میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ اسی دوران کے الیکٹرک نے 349 نئے صنعتی کنکشنز فراہم کیے جبکہ 273 صارفین نے اپنے لوڈ میں اضافہ کیا جس سے مجموعی طور پر 168 میگاواٹ اضافی طلب گرڈ میں شامل ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ صنعتی فیڈرز کی ریکوری کی شرح تمام صارفین کے مختلف سیگمنٹس میں سب سے بہتر رہی ہے جو اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ بروقت بلوں کی ادائیگی لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ حاصل کرنے کے اہم ترین عوامل میں سے ایک ہے۔ کےالیکٹرک اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہے کہ صنعتوں کو بلا تعطل اور قابلِ اعتماد بجلی درکار ہوتی ہے، اور تمام تر چیلنجز کے باوجود ادارہ کراچی کی معاشی سرگرمیوں کو رواں رکھنے کے لیے اپنی بھرپور کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کے الیکٹرک کے صنعتی فیڈرز پر استعمال کی جانے والی بجلی مالی سال 2026 میں ریکارڈ 6.08 ارب یونٹس تک پہنچ گئی جبکہ اسی عرصے کے دوران پاکستان کی جی ڈی پی  کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی۔ یہ کامیابی کراچی جو ملک کی معاشی شہ رگ ہے کو قابلِ اعتماد اور مسلسل بجلی کی فراہمی میں کےالیکٹرک کے کردار کی عکاسی کرتی ہے۔</strong></p>
<p>کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید محمد طهٰ نے کہا کہ اس کامیابی کو اِنفرادی نقطہ نظر سے نہیں دیکھا جاسکتا۔ یہ حکومتِ پاکستان، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) اور کراچی کی صنعتی برادری کی مشترکہ کاوشوں کا نتیجہ ہے جن کے مسلسل تعاون نے سرمایہ کاری اور معاشی ترقی کیلئے مستحکم اور سازگار کاروباری ماحول فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ ملک کی معاشی شہ رگ ہونے کے ناطے کراچی پاکستان کی صنعتی اور تجارتی ترقی میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ کے الیکٹرک نے 2013 سے صنعتوں کو بجلی فراہم کرنے والے فیڈرز کو لوڈ شیڈنگ سے مستثنیٰ رکھا ہوا ہے اور ہم قابلِ اعتماد اور پائیدار توانائی کے ذریعے اس ترقی کے سفر میں اپنا کردار جاری رکھنے کے لیے پُرعزم ہیں۔</p>
<p>کےالیکٹرک کے صنعتی فیڈرز مختلف صنعتی زونز میں واقع مختلف پیداواری اور صنعتی یونٹس کو بجلی فراہم کرتے ہیں، جہاں ہر صنعتی صارفین کے پاس اسمارٹ میٹرز نصب ہیں۔ یہ سہولت کاروباری اداروں کو اپنی بجلی کے استعمال کو براہ راست مانیٹر کرنے کے قابل بناتی ہے۔</p>
<p>سب سے زیادہ بجلی کا استعمال B3 کیٹیگری میں ریکارڈ کیا گیا جس میں 501 سے 5,000 کلو واٹ تک بجلی استعمال کرنے والی صنعتیں شامل ہیں۔ اس زمرے میں سیمنٹ، اسٹیل، ٹیکسٹائل اور دیگر سیکٹرز کے متعدد صنعتی یونٹس شامل ہیں۔</p>
<p>ماہانہ بنیادوں پر سب سے زیادہ صنعتی بجلی کا استعمال جون 2026 میں ریکارڈ کیا گیا جبکہ اپریل 2026 دوسرے نمبر پر رہا۔</p>
<p>اس سے قبل صنعتی فیڈرز پر سب سے زیادہ سالانہ بجلی کی فراہمی مالی سال 2022 میں ریکارڈ کی گئی تھی جب صنعتی صارفین نے گرڈ سے 5.84 ارب یونٹس بجلی استعمال کی تھی، اسی سال ملک کی جی ڈی پی کی شرح نمو بھی 6 فیصد سے تجاوز کر گئی تھی۔</p>
<p>مالی سال 2022 کے بعد معاشی چیلنجز کے باعث صنعتی بجلی کا استعمال نسبتاً معتدل رہا تاہم مالی سال 2026 میں یہ شرح نمایاں طور پر مستحکم رہی اور مالی سال 2025 کے 5.04 ارب یونٹس کے مقابلے میں 20 فیصد سے ذیادہ سالانہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔</p>
<p>صنعتوں کو کیپٹو پاور سے گرڈ پر منتقل کرنے کے حکومتی اقدامات اور جی ڈی پی  کی شرح نمو میں بہتری کے نتیجے میں صنعتی بجلی کی طلب میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ اسی دوران کے الیکٹرک نے 349 نئے صنعتی کنکشنز فراہم کیے جبکہ 273 صارفین نے اپنے لوڈ میں اضافہ کیا جس سے مجموعی طور پر 168 میگاواٹ اضافی طلب گرڈ میں شامل ہوئی۔</p>
<p>یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ صنعتی فیڈرز کی ریکوری کی شرح تمام صارفین کے مختلف سیگمنٹس میں سب سے بہتر رہی ہے جو اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ بروقت بلوں کی ادائیگی لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ حاصل کرنے کے اہم ترین عوامل میں سے ایک ہے۔ کےالیکٹرک اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہے کہ صنعتوں کو بلا تعطل اور قابلِ اعتماد بجلی درکار ہوتی ہے، اور تمام تر چیلنجز کے باوجود ادارہ کراچی کی معاشی سرگرمیوں کو رواں رکھنے کے لیے اپنی بھرپور کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289143</guid>
      <pubDate>Fri, 24 Jul 2026 15:33:21 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (پریس ریلیز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/241524405cd9de4.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/241524405cd9de4.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>منافع میں کمی ، ووکس ویگن نے 2026 کی فروخت کا ہدف کم کر دیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289142/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وولکس ویگن نے جمعہ کو سال 2026 کے لیے اپنی فروخت کی پیشگوئی میں کمی کرتے ہوئے دوسری سہ ماہی میں آپریٹنگ منافع میں نمایاں کمی کے بعد اب 3 فیصد تک گراوٹ کی توقع ظاہر کی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جرمن آٹوموبائل گروپ، جس میں ذیلی ادارے پورشے  اور آڈی  بھی شامل ہیں نے اپریل سے جون کی مدت میں توقع سے کم یعنی 3.5 ارب یورو (3.98 ارب ڈالر) کا آپریٹنگ منافع رپورٹ کیا جو کہ سال بہ سال 9.5 فیصد کم ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وولکس ویگن نے جمعہ کو سال 2026 کے لیے اپنی فروخت کی پیشگوئی میں کمی کرتے ہوئے دوسری سہ ماہی میں آپریٹنگ منافع میں نمایاں کمی کے بعد اب 3 فیصد تک گراوٹ کی توقع ظاہر کی ہے۔</strong></p>
<p>جرمن آٹوموبائل گروپ، جس میں ذیلی ادارے پورشے  اور آڈی  بھی شامل ہیں نے اپریل سے جون کی مدت میں توقع سے کم یعنی 3.5 ارب یورو (3.98 ارب ڈالر) کا آپریٹنگ منافع رپورٹ کیا جو کہ سال بہ سال 9.5 فیصد کم ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289142</guid>
      <pubDate>Fri, 24 Jul 2026 15:20:22 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/24151814247f6b6.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/24151814247f6b6.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بنگلہ دیش کا پاکستانی صنعتکاروں کو تجارتی روابط بڑھانے اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھانے کی دعوت</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289141/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بنگلہ دیش کے ڈپٹی ہائی کمشنر محمد ثاقب صداقت نے پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان دوطرفہ تجارت اور اقتصادی تعاون کو مزید وسعت دینے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے نجی شعبے کے درمیان روابط بڑھا کر تجارت و سرمایہ کاری کے بے شمار غیر استعمال شدہ مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے پاکستانی صنعتکاروں کو بنگلہ دیش کا دورہ کرکے وہاں موجود تجارتی و سرمایہ کاری کے امکانات کا جائزہ لینے کی دعوت دیتے ہوئے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بات انہوں نے کراچی میں سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری کے صدر عبدالرحمان فدا کی قیادت میں وفد سے ملاقات کے موقع پرکہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفد میں سینئر نائب صدر احمد ذوالفقار چوہدری، نائب صدر محمد طاہر گوریجا، سابق صدر عبدالرشید اور چیئرمین انٹرنیشنل ریلیشنز اینڈ ڈپلومیٹک افیئرز کمیٹی جنید الرحمان وفد میں شامل تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقات میں پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان دوطرفہ تجارت بڑھانے، قابلِ تجارت مصنوعات کے دائرہ کار کو وسعت دینے، کاروباری وفود کے تبادلوں کو مؤثر بنانے اور تجارتی سہولتوں میں اضافے سمیت مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔&lt;br&gt;سائٹ ایسوسی ایشن کے وفد نے دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست پروازوں کی تعداد بڑھانے اور سمندری کارگو سروسز میں توسیع کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بہتر لاجسٹکس سے نہ صرف تجارتی لاگت میں کمی آئے گی بلکہ دوطرفہ تجارت کے حجم میں بھی نمایاں اضافہ ممکن ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس موقع پر ڈپٹی ہائی کمشنر نے پاکستانی برآمدکنندگان پر زور دیا کہ وہ بنگلہ دیشی مارکیٹ کی ڈیمانڈ کا تفصیلی جائزہ لے کر اپنی برآمدی حکمت عملی مرتب کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش پاکستانی مصنوعات اور سرمایہ کاری کے لیے ایک امید افزا مارکیٹ ہے اور بنگلہ دیش کا ڈپٹی ہائی کمیشن پاکستانی تاجروں اور صنعتکاروں کو ہر ممکن سہولت فراہم کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ دونوں ممالک کے نجی شعبوں کے درمیان مسلسل رابطوں، مشترکہ کوششوں اور ادارہ جاتی تعاون کے فروغ سے دوطرفہ تجارت و سرمایہ کاری کی حقیقی صلاحیت کو بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں سائٹ ایسوسی ایشن کے وفد نے ڈپٹی ہائی کمشنر کو ایسوسی ایشن کے دفتر کے دورے کی دعوت دی تاکہ دونوں ممالک کی تاجر برادری کے درمیان تعاون کو مزید مستحکم بنایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بنگلہ دیش کے ڈپٹی ہائی کمشنر محمد ثاقب صداقت نے پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان دوطرفہ تجارت اور اقتصادی تعاون کو مزید وسعت دینے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے نجی شعبے کے درمیان روابط بڑھا کر تجارت و سرمایہ کاری کے بے شمار غیر استعمال شدہ مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے پاکستانی صنعتکاروں کو بنگلہ دیش کا دورہ کرکے وہاں موجود تجارتی و سرمایہ کاری کے امکانات کا جائزہ لینے کی دعوت دیتے ہوئے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی۔</strong></p>
<p>یہ بات انہوں نے کراچی میں سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری کے صدر عبدالرحمان فدا کی قیادت میں وفد سے ملاقات کے موقع پرکہی۔</p>
<p>وفد میں سینئر نائب صدر احمد ذوالفقار چوہدری، نائب صدر محمد طاہر گوریجا، سابق صدر عبدالرشید اور چیئرمین انٹرنیشنل ریلیشنز اینڈ ڈپلومیٹک افیئرز کمیٹی جنید الرحمان وفد میں شامل تھے۔</p>
<p>ملاقات میں پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان دوطرفہ تجارت بڑھانے، قابلِ تجارت مصنوعات کے دائرہ کار کو وسعت دینے، کاروباری وفود کے تبادلوں کو مؤثر بنانے اور تجارتی سہولتوں میں اضافے سمیت مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔<br>سائٹ ایسوسی ایشن کے وفد نے دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست پروازوں کی تعداد بڑھانے اور سمندری کارگو سروسز میں توسیع کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بہتر لاجسٹکس سے نہ صرف تجارتی لاگت میں کمی آئے گی بلکہ دوطرفہ تجارت کے حجم میں بھی نمایاں اضافہ ممکن ہوگا۔</p>
<p>اس موقع پر ڈپٹی ہائی کمشنر نے پاکستانی برآمدکنندگان پر زور دیا کہ وہ بنگلہ دیشی مارکیٹ کی ڈیمانڈ کا تفصیلی جائزہ لے کر اپنی برآمدی حکمت عملی مرتب کریں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش پاکستانی مصنوعات اور سرمایہ کاری کے لیے ایک امید افزا مارکیٹ ہے اور بنگلہ دیش کا ڈپٹی ہائی کمیشن پاکستانی تاجروں اور صنعتکاروں کو ہر ممکن سہولت فراہم کرے گا۔</p>
<p>انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ دونوں ممالک کے نجی شعبوں کے درمیان مسلسل رابطوں، مشترکہ کوششوں اور ادارہ جاتی تعاون کے فروغ سے دوطرفہ تجارت و سرمایہ کاری کی حقیقی صلاحیت کو بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔</p>
<p>بعد ازاں سائٹ ایسوسی ایشن کے وفد نے ڈپٹی ہائی کمشنر کو ایسوسی ایشن کے دفتر کے دورے کی دعوت دی تاکہ دونوں ممالک کی تاجر برادری کے درمیان تعاون کو مزید مستحکم بنایا جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289141</guid>
      <pubDate>Fri, 24 Jul 2026 15:12:41 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/24150207d32cd6e.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/24150207d32cd6e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>لاہور چیمبر اور وفاقی ٹیکس محتسب کا باہمی تعاون مضبوط بنانے پر اتفاق</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289140/</link>
      <description>&lt;p&gt;وفاقی ٹیکس محتسب (پنجاب)کے ڈائریکٹر جنرل ریاض حمید چوہدری نے لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر فہیم الرحمن سہگل سے ملاقات کی اور کاروباری برادری کو ٹیکس اور دیگر سرکاری محکموں سے متعلق مسائل کے حل میں مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس موقع پر وفاقی ٹیکس محتسب کے ڈائریکٹر طاہر ضمیر بھی موجود تھے۔ملاقات میں ٹیکس دہندگان کی سہولت، شکایات کے ازالے کے نظام اور دونوں اداروں کے درمیان تعاون بڑھانے کے امور پر بات چیت ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقات میں اتفاق ہوا کہ لاہور چیمبر کے دفتر میں وفاقی ٹیکس محتسب کا ایک سہولت دفتر قائم کیا جائے گا۔ یہ دفتر ٹیکس دہندگان کو رہنمائی فراہم کرے گا، شکایات درج کرانے میں مدد دے گا اور متعلقہ اداروں سے رابطے کے ذریعے مسائل کے جلد حل کو یقینی بنائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدرلاہور چیمبر فہیم الرحمن سہگل نے وفاقی ٹیکس محتسب کے کردار کو سراہا اور مکمل تعاون کی یقین دہانی پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ کاروباری برادری کو اکثر انتظامی اور طریقہ کار سے متعلق مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جن کے بروقت حل کی ضرورت ہوتی ہے۔ا&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نہوں نے کہا کہ لاہور چیمبر کاروباری برادری کے مفادات کے تحفظ اور تجارت، صنعت اور سرمایہ کاری سے متعلق مسائل کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں اداروں کے درمیان مضبوط تعاون سے شکایات کے حل اور خدمات کی فراہمی میں بہتری آئے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈائریکٹر جنرل ریاض حمید چوہدری نے کہا کہ وفاقی ٹیکس محتسب کا ادارہ ٹیکس دہندگان کو انتظامی کوتاہیوں اور غیر ضروری تاخیر کے باعث پیش آنے والی مشکلات سے فوری ریلیف فراہم کرنے کے لیے کام کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ یہ ادارہ شکایات کے حل اور ٹیکس دہندگان کے ساتھ منصفانہ سلوک یقینی بنانے کے لیے اہم کردار ادا کرتا ہے، کاروباری برادری ملکی معیشت، سرمایہ کاری اور روزگار کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتی ہے، اس لیے تاجروں اور صنعتکاروں کے جائز مسائل کو شفاف اور مؤثر طریقے سے حل کرنا ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریاض حمید چوہدری نے بتایا کہ وفاقی ٹیکس محتسب کے پاس شکایات کے اندراج اور فوری ازالے کا مثر نظام موجود ہے۔ٹیکس دہندگان اپنی شکایات آن لائن سمیت مختلف ذرائع سے جمع کرا سکتے ہیں جبکہ علاقائی دفاتر بھی عوام کو سہولت فراہم کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>وفاقی ٹیکس محتسب (پنجاب)کے ڈائریکٹر جنرل ریاض حمید چوہدری نے لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر فہیم الرحمن سہگل سے ملاقات کی اور کاروباری برادری کو ٹیکس اور دیگر سرکاری محکموں سے متعلق مسائل کے حل میں مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی.</p>
