<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Latest News</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 25 Sep 2026 10:28:41 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 25 Sep 2026 10:28:41 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حوثیوں کے بڑھتے حملے، پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا ہنگامی دفاعی اجلاس طلب</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291675/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت تینوں ممالک کے مسلح افواج کے سربراہان کا ہنگامی اجلاس بلانے پر اتفاق کیا ہے، جس میں یمن کے حوثیوں کے حملوں کے تناظر میں سعودی عرب کی معاونت کے طریقوں پر غور کیا جائے گا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سعودی وزارت خارجہ کے مطابق سعودی، پاکستانی اور ترک وزرائے خارجہ نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے فریم ورک کے تحت ملاقات کی۔ تینوں ممالک نے مکہ مکرمہ سمیت دیگر شہری مقامات کو نشانہ بنانے والے حملوں کی مذمت کی اور سعودی عرب کے اپنے دفاع کے حق کی حمایت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان کے مطابق وزرائے خارجہ نے تینوں ممالک کے چیفس آف اسٹاف کا فوری اجلاس منعقد کرنے کے انتظامات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت کسی ایک فریق پر حملے کو تمام فریقوں پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب حوثیوں نے سعودی عرب میں متعدد میزائل اور ڈرون حملے کرنے کا دعویٰ کیا، جبکہ سعودی حکام نے حوثی جنگجوؤں کی جانب سے داغے گئے 6 بیلسٹک میزائلوں کو روکنے کا اعلان کیا۔ سعودی عرب نے مکہ مکرمہ، جدہ اور ینبع سمیت مختلف علاقوں کے لیے ہنگامی انتباہات بھی جاری کیے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ایک امریکی ٹی وی انٹرویو میں حوثیوں سے فاصلہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ حوثی اپنے اقدامات کے خود ذمہ دار ہیں۔ ادھر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بتایا کہ تہران نے ثالثوں کے ذریعے امریکا کو ایک تجویز پیش کی ہے، جس کے تحت ایران کی شرائط پوری ہونے پر آبنائے ہرمز دوبارہ کھول دی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عباس عراقچی کے مطابق تجویز میں لبنان سمیت تمام محاذوں پر 7 روز کے اندر جنگ بندی، ایرانی بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی ختم کرنے، ایران کے منجمد اثاثے جاری کرنے اور تیل پر عائد پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا، خطے میں جاری جنگ نے عالمی توانائی کی سپلائی کو متاثر کیا ہے۔ حوثیوں نے بحیرہ احمر کے دہانے پر بحری آمدورفت میں خلل ڈالا، جبکہ ایران نے آبنائے ہرمز میں ٹینکرز کی آمدورفت محدود کردی ہے، جو جنگ سے قبل دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل برآمدات کا راستہ تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت تینوں ممالک کے مسلح افواج کے سربراہان کا ہنگامی اجلاس بلانے پر اتفاق کیا ہے، جس میں یمن کے حوثیوں کے حملوں کے تناظر میں سعودی عرب کی معاونت کے طریقوں پر غور کیا جائے گا۔</strong></p>
<p>سعودی وزارت خارجہ کے مطابق سعودی، پاکستانی اور ترک وزرائے خارجہ نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے فریم ورک کے تحت ملاقات کی۔ تینوں ممالک نے مکہ مکرمہ سمیت دیگر شہری مقامات کو نشانہ بنانے والے حملوں کی مذمت کی اور سعودی عرب کے اپنے دفاع کے حق کی حمایت کی۔</p>
<p>بیان کے مطابق وزرائے خارجہ نے تینوں ممالک کے چیفس آف اسٹاف کا فوری اجلاس منعقد کرنے کے انتظامات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت کسی ایک فریق پر حملے کو تمام فریقوں پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔</p>
<p>یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب حوثیوں نے سعودی عرب میں متعدد میزائل اور ڈرون حملے کرنے کا دعویٰ کیا، جبکہ سعودی حکام نے حوثی جنگجوؤں کی جانب سے داغے گئے 6 بیلسٹک میزائلوں کو روکنے کا اعلان کیا۔ سعودی عرب نے مکہ مکرمہ، جدہ اور ینبع سمیت مختلف علاقوں کے لیے ہنگامی انتباہات بھی جاری کیے تھے۔</p>
<p>ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ایک امریکی ٹی وی انٹرویو میں حوثیوں سے فاصلہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ حوثی اپنے اقدامات کے خود ذمہ دار ہیں۔ ادھر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بتایا کہ تہران نے ثالثوں کے ذریعے امریکا کو ایک تجویز پیش کی ہے، جس کے تحت ایران کی شرائط پوری ہونے پر آبنائے ہرمز دوبارہ کھول دی جائے گی۔</p>
<p>عباس عراقچی کے مطابق تجویز میں لبنان سمیت تمام محاذوں پر 7 روز کے اندر جنگ بندی، ایرانی بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی ختم کرنے، ایران کے منجمد اثاثے جاری کرنے اور تیل پر عائد پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ شامل ہے۔</p>
<p>دریں اثنا، خطے میں جاری جنگ نے عالمی توانائی کی سپلائی کو متاثر کیا ہے۔ حوثیوں نے بحیرہ احمر کے دہانے پر بحری آمدورفت میں خلل ڈالا، جبکہ ایران نے آبنائے ہرمز میں ٹینکرز کی آمدورفت محدود کردی ہے، جو جنگ سے قبل دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل برآمدات کا راستہ تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291675</guid>
      <pubDate>Fri, 25 Sep 2026 10:16:45 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/25101419ca01aca.webp" type="image/webp" medium="image" height="665" width="960">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/25101419ca01aca.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>تیل کا عالمی بحران ڈاؤن اسٹریم شعبے میں منتقل</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291674/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;تیل کے عالمی بحران کی صورتحال اب مختلف شکل اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے۔ خام تیل اب بھی مہنگا اور قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا شکار ہے، لیکن بڑا دباؤ اب تیل کی پیداوار کے اگلے مرحلے میں، یعنی ڈیزل، ریفائننگ مارجنز اور ان ایندھنوں میں تیزی سے ظاہر ہو رہا ہے جو دراصل سامان، زراعت اور کارخانوں کو چلاتے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعرات کو برینٹ خام تیل کی قیمت 105 ڈالر فی بیرل سے اوپر رہی، کیونکہ امریکا ایران تنازع کے جلد خاتمے کی امیدیں کمزور رہیں۔ اسی دوران خام تیل کی مارکیٹ نے خود کو حالات کے مطابق ڈھالنا شروع کردیا ہے۔ سعودی عرب نے ایسٹ ویسٹ پائپ لائن دوبارہ فعال کردی ہے، عراق برآمدات میں اضافہ کر رہا ہے، جبکہ خلیجی خطے سے مزید خام تیل آبنائے ہرمز سے گزرنے کے متبادل راستے تلاش کر رہا ہے۔ ان تبدیلیوں نے بعض اوقات خام تیل کی قیمتوں کو کم کرنے میں مدد دی ہے، اگرچہ جغرافیائی سیاسی خطرات اب بھی بلند ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ریفائن شدہ پٹرولیم مصنوعات کی مارکیٹ کے لیے حالات کو معمول پر لانا کہیں زیادہ مشکل ثابت ہو رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی ڈیزل سپلائی میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، کیونکہ ایران تنازع اور روسی ریفائننگ میں رکاوٹوں نے دو اہم برآمدی خطوں سے سپلائی کم کردی ہے۔ ذخائر کم ہوگئے ہیں، ریفائنریوں کی بندش نے قلت میں مزید اضافہ کردیا ہے، اور ڈیزل کے ریفائننگ مارجنز ریکارڈ سطح تک پہنچ گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب خام تیل اور ڈیزل کی قیمتوں کے درمیان فرق نمایاں ہوچکا ہے۔ خام تیل اور ڈیزل کی قیمتوں کا فرق تیزی سے بڑھ گیا ہے۔ یورپ میں حال ہی میں ڈیزل برینٹ کے مقابلے میں تقریباً 95 ڈالر فی بیرل پریمیم پر فروخت ہو رہا تھا، جبکہ امریکا میں ڈیزل کا پریمیم حال ہی میں ریکارڈ 119 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گیا۔ ایشیا میں بھی ڈیزل کے مارجنز ریکارڈ بلند سطح تک پہنچ گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ صورتحال اس لیے اہم ہے کیونکہ ٹرکوں، زراعت اور تعمیرات کو چلانے والا ایندھن خام تیل نہیں بلکہ ڈیزل ہے۔ ڈیزل کی بلند قیمتیں فوری طور پر مال برداری، زرعی اور صنعتی اخراجات میں اضافہ کرتی ہیں، جو بالآخر صارفین کی قیمتوں میں منتقل ہوجاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ برینٹ کی قیمت میں کمی مہنگائی کے دباؤ میں فوری ریلیف نہیں لا سکتی۔ پاکستان کے لیے یہ صورتحال خاص طور پر اہم ہے کیونکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل مال برداری، زراعت اور صنعت میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوتا ہے۔ اگر عالمی ڈیزل مارجنز بلند سطح پر برقرار رہے تو خام تیل کی قیمتوں میں کمی کے باوجود ملکی لاگت کا دباؤ زیادہ عرصے تک برقرار رہ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سپلائی کا یہ مسئلہ خام تیل کی قلت کے مقابلے میں حل کرنا بھی زیادہ مشکل ہے۔ جہاں تیل پیدا کرنے والے اضافی گنجائش موجود ہونے کی صورت میں کارگو کا رخ تبدیل کرسکتے ہیں یا مزید تیل پمپ کرسکتے ہیں، وہیں ریفائننگ کی گنجائش کہیں کم لچکدار ہے۔ متاثرہ ریفائنریوں کو مکمل پیداوار پر واپس آنے میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں، جبکہ موجودہ ریفائنریاں بھی پیداوار میں ایک محدود حد تک ہی اضافہ کرسکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اور ذخائر بھی زیادہ اطمینان فراہم نہیں کر رہے۔ امریکا میں ڈیزل کے ذخائر سال کے اس وقت کے معمول کے مقابلے میں غیر معمولی طور پر کم ہیں، جبکہ یورپ میں بھی ذخائر تاریخی اوسط سے کم ہیں۔ صنعتی اندازوں کے مطابق ڈیزل کی سخت سپلائی کی صورتحال 2027 تک برقرار رہ سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین نے ڈیزل سمیت ریفائن شدہ پٹرولیم مصنوعات کی برآمدات میں اضافہ کرکے کچھ ریلیف فراہم کیا ہے۔ بلند ریفائننگ مارجنز سے دیگر خطوں کی ریفائنریوں کو بھی پیداوار زیادہ سے زیادہ کرنے کی ترغیب ملنی چاہیے۔ تاہم اگر جغرافیائی سیاسی رکاوٹیں جاری رہیں تو ان دونوں اقدامات میں سے کوئی بھی فوری حل فراہم نہیں کرتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بحران کے آغاز میں بنیادی سوال یہ تھا کہ خام تیل کی سپلائی میں کتنی کمی واقع ہوگی اور برینٹ کی قیمت کتنی بلند ہوسکتی ہے۔ اب خام تیل کی کچھ سپلائی کے بہاؤ میں تبدیلی آرہی ہے۔ تاہم ڈاؤن اسٹریم نظام نے تقریباً اتنی تیزی سے خود کو حالات کے مطابق نہیں ڈھالا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا توانائی کے بحران کا اگلا مرحلہ اس بات سے کم متعلق ہوسکتا ہے کہ برینٹ کی قیمت 100 ڈالر یا 110 ڈالر فی بیرل ہے، اور اس بات سے زیادہ متعلق ہوسکتا ہے کہ ریفائنرز ان بیرل کو ان ایندھنوں میں تبدیل کرنے کے لیے کتنی قیمت وصول کر رہے ہیں جنہیں عالمی معیشت حقیقتاً استعمال کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیل کا بحران ختم نہیں ہوا۔ یہ صرف ڈاؤن اسٹریم مرحلے میں منتقل ہوگیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>تیل کے عالمی بحران کی صورتحال اب مختلف شکل اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے۔ خام تیل اب بھی مہنگا اور قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا شکار ہے، لیکن بڑا دباؤ اب تیل کی پیداوار کے اگلے مرحلے میں، یعنی ڈیزل، ریفائننگ مارجنز اور ان ایندھنوں میں تیزی سے ظاہر ہو رہا ہے جو دراصل سامان، زراعت اور کارخانوں کو چلاتے ہیں۔</strong></p>
<p>جمعرات کو برینٹ خام تیل کی قیمت 105 ڈالر فی بیرل سے اوپر رہی، کیونکہ امریکا ایران تنازع کے جلد خاتمے کی امیدیں کمزور رہیں۔ اسی دوران خام تیل کی مارکیٹ نے خود کو حالات کے مطابق ڈھالنا شروع کردیا ہے۔ سعودی عرب نے ایسٹ ویسٹ پائپ لائن دوبارہ فعال کردی ہے، عراق برآمدات میں اضافہ کر رہا ہے، جبکہ خلیجی خطے سے مزید خام تیل آبنائے ہرمز سے گزرنے کے متبادل راستے تلاش کر رہا ہے۔ ان تبدیلیوں نے بعض اوقات خام تیل کی قیمتوں کو کم کرنے میں مدد دی ہے، اگرچہ جغرافیائی سیاسی خطرات اب بھی بلند ہیں۔</p>
<p>تاہم ریفائن شدہ پٹرولیم مصنوعات کی مارکیٹ کے لیے حالات کو معمول پر لانا کہیں زیادہ مشکل ثابت ہو رہا ہے۔</p>
<p>عالمی ڈیزل سپلائی میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، کیونکہ ایران تنازع اور روسی ریفائننگ میں رکاوٹوں نے دو اہم برآمدی خطوں سے سپلائی کم کردی ہے۔ ذخائر کم ہوگئے ہیں، ریفائنریوں کی بندش نے قلت میں مزید اضافہ کردیا ہے، اور ڈیزل کے ریفائننگ مارجنز ریکارڈ سطح تک پہنچ گئے ہیں۔</p>
<p>اب خام تیل اور ڈیزل کی قیمتوں کے درمیان فرق نمایاں ہوچکا ہے۔ خام تیل اور ڈیزل کی قیمتوں کا فرق تیزی سے بڑھ گیا ہے۔ یورپ میں حال ہی میں ڈیزل برینٹ کے مقابلے میں تقریباً 95 ڈالر فی بیرل پریمیم پر فروخت ہو رہا تھا، جبکہ امریکا میں ڈیزل کا پریمیم حال ہی میں ریکارڈ 119 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گیا۔ ایشیا میں بھی ڈیزل کے مارجنز ریکارڈ بلند سطح تک پہنچ گئے ہیں۔</p>
<p>یہ صورتحال اس لیے اہم ہے کیونکہ ٹرکوں، زراعت اور تعمیرات کو چلانے والا ایندھن خام تیل نہیں بلکہ ڈیزل ہے۔ ڈیزل کی بلند قیمتیں فوری طور پر مال برداری، زرعی اور صنعتی اخراجات میں اضافہ کرتی ہیں، جو بالآخر صارفین کی قیمتوں میں منتقل ہوجاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ برینٹ کی قیمت میں کمی مہنگائی کے دباؤ میں فوری ریلیف نہیں لا سکتی۔ پاکستان کے لیے یہ صورتحال خاص طور پر اہم ہے کیونکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل مال برداری، زراعت اور صنعت میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوتا ہے۔ اگر عالمی ڈیزل مارجنز بلند سطح پر برقرار رہے تو خام تیل کی قیمتوں میں کمی کے باوجود ملکی لاگت کا دباؤ زیادہ عرصے تک برقرار رہ سکتا ہے۔</p>
<p>سپلائی کا یہ مسئلہ خام تیل کی قلت کے مقابلے میں حل کرنا بھی زیادہ مشکل ہے۔ جہاں تیل پیدا کرنے والے اضافی گنجائش موجود ہونے کی صورت میں کارگو کا رخ تبدیل کرسکتے ہیں یا مزید تیل پمپ کرسکتے ہیں، وہیں ریفائننگ کی گنجائش کہیں کم لچکدار ہے۔ متاثرہ ریفائنریوں کو مکمل پیداوار پر واپس آنے میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں، جبکہ موجودہ ریفائنریاں بھی پیداوار میں ایک محدود حد تک ہی اضافہ کرسکتی ہیں۔</p>
<p>اور ذخائر بھی زیادہ اطمینان فراہم نہیں کر رہے۔ امریکا میں ڈیزل کے ذخائر سال کے اس وقت کے معمول کے مقابلے میں غیر معمولی طور پر کم ہیں، جبکہ یورپ میں بھی ذخائر تاریخی اوسط سے کم ہیں۔ صنعتی اندازوں کے مطابق ڈیزل کی سخت سپلائی کی صورتحال 2027 تک برقرار رہ سکتی ہے۔</p>
<p>چین نے ڈیزل سمیت ریفائن شدہ پٹرولیم مصنوعات کی برآمدات میں اضافہ کرکے کچھ ریلیف فراہم کیا ہے۔ بلند ریفائننگ مارجنز سے دیگر خطوں کی ریفائنریوں کو بھی پیداوار زیادہ سے زیادہ کرنے کی ترغیب ملنی چاہیے۔ تاہم اگر جغرافیائی سیاسی رکاوٹیں جاری رہیں تو ان دونوں اقدامات میں سے کوئی بھی فوری حل فراہم نہیں کرتا۔</p>
<p>بحران کے آغاز میں بنیادی سوال یہ تھا کہ خام تیل کی سپلائی میں کتنی کمی واقع ہوگی اور برینٹ کی قیمت کتنی بلند ہوسکتی ہے۔ اب خام تیل کی کچھ سپلائی کے بہاؤ میں تبدیلی آرہی ہے۔ تاہم ڈاؤن اسٹریم نظام نے تقریباً اتنی تیزی سے خود کو حالات کے مطابق نہیں ڈھالا۔</p>
<p>لہٰذا توانائی کے بحران کا اگلا مرحلہ اس بات سے کم متعلق ہوسکتا ہے کہ برینٹ کی قیمت 100 ڈالر یا 110 ڈالر فی بیرل ہے، اور اس بات سے زیادہ متعلق ہوسکتا ہے کہ ریفائنرز ان بیرل کو ان ایندھنوں میں تبدیل کرنے کے لیے کتنی قیمت وصول کر رہے ہیں جنہیں عالمی معیشت حقیقتاً استعمال کرتی ہے۔</p>
<p>تیل کا بحران ختم نہیں ہوا۔ یہ صرف ڈاؤن اسٹریم مرحلے میں منتقل ہوگیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>BR Research</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291674</guid>
      <pubDate>Fri, 25 Sep 2026 10:09:01 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ریسرچ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/251007178f52f6b.webp" type="image/webp" medium="image" height="648" width="960">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/251007178f52f6b.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امن و امان کی صورتحال، علی پرویز ملک کی ایندھن کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291672/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے جمعرات کو وزیراعظم کی فیول ریلیف اسکیم کے تحت ادائیگیوں، ملک بھر میں پٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل دستیابی اور سپلائی چین، نقل و حمل اور لاجسٹکس انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے اجلاس کی صدارت کی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں پاکستان ریلویز، اوگرا، آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں، پاکستان پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن، آل پاکستان پٹرول پمپ اونرز ایسوسی ایشن اور متعلقہ حکام کے نمائندوں نے شرکت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر نے پٹرولیم ڈیلرز کی تنظیموں کی جانب سے وزیراعظم کی فیول ریلیف اسکیم کے لیے تعاون اور مکمل حمایت کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کسی بھی ممکنہ امن و امان کی صورتحال یا سڑکوں کی بندش کی صورت میں ایندھن کی فراہمی بلا تعطل رکھنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کررہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علی پرویز ملک نے تمام متعلقہ اداروں کو پیشگی انتظامات کرنے اور پٹرولیم مصنوعات کی ہموار نقل و حرکت یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ ایڈیشنل سیکریٹری ریلویز نے اجلاس کو بتایا کہ پاکستان ریلویز ہائی اسپیڈ ڈیزل کی ترسیل کے لیے زیادہ سے زیادہ مال بردار بوگیاں دستیاب رکھے گا، بالخصوص سڑکوں کے ذریعے ترسیل متاثر ہونے کی صورت میں خیبر پختونخوا میں سپلائی برقرار رکھی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر پٹرولیم نے پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کو ڈپوؤں پر مناسب مقدار میں ایندھن کی دستیابی کے لیے پیشگی انتظامات کی ہدایت کی۔ پی ایس او نے بتایا کہ ممکنہ رکاوٹوں کے پیش نظر اہم ڈپوؤں پر اضافی ذخائر پہلے ہی رکھ لیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اوگرا نے بتایا کہ بحران سے نمٹنے اور رابطہ کاری کے لیے خصوصی کنٹرول روم قائم کردیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس کو بتایا گیا کہ ملک بھر میں 10 ہزار سے زائد پٹرول پمپس میں سے جمعرات تک 8500 سے زائد پمپس کو فیول ریلیف اسکیم کے تحت ادائیگیاں کی جاچکی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر پٹرولیم نے معمولی مسائل، بشمول اکاؤنٹ نمبرز میں عدم مطابقت، فوری طور پر حل کرنے کی ہدایت کی تاکہ باقی پٹرول پمپس کو بھی بلا تاخیر ادائیگیاں کی جاسکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علی پرویز ملک نے اوگرا کو ہدایت کی کہ اسکیم کے تحت اہل صارفین کو ریلیف فراہم نہ کرنے والے پٹرول پمپس کے خلاف کارروائی کی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن اور آل پاکستان پٹرول پمپ اونرز ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے اسکیم کی کامیاب عمل درآمد اور حکومت کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کی یقین دہانی کرائی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر پٹرولیم نے کہا کہ تمام متعلقہ اداروں کے درمیان قریبی رابطہ کاری ایندھن کی بلا تعطل فراہمی اور وزیراعظم کی فیول ریلیف اسکیم پر مؤثر عمل درآمد کے لیے ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے جمعرات کو وزیراعظم کی فیول ریلیف اسکیم کے تحت ادائیگیوں، ملک بھر میں پٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل دستیابی اور سپلائی چین، نقل و حمل اور لاجسٹکس انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے اجلاس کی صدارت کی۔</strong></p>