<p>اس موقع پر وفاقی ٹیکس محتسب کے ڈائریکٹر طاہر ضمیر بھی موجود تھے۔ملاقات میں ٹیکس دہندگان کی سہولت، شکایات کے ازالے کے نظام اور دونوں اداروں کے درمیان تعاون بڑھانے کے امور پر بات چیت ہوئی۔</p>
<p>ملاقات میں اتفاق ہوا کہ لاہور چیمبر کے دفتر میں وفاقی ٹیکس محتسب کا ایک سہولت دفتر قائم کیا جائے گا۔ یہ دفتر ٹیکس دہندگان کو رہنمائی فراہم کرے گا، شکایات درج کرانے میں مدد دے گا اور متعلقہ اداروں سے رابطے کے ذریعے مسائل کے جلد حل کو یقینی بنائے گا۔</p>
<p>صدرلاہور چیمبر فہیم الرحمن سہگل نے وفاقی ٹیکس محتسب کے کردار کو سراہا اور مکمل تعاون کی یقین دہانی پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ کاروباری برادری کو اکثر انتظامی اور طریقہ کار سے متعلق مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جن کے بروقت حل کی ضرورت ہوتی ہے۔ا</p>
<p>نہوں نے کہا کہ لاہور چیمبر کاروباری برادری کے مفادات کے تحفظ اور تجارت، صنعت اور سرمایہ کاری سے متعلق مسائل کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں اداروں کے درمیان مضبوط تعاون سے شکایات کے حل اور خدمات کی فراہمی میں بہتری آئے گی۔</p>
<p>ڈائریکٹر جنرل ریاض حمید چوہدری نے کہا کہ وفاقی ٹیکس محتسب کا ادارہ ٹیکس دہندگان کو انتظامی کوتاہیوں اور غیر ضروری تاخیر کے باعث پیش آنے والی مشکلات سے فوری ریلیف فراہم کرنے کے لیے کام کر رہا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ یہ ادارہ شکایات کے حل اور ٹیکس دہندگان کے ساتھ منصفانہ سلوک یقینی بنانے کے لیے اہم کردار ادا کرتا ہے، کاروباری برادری ملکی معیشت، سرمایہ کاری اور روزگار کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتی ہے، اس لیے تاجروں اور صنعتکاروں کے جائز مسائل کو شفاف اور مؤثر طریقے سے حل کرنا ضروری ہے۔</p>
<p>ریاض حمید چوہدری نے بتایا کہ وفاقی ٹیکس محتسب کے پاس شکایات کے اندراج اور فوری ازالے کا مثر نظام موجود ہے۔ٹیکس دہندگان اپنی شکایات آن لائن سمیت مختلف ذرائع سے جمع کرا سکتے ہیں جبکہ علاقائی دفاتر بھی عوام کو سہولت فراہم کر رہے ہیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289140</guid>
      <pubDate>Fri, 24 Jul 2026 15:00:31 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/241456511853e98.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/241456511853e98.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پام آئل 15 ہفتوں کی بلند ترین سطح پر</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289139/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ملائیشین پام آئل کی قیمتوں میں جمعہ کو اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تفصیلات کے مطابق ملائیشین پام آئل کے مستقبل کے سودے 15 ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے جس کی وجہ تیل کی مضبوط قیمتیں اور دالیان کے پام اولین فیوچرز میں بحالی رہی۔ یہ مسلسل تیسرے ہفتہ وار اضافے کی جانب بھی گامزن رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برسا ملائیشیا ڈیریویٹوز ایکسچینج میں اکتوبر کی ترسیل کے لیے بینچ مارک پام آئل معاہدہ دوپہر کے وقفے تک 41 رنگٹ یا 0.87 فیصد اضافے کے ساتھ 4,751 رنگٹ (1,161.33 ڈالر) فی میٹرک ٹن پر پہنچ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ معاہدہ رواں ہفتے اب تک 3.35 فیصد اضافہ ریکارڈ کر چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سن وِن گروپ کے کموڈٹی ریسرچ سربراہ انیل کمار باگانی نے کہا ہے کہ فیوچرز مارکیٹ میں قیمتیں بلند سطح پر کھلیں اور نئی شروع ہونے والی تیزی کا سلسلہ جاری رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کی وجہ توانائی قیمتوں میں مسلسل مضبوطی، دالیان پام اولین فیوچرز میں دوبارہ آنے والی تیزی، انڈونیشیا میں نئے متعارف کرائے گئے  بی 50 بائیو ڈیزل مینڈیٹ کے باعث پام آئل کی برآمدات میں ممکنہ کمی اور چین کی جانب سے نئی طلب ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دالیان کے سب سے زیادہ فعال سویا آئل معاہدے میں 0.88 فیصد اضافہ ہوا جبکہ پام آئل کے معاہدے میں 1.33 فیصد تیزی ریکارڈ کی گئی۔ شکاگو بورڈ آف ٹریڈ میں سویا آئل کی قیمتوں میں 0.23 فیصد کمی ہوئی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ملائیشین پام آئل کی قیمتوں میں جمعہ کو اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔</strong></p>
<p>تفصیلات کے مطابق ملائیشین پام آئل کے مستقبل کے سودے 15 ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے جس کی وجہ تیل کی مضبوط قیمتیں اور دالیان کے پام اولین فیوچرز میں بحالی رہی۔ یہ مسلسل تیسرے ہفتہ وار اضافے کی جانب بھی گامزن رہے۔</p>
<p>برسا ملائیشیا ڈیریویٹوز ایکسچینج میں اکتوبر کی ترسیل کے لیے بینچ مارک پام آئل معاہدہ دوپہر کے وقفے تک 41 رنگٹ یا 0.87 فیصد اضافے کے ساتھ 4,751 رنگٹ (1,161.33 ڈالر) فی میٹرک ٹن پر پہنچ گیا۔</p>
<p>یہ معاہدہ رواں ہفتے اب تک 3.35 فیصد اضافہ ریکارڈ کر چکا ہے۔</p>
<p>سن وِن گروپ کے کموڈٹی ریسرچ سربراہ انیل کمار باگانی نے کہا ہے کہ فیوچرز مارکیٹ میں قیمتیں بلند سطح پر کھلیں اور نئی شروع ہونے والی تیزی کا سلسلہ جاری رہا۔</p>
<p>اس کی وجہ توانائی قیمتوں میں مسلسل مضبوطی، دالیان پام اولین فیوچرز میں دوبارہ آنے والی تیزی، انڈونیشیا میں نئے متعارف کرائے گئے  بی 50 بائیو ڈیزل مینڈیٹ کے باعث پام آئل کی برآمدات میں ممکنہ کمی اور چین کی جانب سے نئی طلب ہے۔</p>
<p>دالیان کے سب سے زیادہ فعال سویا آئل معاہدے میں 0.88 فیصد اضافہ ہوا جبکہ پام آئل کے معاہدے میں 1.33 فیصد تیزی ریکارڈ کی گئی۔ شکاگو بورڈ آف ٹریڈ میں سویا آئل کی قیمتوں میں 0.23 فیصد کمی ہوئی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289139</guid>
      <pubDate>Fri, 24 Jul 2026 14:51:01 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/241439448219a15.gif" type="image/gif" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/241439448219a15.gif"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>یورپی یونین نے امریکی ٹیرف کی منطق پر سوال اٹھا دیا، وضاحت طلب</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289137/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس نے امریکا کی جانب سے یورپی مصنوعات پر نئے ٹیرف عائد کرنے کے فیصلے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی یونین پر جبری مشقت سے متعلق قوانین کے کمزور نفاذ کا الزام بے بنیاد ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں آسیان اجلاس کے موقع پر رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کالاس نے کہا کہ اگر یورپی یونین کے لیبر قوانین کا امریکا سے موازنہ کیا جائے تو یورپ میں ملازمین کو تنخواہ کے ساتھ چھٹیاں اور بہتر افرادی حقوق حاصل ہیں، اس لیے امریکی مؤقف کی کوئی ٹھوس بنیاد نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ یورپی یونین کو اس اقدام کی توقع نہیں تھی اور اب واشنگٹن سے اس فیصلے کی وضاحت طلب کی جائے گی۔ ان کے مطابق یورپی یونین نے گزشتہ سال ہونے والے ٹرانس اٹلانٹک تجارتی معاہدے کے تحت اپنی تمام ذمہ داریاں پوری کیں، اس لیے امریکی اقدام ایک منفی اور غیر متوقع پیش رفت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے جمعہ کو یورپی یونین سمیت 60 تجارتی شراکت داروں کی مصنوعات پر 10 اور 12.5 فیصد نئے ٹیرف عائد کر دیے ہیں۔ امریکا کا مؤقف ہے کہ ان ممالک میں جبری مشقت کے خلاف قوانین پر مؤثر عملدرآمد نہیں ہو رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب کایا کالاس نے روس کے خلاف یورپی یونین کے 21ویں پابندیوں کے پیکیج کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ان پابندیوں کا مقصد روس کو یوکرین جنگ کی مالی معاونت سے محروم کرنا اور اسے مذاکرات کی میز پر لانا ہے۔ ان کے مطابق پابندیوں کے باعث روس کے لیے بیرون ملک سرمایہ حاصل کرنا مشکل ہو گیا ہے، تاہم یہ اقدامات روس پر دباؤ ڈالنے کی وسیع حکمت عملی کا صرف ایک حصہ ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس نے امریکا کی جانب سے یورپی مصنوعات پر نئے ٹیرف عائد کرنے کے فیصلے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی یونین پر جبری مشقت سے متعلق قوانین کے کمزور نفاذ کا الزام بے بنیاد ہے۔</strong></p>
<p>فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں آسیان اجلاس کے موقع پر رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کالاس نے کہا کہ اگر یورپی یونین کے لیبر قوانین کا امریکا سے موازنہ کیا جائے تو یورپ میں ملازمین کو تنخواہ کے ساتھ چھٹیاں اور بہتر افرادی حقوق حاصل ہیں، اس لیے امریکی مؤقف کی کوئی ٹھوس بنیاد نہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ یورپی یونین کو اس اقدام کی توقع نہیں تھی اور اب واشنگٹن سے اس فیصلے کی وضاحت طلب کی جائے گی۔ ان کے مطابق یورپی یونین نے گزشتہ سال ہونے والے ٹرانس اٹلانٹک تجارتی معاہدے کے تحت اپنی تمام ذمہ داریاں پوری کیں، اس لیے امریکی اقدام ایک منفی اور غیر متوقع پیش رفت ہے۔</p>
<p>واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے جمعہ کو یورپی یونین سمیت 60 تجارتی شراکت داروں کی مصنوعات پر 10 اور 12.5 فیصد نئے ٹیرف عائد کر دیے ہیں۔ امریکا کا مؤقف ہے کہ ان ممالک میں جبری مشقت کے خلاف قوانین پر مؤثر عملدرآمد نہیں ہو رہا۔</p>
<p>دوسری جانب کایا کالاس نے روس کے خلاف یورپی یونین کے 21ویں پابندیوں کے پیکیج کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ان پابندیوں کا مقصد روس کو یوکرین جنگ کی مالی معاونت سے محروم کرنا اور اسے مذاکرات کی میز پر لانا ہے۔ ان کے مطابق پابندیوں کے باعث روس کے لیے بیرون ملک سرمایہ حاصل کرنا مشکل ہو گیا ہے، تاہم یہ اقدامات روس پر دباؤ ڈالنے کی وسیع حکمت عملی کا صرف ایک حصہ ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289137</guid>
      <pubDate>Fri, 24 Jul 2026 14:32:38 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/24143133e50c065.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/24143133e50c065.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فرانس نے جنگلاتی آگ پر قابو پانے کیلئے یورپی یونین سے مدد طلب کر لی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289136/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فرانس نے بحر اوقیانوس کے ساحلی علاقے کے قریب بھڑکنے والی شدید جنگلاتی آگ پر قابو پانے کے لیے یورپی یونین سے مدد طلب کر لی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ہمارے ملک، خصوصاً جیروند  کے علاقے میں لگنے والی آگ کے باعث صورتحال بدستور انتہائی تشویشناک ہے،فرانس نے یورپی یونین کے سول پروٹیکشن میکانزم کو فعال کرنے کی درخواست کر دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر میکرون کے مطابق فرانس کو جلد ہی کروشیا کے دو کینیڈیئر آگ بجھانے والے طیاروں، پرتگال کے دو ایئر ٹریکٹر  طیاروں، اور جمہوریہ چیک اور سلوواکیہ کے دو بھاری بلیک ہاک ہیلی کاپٹروں کی صورت میں اضافی مدد حاصل ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ فرانس کے جنوب مغربی علاقے میں بورڈو شہر کے مغرب میں تیزی سے پھیلنے والی جنگلاتی آگ کے باعث 10 ہزار سے زائد افراد کو راتوں رات محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا، جبکہ آگ کم از کم 2,400 ہیکٹر رقبے کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فرانس نے بحر اوقیانوس کے ساحلی علاقے کے قریب بھڑکنے والی شدید جنگلاتی آگ پر قابو پانے کے لیے یورپی یونین سے مدد طلب کر لی ہے۔</strong></p>
<p>فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ہمارے ملک، خصوصاً جیروند  کے علاقے میں لگنے والی آگ کے باعث صورتحال بدستور انتہائی تشویشناک ہے،فرانس نے یورپی یونین کے سول پروٹیکشن میکانزم کو فعال کرنے کی درخواست کر دی ہے۔</p>
<p>صدر میکرون کے مطابق فرانس کو جلد ہی کروشیا کے دو کینیڈیئر آگ بجھانے والے طیاروں، پرتگال کے دو ایئر ٹریکٹر  طیاروں، اور جمہوریہ چیک اور سلوواکیہ کے دو بھاری بلیک ہاک ہیلی کاپٹروں کی صورت میں اضافی مدد حاصل ہوگی۔</p>
<p>واضح رہے کہ فرانس کے جنوب مغربی علاقے میں بورڈو شہر کے مغرب میں تیزی سے پھیلنے والی جنگلاتی آگ کے باعث 10 ہزار سے زائد افراد کو راتوں رات محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا، جبکہ آگ کم از کم 2,400 ہیکٹر رقبے کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289136</guid>