<p>اجلاس میں پاکستان ریلویز، اوگرا، آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں، پاکستان پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن، آل پاکستان پٹرول پمپ اونرز ایسوسی ایشن اور متعلقہ حکام کے نمائندوں نے شرکت کی۔</p>
<p>وفاقی وزیر نے پٹرولیم ڈیلرز کی تنظیموں کی جانب سے وزیراعظم کی فیول ریلیف اسکیم کے لیے تعاون اور مکمل حمایت کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کسی بھی ممکنہ امن و امان کی صورتحال یا سڑکوں کی بندش کی صورت میں ایندھن کی فراہمی بلا تعطل رکھنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کررہی ہے۔</p>
<p>علی پرویز ملک نے تمام متعلقہ اداروں کو پیشگی انتظامات کرنے اور پٹرولیم مصنوعات کی ہموار نقل و حرکت یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ ایڈیشنل سیکریٹری ریلویز نے اجلاس کو بتایا کہ پاکستان ریلویز ہائی اسپیڈ ڈیزل کی ترسیل کے لیے زیادہ سے زیادہ مال بردار بوگیاں دستیاب رکھے گا، بالخصوص سڑکوں کے ذریعے ترسیل متاثر ہونے کی صورت میں خیبر پختونخوا میں سپلائی برقرار رکھی جائے گی۔</p>
<p>وزیر پٹرولیم نے پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کو ڈپوؤں پر مناسب مقدار میں ایندھن کی دستیابی کے لیے پیشگی انتظامات کی ہدایت کی۔ پی ایس او نے بتایا کہ ممکنہ رکاوٹوں کے پیش نظر اہم ڈپوؤں پر اضافی ذخائر پہلے ہی رکھ لیے گئے ہیں۔</p>
<p>اوگرا نے بتایا کہ بحران سے نمٹنے اور رابطہ کاری کے لیے خصوصی کنٹرول روم قائم کردیا گیا ہے۔</p>
<p>اجلاس کو بتایا گیا کہ ملک بھر میں 10 ہزار سے زائد پٹرول پمپس میں سے جمعرات تک 8500 سے زائد پمپس کو فیول ریلیف اسکیم کے تحت ادائیگیاں کی جاچکی ہیں۔</p>
<p>وزیر پٹرولیم نے معمولی مسائل، بشمول اکاؤنٹ نمبرز میں عدم مطابقت، فوری طور پر حل کرنے کی ہدایت کی تاکہ باقی پٹرول پمپس کو بھی بلا تاخیر ادائیگیاں کی جاسکیں۔</p>
<p>علی پرویز ملک نے اوگرا کو ہدایت کی کہ اسکیم کے تحت اہل صارفین کو ریلیف فراہم نہ کرنے والے پٹرول پمپس کے خلاف کارروائی کی جائے۔</p>
<p>پاکستان پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن اور آل پاکستان پٹرول پمپ اونرز ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے اسکیم کی کامیاب عمل درآمد اور حکومت کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کی یقین دہانی کرائی۔</p>
<p>وزیر پٹرولیم نے کہا کہ تمام متعلقہ اداروں کے درمیان قریبی رابطہ کاری ایندھن کی بلا تعطل فراہمی اور وزیراعظم کی فیول ریلیف اسکیم پر مؤثر عمل درآمد کے لیے ضروری ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291672</guid>
      <pubDate>Fri, 25 Sep 2026 09:49:44 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/25094730ca5a930.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/25094730ca5a930.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>او آئی سی سی آئی نمائندوں کی آئی ایم ایف وفد سے ملاقات، غیر ملکی سرمایہ کاروں کا تحفظ اور ٹیکس دائرہ وسیع کرنے کا مطالبہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291671/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (او آئی سی سی آئی)، جو پاکستان میں کام کرنے والے غیر ملکی سرمایہ کاروں کی نمائندگی کرتا ہے، نے پائیدار معاشی ترقی کے لیے کم ٹیکس والے شعبوں کو ٹیکس دائرے میں لانے، ضابطہ کاری اور تعمیلی بوجھ کم کرنے، سرمایہ کاروں کے تحفظ کو مضبوط بنانے اور وفاقی و صوبائی حکام کے درمیان بہتر اور واضح رابطہ کاری کا مطالبہ کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے وفد کے ساتھ ملاقات کے دوران او آئی سی سی آئی کے نمائندوں نے پاکستان پر زور دیا کہ میکرو اکنامک استحکام سے حاصل ہونے والے فوائد کو نجی سرمایہ کاری، برآمدات، توانائی کے تحفظ اور ساختی اصلاحات میں تیزی لانے کے لیے استعمال کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف کے مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیا ڈپارٹمنٹ کی مشیر ایوا پیٹرووا اور آئی ایم ایف کے ریزیڈنٹ نمائندے ماہر بنجی نے جمعرات کو چیمبر میں او آئی سی سی آئی کی اعلیٰ قیادت اور رکن کثیر القومی کمپنیوں کے نمائندوں سے ملاقات کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;او آئی سی سی آئی کے مطابق ملاقات کے دوران چیمبر کے نمائندوں نے پاکستان کی بیرونی پوزیشن اور خودمختار کریڈٹ پروفائل میں بہتری کے باوجود براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) میں کمی کی نشاندہی کی۔ انہوں نے بتایا کہ مالی سال 2026 میں خالص ایف ڈی آئی تقریباً 32 فیصد کم ہوکر 1.7 ارب ڈالر رہ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;او آئی سی سی آئی نے ضابطہ کاری اور تعمیلی بوجھ کم کرنے، سرمایہ کاروں کے تحفظ کو مضبوط بنانے اور وفاقی و صوبائی حکام کے درمیان بہتر رابطہ کاری پر زور دیا۔ چیمبر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مقامی صنعت کو پاکستان میں دوبارہ سرمایہ کاری کے ذریعے قیادت کرنی چاہیے، کیونکہ غیر ملکی سرمایہ کار مقامی کاروباری اداروں کے اعتماد اور رویے کو بھی مدنظر رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشرق وسطیٰ کے تنازع سے منسلک تیل کی بلند قیمتوں کے تناظر میں او آئی سی سی آئی نے فوری طور پر توانائی کے تحفظ کے اقدامات اور درمیانی مدت میں توانائی کے شعبے میں خودکفالت بڑھانے کے منصوبے کا مطالبہ کیا۔ چیمبر نے بجلی، گیس اور پٹرولیم پر مشتمل جامع توانائی تحفظ حکمت عملی پر زور دیتے ہوئے خطے میں توانائی کی بلند لاگت، گردشی قرضے، ریفائننگ میں سرمایہ کاری کی ضرورت اور علاقائی توانائی تعاون کے مواقع کی نشاندہی کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیرونی شعبے کے حوالے سے او آئی سی سی آئی نے کہا کہ پاکستان زرمبادلہ کمانے کی صلاحیت میں اضافہ کیے بغیر بلند شرح نمو برقرار نہیں رکھ سکتا۔ چیمبر نے مسابقت اور پیداواری صلاحیت بڑھانے، برآمدی شعبوں کو مضبوط بنانے، اہم منڈیوں کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری کے روابط گہرے کرنے اور تجارتی بنیادوں پر ممکنہ علاقائی تجارت بڑھانے کا مطالبہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ساختی اصلاحات کے حوالے سے چیمبر نے سرکاری اداروں کی اصلاحات میں تیزی لانے اور جہاں ریاستی ملکیت کا کوئی مضبوط پالیسی جواز موجود نہیں وہاں قابل اعتماد نجکاری پر زور دیا۔ او آئی سی سی آئی نے پالیسی سازی، ریگولیشن، سہولت کاری اور تجارتی آپریٹر کے طور پر ریاست کے کردار الگ کرنے کا بھی مطالبہ کیا تاکہ نجی شعبے کی سرمایہ کاری اور مسابقت کے لیے زیادہ گنجائش پیدا ہوسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیمبر نے مزید مطالبہ کیا کہ زراعت، رئیل اسٹیٹ، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار اور ریٹیل سمیت کم ٹیکس والے شعبوں کو ٹیکس دائرے میں لایا جائے، بجائے اس کے کہ بار بار دستاویزی کاروباروں پر ٹیکس کا بوجھ بڑھایا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (او آئی سی سی آئی)، جو پاکستان میں کام کرنے والے غیر ملکی سرمایہ کاروں کی نمائندگی کرتا ہے، نے پائیدار معاشی ترقی کے لیے کم ٹیکس والے شعبوں کو ٹیکس دائرے میں لانے، ضابطہ کاری اور تعمیلی بوجھ کم کرنے، سرمایہ کاروں کے تحفظ کو مضبوط بنانے اور وفاقی و صوبائی حکام کے درمیان بہتر اور واضح رابطہ کاری کا مطالبہ کیا ہے۔</strong></p>
<p>عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے وفد کے ساتھ ملاقات کے دوران او آئی سی سی آئی کے نمائندوں نے پاکستان پر زور دیا کہ میکرو اکنامک استحکام سے حاصل ہونے والے فوائد کو نجی سرمایہ کاری، برآمدات، توانائی کے تحفظ اور ساختی اصلاحات میں تیزی لانے کے لیے استعمال کیا جائے۔</p>
<p>آئی ایم ایف کے مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیا ڈپارٹمنٹ کی مشیر ایوا پیٹرووا اور آئی ایم ایف کے ریزیڈنٹ نمائندے ماہر بنجی نے جمعرات کو چیمبر میں او آئی سی سی آئی کی اعلیٰ قیادت اور رکن کثیر القومی کمپنیوں کے نمائندوں سے ملاقات کی۔</p>
<p>او آئی سی سی آئی کے مطابق ملاقات کے دوران چیمبر کے نمائندوں نے پاکستان کی بیرونی پوزیشن اور خودمختار کریڈٹ پروفائل میں بہتری کے باوجود براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) میں کمی کی نشاندہی کی۔ انہوں نے بتایا کہ مالی سال 2026 میں خالص ایف ڈی آئی تقریباً 32 فیصد کم ہوکر 1.7 ارب ڈالر رہ گئی۔</p>
<p>او آئی سی سی آئی نے ضابطہ کاری اور تعمیلی بوجھ کم کرنے، سرمایہ کاروں کے تحفظ کو مضبوط بنانے اور وفاقی و صوبائی حکام کے درمیان بہتر رابطہ کاری پر زور دیا۔ چیمبر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مقامی صنعت کو پاکستان میں دوبارہ سرمایہ کاری کے ذریعے قیادت کرنی چاہیے، کیونکہ غیر ملکی سرمایہ کار مقامی کاروباری اداروں کے اعتماد اور رویے کو بھی مدنظر رکھتے ہیں۔</p>
<p>مشرق وسطیٰ کے تنازع سے منسلک تیل کی بلند قیمتوں کے تناظر میں او آئی سی سی آئی نے فوری طور پر توانائی کے تحفظ کے اقدامات اور درمیانی مدت میں توانائی کے شعبے میں خودکفالت بڑھانے کے منصوبے کا مطالبہ کیا۔ چیمبر نے بجلی، گیس اور پٹرولیم پر مشتمل جامع توانائی تحفظ حکمت عملی پر زور دیتے ہوئے خطے میں توانائی کی بلند لاگت، گردشی قرضے، ریفائننگ میں سرمایہ کاری کی ضرورت اور علاقائی توانائی تعاون کے مواقع کی نشاندہی کی۔</p>
<p>بیرونی شعبے کے حوالے سے او آئی سی سی آئی نے کہا کہ پاکستان زرمبادلہ کمانے کی صلاحیت میں اضافہ کیے بغیر بلند شرح نمو برقرار نہیں رکھ سکتا۔ چیمبر نے مسابقت اور پیداواری صلاحیت بڑھانے، برآمدی شعبوں کو مضبوط بنانے، اہم منڈیوں کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری کے روابط گہرے کرنے اور تجارتی بنیادوں پر ممکنہ علاقائی تجارت بڑھانے کا مطالبہ کیا۔</p>
<p>ساختی اصلاحات کے حوالے سے چیمبر نے سرکاری اداروں کی اصلاحات میں تیزی لانے اور جہاں ریاستی ملکیت کا کوئی مضبوط پالیسی جواز موجود نہیں وہاں قابل اعتماد نجکاری پر زور دیا۔ او آئی سی سی آئی نے پالیسی سازی، ریگولیشن، سہولت کاری اور تجارتی آپریٹر کے طور پر ریاست کے کردار الگ کرنے کا بھی مطالبہ کیا تاکہ نجی شعبے کی سرمایہ کاری اور مسابقت کے لیے زیادہ گنجائش پیدا ہوسکے۔</p>
<p>چیمبر نے مزید مطالبہ کیا کہ زراعت، رئیل اسٹیٹ، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار اور ریٹیل سمیت کم ٹیکس والے شعبوں کو ٹیکس دائرے میں لایا جائے، بجائے اس کے کہ بار بار دستاویزی کاروباروں پر ٹیکس کا بوجھ بڑھایا جائے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291671</guid>
      <pubDate>Fri, 25 Sep 2026 09:42:12 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/250938332ecd879.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/250938332ecd879.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فرضی جائیداد آمدن، ایف بی آر دفعہ 7E کے تحت وصول ٹیکس واپس کرے گا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291670/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایل ٹی بی اے پبلک انٹرسٹ لٹیگیشن کمیٹی (ایل ٹی بی اے۔پی آئی ایل سی) کی جانب سے کی جانے والی سنجیدہ کوششوں کے بعد فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 7E کے تحت غیر منقولہ جائیدادوں پر فرضی آمدن کے حساب سے ادا یا وصول کیے گئے ٹیکس کی واپسی کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ بات ایل ٹی بی اے۔پی آئی ایل سی کے چیئرمین وحید شہزاد بٹ نے بتائی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس حوالے سے ایف بی آر کی جانب سے ایک سرکلر بھی جاری کردیا گیا ہے۔ قانونی برادری اس اہم کامیابی پر کمیٹی کے چیئرمین کی شکر گزار ہے، جس سے نہ صرف ٹیکس دہندگان کو سہولت ملے گی بلکہ قومی خزانے کے خطیر وسائل بھی بچیں گے جو بصورت دیگر بے نتیجہ قانونی چارہ جوئی میں ضائع ہوسکتے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پیش رفت چار ماہ سے زائد عرصے تک جاری رہنے والی خط و کتابت کے بعد سامنے آئی ہے، جس میں ایل ٹی بی اے۔پی آئی ایل سی کے چیئرمین نے ایف بی آر کے چیئرمین کو بارہا خطوط لکھے اور ایف بی آر کے ارکان کے ذریعے دفعہ 7E کے تحت ادا کیے گئے ٹیکس کی واپسی کے لیے باقاعدہ طریقہ کار جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ مطالبہ وفاقی آئینی عدالت (ایف سی سی) کے 7 مئی 2026 کے حکم کے بعد کیا گیا تھا، جس میں عدالت نے دفعہ 7E کو مکمل طور پر غیر آئینی قرار دیتے ہوئے اسے ابتدا ہی سے کالعدم قرار دیا تھا۔ عدالت نے فنانس ایکٹ 2022 کے ذریعے متعارف کرائی گئی اس شق کے تحت جاری کیے گئے تمام نوٹسز اور شروع کی گئی کارروائیوں کو بھی کالعدم قرار دے دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس پابند آئینی فیصلے کے باوجود ایف بی آر نے نہ تو رہنمائی جاری کی تھی اور نہ ہی ایسے دعووں کے لیے درخواست کا فارمیٹ یا متعلقہ فورم مقرر کیا تھا۔ 31 اگست 2026 کو رپورٹ کے مطابق ایف بی آر کی خاموشی نے ٹیکس دہندگان کو قانونی اور مالی مشکلات سے دوچار کردیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;23 ستمبر 2026 کو تمام چیف کمشنرز ان لینڈ ریونیو (ایل ٹی اوز، سی ٹی اوز اور آر ٹی اوز) کو جاری خط میں ایف بی آر نے فیلڈ فارمیشنز کو ہدایت کی کہ ایف سی سی کے فیصلے کی روشنی میں ٹیکس دہندگان کی جانب سے ریٹرنز میں نظرثانی کی درخواستیں مسترد نہیں کی جائیں گی۔ خط میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر ریٹرن میں نظرثانی کے نتیجے میں ریفنڈ بنتا ہے تو اس کے بعد جمع کرائی جانے والی ریفنڈ درخواست بھی قابل اطلاق قانون اور طریقہ کار کے مطابق فوری طور پر نمٹائی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایل ٹی بی اے۔پی آئی ایل سی کے چیئرمین نے اسے اہم کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دفعہ 7E کے تحت ریفنڈ کا دائرہ ممکنہ طور پر بہت وسیع ہے، کیونکہ عدالت نے اس شق کو مکمل طور پر کالعدم قرار دیا ہے۔ اس میں 25 ملین روپے سے زائد مالیت کی وہ تمام جائیدادیں شامل ہیں جن پر ایف بی آر کی جانب سے مقرر کردہ منصفانہ مارکیٹ ویلیو کے 5 فیصد کے حساب سے فرضی آمدن کا ٹیکس عائد کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ایف بی آر کا خط سختی سے دفعہ 7E کے تحت ریٹرنز میں نظرثانی اور ریفنڈ کے واحد ایجنڈا تک محدود ہے اور اسے اس مخصوص معاملے کے علاوہ کسی اور معاملے پر لاگو نہیں کیا جاسکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اسی دوران انکم ٹیکس آرڈیننس کی دفعہ 4C کے تحت سپر ٹیکس کا معاملہ بھی حل طلب ہے۔ ایف سی سی نے سپر ٹیکس کی قانونی حیثیت برقرار رکھی تھی، تاہم بعض مستثنیٰ کیپیٹل گینز، بشمول مقررہ مدت سے زیادہ عرصے تک رکھی گئی غیر منقولہ جائیداد، وراثتی جائیداد اور دیگر مستثنیٰ آمدن پر حاصل ہونے والے منافع کو اس سے خارج کردیا تھا۔ ایف بی آر نے ان وصولیوں کی واپسی کے لیے تاحال کوئی طریقہ کار جاری نہیں کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وحید شہزاد بٹ نے ایل ٹی بی اے۔پی آئی ایل سی کی سابقہ تجویز بھی دہرائی کہ مکمل پالیسی سطح کے ریفنڈ نظام کی تشکیل تک دفعہ 7E اور 4C کے تحت وصول کی گئی رقوم کو ٹیکس دہندگان کی 2026 کی ٹیکس ذمہ داری کے خلاف ایڈجسٹ کرنے کی اجازت دی جائے۔ انہوں نے ایف بی آر پر زور دیا کہ دفعہ 7E کے لیے اب یقینی بنائے گئے فوری طریقہ کار کو زیر التوا سپر ٹیکس ریفنڈ دعووں تک بھی توسیع دی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایل ٹی بی اے پبلک انٹرسٹ لٹیگیشن کمیٹی (ایل ٹی بی اے۔پی آئی ایل سی) کی جانب سے کی جانے والی سنجیدہ کوششوں کے بعد فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 7E کے تحت غیر منقولہ جائیدادوں پر فرضی آمدن کے حساب سے ادا یا وصول کیے گئے ٹیکس کی واپسی کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ بات ایل ٹی بی اے۔پی آئی ایل سی کے چیئرمین وحید شہزاد بٹ نے بتائی۔</strong></p>
<p>اس حوالے سے ایف بی آر کی جانب سے ایک سرکلر بھی جاری کردیا گیا ہے۔ قانونی برادری اس اہم کامیابی پر کمیٹی کے چیئرمین کی شکر گزار ہے، جس سے نہ صرف ٹیکس دہندگان کو سہولت ملے گی بلکہ قومی خزانے کے خطیر وسائل بھی بچیں گے جو بصورت دیگر بے نتیجہ قانونی چارہ جوئی میں ضائع ہوسکتے تھے۔</p>
<p>یہ پیش رفت چار ماہ سے زائد عرصے تک جاری رہنے والی خط و کتابت کے بعد سامنے آئی ہے، جس میں ایل ٹی بی اے۔پی آئی ایل سی کے چیئرمین نے ایف بی آر کے چیئرمین کو بارہا خطوط لکھے اور ایف بی آر کے ارکان کے ذریعے دفعہ 7E کے تحت ادا کیے گئے ٹیکس کی واپسی کے لیے باقاعدہ طریقہ کار جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔</p>
<p>یہ مطالبہ وفاقی آئینی عدالت (ایف سی سی) کے 7 مئی 2026 کے حکم کے بعد کیا گیا تھا، جس میں عدالت نے دفعہ 7E کو مکمل طور پر غیر آئینی قرار دیتے ہوئے اسے ابتدا ہی سے کالعدم قرار دیا تھا۔ عدالت نے فنانس ایکٹ 2022 کے ذریعے متعارف کرائی گئی اس شق کے تحت جاری کیے گئے تمام نوٹسز اور شروع کی گئی کارروائیوں کو بھی کالعدم قرار دے دیا تھا۔</p>
<p>اس پابند آئینی فیصلے کے باوجود ایف بی آر نے نہ تو رہنمائی جاری کی تھی اور نہ ہی ایسے دعووں کے لیے درخواست کا فارمیٹ یا متعلقہ فورم مقرر کیا تھا۔ 31 اگست 2026 کو رپورٹ کے مطابق ایف بی آر کی خاموشی نے ٹیکس دہندگان کو قانونی اور مالی مشکلات سے دوچار کردیا تھا۔</p>
<p>23 ستمبر 2026 کو تمام چیف کمشنرز ان لینڈ ریونیو (ایل ٹی اوز، سی ٹی اوز اور آر ٹی اوز) کو جاری خط میں ایف بی آر نے فیلڈ فارمیشنز کو ہدایت کی کہ ایف سی سی کے فیصلے کی روشنی میں ٹیکس دہندگان کی جانب سے ریٹرنز میں نظرثانی کی درخواستیں مسترد نہیں کی جائیں گی۔ خط میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر ریٹرن میں نظرثانی کے نتیجے میں ریفنڈ بنتا ہے تو اس کے بعد جمع کرائی جانے والی ریفنڈ درخواست بھی قابل اطلاق قانون اور طریقہ کار کے مطابق فوری طور پر نمٹائی جائے۔</p>
<p>ایل ٹی بی اے۔پی آئی ایل سی کے چیئرمین نے اسے اہم کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دفعہ 7E کے تحت ریفنڈ کا دائرہ ممکنہ طور پر بہت وسیع ہے، کیونکہ عدالت نے اس شق کو مکمل طور پر کالعدم قرار دیا ہے۔ اس میں 25 ملین روپے سے زائد مالیت کی وہ تمام جائیدادیں شامل ہیں جن پر ایف بی آر کی جانب سے مقرر کردہ منصفانہ مارکیٹ ویلیو کے 5 فیصد کے حساب سے فرضی آمدن کا ٹیکس عائد کیا گیا تھا۔</p>
<p>تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ایف بی آر کا خط سختی سے دفعہ 7E کے تحت ریٹرنز میں نظرثانی اور ریفنڈ کے واحد ایجنڈا تک محدود ہے اور اسے اس مخصوص معاملے کے علاوہ کسی اور معاملے پر لاگو نہیں کیا جاسکتا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اسی دوران انکم ٹیکس آرڈیننس کی دفعہ 4C کے تحت سپر ٹیکس کا معاملہ بھی حل طلب ہے۔ ایف سی سی نے سپر ٹیکس کی قانونی حیثیت برقرار رکھی تھی، تاہم بعض مستثنیٰ کیپیٹل گینز، بشمول مقررہ مدت سے زیادہ عرصے تک رکھی گئی غیر منقولہ جائیداد، وراثتی جائیداد اور دیگر مستثنیٰ آمدن پر حاصل ہونے والے منافع کو اس سے خارج کردیا تھا۔ ایف بی آر نے ان وصولیوں کی واپسی کے لیے تاحال کوئی طریقہ کار جاری نہیں کیا۔</p>
<p>وحید شہزاد بٹ نے ایل ٹی بی اے۔پی آئی ایل سی کی سابقہ تجویز بھی دہرائی کہ مکمل پالیسی سطح کے ریفنڈ نظام کی تشکیل تک دفعہ 7E اور 4C کے تحت وصول کی گئی رقوم کو ٹیکس دہندگان کی 2026 کی ٹیکس ذمہ داری کے خلاف ایڈجسٹ کرنے کی اجازت دی جائے۔ انہوں نے ایف بی آر پر زور دیا کہ دفعہ 7E کے لیے اب یقینی بنائے گئے فوری طریقہ کار کو زیر التوا سپر ٹیکس ریفنڈ دعووں تک بھی توسیع دی جائے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291670</guid>
      <pubDate>Fri, 25 Sep 2026 09:31:22 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سہیل سرفراز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/250930169afc329.webp" type="image/webp" medium="image" height="521" width="870">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/250930169afc329.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ای انوائسنگ سے انضمام میں ناکامی، ایف بی آر نے سیلز ٹیکس رجسٹریشن معطل کرنا شروع کردی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291669/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے الیکٹرانک انوائسنگ نظام کے ساتھ اپنے کاروبار کو مربوط نہ کرنے والے کارپوریٹ اور نان کارپوریٹ ٹیکس دہندگان کی سیلز ٹیکس رجسٹریشن معطل کرنا شروع کردی ہے۔ ٹیکس مشینری نے مقررہ مدت میں انضمام نہ کرنے والے ٹیکس دہندگان کے خلاف کارروائی تیز کردی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس اقدام پر ٹیکس ماہرین نے تشویش کا اظہار کیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ ایف بی آر ممکنہ طور پر ایسے اختیار کو معمول کی کارروائی کے طور پر استعمال کررہا ہے جو غیر معمولی حالات سے نمٹنے کے لیے دیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینئر ٹیکس ماہر ارشد شہزاد کے مطابق سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کی دفعہ 21 کے تحت سیلز ٹیکس رجسٹریشن معطل کرنے کا اختیار غیر معمولی اقدام ہے، جس کا بنیادی مقصد جعلی انوائسنگ، ٹیکس فراڈ اور سپلائی چین میں ان پٹ ٹیکس کریڈٹ کی غلط منتقلی کے خلاف سیلز ٹیکس نظام کا تحفظ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ مسئلہ یہ نہیں کہ ایف بی آر کو ای انوائسنگ پر عمل درآمد نہیں کرنا چاہیے، بلکہ تشویش یہ ہے کہ اتنے سنگین تجارتی نتائج رکھنے والے اختیار کو ہر عدم تعمیل کے معاملے میں معمول کی انتظامی کارروائی نہیں بننا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیکس ماہر کے مطابق الیکٹرانک انوائسنگ نظام سے انضمام میں ناکامی پر سیلز ٹیکس ایکٹ کے تحت مخصوص جرمانے پہلے ہی موجود ہیں، اس لیے معمول کی عدم تعمیل اور ایسے حالات میں فرق کرنا ضروری ہے جہاں رجسٹریشن معطل کرنے جیسے غیر معمولی اختیار کا استعمال ضروری ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ رجسٹریشن کی معطلی محض ایک اور جرمانہ نہیں بلکہ اس سے ٹیکس دہندہ کا کاروبار متاثر ہوسکتا ہے اور اس کے صارفین کی جانب سے ان پٹ ٹیکس کریڈٹ حاصل کرنے کی صلاحیت بھی متاثر ہوسکتی ہے، جس کے اثرات پوری سپلائی چین تک پہنچ سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیکس ماہر کے مطابق دفعہ 21 کے تحت ایف بی آر کو جعلی انوائسز اور ٹیکس فراڈ کے خلاف وسیع اختیارات حاصل ہیں، تاہم ان کا استعمال خودکار یا میکانکی انداز میں نہیں ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موجودہ قانونی طریقہ کار کے تحت کمشنر مخصوص حالات میں سیلز ٹیکس رجسٹریشن معطل کرسکتا ہے۔ قانون معطلی کے بعد مقررہ مدت میں شوکاز نوٹس جاری کرنے اور مزید کارروائی سے قبل ٹیکس دہندہ کو سماعت کا موقع فراہم کرنے کا طریقہ کار بھی وضع کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیکس ماہر نے زور دیا کہ بڑے پیمانے پر معطلی کے احکامات جاری کیے جانے کی صورت میں ان قانونی تحفظات کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ای انوائسنگ سے مقررہ مدت میں انضمام نہ کرنا قانونی خلاف ورزی اور جرمانے کا باعث بن سکتا ہے، تاہم صرف عدم انضمام کو خود بخود جعلی انوائسنگ یا ٹیکس فراڈ قرار نہیں دیا جاسکتا، جب تک متعلقہ قانونی تقاضے پورے نہ ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق ایف بی آر کی ڈیجیٹلائزیشن اور معیشت کو دستاویزی بنانے کی کوشش قابل فہم ہے، تاہم عمل درآمد متناسب اور قانونی دائرہ کار کے مطابق ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ مقصد ٹیکس دہندگان کو نظام کا حصہ بنانا ہونا چاہیے، صرف رجسٹریشن معطل کرنا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے الیکٹرانک انوائسنگ نظام کے ساتھ اپنے کاروبار کو مربوط نہ کرنے والے کارپوریٹ اور نان کارپوریٹ ٹیکس دہندگان کی سیلز ٹیکس رجسٹریشن معطل کرنا شروع کردی ہے۔ ٹیکس مشینری نے مقررہ مدت میں انضمام نہ کرنے والے ٹیکس دہندگان کے خلاف کارروائی تیز کردی ہے۔</strong></p>
<p>اس اقدام پر ٹیکس ماہرین نے تشویش کا اظہار کیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ ایف بی آر ممکنہ طور پر ایسے اختیار کو معمول کی کارروائی کے طور پر استعمال کررہا ہے جو غیر معمولی حالات سے نمٹنے کے لیے دیا گیا تھا۔</p>
<p>سینئر ٹیکس ماہر ارشد شہزاد کے مطابق سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کی دفعہ 21 کے تحت سیلز ٹیکس رجسٹریشن معطل کرنے کا اختیار غیر معمولی اقدام ہے، جس کا بنیادی مقصد جعلی انوائسنگ، ٹیکس فراڈ اور سپلائی چین میں ان پٹ ٹیکس کریڈٹ کی غلط منتقلی کے خلاف سیلز ٹیکس نظام کا تحفظ ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ مسئلہ یہ نہیں کہ ایف بی آر کو ای انوائسنگ پر عمل درآمد نہیں کرنا چاہیے، بلکہ تشویش یہ ہے کہ اتنے سنگین تجارتی نتائج رکھنے والے اختیار کو ہر عدم تعمیل کے معاملے میں معمول کی انتظامی کارروائی نہیں بننا چاہیے۔</p>
<p>ٹیکس ماہر کے مطابق الیکٹرانک انوائسنگ نظام سے انضمام میں ناکامی پر سیلز ٹیکس ایکٹ کے تحت مخصوص جرمانے پہلے ہی موجود ہیں، اس لیے معمول کی عدم تعمیل اور ایسے حالات میں فرق کرنا ضروری ہے جہاں رجسٹریشن معطل کرنے جیسے غیر معمولی اختیار کا استعمال ضروری ہو۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ رجسٹریشن کی معطلی محض ایک اور جرمانہ نہیں بلکہ اس سے ٹیکس دہندہ کا کاروبار متاثر ہوسکتا ہے اور اس کے صارفین کی جانب سے ان پٹ ٹیکس کریڈٹ حاصل کرنے کی صلاحیت بھی متاثر ہوسکتی ہے، جس کے اثرات پوری سپلائی چین تک پہنچ سکتے ہیں۔</p>
<p>ٹیکس ماہر کے مطابق دفعہ 21 کے تحت ایف بی آر کو جعلی انوائسز اور ٹیکس فراڈ کے خلاف وسیع اختیارات حاصل ہیں، تاہم ان کا استعمال خودکار یا میکانکی انداز میں نہیں ہونا چاہیے۔</p>
<p>موجودہ قانونی طریقہ کار کے تحت کمشنر مخصوص حالات میں سیلز ٹیکس رجسٹریشن معطل کرسکتا ہے۔ قانون معطلی کے بعد مقررہ مدت میں شوکاز نوٹس جاری کرنے اور مزید کارروائی سے قبل ٹیکس دہندہ کو سماعت کا موقع فراہم کرنے کا طریقہ کار بھی وضع کرتا ہے۔</p>
<p>ٹیکس ماہر نے زور دیا کہ بڑے پیمانے پر معطلی کے احکامات جاری کیے جانے کی صورت میں ان قانونی تحفظات کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ای انوائسنگ سے مقررہ مدت میں انضمام نہ کرنا قانونی خلاف ورزی اور جرمانے کا باعث بن سکتا ہے، تاہم صرف عدم انضمام کو خود بخود جعلی انوائسنگ یا ٹیکس فراڈ قرار نہیں دیا جاسکتا، جب تک متعلقہ قانونی تقاضے پورے نہ ہوں۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق ایف بی آر کی ڈیجیٹلائزیشن اور معیشت کو دستاویزی بنانے کی کوشش قابل فہم ہے، تاہم عمل درآمد متناسب اور قانونی دائرہ کار کے مطابق ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ مقصد ٹیکس دہندگان کو نظام کا حصہ بنانا ہونا چاہیے، صرف رجسٹریشن معطل کرنا نہیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291669</guid>
      <pubDate>Fri, 25 Sep 2026 09:21:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سہیل سرفراز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/25091919d1dcf94.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/25091919d1dcf94.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>شی جن پنگ کی ٹرمپ سے ملاقات، امریکا ایران امن معاہدے کی بحالی کی حمایت</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291668/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;چین کے صدر شی جن پنگ نے جمعرات کو وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے دوران کہا کہ چین امریکا اور ایران کی جون میں ہونے والے معاہدے کی جانب واپسی کی حمایت کرتا ہے، جس کا مقصد جنگ کا خاتمہ اور آبنائے ہرمز کو کھولنا تھا۔ یہ بات چینی خبر رساں ایجنسی شنہوا نے بتائی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>چین کے صدر شی جن پنگ نے جمعرات کو وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے دوران کہا کہ چین امریکا اور ایران کی جون میں ہونے والے معاہدے کی جانب واپسی کی حمایت کرتا ہے، جس کا مقصد جنگ کا خاتمہ اور آبنائے ہرمز کو کھولنا تھا۔ یہ بات چینی خبر رساں ایجنسی شنہوا نے بتائی۔</strong></p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291668</guid>
      <pubDate>Fri, 25 Sep 2026 09:14:49 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/25091403aa84efd.webp" type="image/webp" medium="image" height="720" width="1280">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/25091403aa84efd.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مضبوط ڈالر، سونے کی قیمت ہفتہ وار کمی کی جانب گامزن</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291667/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سونے کی قیمت میں جمعہ کو معمولی اضافہ ہوا، تاہم مضبوط امریکی ڈالر اور امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے مہنگائی پر قابو پانے کے لیے شرح سود بلند رکھنے کی توقعات کے باعث سونا رواں ہفتے مجموعی طور پر خسارے میں جانے کی جانب گامزن ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی مارکیٹ میں اسپاٹ گولڈ کی قیمت 0.2 فیصد اضافے سے 4,288.36 ڈالر فی اونس ہوگئی، تاہم رواں ہفتے اب تک اس کی قیمت میں تقریباً 2 فیصد کمی ہوچکی ہے۔ امریکی گولڈ فیوچرز 0.6 فیصد اضافے کے بعد 4,323.10 ڈالر فی اونس پر پہنچ گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی ڈالر بھی ہفتہ وار بنیاد پر اضافے کی جانب گامزن ہے، جس کے باعث دیگر کرنسیوں میں سونا رکھنے والے سرمایہ کاروں کے لیے قیمتی دھات مہنگی ہوگئی ہے۔ امریکی ٹریژری بانڈز کی ییلڈ میں بھی اضافہ جاری رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;او اے این ڈی اے کے سینئر مارکیٹ تجزیہ کار کیلون وونگ کے مطابق مارکیٹ کی توجہ آئندہ بھی شرح سود کی صورتحال پر مرکوز رہے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر مارکیٹ فیڈرل ریزرو کی زیادہ سخت مالیاتی پالیسی کی توقعات ظاہر کرتی ہے تو ڈالر مضبوط ہوگا، جو سونے کے لیے منفی عنصر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ہفتے شرح سود میں 0.25 فیصد اضافے کے بعد فیڈ کے دو عہدیداروں نے مزید شرح سود بڑھانے کی ضرورت کا عندیہ دیا، جس سے بلند شرح سود طویل عرصے تک برقرار رہنے کی توقعات مضبوط ہوئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ماہرین نے جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور بڑھتے ہوئے سرکاری قرضوں کے باعث سونے کی محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر طلب برقرار رہنے کی توقع ظاہر کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چاندی 0.1 فیصد کمی سے 63.81 ڈالر، پلاٹینم 0.5 فیصد اضافے سے 1,756.90 ڈالر جبکہ پیلاڈیم 1.3 فیصد کمی سے 1,257.56 ڈالر فی اونس ہوگیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سونے کی قیمت میں جمعہ کو معمولی اضافہ ہوا، تاہم مضبوط امریکی ڈالر اور امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے مہنگائی پر قابو پانے کے لیے شرح سود بلند رکھنے کی توقعات کے باعث سونا رواں ہفتے مجموعی طور پر خسارے میں جانے کی جانب گامزن ہے۔</strong></p>
<p>بین الاقوامی مارکیٹ میں اسپاٹ گولڈ کی قیمت 0.2 فیصد اضافے سے 4,288.36 ڈالر فی اونس ہوگئی، تاہم رواں ہفتے اب تک اس کی قیمت میں تقریباً 2 فیصد کمی ہوچکی ہے۔ امریکی گولڈ فیوچرز 0.6 فیصد اضافے کے بعد 4,323.10 ڈالر فی اونس پر پہنچ گئے۔</p>
<p>امریکی ڈالر بھی ہفتہ وار بنیاد پر اضافے کی جانب گامزن ہے، جس کے باعث دیگر کرنسیوں میں سونا رکھنے والے سرمایہ کاروں کے لیے قیمتی دھات مہنگی ہوگئی ہے۔ امریکی ٹریژری بانڈز کی ییلڈ میں بھی اضافہ جاری رہا۔</p>
<p>او اے این ڈی اے کے سینئر مارکیٹ تجزیہ کار کیلون وونگ کے مطابق مارکیٹ کی توجہ آئندہ بھی شرح سود کی صورتحال پر مرکوز رہے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر مارکیٹ فیڈرل ریزرو کی زیادہ سخت مالیاتی پالیسی کی توقعات ظاہر کرتی ہے تو ڈالر مضبوط ہوگا، جو سونے کے لیے منفی عنصر ہے۔</p>
<p>گزشتہ ہفتے شرح سود میں 0.25 فیصد اضافے کے بعد فیڈ کے دو عہدیداروں نے مزید شرح سود بڑھانے کی ضرورت کا عندیہ دیا، جس سے بلند شرح سود طویل عرصے تک برقرار رہنے کی توقعات مضبوط ہوئی ہیں۔</p>
<p>دوسری جانب ماہرین نے جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور بڑھتے ہوئے سرکاری قرضوں کے باعث سونے کی محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر طلب برقرار رہنے کی توقع ظاہر کی ہے۔</p>
<p>چاندی 0.1 فیصد کمی سے 63.81 ڈالر، پلاٹینم 0.5 فیصد اضافے سے 1,756.90 ڈالر جبکہ پیلاڈیم 1.3 فیصد کمی سے 1,257.56 ڈالر فی اونس ہوگیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291667</guid>
      <pubDate>Fri, 25 Sep 2026 09:10:10 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/250907555104839.webp" type="image/webp" medium="image" height="253" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/250907555104839.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران سے جنگ بندی کے امکانات پر نظر، دتیل کی قیمتوں میں کمی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291666/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں جمعہ کو معمولی کمی کا شکار ہوئیں، کیونکہ سرمایہ کار امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ جنگ بندی کے امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں، جبکہ سعودی عرب پر حوثی باغیوں کے حملوں نے مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال برقرار رکھی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رواں ہفتے قیمتوں میں نمایاں اتار چڑھاؤ کے بعد جمعہ کو برینٹ خام تیل 87 سینٹ یا 0.82 فیصد کمی کے بعد 105.73 ڈالر فی بیرل ہوگیا، جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) 1.56 ڈالر یا 1.65 فیصد کمی سے 93.05 ڈالر فی بیرل پر آگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعرات کو دونوں بینچ مارکس میں 5 فیصد تک اضافہ ہوا تھا۔ برینٹ کی قیمت 3.4 فیصد جبکہ ڈبلیو ٹی آئی 2.7 فیصد اضافے کے ساتھ بند ہوا۔ برینٹ 15 ستمبر کے بعد بلند ترین سطح پر بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا اور ایران کے مذاکرات کار نیویارک میں جنگ کے خاتمے کے لیے مرحلہ وار راستے پر غور کر رہے ہیں، جس کے تحت تہران آبنائے ہرمز دوبارہ کھول سکتا ہے جبکہ واشنگٹن ایران پر اقتصادی پابندیاں ختم کرسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنگ شروع ہونے کے بعد دنیا کی تقریباً20 فیصد حصے کی تیل اور گیس ترسیل متاثر ہوئی ہے، جس کے باعث مارچ میں قیمتوں میں 50 فیصد اضافہ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب سعودی عرب نے یمن کے حوثیوں کی جانب سے داغے گئے 6 بیلسٹک میزائلوں کو روکنے کا دعویٰ کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق حملے خطے میں اہم تیل تنصیبات کو لاحق خطرات کی یاد دہانی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سعودی عرب بحیرہ احمر کی بندرگاہ ینبع تک جانے والی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کے ذریعے خام تیل کی ترسیل بڑھا رہا ہے، تاہم خام تیل سے لدے ٹینکرز کی روانگی تاحال بحال نہیں ہوئی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں جمعہ کو معمولی کمی کا شکار ہوئیں، کیونکہ سرمایہ کار امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ جنگ بندی کے امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں، جبکہ سعودی عرب پر حوثی باغیوں کے حملوں نے مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال برقرار رکھی ہے۔</strong></p>
<p>رواں ہفتے قیمتوں میں نمایاں اتار چڑھاؤ کے بعد جمعہ کو برینٹ خام تیل 87 سینٹ یا 0.82 فیصد کمی کے بعد 105.73 ڈالر فی بیرل ہوگیا، جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) 1.56 ڈالر یا 1.65 فیصد کمی سے 93.05 ڈالر فی بیرل پر آگیا۔</p>
<p>جمعرات کو دونوں بینچ مارکس میں 5 فیصد تک اضافہ ہوا تھا۔ برینٹ کی قیمت 3.4 فیصد جبکہ ڈبلیو ٹی آئی 2.7 فیصد اضافے کے ساتھ بند ہوا۔ برینٹ 15 ستمبر کے بعد بلند ترین سطح پر بند ہوا۔</p>
<p>امریکا اور ایران کے مذاکرات کار نیویارک میں جنگ کے خاتمے کے لیے مرحلہ وار راستے پر غور کر رہے ہیں، جس کے تحت تہران آبنائے ہرمز دوبارہ کھول سکتا ہے جبکہ واشنگٹن ایران پر اقتصادی پابندیاں ختم کرسکتا ہے۔</p>
<p>جنگ شروع ہونے کے بعد دنیا کی تقریباً20 فیصد حصے کی تیل اور گیس ترسیل متاثر ہوئی ہے، جس کے باعث مارچ میں قیمتوں میں 50 فیصد اضافہ ہوا۔</p>
<p>دوسری جانب سعودی عرب نے یمن کے حوثیوں کی جانب سے داغے گئے 6 بیلسٹک میزائلوں کو روکنے کا دعویٰ کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق حملے خطے میں اہم تیل تنصیبات کو لاحق خطرات کی یاد دہانی ہیں۔</p>
<p>سعودی عرب بحیرہ احمر کی بندرگاہ ینبع تک جانے والی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کے ذریعے خام تیل کی ترسیل بڑھا رہا ہے، تاہم خام تیل سے لدے ٹینکرز کی روانگی تاحال بحال نہیں ہوئی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291666</guid>