      <pubDate>Fri, 24 Jul 2026 14:28:29 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/241427348062821.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/241427348062821.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارت میں نوجوان مظاہرین اور حکومت کے درمیان مذاکرات، احتجاج جاری رکھنے کا اعلان</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289134/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھارت میں امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے خلاف جاری ملک گیر احتجاج کے دوران نوجوانوں کی قیادت میں قائم کاکروچ تحریک کے رہنما آج (جمعہ) حکومت سے مذاکرات کریں گے، تاہم انہوں نے واضح کیا ہے کہ بات چیت کے باوجود احتجاجی مظاہرے جاری رہیں گے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روزہ بھوک ہڑتال ختم کر دی، جس سے اس بحران کے حل کی امید پیدا ہوئی ہے۔ ہزاروں نوجوان نئی دہلی میں جمع ہیں اور امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے اسکینڈل پر وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تحریک وزیر اعظم نریندر مودی کے 2014 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد نوجوانوں کی جانب سے سامنے آنے والا سب سے بڑا احتجاج قرار دی جا رہی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے بھی مظاہرین کے مطالبات کی حمایت کی ہے اور پارلیمنٹ کے مون سون اجلاس میں احتجاج کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحریک کے ترجمان سورَو داس نے بتایا کہ حکومت اور کاکروچ جنتا پارٹی  کے رہنماؤں کے درمیان غیر جانبدار مقام پر مذاکرات ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ حکومت کے سامنے اپنے مطالبات تفصیل سے رکھیں گے، تاہم ملک گیر احتجاج ختم نہیں کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر دہلی میں مظاہروں کے پیش نظر حکام نے ایک بار پھر 17 میٹرو اسٹیشن بند کر دیے، موبائل انٹرنیٹ سروس محدود کر دی اور وسطی دہلی میں سکیورٹی مزید سخت کر دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب وزیر اعظم مودی نے کہا ہے کہ وفاقی کابینہ امتحانی پرچوں کے لیک میں ملوث افراد کے خلاف سخت سزاؤں سے متعلق قانون میں ترمیم کے مسودے پر غور کرے گی، تاہم مظاہرین کا مؤقف ہے کہ صرف سزائیں کافی نہیں بلکہ امتحانی نظام میں بنیادی اصلاحات ضروری ہیں تاکہ مستقبل میں پرچے لیک ہونے کے واقعات روکے جا سکیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بھارت میں امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے خلاف جاری ملک گیر احتجاج کے دوران نوجوانوں کی قیادت میں قائم کاکروچ تحریک کے رہنما آج (جمعہ) حکومت سے مذاکرات کریں گے، تاہم انہوں نے واضح کیا ہے کہ بات چیت کے باوجود احتجاجی مظاہرے جاری رہیں گے۔</strong></p>
<p>یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روزہ بھوک ہڑتال ختم کر دی، جس سے اس بحران کے حل کی امید پیدا ہوئی ہے۔ ہزاروں نوجوان نئی دہلی میں جمع ہیں اور امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے اسکینڈل پر وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔</p>
<p>یہ تحریک وزیر اعظم نریندر مودی کے 2014 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد نوجوانوں کی جانب سے سامنے آنے والا سب سے بڑا احتجاج قرار دی جا رہی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے بھی مظاہرین کے مطالبات کی حمایت کی ہے اور پارلیمنٹ کے مون سون اجلاس میں احتجاج کیا ہے۔</p>
<p>تحریک کے ترجمان سورَو داس نے بتایا کہ حکومت اور کاکروچ جنتا پارٹی  کے رہنماؤں کے درمیان غیر جانبدار مقام پر مذاکرات ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ حکومت کے سامنے اپنے مطالبات تفصیل سے رکھیں گے، تاہم ملک گیر احتجاج ختم نہیں کیا جائے گا۔</p>
<p>ادھر دہلی میں مظاہروں کے پیش نظر حکام نے ایک بار پھر 17 میٹرو اسٹیشن بند کر دیے، موبائل انٹرنیٹ سروس محدود کر دی اور وسطی دہلی میں سکیورٹی مزید سخت کر دی۔</p>
<p>دوسری جانب وزیر اعظم مودی نے کہا ہے کہ وفاقی کابینہ امتحانی پرچوں کے لیک میں ملوث افراد کے خلاف سخت سزاؤں سے متعلق قانون میں ترمیم کے مسودے پر غور کرے گی، تاہم مظاہرین کا مؤقف ہے کہ صرف سزائیں کافی نہیں بلکہ امتحانی نظام میں بنیادی اصلاحات ضروری ہیں تاکہ مستقبل میں پرچے لیک ہونے کے واقعات روکے جا سکیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289134</guid>
      <pubDate>Fri, 24 Jul 2026 14:23:47 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/24142136cc5d5b0.gif" type="image/gif" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/24142136cc5d5b0.gif"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹرمپ کے نئے ٹیرف کے بعد پاکستانی بانڈز میں گراوٹ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289133/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نئے ٹیرف کے اعلان کے بعد جمعہ کو پاکستان کے بین الاقوامی سورین بانڈز کی قیمت میں 0.5 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی جب کہ سری لنکا اور انڈونیشین بانڈز پر بھی دباؤ دیکھا گیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جبری مشقت کی پابندیوں پر عمل درآمد میں نرمی کے الزامات کے تحت 60 تجارتی شراکت داروں کی اشیا پر 10 فیصد اور 12.5 فیصد کے نئے امریکی ٹیرف کا اعلان عین اس وقت کیا گیا جب 10 فیصد کا عارضی عالمی ٹیرف ختم ہورہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے 2036 میں میچور ہونے والے سورین بانڈ کی قیمت 0.5 فیصد کم ہو کر 97.80 سینٹ کی بولی پر آ گئی جبکہ انڈونیشیا کے 2045 میں میچور ہونے والے بانڈ میں بھی اتنی ہی کمی ہوئی اور اس کی بولی 88.48 سینٹ پر پہنچ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سری لنکا کے 2033 میں میچور ہونے والے بانڈ کی قیمت ایک سینٹ سے کچھ زائد گر کر 93.05 سینٹ فی ڈالر کی بولی پر آ گئی۔ امریکا سری لنکا کی برآمدات کی سب سے بڑی منڈی ہے جہاں تقریباً 3 ارب ڈالر مالیت کی برآمدات کی جاتی ہیں جن میں زیادہ تر گارمنٹس  شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ارجنٹائن، بنگلہ دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، ایل سلواڈور، گوئٹے مالا، ہنڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو، پاکستان، سری لنکا اور ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو کو نئے 10 فیصد ٹیرف کا سامنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورپی یونین، تائیوان، جاپان، جنوبی کوریا اور سوئٹزرلینڈ کے لیے ایسے ٹیرف کی شرح مقرر کی گئی ہیں جو پہلے سے نافذ موسٹ فیوریٹ نیشن ٹیرف ریٹس کے ساتھ ملا کر مجموعی طور پر 10 فیصد یا 12.5 فیصد بنتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نئے ٹیرف اقدام کو وائٹ ہاؤس کی جانب سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے انتخابی وعدے یعنی تقریباً عالمی سطح پر ٹیرف عائد کرنے کے وژن کو بحال کرنے کی تازہ ترین کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب امریکی سپریم کورٹ نے فروری میں گزشتہ سال قومی ہنگامی قانون کے تحت عائد کیے گئے 10 فیصد سے 50 فیصد تک کے جوابی ٹیرف کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔ ان ٹیرف کا مقصد امریکا کے تجارتی خسارے کو کم کرنا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعرات کو فیڈرل رجسٹر نوٹس میں اعلان کیے گئے یہ ٹیرف امریکا کی 99.4 فیصد درآمدات کا احاطہ کرتے ہیں، تاہم ان میں متعدد مصنوعات کو استثنیٰ دیا گیا ہے جن میں تیل و گیس، کھاد اور بعض غذائی اشیاء شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نئے ٹیرف کے اعلان کے بعد جمعہ کو پاکستان کے بین الاقوامی سورین بانڈز کی قیمت میں 0.5 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی جب کہ سری لنکا اور انڈونیشین بانڈز پر بھی دباؤ دیکھا گیا۔</strong></p>
<p>جبری مشقت کی پابندیوں پر عمل درآمد میں نرمی کے الزامات کے تحت 60 تجارتی شراکت داروں کی اشیا پر 10 فیصد اور 12.5 فیصد کے نئے امریکی ٹیرف کا اعلان عین اس وقت کیا گیا جب 10 فیصد کا عارضی عالمی ٹیرف ختم ہورہا ہے۔</p>
<p>پاکستان کے 2036 میں میچور ہونے والے سورین بانڈ کی قیمت 0.5 فیصد کم ہو کر 97.80 سینٹ کی بولی پر آ گئی جبکہ انڈونیشیا کے 2045 میں میچور ہونے والے بانڈ میں بھی اتنی ہی کمی ہوئی اور اس کی بولی 88.48 سینٹ پر پہنچ گئی۔</p>
<p>سری لنکا کے 2033 میں میچور ہونے والے بانڈ کی قیمت ایک سینٹ سے کچھ زائد گر کر 93.05 سینٹ فی ڈالر کی بولی پر آ گئی۔ امریکا سری لنکا کی برآمدات کی سب سے بڑی منڈی ہے جہاں تقریباً 3 ارب ڈالر مالیت کی برآمدات کی جاتی ہیں جن میں زیادہ تر گارمنٹس  شامل ہیں۔</p>
<p>ارجنٹائن، بنگلہ دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، ایل سلواڈور، گوئٹے مالا، ہنڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو، پاکستان، سری لنکا اور ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو کو نئے 10 فیصد ٹیرف کا سامنا ہوگا۔</p>
<p>یورپی یونین، تائیوان، جاپان، جنوبی کوریا اور سوئٹزرلینڈ کے لیے ایسے ٹیرف کی شرح مقرر کی گئی ہیں جو پہلے سے نافذ موسٹ فیوریٹ نیشن ٹیرف ریٹس کے ساتھ ملا کر مجموعی طور پر 10 فیصد یا 12.5 فیصد بنتی ہیں۔</p>
<p>نئے ٹیرف اقدام کو وائٹ ہاؤس کی جانب سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے انتخابی وعدے یعنی تقریباً عالمی سطح پر ٹیرف عائد کرنے کے وژن کو بحال کرنے کی تازہ ترین کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب امریکی سپریم کورٹ نے فروری میں گزشتہ سال قومی ہنگامی قانون کے تحت عائد کیے گئے 10 فیصد سے 50 فیصد تک کے جوابی ٹیرف کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔ ان ٹیرف کا مقصد امریکا کے تجارتی خسارے کو کم کرنا تھا۔</p>
<p>جمعرات کو فیڈرل رجسٹر نوٹس میں اعلان کیے گئے یہ ٹیرف امریکا کی 99.4 فیصد درآمدات کا احاطہ کرتے ہیں، تاہم ان میں متعدد مصنوعات کو استثنیٰ دیا گیا ہے جن میں تیل و گیس، کھاد اور بعض غذائی اشیاء شامل ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289133</guid>
      <pubDate>Fri, 24 Jul 2026 14:09:34 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/24135528ff225f7.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/24135528ff225f7.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان سمیت آٹھ اسلامی ممالک کی مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی اشتعال انگیزی کی شدید مذمت</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289132/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آٹھ عرب اور اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے جمعہ کو مسجد اقصیٰ میں اسرائیل کی بڑھتی ہوئی اشتعال انگیزی، خصوصاً انتہا پسند اسرائیلی وزرا کی قیادت میں آبادکاروں کے مسلسل بڑے پیمانے پر دراندازی کرنے اور اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں مقدس مقام میں داخل ہونے کی شدید مذمت کی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزرائے خارجہ نے ایک مشترکہ بیان میں مسجد اقصیٰ کے صحن میں اسرائیلی پرچم لہرانے، اسرائیلی پولیس کی جانب سے دو خیمے نصب کرنے اور دیگر تمام اشتعال انگیز اقدامات کی بھی سخت الفاظ میں مذمت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشترکہ بیان جاری کرنے والے وزرائے خارجہ میں پاکستان، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ شامل تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا کہ یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول اقدامات بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم کے مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت (اسٹیٹس کو) کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزرائے خارجہ نے اسرائیل کے انتہا پسند وزرا اور گروہوں کی جانب سے اشتعال انگیزی، مسجد اقصیٰ پر دھاوے بولنے کی ترغیب اور تشدد پر مبنی غیر قانونی اور انتہا پسندانہ اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا کہ ایسے اقدامات نفرت اور انتہا پسندی کو فروغ دیتے ہیں اور دو ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ اور دیرپا امن کی کوششوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ یروشلم کے قدیم شہر (اولڈ سٹی) اور وہاں موجود عبادت گاہوں تک رسائی پر پابندیاں، نیز دیگر مقدس مقامات تک امتیازی اور من مانے انداز میں رسائی محدود کرنا بین الاقوامی قانون، بالخصوص بین الاقوامی انسانی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے اور تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی غیر قانونی کوشش ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزرائے خارجہ نے زور دیا کہ اسرائیل کو مقبوضہ یروشلم یا وہاں موجود اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات پر کوئی خودمختاری حاصل نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ قابض طاقت کی حیثیت سے اسرائیل مسلسل اور منظم انداز میں ایسے اقدامات کر رہا ہے جن کا مقصد مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت کو تبدیل کرنا اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی حرمت اور مقام کو نقصان پہنچانا ہے، جس کی سخت مذمت کی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو دوٹوک انداز میں مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا گیا، جبکہ اس ضمن میں ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزرائے خارجہ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم پر مشتمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے، اور اردن کی وزارتِ اوقاف و اسلامی امور کے ماتحت یروشلم اوقاف اور مسجد اقصیٰ امور کا محکمہ ہی وہ واحد قانونی ادارہ ہے جسے مسجد اقصیٰ کے انتظام و انصرام اور وہاں داخلے کے امور کا مکمل اختیار حاصل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے قابض قوت کی حیثیت سے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر یروشلم کے قدیم شہر تک رسائی پر عائد تمام پابندیاں ختم کرے اور مسلمانوں کو مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے آنے سے روکنے سے باز رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزرائے خارجہ نے عالمی برادری پر بھی زور دیا کہ وہ ایسا مضبوط مؤقف اختیار کرے جو اسرائیل کو یروشلم میں اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات کے خلاف جاری خلاف ورزیوں، غیر قانونی اقدامات اور ان مقدس مقامات کی بے حرمتی سے باز رکھنے پر مجبور کرے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>آٹھ عرب اور اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے جمعہ کو مسجد اقصیٰ میں اسرائیل کی بڑھتی ہوئی اشتعال انگیزی، خصوصاً انتہا پسند اسرائیلی وزرا کی قیادت میں آبادکاروں کے مسلسل بڑے پیمانے پر دراندازی کرنے اور اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں مقدس مقام میں داخل ہونے کی شدید مذمت کی۔</strong></p>
<p>وزرائے خارجہ نے ایک مشترکہ بیان میں مسجد اقصیٰ کے صحن میں اسرائیلی پرچم لہرانے، اسرائیلی پولیس کی جانب سے دو خیمے نصب کرنے اور دیگر تمام اشتعال انگیز اقدامات کی بھی سخت الفاظ میں مذمت کی۔</p>
<p>مشترکہ بیان جاری کرنے والے وزرائے خارجہ میں پاکستان، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ شامل تھے۔</p>
<p>بیان میں کہا گیا کہ یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول اقدامات بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم کے مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت (اسٹیٹس کو) کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔</p>
<p>وزرائے خارجہ نے اسرائیل کے انتہا پسند وزرا اور گروہوں کی جانب سے اشتعال انگیزی، مسجد اقصیٰ پر دھاوے بولنے کی ترغیب اور تشدد پر مبنی غیر قانونی اور انتہا پسندانہ اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا کہ ایسے اقدامات نفرت اور انتہا پسندی کو فروغ دیتے ہیں اور دو ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ اور دیرپا امن کی کوششوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ یروشلم کے قدیم شہر (اولڈ سٹی) اور وہاں موجود عبادت گاہوں تک رسائی پر پابندیاں، نیز دیگر مقدس مقامات تک امتیازی اور من مانے انداز میں رسائی محدود کرنا بین الاقوامی قانون، بالخصوص بین الاقوامی انسانی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے اور تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی غیر قانونی کوشش ہے۔</p>
<p>وزرائے خارجہ نے زور دیا کہ اسرائیل کو مقبوضہ یروشلم یا وہاں موجود اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات پر کوئی خودمختاری حاصل نہیں۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ قابض طاقت کی حیثیت سے اسرائیل مسلسل اور منظم انداز میں ایسے اقدامات کر رہا ہے جن کا مقصد مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت کو تبدیل کرنا اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی حرمت اور مقام کو نقصان پہنچانا ہے، جس کی سخت مذمت کی جاتی ہے۔</p>
<p>بیان میں یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو دوٹوک انداز میں مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا گیا، جبکہ اس ضمن میں ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا گیا۔</p>
<p>وزرائے خارجہ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم پر مشتمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے، اور اردن کی وزارتِ اوقاف و اسلامی امور کے ماتحت یروشلم اوقاف اور مسجد اقصیٰ امور کا محکمہ ہی وہ واحد قانونی ادارہ ہے جسے مسجد اقصیٰ کے انتظام و انصرام اور وہاں داخلے کے امور کا مکمل اختیار حاصل ہے۔</p>
<p>انہوں نے قابض قوت کی حیثیت سے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر یروشلم کے قدیم شہر تک رسائی پر عائد تمام پابندیاں ختم کرے اور مسلمانوں کو مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے آنے سے روکنے سے باز رہے۔</p>
<p>وزرائے خارجہ نے عالمی برادری پر بھی زور دیا کہ وہ ایسا مضبوط مؤقف اختیار کرے جو اسرائیل کو یروشلم میں اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات کے خلاف جاری خلاف ورزیوں، غیر قانونی اقدامات اور ان مقدس مقامات کی بے حرمتی سے باز رکھنے پر مجبور کرے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289132</guid>
      <pubDate>Fri, 24 Jul 2026 14:02:42 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/24135938d993afb.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/24135938d993afb.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کی فور اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی، کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ مقرر</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289131/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیراعظم شہباز شریف نے لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کو فور سٹار جنرل کے عہدے پر ترقی دیتے ہوئے انہیں کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ مقرر کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے جنرل عامر رضا کو ترقی اور نئی ذمہ داری سنبھالنے پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/PakPMO/status/2080539704609431957?'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/PakPMO/status/2080539704609431957?"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ جنرل عامر رضا اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور وسیع تجربے سے اس اہم قومی ذمہ داری کو مؤثر انداز میں نبھائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پیشرفت چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو پانچ سال کی مدت کے لیے پہلے چیف آف ڈیفنس فورسز (سی ڈی ایف) کے طور پر مقرر کیے جانے کے چھ ماہ سے زائد عرصے بعد سامنے آئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیف آف ڈیفنس فورسز (سی ڈی ایف) کا عہدہ آئین کی 27 ویں آئینی ترمیم کے تحت قائم کیا گیا جس نے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی (سی جے سی ایس سی) کے ختم کیے گئے عہدے کی جگہ لے لی۔ یہ عہدہ باضابطہ طور پر 27 نومبر 2025 کو ختم کر دیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نظرثانی شدہ ڈھانچے کے تحت چیف آف ڈیفنس فورسز (سی ڈی ایف) کا عہدہ دوہری ذمہ داریوں پر مشتمل ہے جس میں سابق چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی  اور چیف آف آرمی اسٹاف دونوں عہدوں کی ذمہ داریاں یکجا کر دی گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ (این ایس سی) کے کمانڈر کی تقرری بھی ایک اہم پیش رفت ہے جو اس وقت سے زیرِ غور تھی۔ یہ نیا قائم کیا گیا فور اسٹار جنرل کا عہدہ ہے جس کی ذمہ داری پاکستان کے جوہری کمانڈ اور اسٹریٹجک فورسز کی نگرانی کرنا ہے جو اس سے قبل چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی (سی جے سی ایس سی) کے سپرد تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئین کے آرٹیکل 243 میں کی گئی ترمیم کے مطابق نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ  کے کمانڈر کا تقرر چیف آف آرمی اسٹاف کی سفارش پر وزیراعظم کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیراعظم شہباز شریف نے لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کو فور سٹار جنرل کے عہدے پر ترقی دیتے ہوئے انہیں کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ مقرر کیا ہے۔</strong></p>
<p>وزیراعظم نے جنرل عامر رضا کو ترقی اور نئی ذمہ داری سنبھالنے پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/PakPMO/status/2080539704609431957?'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/PakPMO/status/2080539704609431957?"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ جنرل عامر رضا اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور وسیع تجربے سے اس اہم قومی ذمہ داری کو مؤثر انداز میں نبھائیں گے۔</p>
<p>یہ پیشرفت چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو پانچ سال کی مدت کے لیے پہلے چیف آف ڈیفنس فورسز (سی ڈی ایف) کے طور پر مقرر کیے جانے کے چھ ماہ سے زائد عرصے بعد سامنے آئی ہے۔</p>
<p>چیف آف ڈیفنس فورسز (سی ڈی ایف) کا عہدہ آئین کی 27 ویں آئینی ترمیم کے تحت قائم کیا گیا جس نے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی (سی جے سی ایس سی) کے ختم کیے گئے عہدے کی جگہ لے لی۔ یہ عہدہ باضابطہ طور پر 27 نومبر 2025 کو ختم کر دیا گیا تھا۔</p>
<p>نظرثانی شدہ ڈھانچے کے تحت چیف آف ڈیفنس فورسز (سی ڈی ایف) کا عہدہ دوہری ذمہ داریوں پر مشتمل ہے جس میں سابق چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی  اور چیف آف آرمی اسٹاف دونوں عہدوں کی ذمہ داریاں یکجا کر دی گئی ہیں۔</p>
<p>نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ (این ایس سی) کے کمانڈر کی تقرری بھی ایک اہم پیش رفت ہے جو اس وقت سے زیرِ غور تھی۔ یہ نیا قائم کیا گیا فور اسٹار جنرل کا عہدہ ہے جس کی ذمہ داری پاکستان کے جوہری کمانڈ اور اسٹریٹجک فورسز کی نگرانی کرنا ہے جو اس سے قبل چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی (سی جے سی ایس سی) کے سپرد تھی۔</p>
<p>آئین کے آرٹیکل 243 میں کی گئی ترمیم کے مطابق نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ  کے کمانڈر کا تقرر چیف آف آرمی اسٹاف کی سفارش پر وزیراعظم کرتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289131</guid>
      <pubDate>Fri, 24 Jul 2026 13:54:28 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/2413453096aa879.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/2413453096aa879.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سندھ میں شدید بارشوں کی پیش گوئی، نشیبی علاقوں میں اربن فلڈنگ کا خدشہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289130/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) نے جمعہ کو سندھ کے مختلف اضلاع میں 27 جولائی تک وقفے وقفے سے بارش، آندھی اور گرج چمک کی پیش گوئی کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ بعض مقامات پر شدید بارش کے باعث نشیبی علاقوں میں شہری سیلاب (اربن فلڈنگ) کا خطرہ ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محکمہ موسمیات کے مطابق جنوب مغربی راجستھان اور ملحقہ علاقوں پر موجود کم دباؤ کا نظام اور بحیرہ عرب سے آنے والی مضبوط مون سون ہوائیں پاکستان کے جنوبی اور وسطی علاقوں کے موسم کو متاثر کر رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ایم ڈی نے بتایا کہ تھرپارکر، عمرکوٹ، میرپورخاص، بدین، سانگھڑ، ٹنڈو محمد خان، ٹنڈو الہٰ یار، حیدرآباد، مٹیاری، جامشورو اور شہید بینظیر آباد میں جمعہ سے 27 جولائی تک وقفے وقفے سے درمیانی سے موسلادھار بارش کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی دوران گھوٹکی، کشمور، جیکب آباد، شکارپور، سکھر، قمبر شہدادکوٹ، لاڑکانہ، خیرپور، نوشہرو فیروز اور ٹھٹھہ میں بھی ہلکی سے درمیانی بارش اور گرج چمک متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ آندھی اور آسمانی بجلی کے باعث سولر پینلز، بجلی کے کھمبوں اور اشتہاری بورڈز جیسے کمزور ڈھانچوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید کہا گیا ہے کہ تھرپارکر، عمرکوٹ، میرپورخاص، بدین، سانگھڑ، ٹنڈو محمد خان، ٹنڈو الہٰ یار، حیدرآباد، مٹیاری اور شہید بینظیر آباد میں بعض مقامات پر شدید بارش کے باعث شہری سیلاب کی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ایم ڈی نے کسانوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ موسمی پیش گوئی کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی زرعی سرگرمیوں کی منصوبہ بندی کریں اور مویشیوں کی حفاظت کو یقینی بنائیں۔ محکمہ کے مطابق پیش گوئی کے دوران سندھ میں جاری گرم اور مرطوب موسم میں بھی کمی آنے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی کے بارے میں محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ شہر میں موسم جزوی طور پر ابر آلود، گرم اور مرطوب رہے گا، جبکہ مضافاتی علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔ ہفتہ اور اتوار کے دوران شہر کے چند مقامات پر ہلکی بارش یا بوندا باندی بھی ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محکمہ موسمیات کے مطابق کراچی میں ہفتے کے اختتام تک کم سے کم درجہ حرارت 28 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 37 ڈگری سینٹی گریڈ تک رہنے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) نے جمعہ کو سندھ کے مختلف اضلاع میں 27 جولائی تک وقفے وقفے سے بارش، آندھی اور گرج چمک کی پیش گوئی کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ بعض مقامات پر شدید بارش کے باعث نشیبی علاقوں میں شہری سیلاب (اربن فلڈنگ) کا خطرہ ہے۔</strong></p>
<p>محکمہ موسمیات کے مطابق جنوب مغربی راجستھان اور ملحقہ علاقوں پر موجود کم دباؤ کا نظام اور بحیرہ عرب سے آنے والی مضبوط مون سون ہوائیں پاکستان کے جنوبی اور وسطی علاقوں کے موسم کو متاثر کر رہی ہیں۔</p>
<p>پی ایم ڈی نے بتایا کہ تھرپارکر، عمرکوٹ، میرپورخاص، بدین، سانگھڑ، ٹنڈو محمد خان، ٹنڈو الہٰ یار، حیدرآباد، مٹیاری، جامشورو اور شہید بینظیر آباد میں جمعہ سے 27 جولائی تک وقفے وقفے سے درمیانی سے موسلادھار بارش کا امکان ہے۔</p>
<p>اسی دوران گھوٹکی، کشمور، جیکب آباد، شکارپور، سکھر، قمبر شہدادکوٹ، لاڑکانہ، خیرپور، نوشہرو فیروز اور ٹھٹھہ میں بھی ہلکی سے درمیانی بارش اور گرج چمک متوقع ہے۔</p>
<p>محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ آندھی اور آسمانی بجلی کے باعث سولر پینلز، بجلی کے کھمبوں اور اشتہاری بورڈز جیسے کمزور ڈھانچوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔</p>
<p>مزید کہا گیا ہے کہ تھرپارکر، عمرکوٹ، میرپورخاص، بدین، سانگھڑ، ٹنڈو محمد خان، ٹنڈو الہٰ یار، حیدرآباد، مٹیاری اور شہید بینظیر آباد میں بعض مقامات پر شدید بارش کے باعث شہری سیلاب کی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔</p>
<p>پی ایم ڈی نے کسانوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ موسمی پیش گوئی کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی زرعی سرگرمیوں کی منصوبہ بندی کریں اور مویشیوں کی حفاظت کو یقینی بنائیں۔ محکمہ کے مطابق پیش گوئی کے دوران سندھ میں جاری گرم اور مرطوب موسم میں بھی کمی آنے کا امکان ہے۔</p>
<p>کراچی کے بارے میں محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ شہر میں موسم جزوی طور پر ابر آلود، گرم اور مرطوب رہے گا، جبکہ مضافاتی علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔ ہفتہ اور اتوار کے دوران شہر کے چند مقامات پر ہلکی بارش یا بوندا باندی بھی ہو سکتی ہے۔</p>