      <pubDate>Fri, 25 Sep 2026 09:03:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/25090206b20f5ba.gif" type="image/gif" medium="image" height="675" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/25090206b20f5ba.gif"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان امن کے فروغ کیلئے تیار ہے، وزیراعظم شہباز شریف کی ایران کے صدر سے ملاقات</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291665/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات (24 ستمبر) کو اقوام متحدہ میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کے بعد کہا کہ پاکستان امن کے فروغ اور کشیدگی میں کمی لانے کے لیے مدد کرنے کو تیار ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ملاقات اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے عمومی مباحثے کے موقع پر ہوئی، جس میں دنیا بھر کے رہنما نیویارک میں جمع ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے شہباز شریف نے ملاقات کو بہت اچھی قرار دیا اور کہا کہ انہوں نے ایرانی صدر کو یقین دلایا ہے کہ اسلام آباد امن عمل میں تعاون کے لیے تیار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کو بہت جامع قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی صدر بھی ان سے متفق تھے، تاہم انہوں نے اس دستاویز کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/GovtofPakistan/status/2103222230276858228?'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/GovtofPakistan/status/2103222230276858228?"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا اسرائیل اور ایران کے مؤقف میں موجود فاصلے کے باعث مذاکرات کامیاب ہوسکتے ہیں، تو شہباز شریف نے رکاوٹوں کا اعتراف کیا تاہم امید کا اظہار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ امن کا حصول کبھی آسان نہیں رہا۔ رکاوٹیں ہیں، مشکلات ہیں، لیکن ہم پُرامید ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ممالک کو مل کر کام کرنا چاہیے اور دیگر دوست ممالک کی حمایت حاصل کرنی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;لبنان کی پاکستان کی سفارتی کوششوں کی حمایت&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا، لبنان کے وزیراعظم نواف سلام نے امریکا اور ایران کے درمیان تنازع کا سفارتی حل تلاش کرنے اور اسے مزید بڑھنے سے روکنے کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نواف سلام نے کہا کہ پاکستان گزشتہ ایک ماہ سے کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل کی کوششوں میں مصروف ہے، اور انہیں امید ہے کہ اسلام آباد خطے میں کشیدگی کم کرنے میں کامیاب ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے لبنان کی صورتحال کے حوالے سے پاکستان کی کوششوں پر وزیراعظم شہباز شریف کا بھی شکریہ ادا کیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/GovtofPakistan/status/2103186735740166258?'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/GovtofPakistan/status/2103186735740166258?"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;پاکستان نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان رابطے برقرار رکھنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھی ہوئی ہیں، جبکہ پاکستانی حکام دونوں فریقوں سے رابطے میں ہیں۔ قطر بھی نیویارک میں امریکا اور ایران کے درمیان بالواسطہ سفارت کاری میں کردار ادا کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم شہباز شریف جمعہ کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات (24 ستمبر) کو اقوام متحدہ میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کے بعد کہا کہ پاکستان امن کے فروغ اور کشیدگی میں کمی لانے کے لیے مدد کرنے کو تیار ہے۔</strong></p>
<p>یہ ملاقات اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے عمومی مباحثے کے موقع پر ہوئی، جس میں دنیا بھر کے رہنما نیویارک میں جمع ہوئے ہیں۔</p>
<p>صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے شہباز شریف نے ملاقات کو بہت اچھی قرار دیا اور کہا کہ انہوں نے ایرانی صدر کو یقین دلایا ہے کہ اسلام آباد امن عمل میں تعاون کے لیے تیار ہے۔</p>
<p>انہوں نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کو بہت جامع قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی صدر بھی ان سے متفق تھے، تاہم انہوں نے اس دستاویز کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/GovtofPakistan/status/2103222230276858228?'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/GovtofPakistan/status/2103222230276858228?"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا اسرائیل اور ایران کے مؤقف میں موجود فاصلے کے باعث مذاکرات کامیاب ہوسکتے ہیں، تو شہباز شریف نے رکاوٹوں کا اعتراف کیا تاہم امید کا اظہار کیا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ امن کا حصول کبھی آسان نہیں رہا۔ رکاوٹیں ہیں، مشکلات ہیں، لیکن ہم پُرامید ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ممالک کو مل کر کام کرنا چاہیے اور دیگر دوست ممالک کی حمایت حاصل کرنی چاہیے۔</p>
<p><strong>لبنان کی پاکستان کی سفارتی کوششوں کی حمایت</strong></p>
<p>دریں اثنا، لبنان کے وزیراعظم نواف سلام نے امریکا اور ایران کے درمیان تنازع کا سفارتی حل تلاش کرنے اور اسے مزید بڑھنے سے روکنے کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا۔</p>
<p>نواف سلام نے کہا کہ پاکستان گزشتہ ایک ماہ سے کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل کی کوششوں میں مصروف ہے، اور انہیں امید ہے کہ اسلام آباد خطے میں کشیدگی کم کرنے میں کامیاب ہوگا۔</p>
<p>انہوں نے لبنان کی صورتحال کے حوالے سے پاکستان کی کوششوں پر وزیراعظم شہباز شریف کا بھی شکریہ ادا کیا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/GovtofPakistan/status/2103186735740166258?'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/GovtofPakistan/status/2103186735740166258?"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>پاکستان نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان رابطے برقرار رکھنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھی ہوئی ہیں، جبکہ پاکستانی حکام دونوں فریقوں سے رابطے میں ہیں۔ قطر بھی نیویارک میں امریکا اور ایران کے درمیان بالواسطہ سفارت کاری میں کردار ادا کر رہا ہے۔</p>
<p>وزیراعظم شہباز شریف جمعہ کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291665</guid>
      <pubDate>Fri, 25 Sep 2026 08:49:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسکرائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.ytimg.com/vi/3g57kRN3AVE/maxresdefault.jpg" type="image/jpeg" medium="video" height="720" width="1280">
        <media:thumbnail url="https://i.ytimg.com/vi/3g57kRN3AVE/mqdefault.jpg"/>
        <media:player url="https://www.youtube.com/watch?v=3g57kRN3AVE"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وزیراعظم شہباز شریف اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291664/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیراعظم شہباز شریف جمعہ کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب کریں گے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری ٹی وی پاکستان ٹی وی کے مطابق اقوام متحدہ میں پاکستان کے مشن نے بتایا کہ وزیراعظم خطے اور عالمی سطح پر بدلتی ہوئی سکیورٹی صورتحال کے بارے میں پاکستان کا موقف پیش کریں گے، جس میں مذاکرات، سفارت کاری، تحمل اور تنازعات کے پرامن حل پر زور دیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا کہ یہ اصول پاکستان کی خارجہ پالیسی کا مستقل حصہ رہے ہیں اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں موجودہ مدت کے دوران بھی پاکستان کے مؤقف کی رہنمائی کرتے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم پائیدار ترقی، ماحولیاتی تبدیلی، انسداد دہشت گردی، اسلاموفوبیا، عالمی معاشی چیلنجز، اقوام متحدہ میں اصلاحات اور پائیدار ترقی کے اہداف کے حوالے سے پاکستان کی ترجیحات بھی بیان کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے خطاب میں گلوبل ساؤتھ پر خصوصی توجہ ہوگی، جس میں ترقی پذیر ممالک کو درپیش باہم منسلک ترقیاتی، معاشی، ماحولیاتی اور سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے زیادہ تعاون پر زور دیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم دنیا کی توجہ مقبوضہ علاقوں میں طویل عرصے سے جاری قبضے اور بھارت کے غیرقانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر اور فلسطین کے عوام کو حقِ خودارادیت سے محروم کیے جانے کی جانب بھی مبذول کرائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ زور دیں گے کہ دونوں معاملات کو سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق حل کیا جانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نیویارک میں وزیراعظم&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم شہباز شریف پیر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے ایک مختصر وفد کی قیادت کرتے ہوئے نیویارک پہنچے۔ ان کا استقبال اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد، امریکا میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ اور مشن کے دیگر حکام نے کیا۔ ان کے ہمراہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار بھی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منگل کو وزیراعظم نے جنرل اسمبلی کے افتتاحی اجلاس میں شرکت کی، جس کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مئی 2025 کی پاک بھارت جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے انہیں ’’شاندار انسان‘‘ قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بدھ کو وزیراعظم شہباز شریف نے حقِ ترقی کے اعلامیے کی 40ویں سالگرہ کے اجلاس سے خطاب کیا، جس میں انہوں نے عالمی مالیاتی نظام میں اصلاحات، قرضوں کے بحران سے نمٹنے اور ماحولیاتی تبدیلی سے مطابقت پیدا کرنے اور موسمیاتی نقصانات کے ازالے کے لیے مالی معاونت پر زور دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے اجلاس کے موقع پر آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا سے بھی ملاقات کی اور انہیں بتایا کہ پاکستان معاشی استحکام سے معاشی بحالی کی جانب بڑھ رہا ہے۔ دونوں نے آئی ایم ایف پروگرام کے آئندہ جائزے پر بھی تبادلہ خیال کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے یورپی کمیشن کی صدر ارسولا فان ڈیر لائن اور یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوستا سے بھی ملاقات کی، جس میں پاکستان کی معیشت کے لیے جی ایس پی پلس کی اہمیت اجاگر کی گئی۔ وزیراعظم نے شامی صدر احمد الشرع، بوسنیا و ہرزیگووینا کی صدارت کے چیئرمین ڈینس بیچرووچ اور گیٹس فاؤنڈیشن کے چیئرمین بل گیٹس سے بھی ملاقاتیں کیں، جن میں پولیو کے خاتمے اور زرعی اصلاحات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد نے امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی کی امید ’’نہیں چھوڑی‘‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعرات کو وزیراعظم نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کی، جس میں خطے کی صورتحال اور دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے امریکا میں مقیم پاکستانی کاروباری رہنماؤں سے بھی ملاقات کی اور انہیں پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دی، جبکہ پاکستانی نوجوان پروفیشنلز کے ایک وفد سے بھی ملاقات کی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیراعظم شہباز شریف جمعہ کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب کریں گے۔</strong></p>
<p>سرکاری ٹی وی پاکستان ٹی وی کے مطابق اقوام متحدہ میں پاکستان کے مشن نے بتایا کہ وزیراعظم خطے اور عالمی سطح پر بدلتی ہوئی سکیورٹی صورتحال کے بارے میں پاکستان کا موقف پیش کریں گے، جس میں مذاکرات، سفارت کاری، تحمل اور تنازعات کے پرامن حل پر زور دیا جائے گا۔</p>
<p>بیان میں کہا گیا کہ یہ اصول پاکستان کی خارجہ پالیسی کا مستقل حصہ رہے ہیں اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں موجودہ مدت کے دوران بھی پاکستان کے مؤقف کی رہنمائی کرتے رہے ہیں۔</p>
<p>وزیراعظم پائیدار ترقی، ماحولیاتی تبدیلی، انسداد دہشت گردی، اسلاموفوبیا، عالمی معاشی چیلنجز، اقوام متحدہ میں اصلاحات اور پائیدار ترقی کے اہداف کے حوالے سے پاکستان کی ترجیحات بھی بیان کریں گے۔</p>
<p>ان کے خطاب میں گلوبل ساؤتھ پر خصوصی توجہ ہوگی، جس میں ترقی پذیر ممالک کو درپیش باہم منسلک ترقیاتی، معاشی، ماحولیاتی اور سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے زیادہ تعاون پر زور دیا جائے گا۔</p>
<p>وزیراعظم دنیا کی توجہ مقبوضہ علاقوں میں طویل عرصے سے جاری قبضے اور بھارت کے غیرقانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر اور فلسطین کے عوام کو حقِ خودارادیت سے محروم کیے جانے کی جانب بھی مبذول کرائیں گے۔</p>
<p>وہ زور دیں گے کہ دونوں معاملات کو سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق حل کیا جانا چاہیے۔</p>
<p><strong>نیویارک میں وزیراعظم</strong></p>
<p>وزیراعظم شہباز شریف پیر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے ایک مختصر وفد کی قیادت کرتے ہوئے نیویارک پہنچے۔ ان کا استقبال اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد، امریکا میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ اور مشن کے دیگر حکام نے کیا۔ ان کے ہمراہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار بھی ہیں۔</p>
<p>منگل کو وزیراعظم نے جنرل اسمبلی کے افتتاحی اجلاس میں شرکت کی، جس کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مئی 2025 کی پاک بھارت جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے انہیں ’’شاندار انسان‘‘ قرار دیا۔</p>
<p>بدھ کو وزیراعظم شہباز شریف نے حقِ ترقی کے اعلامیے کی 40ویں سالگرہ کے اجلاس سے خطاب کیا، جس میں انہوں نے عالمی مالیاتی نظام میں اصلاحات، قرضوں کے بحران سے نمٹنے اور ماحولیاتی تبدیلی سے مطابقت پیدا کرنے اور موسمیاتی نقصانات کے ازالے کے لیے مالی معاونت پر زور دیا۔</p>
<p>وزیراعظم نے اجلاس کے موقع پر آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا سے بھی ملاقات کی اور انہیں بتایا کہ پاکستان معاشی استحکام سے معاشی بحالی کی جانب بڑھ رہا ہے۔ دونوں نے آئی ایم ایف پروگرام کے آئندہ جائزے پر بھی تبادلہ خیال کیا۔</p>
<p>انہوں نے یورپی کمیشن کی صدر ارسولا فان ڈیر لائن اور یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوستا سے بھی ملاقات کی، جس میں پاکستان کی معیشت کے لیے جی ایس پی پلس کی اہمیت اجاگر کی گئی۔ وزیراعظم نے شامی صدر احمد الشرع، بوسنیا و ہرزیگووینا کی صدارت کے چیئرمین ڈینس بیچرووچ اور گیٹس فاؤنڈیشن کے چیئرمین بل گیٹس سے بھی ملاقاتیں کیں، جن میں پولیو کے خاتمے اور زرعی اصلاحات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔</p>
<p>وزیراعظم نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد نے امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی کی امید ’’نہیں چھوڑی‘‘۔</p>
<p>جمعرات کو وزیراعظم نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کی، جس میں خطے کی صورتحال اور دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔</p>
<p>انہوں نے امریکا میں مقیم پاکستانی کاروباری رہنماؤں سے بھی ملاقات کی اور انہیں پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دی، جبکہ پاکستانی نوجوان پروفیشنلز کے ایک وفد سے بھی ملاقات کی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291664</guid>
      <pubDate>Thu, 24 Sep 2026 23:39:29 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/242334336792495.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/242334336792495.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ڈیزل 2 روپے 63 پیسے، پٹرول 84 پیسے فی لیٹر سستا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291663/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی حکومت نے ہائی اسپیڈ ڈیزل کی ایکس ڈپو قیمت 2 روپے 63 پیسے کمی سے 412 روپے 12 پیسے فی لیٹر اور موٹر اسپرٹ (پٹرول) کی قیمت 84 پیسے کمی سے 389 روپے 28 پیسے فی لیٹر کردی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہائی اسپیڈ ڈیزل کی سابقہ قیمت 414 روپے 75 پیسے فی لیٹر، جبکہ پٹرول کی قیمت 390 روپے 12 پیسے فی لیٹر تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جمعرات کو جاری اعلامیے کے مطابق، نظرثانی شدہ قیمتیں وفاقی حکومت کے جاری کردہ پیٹرولیم قیمتوں کے تعین کے طریقۂ کار کے تحت 25 ستمبر 2026 کے لیے مؤثر ہوں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے قیمتوں پر نظرثانی کی۔ پیٹرولیم ڈویژن کے مطابق قیمتوں میں تبدیلی کی وجہ عالمی سطح پر ہونے والی پیش رفت ہے، جس میں پلاٹس کی قیمتوں، پریمیم اور دیگر متعلقہ اخراجات میں تبدیلیاں شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ جائزے میں حکومت نے ڈیزل کی قیمت میں 4 روپے 21 پیسے جبکہ پٹرول کی قیمت میں 1 روپے 93 پیسے فی لیٹر کمی کی تھی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی حکومت نے ہائی اسپیڈ ڈیزل کی ایکس ڈپو قیمت 2 روپے 63 پیسے کمی سے 412 روپے 12 پیسے فی لیٹر اور موٹر اسپرٹ (پٹرول) کی قیمت 84 پیسے کمی سے 389 روپے 28 پیسے فی لیٹر کردی ہے۔</strong></p>
<p>ہائی اسپیڈ ڈیزل کی سابقہ قیمت 414 روپے 75 پیسے فی لیٹر، جبکہ پٹرول کی قیمت 390 روپے 12 پیسے فی لیٹر تھی۔</p>
<p>پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جمعرات کو جاری اعلامیے کے مطابق، نظرثانی شدہ قیمتیں وفاقی حکومت کے جاری کردہ پیٹرولیم قیمتوں کے تعین کے طریقۂ کار کے تحت 25 ستمبر 2026 کے لیے مؤثر ہوں گی۔</p>
<p>آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے قیمتوں پر نظرثانی کی۔ پیٹرولیم ڈویژن کے مطابق قیمتوں میں تبدیلی کی وجہ عالمی سطح پر ہونے والی پیش رفت ہے، جس میں پلاٹس کی قیمتوں، پریمیم اور دیگر متعلقہ اخراجات میں تبدیلیاں شامل ہیں۔</p>
<p>گزشتہ جائزے میں حکومت نے ڈیزل کی قیمت میں 4 روپے 21 پیسے جبکہ پٹرول کی قیمت میں 1 روپے 93 پیسے فی لیٹر کمی کی تھی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291663</guid>
      <pubDate>Thu, 24 Sep 2026 23:29:01 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/242324347b82e7d.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/242324347b82e7d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>متحدہ عرب امارات نے ایرانی ایئرلائنز کی پروازیں تاحکمِ ثانی معطل کردیں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291662/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;متحدہ عرب امارات کی جنرل سول ایوی ایشن اتھارٹی نے جمعرات کو کہا ہے کہ اس نے ایرانی ایئرلائنز کی ملک آنے اور یہاں سے روانہ ہونے والی پروازیں تاحکمِ ثانی معطل کردی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق اتھارٹی نے ایک بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ دنیا بھر میں مختلف ہوائی اڈوں کے استعمال کے معاملے پر ایرانی ایئرلائنز کے خلاف امریکا کی جانب سے عائد پابندیوں کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>متحدہ عرب امارات کی جنرل سول ایوی ایشن اتھارٹی نے جمعرات کو کہا ہے کہ اس نے ایرانی ایئرلائنز کی ملک آنے اور یہاں سے روانہ ہونے والی پروازیں تاحکمِ ثانی معطل کردی ہیں۔</strong></p>
<p>سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق اتھارٹی نے ایک بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ دنیا بھر میں مختلف ہوائی اڈوں کے استعمال کے معاملے پر ایرانی ایئرلائنز کے خلاف امریکا کی جانب سے عائد پابندیوں کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291662</guid>