<p>محکمہ موسمیات کے مطابق کراچی میں ہفتے کے اختتام تک کم سے کم درجہ حرارت 28 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 37 ڈگری سینٹی گریڈ تک رہنے کی توقع ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289130</guid>
      <pubDate>Fri, 24 Jul 2026 13:50:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/24134736f0a5bdf.webp" type="image/webp" medium="image" height="552" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/24134736f0a5bdf.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سونے کی قیمت میں مسلسل دوسرے روز کمی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289129/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی و مقامی مارکیٹوں میں جمعہ کو بھی چاندی اور سونے کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی بلین مارکیٹ میں سونا 46 ڈالر کی کمی سے 4050 ڈالر فی اونس کا ہوگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی مارکیٹ میں سونے کے نرخ میں کمی کے باعث مقامی سطح پر بھی فی تولہ سونا 4600 روپے کی کمی سے 4 لاکھ 27 ہزار 436 روپے کا ہوگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح دس گرام سونے کی قیمت بھی 3944 روپے کی کمی سے 3 لاکھ 66 ہزار 457 روپے ہوگئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ جمعرات کو سونے کی فی تولہ قیمت 1800 روپے کی کمی سے 4 لاکھ 32 ہزار 36 روپے ہوگئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب چاندی کی فی تولہ قیمت 61 روپے کی کمی سے 6309 روپے ہوگئی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.youtube.com/shorts/sbmTSPeca0U'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube_short  media__item--relative'&gt;    &lt;div style="position: relative; aspect-ratio: 9 / 16; overflow: hidden; max-width: 360px; margin: auto"&gt;
        &lt;iframe
            src="https://www.youtube.com/embed/sbmTSPeca0U?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0"
            style="position: absolute; top: 0; left: 0; width: 100%; height: 100%; border: 0;"
            loading="lazy"
            allowfullscreen
        &gt;&lt;/iframe&gt;
    &lt;/div&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;br&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عالمی و مقامی مارکیٹوں میں جمعہ کو بھی چاندی اور سونے کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی۔</strong></p>
<p>عالمی بلین مارکیٹ میں سونا 46 ڈالر کی کمی سے 4050 ڈالر فی اونس کا ہوگیا۔</p>
<p>بین الاقوامی مارکیٹ میں سونے کے نرخ میں کمی کے باعث مقامی سطح پر بھی فی تولہ سونا 4600 روپے کی کمی سے 4 لاکھ 27 ہزار 436 روپے کا ہوگیا۔</p>
<p>اسی طرح دس گرام سونے کی قیمت بھی 3944 روپے کی کمی سے 3 لاکھ 66 ہزار 457 روپے ہوگئی۔</p>
<p>یاد رہے کہ جمعرات کو سونے کی فی تولہ قیمت 1800 روپے کی کمی سے 4 لاکھ 32 ہزار 36 روپے ہوگئی تھی۔</p>
<p>دوسری جانب چاندی کی فی تولہ قیمت 61 روپے کی کمی سے 6309 روپے ہوگئی۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.youtube.com/shorts/sbmTSPeca0U'>
        <div class='media__item  media__item--youtube_short  media__item--relative'>    <div style="position: relative; aspect-ratio: 9 / 16; overflow: hidden; max-width: 360px; margin: auto">
        <iframe
            src="https://www.youtube.com/embed/sbmTSPeca0U?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0"
            style="position: absolute; top: 0; left: 0; width: 100%; height: 100%; border: 0;"
            loading="lazy"
            allowfullscreen
        ></iframe>
    </div></div>
        
    </figure>
<br>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289129</guid>
      <pubDate>Fri, 24 Jul 2026 13:44:45 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/241344105bf7caa.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/241344105bf7caa.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ورلڈ کپ کی بدولت "پیکاک" کے سبسکرائبرز ریکارڈ سطح پر پہنچ گئے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289128/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کامکاسٹ کے این بی سی امبریلا تلے کام کرنے والے اسٹریمنگ پلیٹ فارم  پیکاک نے ورلڈ کپ کی نشریات کے باعث ریکارڈ تعداد میں نئے سبسکرائبرز حاصل کر لیے ہیں، یہ بات کامکاسٹ نے  جاری کردہ رپورٹ میں بتائی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹریمنگ سروس نے اس گرمیوں میں ٹیلی منڈو کی اسپینی زبان میں ورلڈ کپ کوریج کو لائیو نشر کیا۔ شمالی امریکہ میں ایونٹ کے انعقاد کے باعث زیادہ تر میچز پرائم ٹائم میں نشر ہوئے، جس سے تمام ذیلی اداروں کی ناظرین کی تعداد ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی۔چھ سالہ تاریخ میں پہلی بار منافع ظاہر کرنے والی سہ ماہی رپورٹ شیئر کرتے ہوئے کامکاسٹ نے بتایا کہ اپریل سے جون کی سہ ماہی میں مزید 20 لاکھ سبسکرائبرز کا اضافہ ہوا، جس کے بعد اسٹریمنگ پلیٹ فارم کے کل سبسکرائبرز کی تعداد 4 کروڑ 80 لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس دوران آمدن بڑھ کر تقریباً 1.9 ارب ڈالر ہو گئی، جبکہ منافع 189 ملین ڈالر تک جا پہنچا۔ یہ تمام اعداد و شمار توقعات سے بہتر رہے۔جوائنٹ سی ای او مائیک کیواناہ نے خبردار کیا کہ مختلف سہ ماہیوں کے دوران منافع کے گراف میں اتار چڑھاؤ آ سکتا ہے، تاہم انہوں نے اس اعتماد کا اظہار بھی کیا کہ این ایف ایل، ایم ایل بی، این بی اے، اولمپکس اور پریمیئر لیگ جیسی اسپورٹس پروگرامنگ کی نشر و اشاعت میں پیکاک کی شمولیت اسے مسلسل استحکام فراہم کرتی رہے گی۔کیواناہ نے کہا کہ چھ سالوں میں یہ پلیٹ فارم اتنی شاندار رفتار سے ایک بڑے پیمانے پر پہنچا ہے جس پر ہمیں بے حد فخر ہے اور یہ این بی سی کی تعمیر و پروگرامنگ کی ہماری حکمت عملی سے مکمل مطابقت رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کامکاسٹ کے این بی سی امبریلا تلے کام کرنے والے اسٹریمنگ پلیٹ فارم  پیکاک نے ورلڈ کپ کی نشریات کے باعث ریکارڈ تعداد میں نئے سبسکرائبرز حاصل کر لیے ہیں، یہ بات کامکاسٹ نے  جاری کردہ رپورٹ میں بتائی۔</strong></p>
<p>اسٹریمنگ سروس نے اس گرمیوں میں ٹیلی منڈو کی اسپینی زبان میں ورلڈ کپ کوریج کو لائیو نشر کیا۔ شمالی امریکہ میں ایونٹ کے انعقاد کے باعث زیادہ تر میچز پرائم ٹائم میں نشر ہوئے، جس سے تمام ذیلی اداروں کی ناظرین کی تعداد ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی۔چھ سالہ تاریخ میں پہلی بار منافع ظاہر کرنے والی سہ ماہی رپورٹ شیئر کرتے ہوئے کامکاسٹ نے بتایا کہ اپریل سے جون کی سہ ماہی میں مزید 20 لاکھ سبسکرائبرز کا اضافہ ہوا، جس کے بعد اسٹریمنگ پلیٹ فارم کے کل سبسکرائبرز کی تعداد 4 کروڑ 80 لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔</p>
<p>اس دوران آمدن بڑھ کر تقریباً 1.9 ارب ڈالر ہو گئی، جبکہ منافع 189 ملین ڈالر تک جا پہنچا۔ یہ تمام اعداد و شمار توقعات سے بہتر رہے۔جوائنٹ سی ای او مائیک کیواناہ نے خبردار کیا کہ مختلف سہ ماہیوں کے دوران منافع کے گراف میں اتار چڑھاؤ آ سکتا ہے، تاہم انہوں نے اس اعتماد کا اظہار بھی کیا کہ این ایف ایل، ایم ایل بی، این بی اے، اولمپکس اور پریمیئر لیگ جیسی اسپورٹس پروگرامنگ کی نشر و اشاعت میں پیکاک کی شمولیت اسے مسلسل استحکام فراہم کرتی رہے گی۔کیواناہ نے کہا کہ چھ سالوں میں یہ پلیٹ فارم اتنی شاندار رفتار سے ایک بڑے پیمانے پر پہنچا ہے جس پر ہمیں بے حد فخر ہے اور یہ این بی سی کی تعمیر و پروگرامنگ کی ہماری حکمت عملی سے مکمل مطابقت رکھتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289128</guid>
      <pubDate>Fri, 24 Jul 2026 13:41:42 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/2413340748a0e69.gif" type="image/gif" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/2413340748a0e69.gif"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اے لیگ ویمن میں مزید سرمایہ کاری کی ضرورت ہے ، سیم کیر</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289127/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آسٹریلوی فٹ بال اسٹار  سیم کیرکا کہنا ہے کہ قومی ٹیم (میٹیلڈاز) کی سرفہرست کھلاڑیوں کو وطن واپس لانے کے لیے  اے لیگ ویمن میں مزید سرمایہ کاری کی اشد ضرورت ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیلسی میں ساڑھے چھ سال گزارنے کے بعد امریکی کلب گوتم ایف سی سے منسلک ہونے والی 32 سالہ اسٹرائیکر نے کہا کہ اگر اے لیگ میں مناسب پیشہ ورانہ ماحول اور بہتر معاوضہ ملے تو کئی کھلاڑی واپسی پر غور کر سکتی ہیں۔اے لیگ میں کھلاڑیوں کی کم از کم سالانہ اجرت 18,486 امریکی ڈالر ہے، جو امریکی این ڈبلیو ایس ایل کے 50,500 ڈالر کے مقابلے میں کافی کم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کیٹلن فورڈ، اسٹیف کیٹلی اور میری فاؤلر سمیت آسٹریلیا کی بیشتر اہم کھلاڑی یورپ اور امریکہ کا رخ کر رہی ہیں۔ سیم کیر کے مطابق لیگ کی پائیدار ترقی کے لیے مزید وقت اور مالی تعاون درکار ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>آسٹریلوی فٹ بال اسٹار  سیم کیرکا کہنا ہے کہ قومی ٹیم (میٹیلڈاز) کی سرفہرست کھلاڑیوں کو وطن واپس لانے کے لیے  اے لیگ ویمن میں مزید سرمایہ کاری کی اشد ضرورت ہے۔</strong></p>
<p>چیلسی میں ساڑھے چھ سال گزارنے کے بعد امریکی کلب گوتم ایف سی سے منسلک ہونے والی 32 سالہ اسٹرائیکر نے کہا کہ اگر اے لیگ میں مناسب پیشہ ورانہ ماحول اور بہتر معاوضہ ملے تو کئی کھلاڑی واپسی پر غور کر سکتی ہیں۔اے لیگ میں کھلاڑیوں کی کم از کم سالانہ اجرت 18,486 امریکی ڈالر ہے، جو امریکی این ڈبلیو ایس ایل کے 50,500 ڈالر کے مقابلے میں کافی کم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کیٹلن فورڈ، اسٹیف کیٹلی اور میری فاؤلر سمیت آسٹریلیا کی بیشتر اہم کھلاڑی یورپ اور امریکہ کا رخ کر رہی ہیں۔ سیم کیر کے مطابق لیگ کی پائیدار ترقی کے لیے مزید وقت اور مالی تعاون درکار ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289127</guid>
      <pubDate>Fri, 24 Jul 2026 12:47:39 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/241231410ee83f2.gif" type="image/gif" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/241231410ee83f2.gif"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکی کمپنی کی بلوچستان میں معدنیات اور تیل و گیس کے منصوبوں میں دلچسپی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289126/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی وزیرِ پٹرولیم علی پرویز ملک نے معروف بین الاقوامی توانائی کمپنیوں کے نمائندوں سے الگ الگ ملاقاتیں کیں جن میں پاکستان کے توانائی اور اہم معدنیات (کریٹیکل منرلز) کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پہلی ملاقات میں وفاقی وزیر نے امریکی توانائی کمپنی مورگن ہیوز انرجی کے صدر گریگوری بلوم اور تجارہ کیپیٹل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر احمد ولید سے ملاقات کی۔ اس موقع پر پاکستان کے توانائی اور اہم معدنیات (کریٹیکل منرلز) کے شعبوں میں امریکی سرمایہ کاری کے فروغ پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گریگوری بلوم نے بلوچستان میں اہم معدنیات کی ترقی کے وسیع امکانات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ مورگن ہیوز انرجی اور تجارہ کیپیٹل مشترکہ طور پر معدنیات کے منصوبوں پر کام کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان کے تیل و گیس کے شعبے میں بھی مواقع کا جائزہ لے رہی ہیں، خصوصاً موجودہ آئل و گیس فیلڈز کی بہتری (فیلڈ آپٹیمائزیشن) کے ذریعے پیداوار بڑھانے پر توجہ دی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر علی پرویز ملک نے کمپنیوں کی دلچسپی کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت مقامی توانائی کی پیداوار میں اضافے اور متعلقہ شراکت داروں کے ساتھ قریبی تعاون کے ذریعے ذمہ دارانہ بین الاقوامی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے پُرعزم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری ملاقات میں وفاقی وزیر نے ویٹول ایشیا کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کیرن گالاگھر اور ان کی ٹیم سے ملاقات کی جس میں پاکستان کے پیٹرولیم شعبے میں جاری تعاون پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر نے ویٹول کو گوادر میں بنکرنگ آپریشنز کے کامیاب آغاز پر مبارکباد دی اور کمپنی کی جانب سے ہائی سلفر فیول آئل  کو ویری لو سلفر فیول آئل  میں تبدیل کرنے کی تجویز کا خیرمقدم کرتے ہوئے منصوبے کیلئے حکومت کی جانب سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقات میں پاکستان کی نئی متعارف کرائی گئی بانڈڈ اسٹوریج پالیسی کے تحت دستیاب مواقع کا بھی جائزہ لیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت کی جانب سے توانائی کی رسد و ترسیل کے نظام کو مضبوط بنانے، اسٹریٹجک ذخیرہ کرنے کی استعداد بڑھانے اور مزید بین الاقوامی سرمایہ کاری کے حصول کی کوششوں کے تحت ویٹول سمیت عالمی شہرت یافتہ توانائی کمپنیوں کے ساتھ بانڈڈ اسٹوریج انفرااسٹرکچر سے متعلق بات چیت جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں ملاقاتوں میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ پاکستان عالمی توانائی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے، غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ اور طویل المدتی توانائی تحفظ کے ساتھ ساتھ معاشی ترقی کو آگے بڑھانے کے لیے پُرعزم ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی وزیرِ پٹرولیم علی پرویز ملک نے معروف بین الاقوامی توانائی کمپنیوں کے نمائندوں سے الگ الگ ملاقاتیں کیں جن میں پاکستان کے توانائی اور اہم معدنیات (کریٹیکل منرلز) کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔</strong></p>
<p>پہلی ملاقات میں وفاقی وزیر نے امریکی توانائی کمپنی مورگن ہیوز انرجی کے صدر گریگوری بلوم اور تجارہ کیپیٹل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر احمد ولید سے ملاقات کی۔ اس موقع پر پاکستان کے توانائی اور اہم معدنیات (کریٹیکل منرلز) کے شعبوں میں امریکی سرمایہ کاری کے فروغ پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔</p>