      <pubDate>Thu, 24 Sep 2026 23:19:22 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/242253469877a58.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/242253469877a58.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکا، ایران آبنائے ہرمز کھولنے اور امریکی ناکہ بندی ختم کرنے کے لیے مرحلہ وار معاہدے پر غور کر رہے ہیں، ذرائع</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291661/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نیویارک میں امریکی اور ایرانی مذاکرات کار جنگ سے نکلنے کے لیے مرحلہ وار راستے پر غور کر رہے ہیں، جس کے تحت تہران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولے گا اور واشنگٹن ایران کی معاشی ناکہ بندی ختم کرے گا، یہ بات مذاکرات سے واقف ذرائع نے بتائی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آبنائے ہرمز امریکا اور ایران کے درمیان تقریباً 7 ماہ سے جاری تنازع ختم کرنے کی کوششوں میں مرکزی سودے بازی کا ذریعہ بن گئی ہے۔ ایران ایسی امریکی ناکہ بندی سے ریلیف چاہتا ہے جو اس کی معیشت کا گلا گھونٹ رہی ہے، جبکہ واشنگٹن عالمی تیل کی ترسیل کے اس راستے سے بحری جہازوں کی آزادانہ آمدورفت چاہتا ہے جسے تہران نے اس وقت بند کر رکھا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذاکرات کو ایک بڑی رکاوٹ کا سامنا ہے کیونکہ دونوں میں سے کوئی بھی فریق پہلے اپنے دباؤ کے ذریعے سے دستبردار ہونے پر آمادہ نہیں۔ دو ایرانی ذرائع، دو علاقائی عہدیداروں اور دو مغربی سفارتی ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ تاہم ایران کے موقف کے پسِ پشت طویل محاذ آرائی کی معاشی قیمت کا ادراک بھی موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کے ایک سینئر عہدیدار نے کہا کہ تعطل ختم کرنے کا سب سے قابلِ عمل طریقہ مرحلہ وار انتظام ہوسکتا ہے، جس کے تحت ایران آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت کی اجازت دے اور اس کے بدلے امریکا اپنی معاشی ناکہ بندی ختم کرے، جبکہ تہران کو منجمد اثاثوں تک رسائی بھی مل سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر کہا، ’’آگے بڑھنے کا ایک طریقہ یہ ہوسکتا ہے کہ بحران کو مرحلہ وار حل کیا جائے۔ پہلے مرحلے میں ناکہ بندی ختم اور آبنائے ہرمز دوبارہ کھولی جائے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک اور عارضی حل قبول کرنا ہوگا، کیونکہ اس سے قبل جولائی میں طے پانے والی مفاہمت ناکام ہوگئی تھی۔ ذرائع کے مطابق مذاکرات کاروں کو درپیش مرکزی چیلنج صرف معاہدے کا خاکہ تیار کرنا نہیں بلکہ یہ یقینی بنانا بھی ہے کہ دونوں فریق ایک دوسرے پر اعتماد کرتے ہوئے کسی بھی رعایت کو اتنا پائیدار سمجھیں کہ وہ برقرار رہ سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ 3 نومبر کو کانگریس کے وسط مدتی انتخابات کے بعد امریکا اور ایران کسی معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں۔ یورپ کے ایک سینئر عہدیدار نے کہا کہ ایرانیوں کے ’’مطالبات کی فہرست بہت طویل ہے‘‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وائٹ ہاؤس اور امریکی محکمہ خارجہ نے اس خبر پر تبصرے کے لیے درخواست کا فوری جواب نہیں دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا کے سابق مذاکرات کار ڈینس راس نے کہا کہ انہیں انتخابات سے قبل معاہدہ طے پانے کا امکان صرف 30 فیصد نظر آتا ہے، تاہم دونوں فریقوں کے پاس وسط مدتی انتخابات سے پہلے معاہدہ کرنے کی وجوہات انتخابات کے بعد کے مقابلے میں زیادہ مضبوط ہوسکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;راس نے کہا، ’’اصل چیز جو ایرانیوں پر دباؤ ڈال رہی ہے وہ ناکہ بندی ہے۔ یہ ان کا گلا گھونٹ رہی ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وسط مدتی انتخابات سے قبل معاہدہ طے پانا ٹرمپ کے لیے فائدہ مند ہوسکتا ہے، کیونکہ آبنائے ہرمز دوبارہ کھلنے سے خلیج میں کشیدگی کم، تیل کی قیمتیں قابو میں اور سیاسی طور پر حساس امریکی پٹرول کی قیمتیں کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کے لیے انتہائی ضروری معاشی ریلیف حاصل کرنے کے امکانات اس وقت زیادہ ہوسکتے ہیں جب ٹرمپ کے پاس معاہدہ کرنے کے لیے سیاسی ترغیب بھی زیادہ ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;راس نے کہا کہ وسط مدتی انتخابات کے بعد ٹرمپ کو کم سیاسی پابندیوں کا سامنا ہوسکتا ہے اور وہ دباؤ بڑھانے یا فوجی راستہ اختیار کرنے پر زیادہ آمادہ ہوسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;دباؤ کا ذریعہ ہی رکاوٹ؟&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا اور تہران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے والا دباؤ کا ذریعہ ہی سمجھوتے کو مزید مشکل بھی بنا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واشنگٹن کے پاس وہ دباؤ ہے جو تہران کو سب سے زیادہ متاثر کر رہا ہے، جبکہ تہران کے پاس توانائی کی ایک اہم گزرگاہ تک رسائی کا کنٹرول ہے۔ دونوں میں سے کوئی بھی فریق اس دباؤ کے ذریعے سے کسی ٹھوس فائدے کے بدلے کے بغیر دستبردار ہونا نہیں چاہتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کا مطلب ہے کہ وسط مدتی انتخابات سفارت کاری کی آخری تاریخ سے زیادہ ان حالات کو برقرار رکھنے کی آخری حد ہوسکتے ہیں جو سفارتی کوششوں کو ممکن بناتے ہیں۔ اگر واشنگٹن اور تہران وسط مدتی انتخابات سے قبل اپنے دباؤ کے ذرائع کو معاہدے میں تبدیل نہ کرسکے تو کشیدگی بڑھنے کے خطرے کے ساتھ سفارتی گنجائش بھی محدود ہوسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی عہدیدار نے کہا کہ سفارتی راستہ تلاش کرنے کے باوجود تہران واشنگٹن کے ساتھ دوبارہ جنگ چھڑنے کے امکان کی تیاری کر رہا ہے۔ انہوں نے امریکا پر الزام عائد کیا کہ وہ معاشی ناکہ بندی اور طاقت کے استعمال کی دھمکی کو دباؤ ڈالنے کے ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کے سینئر عہدیدار نے کہا، ’’ہماری انگلیاں ٹریگر پر ہیں۔ امریکی جانتے ہیں کہ انہیں کیا کرنا ہے، لیکن ان کے حد سے زیادہ مطالبات کے باعث سفارت کاری کے ذریعے اس مسئلے کے حل کے امکانات انتہائی کم ہیں۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علاقائی ذرائع نے بتایا کہ تہران آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے ٹرانزٹ فیس کی ادائیگی کا مطالبہ مرکزی معاہدے سے نکال کر ایک ضمنی دستاویز میں شامل کرنے پر آمادہ ہے، کیونکہ ناکہ بندی ختم کرنا اب زیادہ فوری ترجیح بن چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خلیجی ریاستوں نے ٹرانزٹ فیس کی ادائیگی کی تجویز مسترد کردی ہے۔ علاقائی ذرائع کے مطابق کوئی بھی انتظام عارضی ہوگا اور اس کا مطلب ایران کے موقف سے باضابطہ دستبرداری نہیں ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا نے ایران پر معاشی دباؤ مزید بڑھا دیا ہے اور اس ناکہ بندی کے علاوہ نئی پابندیاں بھی عائد کی ہیں جس نے ایران کی تیل برآمدات کا گلا گھونٹ دیا ہے، جو زرمبادلہ حاصل کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رواں ماہ امریکا نے ایران کی باقی ماندہ کمرشل ایئرلائنز اور ان کے معاون نیٹ ورکس کو بھی نشانہ بنایا، جس کا مقصد حکومت اور طاقتور پاسدارانِ انقلاب کو برقرار رکھنے والے معاشی وسائل منقطع کرنے کی مہم کا حصہ ہے۔ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے معاہدہ نہ کیا تو اس کی معیشت ’’گل سڑ سکتی ہے‘‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ’’ایران کی بنیادی توجہ آبنائے ہرمز میں ٹول ٹیکس عائد کرنے کے بجائے آبی گزرگاہ پر اپنا انتظامی کنٹرول برقرار رکھنے پر ہے۔ ایران ٹول کے معاملے کو مؤخر کرنے پر آمادہ ہوسکتا ہے، لیکن وہ آبنائے پر انتظامی کنٹرول سے دستبردار نہیں ہوگا۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیویارک میں جاری سفارتی کوششوں کے مرکز میں ایک بنیادی کشمکش موجود ہے۔ واشنگٹن چاہتا ہے کہ دباؤ کے نتیجے میں ایران رعایتیں دے، تہران کا مؤقف ہے کہ رعایتیں دینے سے پہلے دباؤ ختم کیا جائے، جبکہ خلیجی ریاستیں چاہتی ہیں کہ تنازع حل ہو، لیکن خطے کی تزویراتی آبی گزرگاہوں کو مستقل طور پر سودے بازی کا ذریعہ نہ بننے دیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;طویل جنگ کے خدشات&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیویارک میں ٹرمپ کے ساتھ ایک الگ ملاقات کے دوران خلیجی رہنماؤں نے وسط مدتی انتخابات کے بعد واشنگٹن کی حکمت عملی کے بارے میں وضاحت طلب کی، جس میں یہ سوال بھی شامل تھا کہ اگر ایران مذاکرات کی طرف واپس آنے سے انکار کرے تو کیا امریکا دوبارہ فوجی کارروائی شروع کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علاقائی ذرائع کے مطابق، خلیجی رہنماؤں نے آبنائے ہرمز پر ایران کے کسی بھی کنٹرول کو اجتماعی طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بحری جہازوں کی آزادانہ آمدورفت بحال ہونی چاہیے اور اس تزویراتی آبی گزرگاہ کو خلیجی ریاستوں کے خلاف دباؤ ڈالنے کے ذریعے میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم آبنائے ہرمز کے حوالے سے اپنے انتباہات کے ساتھ ساتھ خلیجی رہنماؤں نے کشیدگی میں کمی اور سیاسی عمل کے لیے بھرپور زور دیا ہے، جو خطے کی اس خواہش کی عکاسی کرتا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان کسی بھی مزید تنازع سے خود کو دور رکھا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابوظبی میں قائم تھنک ٹینک ایمریٹس پالیسی سینٹر کی صدر ابتسام الکُتبی نے کہا، ’’اب بھی یہ واضح نہیں کہ ٹرمپ کا حتمی مقصد کیا ہے یا دباؤ کی مہم کے متبادل کے طور پر کیا راستہ اختیار کیا جائے گا۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ’’اس کے برعکس، ایرانی جانتے ہیں کہ وہ کیا چاہتے ہیں۔ وہ واضح مقصد کے ساتھ آبنائے ہرمز اور باب المندب کے ذریعے خطے کے تزویراتی منظرنامے کو تبدیل کر رہے ہیں، جبکہ واشنگٹن نے ابھی تک اپنا لائحہ عمل واضح نہیں کیا۔‘‘ انہوں نے باب المندب کا حوالہ دیا جو بحیرہ احمر کو خلیج عدن سے ملاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ غیر یقینی صورتحال تہران کی حکمت عملی پر بھی اثرانداز ہورہی ہے۔ علاقائی تجزیہ کار اور اسرائیلی فوج کے سابق انٹیلی جنس افسر ڈینی سٹرینووچ نے کہا کہ نیویارک میں ہونے والے مذاکرات نے دونوں فریقوں کے بنیادی موقف میں کوئی تبدیلی نہیں کی اور ایران اس وقت تک پیچھے ہٹنے کا امکان نہیں رکھتا جب تک اسے یہ یقین رہے کہ ٹرمپ وسط مدتی انتخابات سے قبل وسیع تر کشیدگی سے بچنا چاہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کے حوالے سے امریکا کے سابق مذاکرات کار ایلن ایئر نے کہا، ’’ناکہ بندی انہیں نقصان پہنچا رہی ہے، لیکن اپنے موقف میں نرمی لانے کے بجائے اس بات کا زیادہ امکان ہے کہ یہ انہیں کشیدگی بڑھانے پر مجبور کرے، کیونکہ ان کا خیال ہے کہ اگر انہوں نے اپنے موقف میں نرمی دکھائی تو ان کا خاتمہ ہوجائے گا۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذاکرات سے واقف ایک مغربی عہدیدار نے مزید کہا، ’’ساری بات آبنائے ہرمز کھولنے سے متعلق ہے۔ ہم سب کو اندرونِ ملک دباؤ کا سامنا ہے اور ایرانی یہ بات جانتے ہیں۔‘‘&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>نیویارک میں امریکی اور ایرانی مذاکرات کار جنگ سے نکلنے کے لیے مرحلہ وار راستے پر غور کر رہے ہیں، جس کے تحت تہران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولے گا اور واشنگٹن ایران کی معاشی ناکہ بندی ختم کرے گا، یہ بات مذاکرات سے واقف ذرائع نے بتائی ہے۔</strong></p>
<p>آبنائے ہرمز امریکا اور ایران کے درمیان تقریباً 7 ماہ سے جاری تنازع ختم کرنے کی کوششوں میں مرکزی سودے بازی کا ذریعہ بن گئی ہے۔ ایران ایسی امریکی ناکہ بندی سے ریلیف چاہتا ہے جو اس کی معیشت کا گلا گھونٹ رہی ہے، جبکہ واشنگٹن عالمی تیل کی ترسیل کے اس راستے سے بحری جہازوں کی آزادانہ آمدورفت چاہتا ہے جسے تہران نے اس وقت بند کر رکھا ہے۔</p>
<p>مذاکرات کو ایک بڑی رکاوٹ کا سامنا ہے کیونکہ دونوں میں سے کوئی بھی فریق پہلے اپنے دباؤ کے ذریعے سے دستبردار ہونے پر آمادہ نہیں۔ دو ایرانی ذرائع، دو علاقائی عہدیداروں اور دو مغربی سفارتی ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ تاہم ایران کے موقف کے پسِ پشت طویل محاذ آرائی کی معاشی قیمت کا ادراک بھی موجود ہے۔</p>
<p>ایران کے ایک سینئر عہدیدار نے کہا کہ تعطل ختم کرنے کا سب سے قابلِ عمل طریقہ مرحلہ وار انتظام ہوسکتا ہے، جس کے تحت ایران آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت کی اجازت دے اور اس کے بدلے امریکا اپنی معاشی ناکہ بندی ختم کرے، جبکہ تہران کو منجمد اثاثوں تک رسائی بھی مل سکتی ہے۔</p>
<p>انہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر کہا، ’’آگے بڑھنے کا ایک طریقہ یہ ہوسکتا ہے کہ بحران کو مرحلہ وار حل کیا جائے۔ پہلے مرحلے میں ناکہ بندی ختم اور آبنائے ہرمز دوبارہ کھولی جائے۔‘‘</p>
<p>اس کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک اور عارضی حل قبول کرنا ہوگا، کیونکہ اس سے قبل جولائی میں طے پانے والی مفاہمت ناکام ہوگئی تھی۔ ذرائع کے مطابق مذاکرات کاروں کو درپیش مرکزی چیلنج صرف معاہدے کا خاکہ تیار کرنا نہیں بلکہ یہ یقینی بنانا بھی ہے کہ دونوں فریق ایک دوسرے پر اعتماد کرتے ہوئے کسی بھی رعایت کو اتنا پائیدار سمجھیں کہ وہ برقرار رہ سکے۔</p>
<p>ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ 3 نومبر کو کانگریس کے وسط مدتی انتخابات کے بعد امریکا اور ایران کسی معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں۔ یورپ کے ایک سینئر عہدیدار نے کہا کہ ایرانیوں کے ’’مطالبات کی فہرست بہت طویل ہے‘‘۔</p>
<p>وائٹ ہاؤس اور امریکی محکمہ خارجہ نے اس خبر پر تبصرے کے لیے درخواست کا فوری جواب نہیں دیا۔</p>
<p>امریکا کے سابق مذاکرات کار ڈینس راس نے کہا کہ انہیں انتخابات سے قبل معاہدہ طے پانے کا امکان صرف 30 فیصد نظر آتا ہے، تاہم دونوں فریقوں کے پاس وسط مدتی انتخابات سے پہلے معاہدہ کرنے کی وجوہات انتخابات کے بعد کے مقابلے میں زیادہ مضبوط ہوسکتی ہیں۔</p>
<p>راس نے کہا، ’’اصل چیز جو ایرانیوں پر دباؤ ڈال رہی ہے وہ ناکہ بندی ہے۔ یہ ان کا گلا گھونٹ رہی ہے۔‘‘</p>
<p>وسط مدتی انتخابات سے قبل معاہدہ طے پانا ٹرمپ کے لیے فائدہ مند ہوسکتا ہے، کیونکہ آبنائے ہرمز دوبارہ کھلنے سے خلیج میں کشیدگی کم، تیل کی قیمتیں قابو میں اور سیاسی طور پر حساس امریکی پٹرول کی قیمتیں کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔</p>
<p>ایران کے لیے انتہائی ضروری معاشی ریلیف حاصل کرنے کے امکانات اس وقت زیادہ ہوسکتے ہیں جب ٹرمپ کے پاس معاہدہ کرنے کے لیے سیاسی ترغیب بھی زیادہ ہو۔</p>
<p>راس نے کہا کہ وسط مدتی انتخابات کے بعد ٹرمپ کو کم سیاسی پابندیوں کا سامنا ہوسکتا ہے اور وہ دباؤ بڑھانے یا فوجی راستہ اختیار کرنے پر زیادہ آمادہ ہوسکتے ہیں۔</p>
<p><strong>دباؤ کا ذریعہ ہی رکاوٹ؟</strong></p>
<p>امریکا اور تہران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے والا دباؤ کا ذریعہ ہی سمجھوتے کو مزید مشکل بھی بنا سکتا ہے۔</p>
<p>واشنگٹن کے پاس وہ دباؤ ہے جو تہران کو سب سے زیادہ متاثر کر رہا ہے، جبکہ تہران کے پاس توانائی کی ایک اہم گزرگاہ تک رسائی کا کنٹرول ہے۔ دونوں میں سے کوئی بھی فریق اس دباؤ کے ذریعے سے کسی ٹھوس فائدے کے بدلے کے بغیر دستبردار ہونا نہیں چاہتا۔</p>
<p>اس کا مطلب ہے کہ وسط مدتی انتخابات سفارت کاری کی آخری تاریخ سے زیادہ ان حالات کو برقرار رکھنے کی آخری حد ہوسکتے ہیں جو سفارتی کوششوں کو ممکن بناتے ہیں۔ اگر واشنگٹن اور تہران وسط مدتی انتخابات سے قبل اپنے دباؤ کے ذرائع کو معاہدے میں تبدیل نہ کرسکے تو کشیدگی بڑھنے کے خطرے کے ساتھ سفارتی گنجائش بھی محدود ہوسکتی ہے۔</p>
<p>ایرانی عہدیدار نے کہا کہ سفارتی راستہ تلاش کرنے کے باوجود تہران واشنگٹن کے ساتھ دوبارہ جنگ چھڑنے کے امکان کی تیاری کر رہا ہے۔ انہوں نے امریکا پر الزام عائد کیا کہ وہ معاشی ناکہ بندی اور طاقت کے استعمال کی دھمکی کو دباؤ ڈالنے کے ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔</p>
<p>ایران کے سینئر عہدیدار نے کہا، ’’ہماری انگلیاں ٹریگر پر ہیں۔ امریکی جانتے ہیں کہ انہیں کیا کرنا ہے، لیکن ان کے حد سے زیادہ مطالبات کے باعث سفارت کاری کے ذریعے اس مسئلے کے حل کے امکانات انتہائی کم ہیں۔‘‘</p>
<p>علاقائی ذرائع نے بتایا کہ تہران آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے ٹرانزٹ فیس کی ادائیگی کا مطالبہ مرکزی معاہدے سے نکال کر ایک ضمنی دستاویز میں شامل کرنے پر آمادہ ہے، کیونکہ ناکہ بندی ختم کرنا اب زیادہ فوری ترجیح بن چکا ہے۔</p>
<p>خلیجی ریاستوں نے ٹرانزٹ فیس کی ادائیگی کی تجویز مسترد کردی ہے۔ علاقائی ذرائع کے مطابق کوئی بھی انتظام عارضی ہوگا اور اس کا مطلب ایران کے موقف سے باضابطہ دستبرداری نہیں ہوگا۔</p>
<p>امریکا نے ایران پر معاشی دباؤ مزید بڑھا دیا ہے اور اس ناکہ بندی کے علاوہ نئی پابندیاں بھی عائد کی ہیں جس نے ایران کی تیل برآمدات کا گلا گھونٹ دیا ہے، جو زرمبادلہ حاصل کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہیں۔</p>
<p>رواں ماہ امریکا نے ایران کی باقی ماندہ کمرشل ایئرلائنز اور ان کے معاون نیٹ ورکس کو بھی نشانہ بنایا، جس کا مقصد حکومت اور طاقتور پاسدارانِ انقلاب کو برقرار رکھنے والے معاشی وسائل منقطع کرنے کی مہم کا حصہ ہے۔ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے معاہدہ نہ کیا تو اس کی معیشت ’’گل سڑ سکتی ہے‘‘۔</p>
<p>انہوں نے کہا، ’’ایران کی بنیادی توجہ آبنائے ہرمز میں ٹول ٹیکس عائد کرنے کے بجائے آبی گزرگاہ پر اپنا انتظامی کنٹرول برقرار رکھنے پر ہے۔ ایران ٹول کے معاملے کو مؤخر کرنے پر آمادہ ہوسکتا ہے، لیکن وہ آبنائے پر انتظامی کنٹرول سے دستبردار نہیں ہوگا۔‘‘</p>
<p>نیویارک میں جاری سفارتی کوششوں کے مرکز میں ایک بنیادی کشمکش موجود ہے۔ واشنگٹن چاہتا ہے کہ دباؤ کے نتیجے میں ایران رعایتیں دے، تہران کا مؤقف ہے کہ رعایتیں دینے سے پہلے دباؤ ختم کیا جائے، جبکہ خلیجی ریاستیں چاہتی ہیں کہ تنازع حل ہو، لیکن خطے کی تزویراتی آبی گزرگاہوں کو مستقل طور پر سودے بازی کا ذریعہ نہ بننے دیا جائے۔</p>
<p><strong>طویل جنگ کے خدشات</strong></p>
<p>نیویارک میں ٹرمپ کے ساتھ ایک الگ ملاقات کے دوران خلیجی رہنماؤں نے وسط مدتی انتخابات کے بعد واشنگٹن کی حکمت عملی کے بارے میں وضاحت طلب کی، جس میں یہ سوال بھی شامل تھا کہ اگر ایران مذاکرات کی طرف واپس آنے سے انکار کرے تو کیا امریکا دوبارہ فوجی کارروائی شروع کرے گا۔</p>
<p>علاقائی ذرائع کے مطابق، خلیجی رہنماؤں نے آبنائے ہرمز پر ایران کے کسی بھی کنٹرول کو اجتماعی طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بحری جہازوں کی آزادانہ آمدورفت بحال ہونی چاہیے اور اس تزویراتی آبی گزرگاہ کو خلیجی ریاستوں کے خلاف دباؤ ڈالنے کے ذریعے میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔</p>
<p>تاہم آبنائے ہرمز کے حوالے سے اپنے انتباہات کے ساتھ ساتھ خلیجی رہنماؤں نے کشیدگی میں کمی اور سیاسی عمل کے لیے بھرپور زور دیا ہے، جو خطے کی اس خواہش کی عکاسی کرتا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان کسی بھی مزید تنازع سے خود کو دور رکھا جائے۔</p>
<p>ابوظبی میں قائم تھنک ٹینک ایمریٹس پالیسی سینٹر کی صدر ابتسام الکُتبی نے کہا، ’’اب بھی یہ واضح نہیں کہ ٹرمپ کا حتمی مقصد کیا ہے یا دباؤ کی مہم کے متبادل کے طور پر کیا راستہ اختیار کیا جائے گا۔‘‘</p>
<p>انہوں نے کہا، ’’اس کے برعکس، ایرانی جانتے ہیں کہ وہ کیا چاہتے ہیں۔ وہ واضح مقصد کے ساتھ آبنائے ہرمز اور باب المندب کے ذریعے خطے کے تزویراتی منظرنامے کو تبدیل کر رہے ہیں، جبکہ واشنگٹن نے ابھی تک اپنا لائحہ عمل واضح نہیں کیا۔‘‘ انہوں نے باب المندب کا حوالہ دیا جو بحیرہ احمر کو خلیج عدن سے ملاتی ہے۔</p>
<p>یہ غیر یقینی صورتحال تہران کی حکمت عملی پر بھی اثرانداز ہورہی ہے۔ علاقائی تجزیہ کار اور اسرائیلی فوج کے سابق انٹیلی جنس افسر ڈینی سٹرینووچ نے کہا کہ نیویارک میں ہونے والے مذاکرات نے دونوں فریقوں کے بنیادی موقف میں کوئی تبدیلی نہیں کی اور ایران اس وقت تک پیچھے ہٹنے کا امکان نہیں رکھتا جب تک اسے یہ یقین رہے کہ ٹرمپ وسط مدتی انتخابات سے قبل وسیع تر کشیدگی سے بچنا چاہتے ہیں۔</p>
<p>ایران کے حوالے سے امریکا کے سابق مذاکرات کار ایلن ایئر نے کہا، ’’ناکہ بندی انہیں نقصان پہنچا رہی ہے، لیکن اپنے موقف میں نرمی لانے کے بجائے اس بات کا زیادہ امکان ہے کہ یہ انہیں کشیدگی بڑھانے پر مجبور کرے، کیونکہ ان کا خیال ہے کہ اگر انہوں نے اپنے موقف میں نرمی دکھائی تو ان کا خاتمہ ہوجائے گا۔‘‘</p>
<p>مذاکرات سے واقف ایک مغربی عہدیدار نے مزید کہا، ’’ساری بات آبنائے ہرمز کھولنے سے متعلق ہے۔ ہم سب کو اندرونِ ملک دباؤ کا سامنا ہے اور ایرانی یہ بات جانتے ہیں۔‘‘</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291661</guid>
      <pubDate>Thu, 24 Sep 2026 22:30:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/24221932bedc6d3.webp" type="image/webp" medium="image" height="429" width="715">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/24221932bedc6d3.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>انفینٹینو کی فیفا سربراہی برقرار رہنے کا امکان، تاہم طاقت کی نئی جنگ درپیش</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291660/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فیفا سے گیانی انفانتینو کو ہٹانے کی کوشش چند ہی ہفتوں بعد تقریباً اختتام کو پہنچتی دکھائی دے رہی ہے، حالانکہ ان کے مخالفین کو توقع تھی کہ وہ عالمی فٹبال کی گورننگ باڈی کے صدر کو عہدے سے ہٹانے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ تاہم، انفانتینو کو حاصل اختیارات کی حدود کے تعین کی جنگ شاید ابھی شروع ہوئی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی فٹبال کی اہم شخصیات میں یہ رائے زور پکڑ رہی ہے کہ انفانتینو کے نجی سرمایہ کاری کے متروک منصوبے سے پیدا ہونے والا بحران اب جانشینی کے سوال سے ہٹ کر ان کی صدارت جاری رہنے کی شرائط اور اختیارات کی کشمکش کی جانب بڑھ رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک ممکنہ نتیجہ ایسا انتظامی سمجھوتا ہوسکتا ہے جس کے تحت انفانتینو عہدے پر برقرار رہیں، لیکن اپنے کچھ اختیارات سے دستبردار ہوجائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرا امکان ایک طویل ’’گرم و سرد جنگ‘‘ کا ہے، جس میں کلب، کنفیڈریشنز، کھلاڑیوں کے نمائندے اور قومی فٹبال ایسوسی ایشنز مقابلوں، مالی معاملات اور بین الاقوامی کیلنڈر پر کنٹرول کے حوالے سے فیفا کو بار بار چیلنج کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی فٹبال کے ایک سینئر عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا، ’’اب جو بات واضح ہے۔۔۔ وہ یہ ہے کہ وہ کہیں نہیں جارہے۔ گرم و سرد جنگ فیفا اور عالمی فٹبال کے لیے ایک حقیقی مسئلہ ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی کھیلوں کے شعبے کے ایک تجربہ کار عہدیدار، جو کئی دہائیوں سے گورننگ باڈیز کے ساتھ کام کرتے رہے ہیں، نے بھی اسی نوعیت کا جائزہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ انفانتینو ’’اپنا عہدہ بچانے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں‘‘، تاہم انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر فٹبال کی بیشتر طاقتور ریاستیں اور ادارے ان کی مخالفت پر قائم رہے تو فیفا کس طرح مؤثر انداز میں کام کرسکے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عہدیدار نے کہا، ’’عملاً آپ کے پاس انتظامی ڈھانچے کے اندر ایک ایسی اندرونی جنگ ہوگی جس کی مثال مجھے اس سے پہلے کسی کھیلوں کی تنظیم میں یاد نہیں۔ یہ بے مثال ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی فٹبال کے اندر طویل اور ممکنہ طور پر نقصان دہ سرد جنگ کے اس ممکنہ منظرنامے کی آزادانہ طور پر مزید دو سینئر فٹبال عہدیداروں نے بھی رائٹرز سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ امکان اس بحران کے ایک ممکنہ طور پر متضاد نتیجے کی نشاندہی کرتا ہے، جس کی شدت کے عروج پر انفانتینو کی صدارت خطرے میں پڑ گئی تھی: وہ سیاسی طور پر تو اپنا عہدہ بچانے میں کامیاب ہوجائیں، لیکن ایسی گورننگ باڈی کی سربراہی کریں جہاں فٹبال کے بعض طاقتور ترین متعلقہ فریق اس بات کو محدود کرنے کی کوشش کریں کہ وہ عملی طور پر کیا کرسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجربہ کار عہدیدار نے سوال کیا، ’’کیا وہ بے اختیار صدر بن جائیں گے؟‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اعتماد کا بحران برقرار&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس بات کے بہت کم شواہد ہیں کہ انفانتینو کی جانب سے اس ہفتے بحران کو ختم کرنے کی کوشش سے اعتماد کا ٹوٹا ہوا رشتہ بحال ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیفا کونسل اور تمام 211 رکن ایسوسی ایشنز کے صدور کو لکھے گئے خط میں انفانتینو نے تجویز دی کہ کونسل کو فیفا کے بڑے تزویراتی اقدامات کے لیے گورننس فریم ورک کا آزادانہ بیرونی جائزہ لینے پر غور کرنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کنفیڈریشنز، ایسوسی ایشنز اور دیگر متعلقہ فریقوں سے فیصلہ سازی کے عمل کو مضبوط بنانے کے حوالے سے مشاورت کی تجویز بھی دی اور کہا کہ وہ فیفا کی قیادت کرنے کے لیے بدستور مکمل طور پر پرعزم ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورپ کی کئی فٹبال فیڈریشنز نے اس اقدام کو فوری طور پر مسترد کردیا، جبکہ یوئیفا کے صدر الیگزینڈر چیفرین نے بدھ کو اس پر سخت ردعمل کا اظہار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیفرین نے پرتگال فٹبال سمٹ سے ویڈیو خطاب میں کہا، ’’جس منصوبے نے عالمی فٹبال کے اتحاد کو پارہ پارہ کردیا، اسے ختم کیا جاسکتا ہے، لیکن اس سے ٹوٹنے والا اعتماد بحال نہیں ہوا۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ’’ہمارے کھیل میں اعتماد تین ستونوں پر قائم ہے: اتحاد، شفافیت اور ایسا انتظامی نظام جو چند لوگوں کے بجائے اکثریت کے مفاد میں کام کرے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا، ’’فٹبال برائے فروخت نہیں ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیفرین نے انفانتینو کا نام نہیں لیا، تاہم ان کے ریمارکس فیفا کے تجارتی حقوق میں 20 فیصد حصص، جن میں ورلڈ کپ سے متعلق حقوق بھی شامل تھے، نجی سرمایہ کاروں کو فروخت کرنے کی تجویز کی جانب واضح اشارہ تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورپی فٹبال کی گورننگ باڈی یوئیفا، ایشین فٹبال کنفیڈریشن اور شمالی و وسطی امریکا کی کنفیڈریشن کونکاکاف کی مخالفت کے بعد یہ منصوبہ جولائی میں ختم کردیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کشیدگی میں بتدریج کمی&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;56 سالہ سوئس-اطالوی انفانتینو کے لیے اس صورتحال میں کم محاذ آرائی والے تصفیے کی جانب ایک راستہ یہ ہے کہ وہ اتنی وسیع اصلاحات پر آمادہ ہوجائیں جو ان کے مخالفین کو قائل کرسکیں کہ فیفا کے اندر اختیارات کا توازن واقعی تبدیل ہوگیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی فٹبال کے سینئر عہدیدار نے کہا کہ ایک ممکنہ نتیجہ یہ ہوسکتا ہے کہ ایسا نیا ادارہ یا ڈھانچہ تشکیل دیا جائے جو صدر کے اختیارات کو محدود کردے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عہدیدار نے کہا کہ انفانتینو کی جانب سے گورننس اصلاحات کی تجاویز ان کے عہدے پر برقرار رہنے کے لیے ’’کم از کم ضروری اقدام‘‘ ہیں، تاہم اصل سوال یہ ہے کہ کیا وہ بامعنی تبدیلیاں قبول کرنے پر آمادہ ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی فٹبال کے عہدیدار نے کہا کہ کسی بھی ممکنہ سمجھوتے کی حدود کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ ’’انفانتینو اپنے کتنے اختیارات سے دستبردار ہونے پر آمادہ ہیں‘‘ اور ان کے مخالفین ان سے اختیارات چھیننے کے لیے کس حد تک لڑنے کو تیار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسے کسی نتیجے میں تاریخی ستم ظریفی بھی ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیفا کے سابق سربراہ سیپ بلاٹر کے زوال کے بعد متعارف کرائی گئی اصلاحات کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ صدر کے عہدے میں مرکوز اختیارات کو کم کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، اب فیفا کی سینئر شخصیات ایک اور کشمکش کو جنم لیتے دیکھ رہی ہیں کہ فیفا کے صدر کے پاس کتنے اختیارات ہونے چاہئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر کوئی تصفیہ نہ ہوسکا تو متبادل صورتِ حال کسی ڈرامائی محاذ آرائی کے بجائے طویل کشمکش کی شکل اختیار کرسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی فٹبال کے عہدیدار نے کہا کہ کلبز کلب ورلڈ کپ، مالی وسائل کی تقسیم اور کھلاڑیوں کی قومی ٹیموں کے لیے دستیابی کے معاملے پر فیفا سے ٹکرا سکتے ہیں؛ کھلاڑیوں کے نمائندے کیلنڈر کو چیلنج کرسکتے ہیں؛ قومی فٹبال ایسوسی ایشنز مختلف اقدامات کی راہ میں رکاوٹ ڈال سکتی ہیں؛ جبکہ بڑی کنفیڈریشنز فیفا کے مقابلوں کو وسعت دینے یا ان کی تشکیل نو کی کوششوں کی مخالفت کرسکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عہدیدار نے کہا، ’’شاید اب ایسا لگتا ہے کہ ہمارے سامنے دو ہی راستے رہ گئے ہیں۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ’’ایک، ایسا سمجھوتا جس کے تحت گیانی اپنے کچھ اختیارات سے دستبردار ہوجائیں اور کچھ نئے ادارے تشکیل دیے جائیں؛ یا دوسرا، ایک مستقل گرم و سرد جنگ، جس میں تمام متعلقہ فریق ہر معاملے پر ایک دوسرے سے لڑتے رہیں۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عہدیدار کے مطابق، اس میں ورلڈ کپ کو وسعت دینا، کلب ورلڈ کپ کو بڑا یا زیادہ تواتر سے منعقد کرنا اور تجارتی آمدنی کی تقسیم سے متعلق فیصلے بھی شامل ہوسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کا نتیجہ لازماً فیفا سے باضابطہ علیحدگی کی صورت میں نہیں نکلے گا، بلکہ مخالفین فیفا کے ہر بڑے اقدام پر عمل درآمد کو مزید مشکل بناسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجربہ کار کھیلوں کے عہدیدار نے کہا کہ یہ چیلنج عالمی گورننگ باڈیز کے کام کرنے کے بنیادی طریقۂ کار سے متعلق ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عہدیدار نے کہا، ’’اتحاد کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ کھیلوں کی ان بڑی تنظیموں کو متحد رکھنا ضروری ہے، یہ سیاسی جماعتیں نہیں ہیں۔ یہ ایک بالکل نئی صورتحال ہوگی۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;انفانتینو حمایت دوبارہ حاصل کرنے میں مصروف&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;توجہ انفانتینو کی جگہ کسی اور کو لانے کے بجائے ان کی صدارت میں فیفا کے مستقبل کی جانب منتقل ہونے کی ایک اور وجہ یہ ہے کہ بحران شروع ہونے کے بعد سے ان کی پوزیشن بظاہر مضبوط ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک قومی فٹبال ایسوسی ایشن کے صدر، جنہوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر رائٹرز سے بات کی، کا خیال ہے کہ انفانتینو کے مخالفین نے اس وقت اپنا بہترین موقع گنوا دیا جب مخالفت عروج پر تھی، اور اب وہ مارچ کے انتخابات سے قبل دوبارہ حمایت حاصل کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آنے والے مہینوں میں فیفا کے صدر کے پاس قومی فٹبال ایسوسی ایشنز کے رہنماؤں سے ملاقات کے کئی مواقع ہوں گے، جن میں ٹورنامنٹس، کانگریسز اور کنفیڈریشنز کی تقریبات شامل ہیں، جبکہ افریقا میں بھی کئی اجتماعات منعقد ہونے والے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسوسی ایشن کے صدر کے مطابق، انفانتینو مارچ 2027 میں ہونے والے فیفا کے صدارتی انتخابات تک فٹبال رہنماؤں میں اپنی حمایت برقرار رکھنے کے لیے ان ملاقاتوں سے فائدہ اٹھائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چھوٹی ایسوسی ایشنز کی سیاسی اہمیت بھی چیفرین اور کونکاکاف کے صدر وکٹر مونٹالیانی کی اس تجویز سے اجاگر ہوئی ہے کہ فیفا آئندہ مالیاتی دور کے دوران اپنے 211 رکن ایسوسی ایشنز میں سے ہر ایک کو اپنے ذخائر سے کم از کم 1 کروڑ ڈالر فراہم کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیفا کی مالی معاونت پر بہت زیادہ انحصار کرنے والی کئی ایسوسی ایشنز کے لیے یہ رقوم ان کے لیے بنیادی نوعیت کی تبدیلی کا باعث بن سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسوسی ایشن کے صدر کا خیال ہے کہ اگر انفانتینو دوبارہ منتخب ہوگئے تو ممکن ہے کہ ان کی مخالفت کرنے والی بعض فیڈریشنز بھی بالآخر کم معاندانہ رویہ اختیار کرلیں اور یہ نتیجہ اخذ کریں کہ چار سال تک مستقل محاذ آرائی میں کچھ حاصل نہیں ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس امکان کے باعث ’’سرد جنگ‘‘ ناگزیر نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فیفا سے گیانی انفانتینو کو ہٹانے کی کوشش چند ہی ہفتوں بعد تقریباً اختتام کو پہنچتی دکھائی دے رہی ہے، حالانکہ ان کے مخالفین کو توقع تھی کہ وہ عالمی فٹبال کی گورننگ باڈی کے صدر کو عہدے سے ہٹانے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ تاہم، انفانتینو کو حاصل اختیارات کی حدود کے تعین کی جنگ شاید ابھی شروع ہوئی ہے۔</strong></p>
<p>عالمی فٹبال کی اہم شخصیات میں یہ رائے زور پکڑ رہی ہے کہ انفانتینو کے نجی سرمایہ کاری کے متروک منصوبے سے پیدا ہونے والا بحران اب جانشینی کے سوال سے ہٹ کر ان کی صدارت جاری رہنے کی شرائط اور اختیارات کی کشمکش کی جانب بڑھ رہا ہے۔</p>
<p>ایک ممکنہ نتیجہ ایسا انتظامی سمجھوتا ہوسکتا ہے جس کے تحت انفانتینو عہدے پر برقرار رہیں، لیکن اپنے کچھ اختیارات سے دستبردار ہوجائیں۔</p>
<p>دوسرا امکان ایک طویل ’’گرم و سرد جنگ‘‘ کا ہے، جس میں کلب، کنفیڈریشنز، کھلاڑیوں کے نمائندے اور قومی فٹبال ایسوسی ایشنز مقابلوں، مالی معاملات اور بین الاقوامی کیلنڈر پر کنٹرول کے حوالے سے فیفا کو بار بار چیلنج کریں۔</p>
<p>عالمی فٹبال کے ایک سینئر عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا، ’’اب جو بات واضح ہے۔۔۔ وہ یہ ہے کہ وہ کہیں نہیں جارہے۔ گرم و سرد جنگ فیفا اور عالمی فٹبال کے لیے ایک حقیقی مسئلہ ہے۔‘‘</p>
<p>بین الاقوامی کھیلوں کے شعبے کے ایک تجربہ کار عہدیدار، جو کئی دہائیوں سے گورننگ باڈیز کے ساتھ کام کرتے رہے ہیں، نے بھی اسی نوعیت کا جائزہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ انفانتینو ’’اپنا عہدہ بچانے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں‘‘، تاہم انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر فٹبال کی بیشتر طاقتور ریاستیں اور ادارے ان کی مخالفت پر قائم رہے تو فیفا کس طرح مؤثر انداز میں کام کرسکے گا۔</p>
<p>عہدیدار نے کہا، ’’عملاً آپ کے پاس انتظامی ڈھانچے کے اندر ایک ایسی اندرونی جنگ ہوگی جس کی مثال مجھے اس سے پہلے کسی کھیلوں کی تنظیم میں یاد نہیں۔ یہ بے مثال ہے۔‘‘</p>
<p>عالمی فٹبال کے اندر طویل اور ممکنہ طور پر نقصان دہ سرد جنگ کے اس ممکنہ منظرنامے کی آزادانہ طور پر مزید دو سینئر فٹبال عہدیداروں نے بھی رائٹرز سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی۔</p>
<p>یہ امکان اس بحران کے ایک ممکنہ طور پر متضاد نتیجے کی نشاندہی کرتا ہے، جس کی شدت کے عروج پر انفانتینو کی صدارت خطرے میں پڑ گئی تھی: وہ سیاسی طور پر تو اپنا عہدہ بچانے میں کامیاب ہوجائیں، لیکن ایسی گورننگ باڈی کی سربراہی کریں جہاں فٹبال کے بعض طاقتور ترین متعلقہ فریق اس بات کو محدود کرنے کی کوشش کریں کہ وہ عملی طور پر کیا کرسکتے ہیں۔</p>
<p>تجربہ کار عہدیدار نے سوال کیا، ’’کیا وہ بے اختیار صدر بن جائیں گے؟‘‘</p>
<p><strong>اعتماد کا بحران برقرار</strong></p>
<p>اس بات کے بہت کم شواہد ہیں کہ انفانتینو کی جانب سے اس ہفتے بحران کو ختم کرنے کی کوشش سے اعتماد کا ٹوٹا ہوا رشتہ بحال ہوا ہے۔</p>
<p>فیفا کونسل اور تمام 211 رکن ایسوسی ایشنز کے صدور کو لکھے گئے خط میں انفانتینو نے تجویز دی کہ کونسل کو فیفا کے بڑے تزویراتی اقدامات کے لیے گورننس فریم ورک کا آزادانہ بیرونی جائزہ لینے پر غور کرنا چاہیے۔</p>
<p>انہوں نے کنفیڈریشنز، ایسوسی ایشنز اور دیگر متعلقہ فریقوں سے فیصلہ سازی کے عمل کو مضبوط بنانے کے حوالے سے مشاورت کی تجویز بھی دی اور کہا کہ وہ فیفا کی قیادت کرنے کے لیے بدستور مکمل طور پر پرعزم ہیں۔</p>
<p>یورپ کی کئی فٹبال فیڈریشنز نے اس اقدام کو فوری طور پر مسترد کردیا، جبکہ یوئیفا کے صدر الیگزینڈر چیفرین نے بدھ کو اس پر سخت ردعمل کا اظہار کیا۔</p>
<p>چیفرین نے پرتگال فٹبال سمٹ سے ویڈیو خطاب میں کہا، ’’جس منصوبے نے عالمی فٹبال کے اتحاد کو پارہ پارہ کردیا، اسے ختم کیا جاسکتا ہے، لیکن اس سے ٹوٹنے والا اعتماد بحال نہیں ہوا۔‘‘</p>
<p>انہوں نے کہا، ’’ہمارے کھیل میں اعتماد تین ستونوں پر قائم ہے: اتحاد، شفافیت اور ایسا انتظامی نظام جو چند لوگوں کے بجائے اکثریت کے مفاد میں کام کرے۔‘‘</p>
<p>انہوں نے مزید کہا، ’’فٹبال برائے فروخت نہیں ہے۔‘‘</p>
<p>چیفرین نے انفانتینو کا نام نہیں لیا، تاہم ان کے ریمارکس فیفا کے تجارتی حقوق میں 20 فیصد حصص، جن میں ورلڈ کپ سے متعلق حقوق بھی شامل تھے، نجی سرمایہ کاروں کو فروخت کرنے کی تجویز کی جانب واضح اشارہ تھے۔</p>
<p>یورپی فٹبال کی گورننگ باڈی یوئیفا، ایشین فٹبال کنفیڈریشن اور شمالی و وسطی امریکا کی کنفیڈریشن کونکاکاف کی مخالفت کے بعد یہ منصوبہ جولائی میں ختم کردیا گیا تھا۔</p>
<p><strong>کشیدگی میں بتدریج کمی</strong></p>
<p>56 سالہ سوئس-اطالوی انفانتینو کے لیے اس صورتحال میں کم محاذ آرائی والے تصفیے کی جانب ایک راستہ یہ ہے کہ وہ اتنی وسیع اصلاحات پر آمادہ ہوجائیں جو ان کے مخالفین کو قائل کرسکیں کہ فیفا کے اندر اختیارات کا توازن واقعی تبدیل ہوگیا ہے۔</p>
<p>عالمی فٹبال کے سینئر عہدیدار نے کہا کہ ایک ممکنہ نتیجہ یہ ہوسکتا ہے کہ ایسا نیا ادارہ یا ڈھانچہ تشکیل دیا جائے جو صدر کے اختیارات کو محدود کردے۔</p>
<p>عہدیدار نے کہا کہ انفانتینو کی جانب سے گورننس اصلاحات کی تجاویز ان کے عہدے پر برقرار رہنے کے لیے ’’کم از کم ضروری اقدام‘‘ ہیں، تاہم اصل سوال یہ ہے کہ کیا وہ بامعنی تبدیلیاں قبول کرنے پر آمادہ ہوں گے۔</p>
<p>عالمی فٹبال کے عہدیدار نے کہا کہ کسی بھی ممکنہ سمجھوتے کی حدود کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ ’’انفانتینو اپنے کتنے اختیارات سے دستبردار ہونے پر آمادہ ہیں‘‘ اور ان کے مخالفین ان سے اختیارات چھیننے کے لیے کس حد تک لڑنے کو تیار ہیں۔</p>
<p>ایسے کسی نتیجے میں تاریخی ستم ظریفی بھی ہوگی۔</p>
<p>فیفا کے سابق سربراہ سیپ بلاٹر کے زوال کے بعد متعارف کرائی گئی اصلاحات کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ صدر کے عہدے میں مرکوز اختیارات کو کم کیا جائے۔</p>
<p>تاہم، اب فیفا کی سینئر شخصیات ایک اور کشمکش کو جنم لیتے دیکھ رہی ہیں کہ فیفا کے صدر کے پاس کتنے اختیارات ہونے چاہئیں۔</p>
<p>اگر کوئی تصفیہ نہ ہوسکا تو متبادل صورتِ حال کسی ڈرامائی محاذ آرائی کے بجائے طویل کشمکش کی شکل اختیار کرسکتی ہے۔</p>
<p>عالمی فٹبال کے عہدیدار نے کہا کہ کلبز کلب ورلڈ کپ، مالی وسائل کی تقسیم اور کھلاڑیوں کی قومی ٹیموں کے لیے دستیابی کے معاملے پر فیفا سے ٹکرا سکتے ہیں؛ کھلاڑیوں کے نمائندے کیلنڈر کو چیلنج کرسکتے ہیں؛ قومی فٹبال ایسوسی ایشنز مختلف اقدامات کی راہ میں رکاوٹ ڈال سکتی ہیں؛ جبکہ بڑی کنفیڈریشنز فیفا کے مقابلوں کو وسعت دینے یا ان کی تشکیل نو کی کوششوں کی مخالفت کرسکتی ہیں۔</p>
<p>عہدیدار نے کہا، ’’شاید اب ایسا لگتا ہے کہ ہمارے سامنے دو ہی راستے رہ گئے ہیں۔‘‘</p>
<p>انہوں نے کہا، ’’ایک، ایسا سمجھوتا جس کے تحت گیانی اپنے کچھ اختیارات سے دستبردار ہوجائیں اور کچھ نئے ادارے تشکیل دیے جائیں؛ یا دوسرا، ایک مستقل گرم و سرد جنگ، جس میں تمام متعلقہ فریق ہر معاملے پر ایک دوسرے سے لڑتے رہیں۔‘‘</p>