<p>گریگوری بلوم نے بلوچستان میں اہم معدنیات کی ترقی کے وسیع امکانات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ مورگن ہیوز انرجی اور تجارہ کیپیٹل مشترکہ طور پر معدنیات کے منصوبوں پر کام کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان کے تیل و گیس کے شعبے میں بھی مواقع کا جائزہ لے رہی ہیں، خصوصاً موجودہ آئل و گیس فیلڈز کی بہتری (فیلڈ آپٹیمائزیشن) کے ذریعے پیداوار بڑھانے پر توجہ دی جا رہی ہے۔</p>
<p>وفاقی وزیر علی پرویز ملک نے کمپنیوں کی دلچسپی کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت مقامی توانائی کی پیداوار میں اضافے اور متعلقہ شراکت داروں کے ساتھ قریبی تعاون کے ذریعے ذمہ دارانہ بین الاقوامی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے پُرعزم ہے۔</p>
<p>دوسری ملاقات میں وفاقی وزیر نے ویٹول ایشیا کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کیرن گالاگھر اور ان کی ٹیم سے ملاقات کی جس میں پاکستان کے پیٹرولیم شعبے میں جاری تعاون پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔</p>
<p>وفاقی وزیر نے ویٹول کو گوادر میں بنکرنگ آپریشنز کے کامیاب آغاز پر مبارکباد دی اور کمپنی کی جانب سے ہائی سلفر فیول آئل  کو ویری لو سلفر فیول آئل  میں تبدیل کرنے کی تجویز کا خیرمقدم کرتے ہوئے منصوبے کیلئے حکومت کی جانب سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔</p>
<p>ملاقات میں پاکستان کی نئی متعارف کرائی گئی بانڈڈ اسٹوریج پالیسی کے تحت دستیاب مواقع کا بھی جائزہ لیا گیا۔</p>
<p>وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت کی جانب سے توانائی کی رسد و ترسیل کے نظام کو مضبوط بنانے، اسٹریٹجک ذخیرہ کرنے کی استعداد بڑھانے اور مزید بین الاقوامی سرمایہ کاری کے حصول کی کوششوں کے تحت ویٹول سمیت عالمی شہرت یافتہ توانائی کمپنیوں کے ساتھ بانڈڈ اسٹوریج انفرااسٹرکچر سے متعلق بات چیت جاری ہے۔</p>
<p>دونوں ملاقاتوں میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ پاکستان عالمی توانائی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے، غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ اور طویل المدتی توانائی تحفظ کے ساتھ ساتھ معاشی ترقی کو آگے بڑھانے کے لیے پُرعزم ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289126</guid>
      <pubDate>Fri, 24 Jul 2026 14:53:35 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/2412280099e0229.webp" type="image/webp" medium="image" height="606" width="1078">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/2412280099e0229.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان 2027 میں پانچ ون ڈے میچوں کی سیریز کے لیے انگلینڈ کا دورہ کرے گا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289125/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کرکٹ ٹیم اگلے سال 15 سے 26 مئی 2027 تک پانچ ون ڈے میچوں کی سیریز کھیلنے کے لیے انگلینڈ کا دورہ کرے گی، جس کا پہلا میچ ہفتہ 15 مئی کو ساؤتھمپٹن میں کھیلا جائے گا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرا ون ڈے 19 مئی کو مانچسٹر میں کھیلا جائے گا، جبکہ لیڈز 21 مئی کو سیریز کے تیسرے میچ کی میزبانی کرے گا۔ چوتھا اور پانچواں ون ڈے بالترتیب 23 اور 26 مئی کو چیسٹر لی اسٹریٹ اور کارڈف میں کھیلا جائے گا۔پاکستان، جو اس وقت دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے لیے ویسٹ انڈیز کے دورے پر ہے، اگلے ماہ 19 اگست سے 13 ستمبر تک ہونے والی تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے لیے انگلینڈ کا سفر کرے گا۔پانچ ون ڈے میچوں کی سیریز دونوں ٹیموں کو آئی سی سی مینز کرکٹ ورلڈ کپ 2027 کے لیے بہترین تیاری کا موقع فراہم کرے گی، جو 4 اکتوبر سے 21 نومبر تک جنوبی افریقہ، زمبابوے اور نمیبیا میں منعقد ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اس وقت آئی سی سی مینز ون ڈے رینکنگ میں پانچویں جبکہ انگلینڈ ساتویں نمبر پر موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان نے آخری بار 2021 میں ون ڈے سیریز کے لیے انگلینڈ کا دورہ کیا تھا، جہاں بابر اعظم 3 میچوں میں 177 رنز بنا کر ٹاپ اسکورر رہے تھے، جس میں ان کی 158 رنز کی شاندار اننگز بھی شامل تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سیریز کا شیڈول:&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;ul&gt;
&lt;li&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;15 مئی:&lt;/strong&gt; پہلا ون ڈے (ساؤتھمپٹن)&lt;/p&gt;
&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;19 مئی:&lt;/strong&gt; دوسرا ون ڈے (مانچسٹر)&lt;/p&gt;
&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;21 مئی:&lt;/strong&gt; تیسرا ون ڈے (لیڈز)&lt;/p&gt;
&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;23 مئی:&lt;/strong&gt; چوتھا ون ڈے (چیسٹر لی اسٹریٹ)&lt;/p&gt;
&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;26 مئی:&lt;/strong&gt; پانچواں ون ڈے (کارڈف)&lt;/p&gt;
&lt;/li&gt;
&lt;/ul&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ : بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کرکٹ ٹیم اگلے سال 15 سے 26 مئی 2027 تک پانچ ون ڈے میچوں کی سیریز کھیلنے کے لیے انگلینڈ کا دورہ کرے گی، جس کا پہلا میچ ہفتہ 15 مئی کو ساؤتھمپٹن میں کھیلا جائے گا۔</strong></p>
<p>دوسرا ون ڈے 19 مئی کو مانچسٹر میں کھیلا جائے گا، جبکہ لیڈز 21 مئی کو سیریز کے تیسرے میچ کی میزبانی کرے گا۔ چوتھا اور پانچواں ون ڈے بالترتیب 23 اور 26 مئی کو چیسٹر لی اسٹریٹ اور کارڈف میں کھیلا جائے گا۔پاکستان، جو اس وقت دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے لیے ویسٹ انڈیز کے دورے پر ہے، اگلے ماہ 19 اگست سے 13 ستمبر تک ہونے والی تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے لیے انگلینڈ کا سفر کرے گا۔پانچ ون ڈے میچوں کی سیریز دونوں ٹیموں کو آئی سی سی مینز کرکٹ ورلڈ کپ 2027 کے لیے بہترین تیاری کا موقع فراہم کرے گی، جو 4 اکتوبر سے 21 نومبر تک جنوبی افریقہ، زمبابوے اور نمیبیا میں منعقد ہوگا۔</p>
<p>پاکستان اس وقت آئی سی سی مینز ون ڈے رینکنگ میں پانچویں جبکہ انگلینڈ ساتویں نمبر پر موجود ہے۔</p>
<p>پاکستان نے آخری بار 2021 میں ون ڈے سیریز کے لیے انگلینڈ کا دورہ کیا تھا، جہاں بابر اعظم 3 میچوں میں 177 رنز بنا کر ٹاپ اسکورر رہے تھے، جس میں ان کی 158 رنز کی شاندار اننگز بھی شامل تھی۔</p>
<p><strong>سیریز کا شیڈول:</strong></p>
<ul>
<li>
<p><strong>15 مئی:</strong> پہلا ون ڈے (ساؤتھمپٹن)</p>
</li>
<li>
<p><strong>19 مئی:</strong> دوسرا ون ڈے (مانچسٹر)</p>
</li>
<li>
<p><strong>21 مئی:</strong> تیسرا ون ڈے (لیڈز)</p>
</li>
<li>
<p><strong>23 مئی:</strong> چوتھا ون ڈے (چیسٹر لی اسٹریٹ)</p>
</li>
<li>
<p><strong>26 مئی:</strong> پانچواں ون ڈے (کارڈف)</p>
</li>
</ul>
<p>کاپی رائٹ : بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289125</guid>
      <pubDate>Fri, 24 Jul 2026 12:40:42 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (محمد سلیم)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/241219036ba7b51.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/241219036ba7b51.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستانی نژاد سعدیہ زاہدی عالمی فضائی تنظیم کی پہلی خاتون سربراہ مقرر</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289124/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستانی نژاد سعدیہ زاہدی کو انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن (آیاٹا) کی نئی ڈائریکٹر جنرل مقرر کردیا گیا ہے۔ وہ یکم نومبر 2026 کو عہدہ سنبھالنے کے بعد عالمی ائر لائن انڈسٹری کی اس تنظیم کی قیادت کرنے والی پہلی خاتون ہوں گی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سعدیہ زاہدی عالمی فضائی تنظیم کی نویں ڈائریکٹر جنرل ہوں گی۔ وہ ورلڈ اکنامک فورم (ڈبلیو ای ایف) سے آیاٹا میں شامل ہورہی ہیں جہاں وہ منیجنگ ڈائریکٹر اور بورڈ آف منیجمنٹ کی رکن کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آیاٹا کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین اور لاٹام ایئرلائنز گروپ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر روبرٹو الوو نے ایک پریس بیان میں کہا کہ بورڈ سعدیہ زیدی کو آئی اے ٹی اے کا ڈائریکٹر جنرل مقرر کرنے پر انتہائی مسرت محسوس کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ورلڈ اکنامک فورم میں سعدیہ زاہدی کا طویل اور شاندار تجربہ دنیا کی فضائی کمپنیوں کی نمائندہ تنظیم کے طور پر آیاٹا کے کردار کو مزید مضبوط اور مؤثر بنائے گا۔ گلوبل ایئر ٹرانسپورٹ گ ٹریلین ڈالر کی صنعت ہے جس نے دنیا کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ سعدیہ زاہدی کی تقرری ایسے وقت میں ہوئی ہے جب عالمی ماحول میں نمایاں تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ ٹیکنالوجی اور جغرافیائی سیاسی عوامل سمیت کئی عناصر مستقبل میں فضائی صنعت کی سمت متعین کریں گے اور سعدیہ کے پاس وہ صلاحیتیں موجود ہیں جن کی بدولت وہ مؤثر انداز میں اس بات کی ترجمانی کر سکیں گی کہ لوگوں اور معیشتوں کو محفوظ، مؤثر اور پائیدار انداز میں باہم جوڑے رکھنے کے لیے ہماری صنعت کو کن اقدامات کی ضرورت ہے۔ وہ آیاٹا میں ایک نئی سوچ لے کر آئیں گی جو تنظیم کی مضبوط تکنیکی، مالیاتی اور ڈیٹا صلاحیتوں کی بنیاد پر فضائی صنعت کی مزید مؤثر انداز میں معاونت کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سعدیہ زاہدی نے ورلڈ اکنامک فورم میں دو دہائیوں سے زائد عرصہ خدمات انجام دیں جہاں وہ منیجنگ ڈائریکٹر اور بورڈ آف منیجمنٹ کی رکن رہیں۔ انہوں نے فورم کے سینٹر فار دی نیو اکانومی اینڈ سوسائٹی کی بنیاد رکھی جس کی وہ اس وقت بھی سربراہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سعدیہ زاہدی نے کہا کہ اس اہم مرحلے پر فضائی صنعت کی نمائندگی، اس کی قیادت اورآیاٹا کے مشن کو آگے بڑھانے میں اپنا کردار ادا کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ہوابازی معاشی ترقی، تجارت، سیاحت، روزگار، سرمایہ کاری اور مواقع کی فراہمی کے لیے بنیادی اہمیت کا حامل انفرااسٹرکچر ہے۔ تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا میں قابلِ اعتماد معیارات، ضروری خدمات اور مؤثر وکالت کے ذریعے فضائی صنعت کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کرنے میں آیاٹا کا کردار پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہوگیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ میں اپنی رکن ایئرلائنز، حکومتوں اور شراکت دار اداروں کے ساتھ قریبی تعاون کی منتظر ہوں تاکہ آیاٹا کی مضبوط بنیاد کو مزید مستحکم بنایا جا سکے اور یہ یقینی بنایا جائے کہ ہوابازی کا شعبہ جدت کو اپناتے ہوئے، اپنی استعداد اور لچک میں اضافہ کرتے ہوئے اور پائیدار ترقی کو فروغ دیتے ہوئے دنیا کو آپس میں جوڑتا رہے، ہم مل کر دنیا بھر میں مزید لوگوں اور معیشتوں تک فضائی رابطوں کے فوائد پہنچا سکتے ہیں۔ میری اولین ترجیح آئی اے ٹی اے کی ٹیم اور فضائی صنعت کے ساتھ مل کر ہوابازی کے مستقبل کی مشترکہ تعمیر ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سعدیہ زاہدی نے اسمتھ کالج سے معاشیات میں بی اے، دی گریجویٹ انسٹیٹیوٹ سے بین الاقوامی معاشیات میں ایم فل اور ہارورڈ یونیورسٹی سے ماسٹر آف پبلک ایڈمنسٹریشن کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے، وہ پاکستان اور سوئٹزرلینڈ دونوں ممالک کی شہریت رکھتی ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستانی نژاد سعدیہ زاہدی کو انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن (آیاٹا) کی نئی ڈائریکٹر جنرل مقرر کردیا گیا ہے۔ وہ یکم نومبر 2026 کو عہدہ سنبھالنے کے بعد عالمی ائر لائن انڈسٹری کی اس تنظیم کی قیادت کرنے والی پہلی خاتون ہوں گی۔</strong></p>
<p>سعدیہ زاہدی عالمی فضائی تنظیم کی نویں ڈائریکٹر جنرل ہوں گی۔ وہ ورلڈ اکنامک فورم (ڈبلیو ای ایف) سے آیاٹا میں شامل ہورہی ہیں جہاں وہ منیجنگ ڈائریکٹر اور بورڈ آف منیجمنٹ کی رکن کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں۔</p>
<p>آیاٹا کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین اور لاٹام ایئرلائنز گروپ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر روبرٹو الوو نے ایک پریس بیان میں کہا کہ بورڈ سعدیہ زیدی کو آئی اے ٹی اے کا ڈائریکٹر جنرل مقرر کرنے پر انتہائی مسرت محسوس کرتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ورلڈ اکنامک فورم میں سعدیہ زاہدی کا طویل اور شاندار تجربہ دنیا کی فضائی کمپنیوں کی نمائندہ تنظیم کے طور پر آیاٹا کے کردار کو مزید مضبوط اور مؤثر بنائے گا۔ گلوبل ایئر ٹرانسپورٹ گ ٹریلین ڈالر کی صنعت ہے جس نے دنیا کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ سعدیہ زاہدی کی تقرری ایسے وقت میں ہوئی ہے جب عالمی ماحول میں نمایاں تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ ٹیکنالوجی اور جغرافیائی سیاسی عوامل سمیت کئی عناصر مستقبل میں فضائی صنعت کی سمت متعین کریں گے اور سعدیہ کے پاس وہ صلاحیتیں موجود ہیں جن کی بدولت وہ مؤثر انداز میں اس بات کی ترجمانی کر سکیں گی کہ لوگوں اور معیشتوں کو محفوظ، مؤثر اور پائیدار انداز میں باہم جوڑے رکھنے کے لیے ہماری صنعت کو کن اقدامات کی ضرورت ہے۔ وہ آیاٹا میں ایک نئی سوچ لے کر آئیں گی جو تنظیم کی مضبوط تکنیکی، مالیاتی اور ڈیٹا صلاحیتوں کی بنیاد پر فضائی صنعت کی مزید مؤثر انداز میں معاونت کرے گی۔</p>
<p>سعدیہ زاہدی نے ورلڈ اکنامک فورم میں دو دہائیوں سے زائد عرصہ خدمات انجام دیں جہاں وہ منیجنگ ڈائریکٹر اور بورڈ آف منیجمنٹ کی رکن رہیں۔ انہوں نے فورم کے سینٹر فار دی نیو اکانومی اینڈ سوسائٹی کی بنیاد رکھی جس کی وہ اس وقت بھی سربراہ ہیں۔</p>