<p>عہدیدار کے مطابق، اس میں ورلڈ کپ کو وسعت دینا، کلب ورلڈ کپ کو بڑا یا زیادہ تواتر سے منعقد کرنا اور تجارتی آمدنی کی تقسیم سے متعلق فیصلے بھی شامل ہوسکتے ہیں۔</p>
<p>اس کا نتیجہ لازماً فیفا سے باضابطہ علیحدگی کی صورت میں نہیں نکلے گا، بلکہ مخالفین فیفا کے ہر بڑے اقدام پر عمل درآمد کو مزید مشکل بناسکتے ہیں۔</p>
<p>تجربہ کار کھیلوں کے عہدیدار نے کہا کہ یہ چیلنج عالمی گورننگ باڈیز کے کام کرنے کے بنیادی طریقۂ کار سے متعلق ہے۔</p>
<p>عہدیدار نے کہا، ’’اتحاد کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ کھیلوں کی ان بڑی تنظیموں کو متحد رکھنا ضروری ہے، یہ سیاسی جماعتیں نہیں ہیں۔ یہ ایک بالکل نئی صورتحال ہوگی۔‘‘</p>
<p><strong>انفانتینو حمایت دوبارہ حاصل کرنے میں مصروف</strong></p>
<p>توجہ انفانتینو کی جگہ کسی اور کو لانے کے بجائے ان کی صدارت میں فیفا کے مستقبل کی جانب منتقل ہونے کی ایک اور وجہ یہ ہے کہ بحران شروع ہونے کے بعد سے ان کی پوزیشن بظاہر مضبوط ہوئی ہے۔</p>
<p>ایک قومی فٹبال ایسوسی ایشن کے صدر، جنہوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر رائٹرز سے بات کی، کا خیال ہے کہ انفانتینو کے مخالفین نے اس وقت اپنا بہترین موقع گنوا دیا جب مخالفت عروج پر تھی، اور اب وہ مارچ کے انتخابات سے قبل دوبارہ حمایت حاصل کر رہے ہیں۔</p>
<p>آنے والے مہینوں میں فیفا کے صدر کے پاس قومی فٹبال ایسوسی ایشنز کے رہنماؤں سے ملاقات کے کئی مواقع ہوں گے، جن میں ٹورنامنٹس، کانگریسز اور کنفیڈریشنز کی تقریبات شامل ہیں، جبکہ افریقا میں بھی کئی اجتماعات منعقد ہونے والے ہیں۔</p>
<p>ایسوسی ایشن کے صدر کے مطابق، انفانتینو مارچ 2027 میں ہونے والے فیفا کے صدارتی انتخابات تک فٹبال رہنماؤں میں اپنی حمایت برقرار رکھنے کے لیے ان ملاقاتوں سے فائدہ اٹھائیں گے۔</p>
<p>چھوٹی ایسوسی ایشنز کی سیاسی اہمیت بھی چیفرین اور کونکاکاف کے صدر وکٹر مونٹالیانی کی اس تجویز سے اجاگر ہوئی ہے کہ فیفا آئندہ مالیاتی دور کے دوران اپنے 211 رکن ایسوسی ایشنز میں سے ہر ایک کو اپنے ذخائر سے کم از کم 1 کروڑ ڈالر فراہم کرے۔</p>
<p>فیفا کی مالی معاونت پر بہت زیادہ انحصار کرنے والی کئی ایسوسی ایشنز کے لیے یہ رقوم ان کے لیے بنیادی نوعیت کی تبدیلی کا باعث بن سکتی ہیں۔</p>
<p>ایسوسی ایشن کے صدر کا خیال ہے کہ اگر انفانتینو دوبارہ منتخب ہوگئے تو ممکن ہے کہ ان کی مخالفت کرنے والی بعض فیڈریشنز بھی بالآخر کم معاندانہ رویہ اختیار کرلیں اور یہ نتیجہ اخذ کریں کہ چار سال تک مستقل محاذ آرائی میں کچھ حاصل نہیں ہوگا۔</p>
<p>اس امکان کے باعث ’’سرد جنگ‘‘ ناگزیر نہیں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291660</guid>
      <pubDate>Thu, 24 Sep 2026 22:13:14 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/2422051065033b6.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/2422051065033b6.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سعودی عرب نے حوثیوں کے بیلسٹک میزائل ناکام بنا دیے، سعودی قیادت والے یمنی اتحاد کا دعویٰ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291659/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یمن میں سعودی قیادت والے اتحاد نے کہا ہے کہ سعودی عرب نے جمعرات کو یمن کے حوثیوں کی جانب سے داغے گئے 6 بیلسٹک میزائلوں کو روک کر جنوبی صوبے طائف اور بحیرہ احمر کے ساحلی علاقے ینبع کو نشانہ بنانے والے حملے ناکام بنا دیے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ واضح نہیں ہوسکا کہ طائف اور ینبع میں کوئی نقصان یا جانی نقصان ہوا یا نہیں۔ ینبع سعودی تیل کی برآمدات کے لیے آبنائے ہرمز کے علاوہ اہم متبادل راستہ ہے۔ اس سے قبل جدہ اور مقدس شہر مکہ سمیت مختلف علاقوں کے لیے بڑے پیمانے پر ہنگامی الرٹ جاری کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ینبع پر حملہ ایسے وقت ہوا ہے جب وہاں موجود ٹرمینل سے تیل کی برآمدات دوبارہ شروع ہونے کے امکانات بہتر ہوئے ہیں۔ صنعتی ذرائع کا کہنا ہے کہ سعودی عرب اپنی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کے ذریعے خام تیل کی پمپنگ کا حجم بڑھا رہا ہے۔ یہ پائپ لائن 11 ستمبر کو ڈرون حملوں کے بعد بند کردی گئی تھی، جن کا الزام ریاض نے عراقی ملیشیا پر عائد کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل متاثر ہونے کی صورت میں ینبع کی بندرگاہ سعودی خام تیل کی برآمدات کے لیے اہم حیثیت رکھتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;حوثیوں کا مزید جنوب میں جازان پر حملے کا دعویٰ&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حوثیوں کے ترجمان یحییٰ سریع نے جمعرات کو بعد ازاں دعویٰ کیا کہ گروپ نے یمن کی سرحد سے متصل سعودی صوبے جازان میں فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ سعودی عرب کی جانب سے فوری طور پر اس کی تصدیق نہیں کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سریع نے کہا کہ حوثیوں نے درجنوں بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے حملہ کیا، جس میں جازان میں ان کے بقول ’’آپریشن رومز، کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز اور اسلحہ ڈپو‘‘ کے علاوہ میزائل داغنے کے مقامات اور فوجی کیمپوں کو نشانہ بنایا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سعودی شہری دفاع کے ادارے نے بدھ کو جازان میں ممکنہ خطرے کے پیش نظر ہنگامی الرٹ جاری کیا تھا، تاہم جمعرات کو کوئی الرٹ جاری نہیں کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہری دفاع کے حکام نے شمال مغربی صوبے تبوک میں بھی ممکنہ خطرے سے خبردار کیا، جو اردن کی سرحد کے قریب واقع ہے۔ رواں ماہ سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان کشیدگی میں اضافے کے دوران اس علاقے کے لیے یہ پہلا انتباہ تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حوثیوں نے زیادہ تر سعودی عرب کے جنوبی علاقوں کو نشانہ بنایا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے جولائی میں سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کرنے کے بعد مملکت پر حملے تیز کردیئے تھے، جس سے امریکا اور ایران کی جنگ کے لیے ایک نیا محاذ کھل گیا۔ حوثیوں نے تقریباً دو ہفتے قبل ایک برق رفتاری سے کی گئی کارروائی کے دوران یمن کے پورے مغربی ساحل پر بھی قبضہ کرلیا تھا، جس کے نتیجے میں وہ بحیرہ احمر کی اہم باب المندب آبی گزرگاہ کے ساحل تک پہنچ گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اتحاد نے حملوں کے فوراً بعد جاری بیان میں کہا، ’’دہشت گرد حوثی ملیشیا کی جانب سے کسی بھی کشیدگی میں اضافے اور خلاف ورزیوں سے سختی سے نمٹا جائے گا۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یمن کی خانہ جنگی میں شدت، مشرق وسطیٰ کا تنازع وسیع&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سعودی عرب کی حمایت یافتہ حکومت کی فورسز نے اس سے قبل رات بھر جاری رہنے والے حوثیوں کے ان حملوں کو پسپا کردیا تھا جو جنوبی بندرگاہی شہر عدن سے یمن کے تیسرے بڑے شہر تعز تک جانے والے اہم رسد کے راستے پر کیے گئے۔ عدن میں بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کا انتظامی مرکز قائم ہے، حکومتی ذرائع نے بتایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حوثیوں نے ایک دشوار گزار اور بل کھاتی پہاڑی گزرگاہ کے ذریعے حکومتی فورسز پر دباؤ برقرار رکھا ہے تاکہ اپنے اقتدار کو مستحکم کرسکیں۔ حجۃ العبد کے نام سے معروف یہ سڑک یمنی حکومت کی جانب سے لڑنے والی فورسز کے لیے شہ رگ کی حیثیت رکھتی ہے، جنہیں حوثیوں نے چاروں طرف سے گھیر رکھا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ سڑک یمن کے تیسرے بڑے شہر تعز اور اس کے جنوبی و مغربی دیہی علاقوں میں سامان کی ترسیل کے لیے بھی انتہائی اہم ہے۔ حوثیوں کے زیرِ قبضہ علاقوں سے کوئی کمرشل پروازیں آپریٹ نہ ہونے کے باعث بیرونِ ملک سفر کرنے کے خواہش مند مقامی باشندوں کے لیے یہ واحد راستہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تعز-عدن سڑک کے بعض حصوں پر قبضہ حوثیوں کو تعز کا مزید گھیرا تنگ کرنے اور حکومت کو ایک اور دھچکا دینے کا موقع فراہم کرسکتا ہے، جو مغربی ساحل کا کنٹرول کھونے کے بعد دوبارہ پیش قدمی کی کوششوں میں مشکلات کا شکار رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ لڑائی یمن میں 12 سال سے جاری خانہ جنگی کا تازہ ترین باب ہے، جو 2022ء کی جنگ بندی کے بعد بڑی حد تک منجمد رہی تھی۔ حوثیوں نے 2014ء میں دارالحکومت صنعا پر قبضہ کرلیا تھا، جس کے بعد بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت میں سعودی عرب کی قیادت میں اگلے سال فوجی مداخلت کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حالیہ ہفتوں میں کئی سابقہ محاذوں پر دوبارہ لڑائی بھڑک اٹھی ہے، جن میں تعز کے اطراف کے علاقے بھی شامل ہیں، جبکہ حوثیوں نے یمن کے بحیرہ احمر کے ساحل کے ساتھ جنوب کی جانب پیش قدمی کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقوام متحدہ کے مطابق حالیہ لڑائی میں 700 سے زائد افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوچکے ہیں۔ تقریباً 1 لاکھ 30 ہزار یمنی ملک کے اندر بے گھر ہوئے ہیں، جبکہ 3 ہزار سے زائد افراد بحیرہ احمر کے راستے کشتیوں کے ذریعے افریقا فرار ہوچکے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>یمن میں سعودی قیادت والے اتحاد نے کہا ہے کہ سعودی عرب نے جمعرات کو یمن کے حوثیوں کی جانب سے داغے گئے 6 بیلسٹک میزائلوں کو روک کر جنوبی صوبے طائف اور بحیرہ احمر کے ساحلی علاقے ینبع کو نشانہ بنانے والے حملے ناکام بنا دیے۔</strong></p>
<p>یہ واضح نہیں ہوسکا کہ طائف اور ینبع میں کوئی نقصان یا جانی نقصان ہوا یا نہیں۔ ینبع سعودی تیل کی برآمدات کے لیے آبنائے ہرمز کے علاوہ اہم متبادل راستہ ہے۔ اس سے قبل جدہ اور مقدس شہر مکہ سمیت مختلف علاقوں کے لیے بڑے پیمانے پر ہنگامی الرٹ جاری کیا گیا تھا۔</p>
<p>ینبع پر حملہ ایسے وقت ہوا ہے جب وہاں موجود ٹرمینل سے تیل کی برآمدات دوبارہ شروع ہونے کے امکانات بہتر ہوئے ہیں۔ صنعتی ذرائع کا کہنا ہے کہ سعودی عرب اپنی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کے ذریعے خام تیل کی پمپنگ کا حجم بڑھا رہا ہے۔ یہ پائپ لائن 11 ستمبر کو ڈرون حملوں کے بعد بند کردی گئی تھی، جن کا الزام ریاض نے عراقی ملیشیا پر عائد کیا تھا۔</p>
<p>آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل متاثر ہونے کی صورت میں ینبع کی بندرگاہ سعودی خام تیل کی برآمدات کے لیے اہم حیثیت رکھتی ہے۔</p>
<p><strong>حوثیوں کا مزید جنوب میں جازان پر حملے کا دعویٰ</strong></p>
<p>حوثیوں کے ترجمان یحییٰ سریع نے جمعرات کو بعد ازاں دعویٰ کیا کہ گروپ نے یمن کی سرحد سے متصل سعودی صوبے جازان میں فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ سعودی عرب کی جانب سے فوری طور پر اس کی تصدیق نہیں کی گئی۔</p>
<p>سریع نے کہا کہ حوثیوں نے درجنوں بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے حملہ کیا، جس میں جازان میں ان کے بقول ’’آپریشن رومز، کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز اور اسلحہ ڈپو‘‘ کے علاوہ میزائل داغنے کے مقامات اور فوجی کیمپوں کو نشانہ بنایا گیا۔</p>
<p>سعودی شہری دفاع کے ادارے نے بدھ کو جازان میں ممکنہ خطرے کے پیش نظر ہنگامی الرٹ جاری کیا تھا، تاہم جمعرات کو کوئی الرٹ جاری نہیں کیا گیا۔</p>
<p>شہری دفاع کے حکام نے شمال مغربی صوبے تبوک میں بھی ممکنہ خطرے سے خبردار کیا، جو اردن کی سرحد کے قریب واقع ہے۔ رواں ماہ سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان کشیدگی میں اضافے کے دوران اس علاقے کے لیے یہ پہلا انتباہ تھا۔</p>
<p>حوثیوں نے زیادہ تر سعودی عرب کے جنوبی علاقوں کو نشانہ بنایا ہے۔</p>
<p>انہوں نے جولائی میں سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کرنے کے بعد مملکت پر حملے تیز کردیئے تھے، جس سے امریکا اور ایران کی جنگ کے لیے ایک نیا محاذ کھل گیا۔ حوثیوں نے تقریباً دو ہفتے قبل ایک برق رفتاری سے کی گئی کارروائی کے دوران یمن کے پورے مغربی ساحل پر بھی قبضہ کرلیا تھا، جس کے نتیجے میں وہ بحیرہ احمر کی اہم باب المندب آبی گزرگاہ کے ساحل تک پہنچ گئے۔</p>
<p>اتحاد نے حملوں کے فوراً بعد جاری بیان میں کہا، ’’دہشت گرد حوثی ملیشیا کی جانب سے کسی بھی کشیدگی میں اضافے اور خلاف ورزیوں سے سختی سے نمٹا جائے گا۔‘‘</p>
<p><strong>یمن کی خانہ جنگی میں شدت، مشرق وسطیٰ کا تنازع وسیع</strong></p>
<p>سعودی عرب کی حمایت یافتہ حکومت کی فورسز نے اس سے قبل رات بھر جاری رہنے والے حوثیوں کے ان حملوں کو پسپا کردیا تھا جو جنوبی بندرگاہی شہر عدن سے یمن کے تیسرے بڑے شہر تعز تک جانے والے اہم رسد کے راستے پر کیے گئے۔ عدن میں بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کا انتظامی مرکز قائم ہے، حکومتی ذرائع نے بتایا۔</p>
<p>حوثیوں نے ایک دشوار گزار اور بل کھاتی پہاڑی گزرگاہ کے ذریعے حکومتی فورسز پر دباؤ برقرار رکھا ہے تاکہ اپنے اقتدار کو مستحکم کرسکیں۔ حجۃ العبد کے نام سے معروف یہ سڑک یمنی حکومت کی جانب سے لڑنے والی فورسز کے لیے شہ رگ کی حیثیت رکھتی ہے، جنہیں حوثیوں نے چاروں طرف سے گھیر رکھا ہے۔</p>
<p>یہ سڑک یمن کے تیسرے بڑے شہر تعز اور اس کے جنوبی و مغربی دیہی علاقوں میں سامان کی ترسیل کے لیے بھی انتہائی اہم ہے۔ حوثیوں کے زیرِ قبضہ علاقوں سے کوئی کمرشل پروازیں آپریٹ نہ ہونے کے باعث بیرونِ ملک سفر کرنے کے خواہش مند مقامی باشندوں کے لیے یہ واحد راستہ ہے۔</p>
<p>تعز-عدن سڑک کے بعض حصوں پر قبضہ حوثیوں کو تعز کا مزید گھیرا تنگ کرنے اور حکومت کو ایک اور دھچکا دینے کا موقع فراہم کرسکتا ہے، جو مغربی ساحل کا کنٹرول کھونے کے بعد دوبارہ پیش قدمی کی کوششوں میں مشکلات کا شکار رہی ہے۔</p>
<p>یہ لڑائی یمن میں 12 سال سے جاری خانہ جنگی کا تازہ ترین باب ہے، جو 2022ء کی جنگ بندی کے بعد بڑی حد تک منجمد رہی تھی۔ حوثیوں نے 2014ء میں دارالحکومت صنعا پر قبضہ کرلیا تھا، جس کے بعد بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت میں سعودی عرب کی قیادت میں اگلے سال فوجی مداخلت کی گئی۔</p>
<p>حالیہ ہفتوں میں کئی سابقہ محاذوں پر دوبارہ لڑائی بھڑک اٹھی ہے، جن میں تعز کے اطراف کے علاقے بھی شامل ہیں، جبکہ حوثیوں نے یمن کے بحیرہ احمر کے ساحل کے ساتھ جنوب کی جانب پیش قدمی کی ہے۔</p>
<p>اقوام متحدہ کے مطابق حالیہ لڑائی میں 700 سے زائد افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوچکے ہیں۔ تقریباً 1 لاکھ 30 ہزار یمنی ملک کے اندر بے گھر ہوئے ہیں، جبکہ 3 ہزار سے زائد افراد بحیرہ احمر کے راستے کشتیوں کے ذریعے افریقا فرار ہوچکے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291659</guid>
      <pubDate>Thu, 24 Sep 2026 21:52:35 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/24214153ab7fd26.gif" type="image/gif" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/24214153ab7fd26.gif"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مورگن اسٹینلے ایشیا کے سودوں کی تفصیلات غلط ای میل اٹیچمنٹ سے لیک</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291658/</link>
      <description>&lt;p&gt;معاملے سے واقف چھ افراد کے مطابق ایشیا میں مالیاتی اسپانسرز کا شعبہ دیکھنے والے مورگن اسٹینلے کے ایک سینئر بینکار نے غلطی سے کلائنٹس کو بھیجی گئی ای میل میں اپنے سودوں کی تفصیلات افشا کردیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع نے بتایا کہ بینکار نے کلائنٹس کو بھیجے گئے ہفتہ وار اپ ڈیٹ ای میل میں مالیاتی اسپانسرز گروپ کے زیرِ غور سودوں کی فہرست غلطی سے منسلک کردی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وال اسٹریٹ بینک مورگن اسٹینلے کے ترجمان نے جمعرات کو رائٹرز کو ای میل کے ذریعے بتایا، ’’مورگن اسٹینلے کلائنٹس کی رازداری کو انتہائی سنجیدگی سے لیتا ہے۔ ہم نے معلومات کے اس غیر ارادی تبادلے سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات کیے اور متعلقہ فریقوں سے رابطے میں ہیں۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رائٹرز کی دیکھی گئی ای میل کی ایک اسکرین شاٹ کے مطابق، بینکار نے بعد میں ای میل واپس لے لی اور اس غلطی پر معذرت کرتے ہوئے وصول کنندگان سے منسلک دستاویز کی نقول حذف کرنے اور اسے مزید گردش سے گریز کرنے کی درخواست کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;21 ستمبر کی تاریخ والی فہرست میں گریٹر چائنا، جنوبی کوریا، جنوب مشرقی ایشیا، بھارت اور یورپ، مشرق وسطیٰ و افریقا کے خطے میں جاری تقریباً 60 آئی پی او، انضمام و حصول اور بلاک ٹریڈ کے سودے شامل تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس میں 50 سے زائد ایسے سودے بھی شامل تھے جنہیں ’’پچنگ‘‘ کے زمرے میں رکھا گیا تھا، جبکہ تقریباً 30 سودے ’’ہولڈ‘‘ کے زمرے میں شامل تھے۔ یہ تمام سودے ایشیائی کمپنیوں سے متعلق ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فہرست میں شامل کمپنیوں کی بھاری اکثریت بڑی عالمی اور علاقائی نجی ایکویٹی اور وینچر کیپیٹل فرموں کے پورٹ فولیو کا حصہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلومبرگ نے بدھ کی رات اس واقعے کی پہلی خبر دی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ای میل وصول کرنے والے بعض افراد کے مطابق فہرست میں کسی بھی سودے کی تفصیلات شامل نہیں تھیں، جبکہ ان میں سے متعدد سودوں کی اطلاعات پہلے ہی منظر عام پر آچکی ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>معاملے سے واقف چھ افراد کے مطابق ایشیا میں مالیاتی اسپانسرز کا شعبہ دیکھنے والے مورگن اسٹینلے کے ایک سینئر بینکار نے غلطی سے کلائنٹس کو بھیجی گئی ای میل میں اپنے سودوں کی تفصیلات افشا کردیں۔</p>
<p>ذرائع نے بتایا کہ بینکار نے کلائنٹس کو بھیجے گئے ہفتہ وار اپ ڈیٹ ای میل میں مالیاتی اسپانسرز گروپ کے زیرِ غور سودوں کی فہرست غلطی سے منسلک کردی۔</p>
<p>وال اسٹریٹ بینک مورگن اسٹینلے کے ترجمان نے جمعرات کو رائٹرز کو ای میل کے ذریعے بتایا، ’’مورگن اسٹینلے کلائنٹس کی رازداری کو انتہائی سنجیدگی سے لیتا ہے۔ ہم نے معلومات کے اس غیر ارادی تبادلے سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات کیے اور متعلقہ فریقوں سے رابطے میں ہیں۔‘‘</p>
<p>رائٹرز کی دیکھی گئی ای میل کی ایک اسکرین شاٹ کے مطابق، بینکار نے بعد میں ای میل واپس لے لی اور اس غلطی پر معذرت کرتے ہوئے وصول کنندگان سے منسلک دستاویز کی نقول حذف کرنے اور اسے مزید گردش سے گریز کرنے کی درخواست کی۔</p>
<p>21 ستمبر کی تاریخ والی فہرست میں گریٹر چائنا، جنوبی کوریا، جنوب مشرقی ایشیا، بھارت اور یورپ، مشرق وسطیٰ و افریقا کے خطے میں جاری تقریباً 60 آئی پی او، انضمام و حصول اور بلاک ٹریڈ کے سودے شامل تھے۔</p>
<p>اس میں 50 سے زائد ایسے سودے بھی شامل تھے جنہیں ’’پچنگ‘‘ کے زمرے میں رکھا گیا تھا، جبکہ تقریباً 30 سودے ’’ہولڈ‘‘ کے زمرے میں شامل تھے۔ یہ تمام سودے ایشیائی کمپنیوں سے متعلق ہیں۔</p>
<p>فہرست میں شامل کمپنیوں کی بھاری اکثریت بڑی عالمی اور علاقائی نجی ایکویٹی اور وینچر کیپیٹل فرموں کے پورٹ فولیو کا حصہ ہے۔</p>
<p>بلومبرگ نے بدھ کی رات اس واقعے کی پہلی خبر دی تھی۔</p>
<p>ای میل وصول کرنے والے بعض افراد کے مطابق فہرست میں کسی بھی سودے کی تفصیلات شامل نہیں تھیں، جبکہ ان میں سے متعدد سودوں کی اطلاعات پہلے ہی منظر عام پر آچکی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291658</guid>