<p>سعدیہ زاہدی نے کہا کہ اس اہم مرحلے پر فضائی صنعت کی نمائندگی، اس کی قیادت اورآیاٹا کے مشن کو آگے بڑھانے میں اپنا کردار ادا کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ہوابازی معاشی ترقی، تجارت، سیاحت، روزگار، سرمایہ کاری اور مواقع کی فراہمی کے لیے بنیادی اہمیت کا حامل انفرااسٹرکچر ہے۔ تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا میں قابلِ اعتماد معیارات، ضروری خدمات اور مؤثر وکالت کے ذریعے فضائی صنعت کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کرنے میں آیاٹا کا کردار پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہوگیا ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ میں اپنی رکن ایئرلائنز، حکومتوں اور شراکت دار اداروں کے ساتھ قریبی تعاون کی منتظر ہوں تاکہ آیاٹا کی مضبوط بنیاد کو مزید مستحکم بنایا جا سکے اور یہ یقینی بنایا جائے کہ ہوابازی کا شعبہ جدت کو اپناتے ہوئے، اپنی استعداد اور لچک میں اضافہ کرتے ہوئے اور پائیدار ترقی کو فروغ دیتے ہوئے دنیا کو آپس میں جوڑتا رہے، ہم مل کر دنیا بھر میں مزید لوگوں اور معیشتوں تک فضائی رابطوں کے فوائد پہنچا سکتے ہیں۔ میری اولین ترجیح آئی اے ٹی اے کی ٹیم اور فضائی صنعت کے ساتھ مل کر ہوابازی کے مستقبل کی مشترکہ تعمیر ہوگی۔</p>
<p>سعدیہ زاہدی نے اسمتھ کالج سے معاشیات میں بی اے، دی گریجویٹ انسٹیٹیوٹ سے بین الاقوامی معاشیات میں ایم فل اور ہارورڈ یونیورسٹی سے ماسٹر آف پبلک ایڈمنسٹریشن کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے، وہ پاکستان اور سوئٹزرلینڈ دونوں ممالک کی شہریت رکھتی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289124</guid>
      <pubDate>Fri, 24 Jul 2026 16:07:26 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/24113742a7dd58f.webp" type="image/webp" medium="image" height="971" width="1619">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/24113742a7dd58f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بی وائی ڈی کا 15 کروڑ ڈالر کا پاکستان پلانٹ آخری مراحل میں، پہلی مقامی گاڑی جلد متوقع</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289122/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;چین کی معروف آٹو کمپنی بی وائی ڈی  کے پاکستان وینچر نے کہا ہے کہ سندھ کے علاقے گھارو میں 150 ملین ڈالر مالیت کا اس کا اسمبلی پلانٹ آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے، جبکہ کمپنی پاکستان میں مقامی طور پر اسمبل کی جانے والی پہلی بی وائی ڈی گاڑی کو جلد از جلد سڑکوں پر لانے کے لیے اپنی کوششیں تیز کر رہی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گزشتہ ہفتے بی وائی ڈی پاکستان کو رول آن/رول آف  جہاز کے ذریعے اب تک کی سب سے بڑی کھیپ موصول ہوئی، جس میں 2,000 سے زائد گاڑیاں شامل تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بی وائی ڈی پاکستان – میگا موٹر کمپنی کے وائس پریزیڈنٹ برائے سیلز اینڈ اسٹریٹجی، دانش خالق نے بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جی ہاں، منصوبہ بھرپور انداز میں آگے بڑھ رہا ہے، اور ہم پاکستان میں مقامی طور پر اسمبل ہونے والی پہلی بی وائی ڈی گاڑی کو جلد از جلد مارکیٹ میں متعارف کرانے پر پوری توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ سنگِ بنیاد رکھنے کے بعد دو سال سے بھی کم عرصے میں اس منصوبے کی تکمیل، پاکستان کی آٹو موبائل صنعت سے کمپنی کے طویل المدتی عزم کی عکاسی کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ گھارو میں ہماری مقصد کے تحت تعمیر کی جانے والی نیو انرجی وہیکل (این ای وی) اسمبلی سہولت کی تعمیر اب آخری مراحل میں ہے، جبکہ آلات کی تنصیب اور کمیشننگ کا عمل جاری ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/2314372870a19f4.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/2314372870a19f4.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ 2024 میں بی وائی ڈی نے مقامی شراکت دار میگا موٹر کمپنی (ایم ایم سی) کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری کے ذریعے پاکستان کی مسافر گاڑیوں کی مارکیٹ میں باضابطہ طور پر داخلے کا اعلان کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ سال دانش خالق نے اعلان کیا تھا کہ بی وائی ڈی جولائی یا اگست 2026 تک پاکستان میں اسمبل ہونے والی اپنی پہلی گاڑی متعارف کرانے کا ارادہ رکھتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ دو سال سے بھی کم عرصے میں تیار ہونے والی یہ فیکٹری، اپنے حجم کے اعتبار سے پاکستان کے تیز ترین آٹو موبائل مینوفیکچرنگ منصوبوں میں سے ایک ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بی وائی ڈی کے عہدیدار نے وضاحت کی کہ دنیا کے معیار کی ہر آٹو موبائل مینوفیکچرنگ سہولت کی طرح، یہاں بھی بڑے پیمانے پر پیداوار شروع کرنے سے پہلے آلات کی متعدد بار جانچ ، آزمائشی پیداوار اور معیار کی جانچ ضروری ہوتی ہے تاکہ ہر نظام کمپنی کے عالمی مینوفیکچرنگ معیارات پر پورا اترے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ تقریباً 150 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری سے قائم ہونے والی یہ فیکٹری فعال ہونے کے بعد سالانہ تقریباً 25 ہزار گاڑیاں تیار کرنے کی صلاحیت رکھے گی، جو پاکستان میں نیو انرجی وہیکلز (این ای ویز) کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے میں مدد دے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2,000 سے زائد الیکٹرک گاڑیوں کی حالیہ کھیپ کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ پیش رفت پاکستانی صارفین کے بی وائی ڈی برانڈ پر بڑھتے ہوئے اعتماد کی عکاسی کرتی ہے، اور اس کا مقصد صارفین کو بروقت گاڑیاں فراہم کرنا اور ملک بھر میں ڈیلرز کے پاس مناسب تعداد میں گاڑیوں کی دستیابی یقینی بنانا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ یہ کھیپ پاکستان میں بی وائی ڈی گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی طلب اور صارفین کے اعتماد کا واضح ثبوت ہے۔ صارفین اب تیزی سے بی وائی ڈی کی نیو انرجی گاڑیوں کی اہمیت کو تسلیم کر رہے ہیں، جو جدید ٹیکنالوجی، اعلیٰ معیار کی حفاظت، بہترین کارکردگی اور ایندھن کی بچت کا امتزاج پیش کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ عالمی سطح پر گاڑیوں کی تقسیم  کے لیے بڑھتے ہوئے مقابلے کے باوجود یہ کھیپ حاصل کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دنیا بھر میں بی وائی ڈی گاڑیوں کی غیر معمولی طلب اور بین الاقوامی سپلائی چین پر مسلسل دباؤ کے باعث گاڑیوں کا کوٹہ حاصل کرنا پہلے سے کہیں زیادہ مشکل ہو چکا ہے۔ تاہم میگا موٹر کمپنی نے بی وائی ڈی کے ساتھ قریبی تعاون کے ذریعے اب تک کی سب سے بڑی کھیپ حاصل کی، جس سے ہمیں صارفین کو جلد گاڑیاں فراہم کرنے اور حالیہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے بعد پاکستان میں نیو انرجی گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے میں مدد ملے گی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/231438487aa0ac8.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/231438487aa0ac8.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران صارفین کی نیو انرجی وہیکلز میں دلچسپی مسلسل بڑھی ہے کیونکہ خریدار روایتی انٹرنل کمبسشن انجن (آئی سی ای) گاڑیوں کے مقابلے میں مجموعی ملکیتی لاگت  کا موازنہ کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ایندھن کی قیمتوں میں حالیہ اضافے نے اس رجحان کو مزید تیز کر دیا ہے، جس کے باعث زیادہ صارفین ایسے متبادل ذرائع نقل و حمل کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں جو کم آپریٹنگ لاگت کے ساتھ اعلیٰ کارکردگی بھی فراہم کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ بی وائی ڈی کی ملکیتی ٹیکنالوجی کی بدولت اس کی گاڑیاں روایتی آئی سی ای گاڑیوں کے مقابلے میں 75 فیصد تک کم چلانے کے اخراجات فراہم کرتی ہیں، جبکہ حفاظت، کارکردگی اور اعتماد کے معیار پر بھی پوری اترتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے پاکستان میں چارجنگ انفراسٹرکچر کی بتدریج توسیع کو بھی الیکٹرک گاڑیوں پر صارفین کے اعتماد میں اضافے کا اہم سبب قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ بی وائی ڈی پاکستان – میگا موٹر کمپنی نے حبکو گرین پرائیویٹ لمیٹڈ(ایچ جی ایل) کے ساتھ شراکت داری کی ہے تاکہ پاکستان بھر میں نیو انرجی گاڑیوں کے لیے چارجنگ انفراسٹرکچر کا قومی نیٹ ورک قائم کیا جا سکے۔ اب تک ایچ جی ایل تقریباً 1,300 کلومیٹر پر محیط نیٹ ورک قائم کر چکی ہے، جو کراچی سے پشاور تک 19 اہم مقامات پر عوامی ڈی سی فاسٹ چارجنگ اسٹیشنز کے ذریعے منسلک ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ایچ جی ایل مستقبل میں اس نیٹ ورک کو مزید شہروں، اہم سفری راستوں اور ابھرتے ہوئے شہری مراکز، بشمول ٹیئر ٹو شہروں تک وسعت دے گی تاکہ پاکستان میں نیو انرجی گاڑیوں کے بڑھتے ہوئے استعمال کی ضروریات پوری کی جا سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آخر میں دانش خالق نے کہا کہ کمپنی مستقبل میں بھی مارکیٹ کی طلب کے مطابق گاڑیوں کی درآمد جاری رکھے گی، جبکہ مقامی مینوفیکچرنگ اور چارجنگ انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری بڑھا کر پاکستان میں نیو انرجی وہیکلز کی مارکیٹ کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>چین کی معروف آٹو کمپنی بی وائی ڈی  کے پاکستان وینچر نے کہا ہے کہ سندھ کے علاقے گھارو میں 150 ملین ڈالر مالیت کا اس کا اسمبلی پلانٹ آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے، جبکہ کمپنی پاکستان میں مقامی طور پر اسمبل کی جانے والی پہلی بی وائی ڈی گاڑی کو جلد از جلد سڑکوں پر لانے کے لیے اپنی کوششیں تیز کر رہی ہے۔</strong></p>
<p>یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گزشتہ ہفتے بی وائی ڈی پاکستان کو رول آن/رول آف  جہاز کے ذریعے اب تک کی سب سے بڑی کھیپ موصول ہوئی، جس میں 2,000 سے زائد گاڑیاں شامل تھیں۔</p>
<p>بی وائی ڈی پاکستان – میگا موٹر کمپنی کے وائس پریزیڈنٹ برائے سیلز اینڈ اسٹریٹجی، دانش خالق نے بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جی ہاں، منصوبہ بھرپور انداز میں آگے بڑھ رہا ہے، اور ہم پاکستان میں مقامی طور پر اسمبل ہونے والی پہلی بی وائی ڈی گاڑی کو جلد از جلد مارکیٹ میں متعارف کرانے پر پوری توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ سنگِ بنیاد رکھنے کے بعد دو سال سے بھی کم عرصے میں اس منصوبے کی تکمیل، پاکستان کی آٹو موبائل صنعت سے کمپنی کے طویل المدتی عزم کی عکاسی کرتی ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ گھارو میں ہماری مقصد کے تحت تعمیر کی جانے والی نیو انرجی وہیکل (این ای وی) اسمبلی سہولت کی تعمیر اب آخری مراحل میں ہے، جبکہ آلات کی تنصیب اور کمیشننگ کا عمل جاری ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/2314372870a19f4.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/2314372870a19f4.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>یاد رہے کہ 2024 میں بی وائی ڈی نے مقامی شراکت دار میگا موٹر کمپنی (ایم ایم سی) کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری کے ذریعے پاکستان کی مسافر گاڑیوں کی مارکیٹ میں باضابطہ طور پر داخلے کا اعلان کیا تھا۔</p>
<p>گزشتہ سال دانش خالق نے اعلان کیا تھا کہ بی وائی ڈی جولائی یا اگست 2026 تک پاکستان میں اسمبل ہونے والی اپنی پہلی گاڑی متعارف کرانے کا ارادہ رکھتی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ دو سال سے بھی کم عرصے میں تیار ہونے والی یہ فیکٹری، اپنے حجم کے اعتبار سے پاکستان کے تیز ترین آٹو موبائل مینوفیکچرنگ منصوبوں میں سے ایک ہے۔</p>
<p>بی وائی ڈی کے عہدیدار نے وضاحت کی کہ دنیا کے معیار کی ہر آٹو موبائل مینوفیکچرنگ سہولت کی طرح، یہاں بھی بڑے پیمانے پر پیداوار شروع کرنے سے پہلے آلات کی متعدد بار جانچ ، آزمائشی پیداوار اور معیار کی جانچ ضروری ہوتی ہے تاکہ ہر نظام کمپنی کے عالمی مینوفیکچرنگ معیارات پر پورا اترے۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ تقریباً 150 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری سے قائم ہونے والی یہ فیکٹری فعال ہونے کے بعد سالانہ تقریباً 25 ہزار گاڑیاں تیار کرنے کی صلاحیت رکھے گی، جو پاکستان میں نیو انرجی وہیکلز (این ای ویز) کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے میں مدد دے گی۔</p>
<p>2,000 سے زائد الیکٹرک گاڑیوں کی حالیہ کھیپ کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ پیش رفت پاکستانی صارفین کے بی وائی ڈی برانڈ پر بڑھتے ہوئے اعتماد کی عکاسی کرتی ہے، اور اس کا مقصد صارفین کو بروقت گاڑیاں فراہم کرنا اور ملک بھر میں ڈیلرز کے پاس مناسب تعداد میں گاڑیوں کی دستیابی یقینی بنانا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ یہ کھیپ پاکستان میں بی وائی ڈی گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی طلب اور صارفین کے اعتماد کا واضح ثبوت ہے۔ صارفین اب تیزی سے بی وائی ڈی کی نیو انرجی گاڑیوں کی اہمیت کو تسلیم کر رہے ہیں، جو جدید ٹیکنالوجی، اعلیٰ معیار کی حفاظت، بہترین کارکردگی اور ایندھن کی بچت کا امتزاج پیش کرتی ہیں۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ عالمی سطح پر گاڑیوں کی تقسیم  کے لیے بڑھتے ہوئے مقابلے کے باوجود یہ کھیپ حاصل کی گئی۔</p>
<p>دنیا بھر میں بی وائی ڈی گاڑیوں کی غیر معمولی طلب اور بین الاقوامی سپلائی چین پر مسلسل دباؤ کے باعث گاڑیوں کا کوٹہ حاصل کرنا پہلے سے کہیں زیادہ مشکل ہو چکا ہے۔ تاہم میگا موٹر کمپنی نے بی وائی ڈی کے ساتھ قریبی تعاون کے ذریعے اب تک کی سب سے بڑی کھیپ حاصل کی، جس سے ہمیں صارفین کو جلد گاڑیاں فراہم کرنے اور حالیہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے بعد پاکستان میں نیو انرجی گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے میں مدد ملے گی۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/231438487aa0ac8.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2026/07/231438487aa0ac8.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>ان کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران صارفین کی نیو انرجی وہیکلز میں دلچسپی مسلسل بڑھی ہے کیونکہ خریدار روایتی انٹرنل کمبسشن انجن (آئی سی ای) گاڑیوں کے مقابلے میں مجموعی ملکیتی لاگت  کا موازنہ کر رہے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ایندھن کی قیمتوں میں حالیہ اضافے نے اس رجحان کو مزید تیز کر دیا ہے، جس کے باعث زیادہ صارفین ایسے متبادل ذرائع نقل و حمل کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں جو کم آپریٹنگ لاگت کے ساتھ اعلیٰ کارکردگی بھی فراہم کرتے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ بی وائی ڈی کی ملکیتی ٹیکنالوجی کی بدولت اس کی گاڑیاں روایتی آئی سی ای گاڑیوں کے مقابلے میں 75 فیصد تک کم چلانے کے اخراجات فراہم کرتی ہیں، جبکہ حفاظت، کارکردگی اور اعتماد کے معیار پر بھی پوری اترتی ہیں۔</p>
<p>انہوں نے پاکستان میں چارجنگ انفراسٹرکچر کی بتدریج توسیع کو بھی الیکٹرک گاڑیوں پر صارفین کے اعتماد میں اضافے کا اہم سبب قرار دیا۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ بی وائی ڈی پاکستان – میگا موٹر کمپنی نے حبکو گرین پرائیویٹ لمیٹڈ(ایچ جی ایل) کے ساتھ شراکت داری کی ہے تاکہ پاکستان بھر میں نیو انرجی گاڑیوں کے لیے چارجنگ انفراسٹرکچر کا قومی نیٹ ورک قائم کیا جا سکے۔ اب تک ایچ جی ایل تقریباً 1,300 کلومیٹر پر محیط نیٹ ورک قائم کر چکی ہے، جو کراچی سے پشاور تک 19 اہم مقامات پر عوامی ڈی سی فاسٹ چارجنگ اسٹیشنز کے ذریعے منسلک ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ایچ جی ایل مستقبل میں اس نیٹ ورک کو مزید شہروں، اہم سفری راستوں اور ابھرتے ہوئے شہری مراکز، بشمول ٹیئر ٹو شہروں تک وسعت دے گی تاکہ پاکستان میں نیو انرجی گاڑیوں کے بڑھتے ہوئے استعمال کی ضروریات پوری کی جا سکیں۔</p>
<p>آخر میں دانش خالق نے کہا کہ کمپنی مستقبل میں بھی مارکیٹ کی طلب کے مطابق گاڑیوں کی درآمد جاری رکھے گی، جبکہ مقامی مینوفیکچرنگ اور چارجنگ انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری بڑھا کر پاکستان میں نیو انرجی وہیکلز کی مارکیٹ کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289122</guid>
      <pubDate>Fri, 24 Jul 2026 11:40:13 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (علی احمد)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/24113522606fbd3.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/24113522606fbd3.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹائر کاروبار میں توسیع، سروس انڈسٹریز نئی ذیلی کمپنی قائم کرے گی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289123/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سروس انڈسٹریز لمیٹڈ (ایس آئی ایل) نے جمعہ کو اعلان کیا ہے کہ اس کی مکمل ملکیتی ذیلی کمپنی سروس ٹائرز (پرائیویٹ) لمیٹڈ ((ایس ٹی پی ایل) نے ٹائر کے کاروبار کو وسعت دینے کے لیے سروس ٹائرز انٹرنیشنل (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے نام سے ایک نئی مکمل ملکیتی ذیلی کمپنی قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی نے  پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو ایک نوٹس کے ذریعے اس پیشرفت سے آگاہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نوٹس میں کہا گیا ہے کہ مجوزہ ذیلی کمپنی سے متعلق مزید تفصیلات مناسب وقت پر پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو فراہم کر دی جائیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سروس لانگ مارچ ٹائرز (ایس ایل ایم) کو 2020 میں سروس انڈسٹریز لمیٹڈ، چین کی چاؤیانگ لانگ مارچ ٹائر کمپنی لمیٹڈ اور مائیکو کارپوریشن پاکستان کے مشترکہ اشتراک (جوائنٹ ونچر) کے طور پر قائم کیا گیا تھا جب کہ کمپنی نے مارچ 2022 میں باقاعدہ تجارتی سرگرمیوں کا آغاز کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی سندھ کے علاقے سائٹ نوری آباد میں تقریباً 50 ایکڑ اسپیشل اکنامیک زون کی اراضی پر قائم اپنے مینوفیکچرنگ پلانٹ کا انتظام چلارہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سروس لانگ مارچ ٹائرز نے تجارتی سرگرمیوں کے آغاز کے بعد سے پاکستان کی آٹو موٹیو مینوفیکچرنگ صنعت میں ایک اہم مقام حاصل کرلیا ہے۔ کمپنی کی بنیادی توجہ ٹرک اور بسوں کے ریڈیئل ٹائروں کی تیاری پر مرکوز ہے جو ملک کے نقل و حمل، لاجسٹکس، تجارت اور صنعتی شعبوں کی ضروریات پوری کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سروس انڈسٹریز لمیٹڈ (ایس آئی ایل) نے جمعہ کو اعلان کیا ہے کہ اس کی مکمل ملکیتی ذیلی کمپنی سروس ٹائرز (پرائیویٹ) لمیٹڈ ((ایس ٹی پی ایل) نے ٹائر کے کاروبار کو وسعت دینے کے لیے سروس ٹائرز انٹرنیشنل (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے نام سے ایک نئی مکمل ملکیتی ذیلی کمپنی قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔</strong></p>
<p>کمپنی نے  پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو ایک نوٹس کے ذریعے اس پیشرفت سے آگاہ کیا۔</p>
<p>نوٹس میں کہا گیا ہے کہ مجوزہ ذیلی کمپنی سے متعلق مزید تفصیلات مناسب وقت پر پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو فراہم کر دی جائیں گی۔</p>
<p>سروس لانگ مارچ ٹائرز (ایس ایل ایم) کو 2020 میں سروس انڈسٹریز لمیٹڈ، چین کی چاؤیانگ لانگ مارچ ٹائر کمپنی لمیٹڈ اور مائیکو کارپوریشن پاکستان کے مشترکہ اشتراک (جوائنٹ ونچر) کے طور پر قائم کیا گیا تھا جب کہ کمپنی نے مارچ 2022 میں باقاعدہ تجارتی سرگرمیوں کا آغاز کیا۔</p>
<p>کمپنی سندھ کے علاقے سائٹ نوری آباد میں تقریباً 50 ایکڑ اسپیشل اکنامیک زون کی اراضی پر قائم اپنے مینوفیکچرنگ پلانٹ کا انتظام چلارہی ہے۔</p>
<p>سروس لانگ مارچ ٹائرز نے تجارتی سرگرمیوں کے آغاز کے بعد سے پاکستان کی آٹو موٹیو مینوفیکچرنگ صنعت میں ایک اہم مقام حاصل کرلیا ہے۔ کمپنی کی بنیادی توجہ ٹرک اور بسوں کے ریڈیئل ٹائروں کی تیاری پر مرکوز ہے جو ملک کے نقل و حمل، لاجسٹکس، تجارت اور صنعتی شعبوں کی ضروریات پوری کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289123</guid>
      <pubDate>Fri, 24 Jul 2026 11:37:03 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/2411273689d2b70.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/2411273689d2b70.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھنے سے اسٹاک ایکسچینج میں فروخت کا دباؤ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289121/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے باعث سرمایہ کاروں کے اعتماد پر منفی اثرات مرتب ہوئے جس کے باعث پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں جمعہ کو تجارتی سیشن کے دوسرے سیسن میں بھی  فروخت کا دباؤ برقرار رہا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوپہر 3:48 پر بینچ مارک انڈیکس 209.65 پوائنٹس یا 0.12 فیصد کی کمی سے 171,529.79 پوائنٹس پرآگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آٹوموبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکوں، تیل اور گیس تلاش کرنے والی کمپنیوں، او ایم سیز (آئل مارکیٹنگ کمپنیز) اور پاور جنریشن سمیت اہم شعبوں میں فروخت دیکھی گئی۔ حبکو, اے آر ایل , ماری , او جی ڈی سی, پی پی ایل , ایچ بی ایل , ایم سی بی , میبل اور این بی پی بھی منفی زون میں ٹریڈ کرتے دکھائی دیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ جمعرات کو پی ایس ایکس پر مندی کا دباؤ برقرار رہا کیونکہ امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور بین الاقوامی خام تیل کی قیمتوں میں تیز رفتار اضافے نے وسیع پیمانے پر خطرے سے گریز اور اہم شعبوں میں شدید فروخت کو جنم دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وسیع پیمانے پر ہونے والی فروخت کے نتیجے میں کے ایس ای 100 انڈیکس 2,690.48 پوائنٹس یا 1.54 فیصد کی کمی سے 171,739.45 پوائنٹس پر بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی سطح پر جمعہ کو خلیجی خطے میں شدت اختیار کرنے والے تنازع کے درمیان تیل کی قیمتیں دوبارہ 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئیں جس سے ایشیائی شیئرز میں گراوٹ آئی، بانڈ مارکیٹس میں ہلچل مچ گئی اور مہنگائی کے ایک نئے جھٹکے کے خدشات دوبارہ سر اٹھانے لگے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی برینٹ خام تیل 100.85 ڈالر فی بیرل پر برقرار رہا۔ اس سے قبل راتوں رات اس میں 7 فیصد کا اضافہ ہوا تھا اور یہ دو ماہ کی بلند ترین سطح 102 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا تھا جس کی وجہ بحیرہ احمر میں ایران کے حامی حوثیوں کی طرف سے سعودی ٹینکرز پر حملے تھے جن کی وجہ سے خلیج فارس میں آبنائے ہرمز کی تقریباً بندش کے ساتھ عالمی تیل کی فراہمی کی ایک اور انتہائی اہم گزرگاہ بھی بند ہوگئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عارضی جنگ بندی کے مؤثر خاتمے کو دو ہفتے گزرنے کے بعد امریکی فوج نے جمعہ کی صبح تک ایران پر فضائی حملے کیے جبکہ تہران نے ان پڑوسی عرب ممالک پر فائرنگ کی جو امریکی اڈوں کی میزبانی کرتے ہیں۔ تنازع کے تھمنے کے کوئی آثار نہ ہونے کی وجہ سے رواں ماہ برینٹ آئل کی قیمتوں میں تقریباً 40 فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس خبر نے کہ امریکی انتظامیہ 60 تجارتی شراکت داروں کی اشیاء پر درآمدی ڈیوٹی (ٹیرف) میں اضافہ کرے گی، مہنگائی کی صورتحال کو بہتر بنانے میں کوئی مدد نہیں کی جس کے نتیجے میں 30 سالہ ٹریژری ییلڈ 2007 کے بعد کی بلند ترین سطح کے قریب پہنچ گئے ہیں اور یورپ کے بینچ مارک قرض لینے کے اخراجات بھی 2011 کے بعد کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارکیٹس شرط لگارہی ہیں کہ مرکزی بینکوں کو زیادہ سخت پالیسی اپنانا ہوگی جس میں فیڈرل ریزرو کی جانب سے اگلے ہی ہفتے شرح سود میں اضافے کا امکان ایک تہائی ہے جو محض ایک ہفتہ پہلے کے مقابلے میں ایک بڑی تبدیلی ہے جبکہ ستمبر میں اس اقدام کا امکان مکمل طور پر قیمتوں میں شامل ہوچکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورپی مرکزی بینک نے راتوں رات شرح سود کو برقرار رکھا لیکن ستمبر میں شرح سود میں اضافے کا تقریباً 70 فیصد امکان مارکیٹ میں شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایشیا میں جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک حصص کا ایم ایس سی آئی کا وسیع ترین انڈیکس 1 فیصد گر گیا اور جاپان کا نکی 2.9 فیصد نیچے آ گیا۔ جنوبی کوریا کا کوسپی 3.7 فیصد گرگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ انٹرا ڈے اپڈیٹ ہے&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے باعث سرمایہ کاروں کے اعتماد پر منفی اثرات مرتب ہوئے جس کے باعث پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں جمعہ کو تجارتی سیشن کے دوسرے سیسن میں بھی  فروخت کا دباؤ برقرار رہا۔</strong></p>
<p>دوپہر 3:48 پر بینچ مارک انڈیکس 209.65 پوائنٹس یا 0.12 فیصد کی کمی سے 171,529.79 پوائنٹس پرآگیا۔</p>
<p>آٹوموبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکوں، تیل اور گیس تلاش کرنے والی کمپنیوں، او ایم سیز (آئل مارکیٹنگ کمپنیز) اور پاور جنریشن سمیت اہم شعبوں میں فروخت دیکھی گئی۔ حبکو, اے آر ایل , ماری , او جی ڈی سی, پی پی ایل , ایچ بی ایل , ایم سی بی , میبل اور این بی پی بھی منفی زون میں ٹریڈ کرتے دکھائی دیے۔</p>
<p>یاد رہے کہ جمعرات کو پی ایس ایکس پر مندی کا دباؤ برقرار رہا کیونکہ امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور بین الاقوامی خام تیل کی قیمتوں میں تیز رفتار اضافے نے وسیع پیمانے پر خطرے سے گریز اور اہم شعبوں میں شدید فروخت کو جنم دیا۔</p>
<p>وسیع پیمانے پر ہونے والی فروخت کے نتیجے میں کے ایس ای 100 انڈیکس 2,690.48 پوائنٹس یا 1.54 فیصد کی کمی سے 171,739.45 پوائنٹس پر بند ہوا۔</p>
<p>عالمی سطح پر جمعہ کو خلیجی خطے میں شدت اختیار کرنے والے تنازع کے درمیان تیل کی قیمتیں دوبارہ 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئیں جس سے ایشیائی شیئرز میں گراوٹ آئی، بانڈ مارکیٹس میں ہلچل مچ گئی اور مہنگائی کے ایک نئے جھٹکے کے خدشات دوبارہ سر اٹھانے لگے۔</p>
<p>بین الاقوامی برینٹ خام تیل 100.85 ڈالر فی بیرل پر برقرار رہا۔ اس سے قبل راتوں رات اس میں 7 فیصد کا اضافہ ہوا تھا اور یہ دو ماہ کی بلند ترین سطح 102 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا تھا جس کی وجہ بحیرہ احمر میں ایران کے حامی حوثیوں کی طرف سے سعودی ٹینکرز پر حملے تھے جن کی وجہ سے خلیج فارس میں آبنائے ہرمز کی تقریباً بندش کے ساتھ عالمی تیل کی فراہمی کی ایک اور انتہائی اہم گزرگاہ بھی بند ہوگئی۔</p>
<p>عارضی جنگ بندی کے مؤثر خاتمے کو دو ہفتے گزرنے کے بعد امریکی فوج نے جمعہ کی صبح تک ایران پر فضائی حملے کیے جبکہ تہران نے ان پڑوسی عرب ممالک پر فائرنگ کی جو امریکی اڈوں کی میزبانی کرتے ہیں۔ تنازع کے تھمنے کے کوئی آثار نہ ہونے کی وجہ سے رواں ماہ برینٹ آئل کی قیمتوں میں تقریباً 40 فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔</p>
<p>اس خبر نے کہ امریکی انتظامیہ 60 تجارتی شراکت داروں کی اشیاء پر درآمدی ڈیوٹی (ٹیرف) میں اضافہ کرے گی، مہنگائی کی صورتحال کو بہتر بنانے میں کوئی مدد نہیں کی جس کے نتیجے میں 30 سالہ ٹریژری ییلڈ 2007 کے بعد کی بلند ترین سطح کے قریب پہنچ گئے ہیں اور یورپ کے بینچ مارک قرض لینے کے اخراجات بھی 2011 کے بعد کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں۔</p>
<p>مارکیٹس شرط لگارہی ہیں کہ مرکزی بینکوں کو زیادہ سخت پالیسی اپنانا ہوگی جس میں فیڈرل ریزرو کی جانب سے اگلے ہی ہفتے شرح سود میں اضافے کا امکان ایک تہائی ہے جو محض ایک ہفتہ پہلے کے مقابلے میں ایک بڑی تبدیلی ہے جبکہ ستمبر میں اس اقدام کا امکان مکمل طور پر قیمتوں میں شامل ہوچکا ہے۔</p>
<p>یورپی مرکزی بینک نے راتوں رات شرح سود کو برقرار رکھا لیکن ستمبر میں شرح سود میں اضافے کا تقریباً 70 فیصد امکان مارکیٹ میں شامل ہے۔</p>
<p>ایشیا میں جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک حصص کا ایم ایس سی آئی کا وسیع ترین انڈیکس 1 فیصد گر گیا اور جاپان کا نکی 2.9 فیصد نیچے آ گیا۔ جنوبی کوریا کا کوسپی 3.7 فیصد گرگیا۔</p>
<p>یہ انٹرا ڈے اپڈیٹ ہے</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289121</guid>
      <pubDate>Fri, 24 Jul 2026 16:03:36 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/241124435c40977.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/241124435c40977.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