      <pubDate>Thu, 24 Sep 2026 21:12:27 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/242054428f7649a.webp" type="image/webp" medium="image" height="422" width="600">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/242054428f7649a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سی سی پی نے متحدہ عرب امارات کی کمپنی کو مسعود ٹیکسٹائل ملز کے حصص خریدنے کی منظوری دے دی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291657/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مسابقتی کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) نے متحدہ عرب امارات میں قائم کمپنی ویلورا گلوبل وینچرز-ایف زیڈ سی کی جانب سے دو چینی کمپنیوں سے مسعود ٹیکسٹائل ملز لمیٹڈ کے حصص حاصل کرنے کی منظوری دے دی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سی سی پی نے جمعرات کو جاری بیان میں کہا کہ یہ منظوری مسابقتی ایکٹ 2010 کے تحت پہلے مرحلے کی مسابقتی جانچ کے بعد دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معاملے کے تحت ویلورا گلوبل وینچرز، حصص کی خریداری کے معاہدے کے تحت شنگھائی چیلنج ٹیکسٹائل کمپنی لمیٹڈ اور ژی جیانگ ژیناؤ انڈسٹری کمپنی لمیٹڈ سے مسعود ٹیکسٹائل ملز کے حصص حاصل کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;متحدہ عرب امارات کی اجمان فری زون اتھارٹی کے تحت قائم ویلورا گلوبل وینچرز پاکستان سے باہر ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی تھوک تجارت کے علاوہ تجارتی بروکریج کی سرگرمیوں سے وابستہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کی منسلک کمپنیاں گلف ٹیکسٹائل سورسنگ ایف زیڈ سی اور زارا ٹیکسٹائل ٹریڈنگ ایف زیڈ سی بین الاقوامی سطح پر ٹیکسٹائل کی سورسنگ اور تجارت، صارفین کی ترقی اور آرڈرز کی معاونت و رابطہ کاری کے شعبوں میں کام کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں لسٹڈ مسعود ٹیکسٹائل ملز سوتی اور مصنوعی ریشے کے دھاگے، نِٹڈ اور رنگے ہوئے کپڑے اور ملبوسات تیار اور فروخت کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سی سی پی نے پہلے مرحلے کے جائزے کے دوران یہ جانچ کی کہ آیا اس لین دین سے متعلقہ مارکیٹوں میں مسابقت میں نمایاں کمی واقع ہوسکتی ہے یا کسی غالب حیثیت کا قیام یا اس کا استحکام ممکن ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیشن نے قرار دیا کہ ویلورا گلوبل وینچرز کی انضمام سے قبل پاکستان کی مارکیٹ میں کوئی موجودگی نہیں تھی۔ چنانچہ حصص کا حصول مسعود ٹیکسٹائل ملز کی پیداوار، مقامی فروخت یا مارکیٹ میں اس کی پوزیشن میں کسی نمایاں تبدیلی کا باعث بننے کی توقع نہیں تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سی سی پی نے خریدار کی بین الاقوامی ٹیکسٹائل تجارتی سرگرمیوں اور مسعود ٹیکسٹائل ملز کے پیداواری آپریشنز کے درمیان ممکنہ عمودی کاروباری تعلق کا بھی جائزہ لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیشن نے نتیجہ اخذ کیا کہ دونوں کاروباری سرگرمیوں کی نوعیت اور دائرہ کار سے مسابقت کے حوالے سے کوئی تشویش پیدا نہیں ہوتی اور یہ لین دین نہ تو مارکیٹ میں داخلے کی رکاوٹیں پیدا کرے گا اور نہ ہی خریدار کی مارکیٹ طاقت میں نمایاں اضافہ کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چنانچہ سی سی پی نے مسابقتی ایکٹ 2010 کی دفعہ 31(1)(d)(i) کے تحت مذکورہ لین دین کی منظوری دے دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیشن نے کہا کہ انضمام اور حصول کے معاملات کا بروقت اور شفاف جائزہ سرمایہ کاری اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ میں معاون ہوتا ہے، جبکہ اس بات کو بھی یقینی بناتا ہے کہ ایسے لین دین سے مسابقت کو نقصان نہ پہنچے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سی سی پی نے مزید کہا کہ انضمام پر مؤثر نگرانی کا نظام ضابطہ جاتی یقین دہانی فراہم کرتا، براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری اور کاروباری توسیع کی معاونت کرتا اور پاکستان میں مسابقتی منڈیوں اور صارفین کے مفادات کا تحفظ یقینی بناتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>مسابقتی کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) نے متحدہ عرب امارات میں قائم کمپنی ویلورا گلوبل وینچرز-ایف زیڈ سی کی جانب سے دو چینی کمپنیوں سے مسعود ٹیکسٹائل ملز لمیٹڈ کے حصص حاصل کرنے کی منظوری دے دی۔</strong></p>
<p>سی سی پی نے جمعرات کو جاری بیان میں کہا کہ یہ منظوری مسابقتی ایکٹ 2010 کے تحت پہلے مرحلے کی مسابقتی جانچ کے بعد دی گئی۔</p>
<p>معاملے کے تحت ویلورا گلوبل وینچرز، حصص کی خریداری کے معاہدے کے تحت شنگھائی چیلنج ٹیکسٹائل کمپنی لمیٹڈ اور ژی جیانگ ژیناؤ انڈسٹری کمپنی لمیٹڈ سے مسعود ٹیکسٹائل ملز کے حصص حاصل کرے گی۔</p>
<p>متحدہ عرب امارات کی اجمان فری زون اتھارٹی کے تحت قائم ویلورا گلوبل وینچرز پاکستان سے باہر ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی تھوک تجارت کے علاوہ تجارتی بروکریج کی سرگرمیوں سے وابستہ ہے۔</p>
<p>اس کی منسلک کمپنیاں گلف ٹیکسٹائل سورسنگ ایف زیڈ سی اور زارا ٹیکسٹائل ٹریڈنگ ایف زیڈ سی بین الاقوامی سطح پر ٹیکسٹائل کی سورسنگ اور تجارت، صارفین کی ترقی اور آرڈرز کی معاونت و رابطہ کاری کے شعبوں میں کام کرتی ہیں۔</p>
<p>پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں لسٹڈ مسعود ٹیکسٹائل ملز سوتی اور مصنوعی ریشے کے دھاگے، نِٹڈ اور رنگے ہوئے کپڑے اور ملبوسات تیار اور فروخت کرتی ہے۔</p>
<p>سی سی پی نے پہلے مرحلے کے جائزے کے دوران یہ جانچ کی کہ آیا اس لین دین سے متعلقہ مارکیٹوں میں مسابقت میں نمایاں کمی واقع ہوسکتی ہے یا کسی غالب حیثیت کا قیام یا اس کا استحکام ممکن ہے۔</p>
<p>کمیشن نے قرار دیا کہ ویلورا گلوبل وینچرز کی انضمام سے قبل پاکستان کی مارکیٹ میں کوئی موجودگی نہیں تھی۔ چنانچہ حصص کا حصول مسعود ٹیکسٹائل ملز کی پیداوار، مقامی فروخت یا مارکیٹ میں اس کی پوزیشن میں کسی نمایاں تبدیلی کا باعث بننے کی توقع نہیں تھی۔</p>
<p>سی سی پی نے خریدار کی بین الاقوامی ٹیکسٹائل تجارتی سرگرمیوں اور مسعود ٹیکسٹائل ملز کے پیداواری آپریشنز کے درمیان ممکنہ عمودی کاروباری تعلق کا بھی جائزہ لیا۔</p>
<p>کمیشن نے نتیجہ اخذ کیا کہ دونوں کاروباری سرگرمیوں کی نوعیت اور دائرہ کار سے مسابقت کے حوالے سے کوئی تشویش پیدا نہیں ہوتی اور یہ لین دین نہ تو مارکیٹ میں داخلے کی رکاوٹیں پیدا کرے گا اور نہ ہی خریدار کی مارکیٹ طاقت میں نمایاں اضافہ کرے گا۔</p>
<p>چنانچہ سی سی پی نے مسابقتی ایکٹ 2010 کی دفعہ 31(1)(d)(i) کے تحت مذکورہ لین دین کی منظوری دے دی۔</p>
<p>کمیشن نے کہا کہ انضمام اور حصول کے معاملات کا بروقت اور شفاف جائزہ سرمایہ کاری اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ میں معاون ہوتا ہے، جبکہ اس بات کو بھی یقینی بناتا ہے کہ ایسے لین دین سے مسابقت کو نقصان نہ پہنچے۔</p>
<p>سی سی پی نے مزید کہا کہ انضمام پر مؤثر نگرانی کا نظام ضابطہ جاتی یقین دہانی فراہم کرتا، براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری اور کاروباری توسیع کی معاونت کرتا اور پاکستان میں مسابقتی منڈیوں اور صارفین کے مفادات کا تحفظ یقینی بناتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291657</guid>
      <pubDate>Thu, 24 Sep 2026 20:25:42 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/242019054682265.webp" type="image/webp" medium="image" height="354" width="588">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/242019054682265.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسٹیٹ بینک کے پاس موجود غیر ملکی ذخائر 1 کروڑ 10 لاکھ ڈالر اضافے سے 21.4 ارب ڈالر ہوگئے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291656/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے پاس موجود زرمبادلہ کے ذخائر 18 ستمبر 2026ء کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران 1 کروڑ 10 لاکھ ڈالر بڑھ کر 21.4 ارب ڈالر ہوگئے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مرکزی بینک کی جانب سے جمعرات کو جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق 18 ستمبر تک ملک کے مجموعی مائع زرمبادلہ کے ذخائر 26.81 ارب ڈالر رہے، جن میں اسٹیٹ بینک کے پاس 21.4 ارب ڈالر اور کمرشل بینکوں کے پاس 5.41 ارب ڈالر موجود تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعداد و شمار کے مطابق اسٹیٹ بینک کے پاس موجود زرمبادلہ کے ذخائر 21,400.3 ملین ڈالر، جبکہ کمرشل بینکوں کے پاس موجود خالص زرمبادلہ کے ذخائر 5,410.3 ملین ڈالر رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مرکزی بینک نے بتایا کہ ’’18 ستمبر 2026ء کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر 1 کروڑ 10 لاکھ ڈالر بڑھ کر 21,400.3 ملین ڈالر ہوگئے۔‘‘&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے پاس موجود زرمبادلہ کے ذخائر 18 ستمبر 2026ء کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران 1 کروڑ 10 لاکھ ڈالر بڑھ کر 21.4 ارب ڈالر ہوگئے۔</strong></p>
<p>مرکزی بینک کی جانب سے جمعرات کو جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق 18 ستمبر تک ملک کے مجموعی مائع زرمبادلہ کے ذخائر 26.81 ارب ڈالر رہے، جن میں اسٹیٹ بینک کے پاس 21.4 ارب ڈالر اور کمرشل بینکوں کے پاس 5.41 ارب ڈالر موجود تھے۔</p>
<p>اعداد و شمار کے مطابق اسٹیٹ بینک کے پاس موجود زرمبادلہ کے ذخائر 21,400.3 ملین ڈالر، جبکہ کمرشل بینکوں کے پاس موجود خالص زرمبادلہ کے ذخائر 5,410.3 ملین ڈالر رہے۔</p>
<p>مرکزی بینک نے بتایا کہ ’’18 ستمبر 2026ء کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر 1 کروڑ 10 لاکھ ڈالر بڑھ کر 21,400.3 ملین ڈالر ہوگئے۔‘‘</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291656</guid>
      <pubDate>Thu, 24 Sep 2026 20:15:48 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/242011501ebec93.webp" type="image/webp" medium="image" height="400" width="600">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/242011501ebec93.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آئی ایم ایف جائزہ: قرض پروگراموں کی تشکیل میں ’کم مگر بنیادی‘ اصلاحات کا مطالبہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291655/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آئی ایم ایف نے قرض پروگراموں کی تشکیل اور عمل درآمد میں مخصوص نوعیت کی بہتریوں پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ زیادہ بحران زدہ عالمی معیشت کے چیلنجز کو مدنظر رکھتے ہوئے کم مگر زیادہ بنیادی اصلاحات پر توجہ مرکوز کی جائے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سول سوسائٹی کے گروہوں کو خدشہ ہے کہ اس جائزے کے نتیجے میں ترقی پذیر ممالک کو مزید سخت کفایت شعاری اقدامات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، ایسے وقت میں جب وہ بڑھتے ہوئے عوامی قرضوں، قرض لینے کی بڑھتی لاگت، سرکاری ترقیاتی امداد میں نمایاں کمی اور مسلسل بڑے معاشی جھٹکوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف نے کہا کہ سفارشات میں مالیاتی ایڈجسٹمنٹ، یعنی بجٹ اخراجات میں کٹوتیوں، کو زیادہ ابتدائی مرحلے پر اور مسلسل بنیادوں پر کرنے کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے، کیونکہ اس سے پروگرام کی کامیابی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم فنڈ نے زور دیا کہ مالیاتی ایڈجسٹمنٹ کو ابتدائی مرحلے میں لانے کا عمل صرف اسی حد تک ہونا چاہیے جہاں تک یہ قابلِ عمل ہو، جبکہ اس کے ساتھ اقتصادی نمو بڑھانے کے لیے حقیقت پسندانہ اقدامات اور کمزور طبقات کے تحفظ کے لیے سماجی اخراجات کی مناسب سطح بھی برقرار رکھی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف کے شعبہ حکمتِ عملی، پالیسی اور جائزہ کے نائب ڈائریکٹر رشی گوئل نے کہا، ’’مجموعی طور پر موجودہ فریم ورک مناسب ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ’’لیکن چونکہ حالات تبدیل ہو رہے ہیں اور متعدد رکن ممالک میں سماجی دباؤ موجود ہے، اس لیے ہمیں یہ یقینی بنانا ہوگا کہ ہماری اصلاحات حالات کے مطابق مناسب طور پر وضع کی جائیں۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے بقول، ’’اس کا مطلب ہے کہ کم مگر زیادہ بنیادی اصلاحات پر واضح توجہ مرکوز کی جائے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="نئے-طریقۂ-کار-کی-ضرورت" href="#نئے-طریقۂ-کار-کی-ضرورت" class="heading-permalink" aria-hidden="true" tabindex="-1" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;نئے طریقۂ کار کی ضرورت&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف کی جانب سے پروگراموں کی تشکیل اور شرائطِ کار کے جائزے میں، جو 2002ء میں رہنما اصول وضع کیے جانے کے بعد تیسرا جائزہ ہے، جنوری 2018ء سے دسمبر 2024ء تک آئی ایم ایف کی معاونت سے چلنے والے پروگراموں کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔ اس عرصے میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پہلی مدتِ صدارت کے دوران امریکا اور چین کے درمیان تجارتی جنگ، کووِڈ-19 کی عالمی وبا اور روس کی جانب سے یوکرین پر مکمل حملہ جیسے واقعات پیش آئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ نے ان سفارشات کی منظوری دے دی، جن میں زیادہ متوازن اصلاحات پر زور دیا گیا ہے۔ ان اصلاحات میں محصولات میں اضافے اور مالیاتی استحکام، دونوں ذرائع کو بروئے کار لانے، خطرات کا بہتر جائزہ لینے اور منصوبوں کی مالی اعانت کے حوالے سے زیادہ حقیقت پسندانہ انداز اپنانے کی سفارش کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف نے کہا کہ اس کا مقصد عمل درآمد اور نتائج کو بہتر بنانا ہے، معیار میں کمی لانا نہیں۔ یہ جائزہ کم آمدنی والے ممالک کے لیے آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے مشترکہ قرض فریم ورک میں کی جانے والی تبدیلیوں کے بعد سامنے آیا ہے، جبکہ آئی ایم ایف کی جانب سے ممالک کی معیشتوں کا جائزہ لینے کے طریقۂ کار کا ایک اور جائزہ بھی جلد متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گوئل نے کہا کہ جائزے سے ظاہر ہوا ہے کہ عالمی قرض دہندہ ادارے نے سات سالہ عرصے کے دوران بحرانوں کا تیزی سے اور لچکدار انداز میں جواب دیا اور متعدد ممالک کو استحکام بحال کرنے میں مدد دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ان کے بقول تمام ممالک درمیانی مدت کا استحکام بحال کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پروگراموں کی تشکیل کے طریقۂ کار میں تبدیلیاں ضروری ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گوئل نے کہا کہ پالیسی میں معمولی تبدیلیوں کے علاوہ آئی ایم ایف درمیانی مدت کی ساختی اصلاحات کے لیے ایک نیا طریقۂ کار متعارف کرا رہا ہے، جس کے تحت اہم اصلاحات کی نشاندہی کرنے کے بعد ان کی ترجیحات اور ترتیب طے کی جائے گی اور انہیں متعلقہ ملک کے حالات کے مطابق ڈھالا جائے گا، تاکہ ممالک اپنے دستیاب وسائل سے زیادہ سے زیادہ نتائج حاصل کرسکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ دیگر نئے طریقۂ کار سے آئی ایم ایف کی ٹیموں اور عملے کی یہ صلاحیت بہتر ہوگی کہ کسی نئے جھٹکے کی صورت میں پروگرام کی سمت میں بروقت تبدیلی کی جاسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف بعض اوقات اپنی ہی پالیسیوں پر عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکام رہا ہے، جس کے باعث مصر، پاکستان اور ارجنٹینا جیسے بعض ممالک ایک قرض پروگرام سے دوسرے پروگرام کی طرف منتقل ہوتے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جوبلی یو ایس اے نیٹ ورک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایرک لی کومپٹ نے کہا کہ اگرچہ آئی ایم ایف کی پالیسیاں بعض ممالک کے لیے مددگار ثابت ہوئی ہیں، لیکن دیگر ممالک میں ان کے نتیجے میں صحتِ عامہ جیسی بنیادی سہولتوں کو نقصان بھی پہنچا اور غریب ترین لوگوں کے لیے درکار اخراجات میں بھی کمی ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ’’سب سے بڑے چیلنجز میں سے ایک یہ ہے کہ ممالک دوبارہ قرضوں کے بوجھ تلے آجاتے ہیں، کیونکہ سابقہ مالیاتی پالیسیاں، سابقہ شرائطِ کار سے متعلق جائزے اور قرضوں کے جائزے ممالک کو بحران سے باہر رکھنے کے لیے کافی ثابت نہیں ہوئے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف کے سابق سربراہِ حکمتِ عملی مارٹن میولیزن نے کہا کہ انہوں نے یہ جائزہ نہیں دیکھا، تاہم اصل سوال یہ ہے کہ آیا آئی ایم ایف نے پروگرام کی شرائط پوری کرنے پر خاطر خواہ اصرار کیا اور شرائط پوری نہ ہونے کی صورت میں قرض کی رقوم کی فراہمی روکنے کا اقدام کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ’’انہیں دراصل خود سے یہ سوال کرنا چاہیے کہ بنیادی طور پر کیا تبدیل ہوا ہے اور معاملات کہاں واقعی غلط سمت میں گئے؟‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے بقول، ’’اور یہ بھی کہ دنیا میں جو کچھ ہورہا ہے، اس کے باوجود مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کا موقع پیدا کرنے کے لیے بنیادی طور پر کیا تبدیلیاں کی جائیں گی۔‘‘&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>آئی ایم ایف نے قرض پروگراموں کی تشکیل اور عمل درآمد میں مخصوص نوعیت کی بہتریوں پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ زیادہ بحران زدہ عالمی معیشت کے چیلنجز کو مدنظر رکھتے ہوئے کم مگر زیادہ بنیادی اصلاحات پر توجہ مرکوز کی جائے۔</strong></p>
<p>سول سوسائٹی کے گروہوں کو خدشہ ہے کہ اس جائزے کے نتیجے میں ترقی پذیر ممالک کو مزید سخت کفایت شعاری اقدامات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، ایسے وقت میں جب وہ بڑھتے ہوئے عوامی قرضوں، قرض لینے کی بڑھتی لاگت، سرکاری ترقیاتی امداد میں نمایاں کمی اور مسلسل بڑے معاشی جھٹکوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔</p>
<p>آئی ایم ایف نے کہا کہ سفارشات میں مالیاتی ایڈجسٹمنٹ، یعنی بجٹ اخراجات میں کٹوتیوں، کو زیادہ ابتدائی مرحلے پر اور مسلسل بنیادوں پر کرنے کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے، کیونکہ اس سے پروگرام کی کامیابی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔</p>
<p>تاہم فنڈ نے زور دیا کہ مالیاتی ایڈجسٹمنٹ کو ابتدائی مرحلے میں لانے کا عمل صرف اسی حد تک ہونا چاہیے جہاں تک یہ قابلِ عمل ہو، جبکہ اس کے ساتھ اقتصادی نمو بڑھانے کے لیے حقیقت پسندانہ اقدامات اور کمزور طبقات کے تحفظ کے لیے سماجی اخراجات کی مناسب سطح بھی برقرار رکھی جائے۔</p>
<p>آئی ایم ایف کے شعبہ حکمتِ عملی، پالیسی اور جائزہ کے نائب ڈائریکٹر رشی گوئل نے کہا، ’’مجموعی طور پر موجودہ فریم ورک مناسب ہے۔‘‘</p>
<p>انہوں نے کہا، ’’لیکن چونکہ حالات تبدیل ہو رہے ہیں اور متعدد رکن ممالک میں سماجی دباؤ موجود ہے، اس لیے ہمیں یہ یقینی بنانا ہوگا کہ ہماری اصلاحات حالات کے مطابق مناسب طور پر وضع کی جائیں۔‘‘</p>
<p>ان کے بقول، ’’اس کا مطلب ہے کہ کم مگر زیادہ بنیادی اصلاحات پر واضح توجہ مرکوز کی جائے۔‘‘</p>
<h3><a id="نئے-طریقۂ-کار-کی-ضرورت" href="#نئے-طریقۂ-کار-کی-ضرورت" class="heading-permalink" aria-hidden="true" tabindex="-1" title="Permalink"></a>نئے طریقۂ کار کی ضرورت</h3>
<p>آئی ایم ایف کی جانب سے پروگراموں کی تشکیل اور شرائطِ کار کے جائزے میں، جو 2002ء میں رہنما اصول وضع کیے جانے کے بعد تیسرا جائزہ ہے، جنوری 2018ء سے دسمبر 2024ء تک آئی ایم ایف کی معاونت سے چلنے والے پروگراموں کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔ اس عرصے میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پہلی مدتِ صدارت کے دوران امریکا اور چین کے درمیان تجارتی جنگ، کووِڈ-19 کی عالمی وبا اور روس کی جانب سے یوکرین پر مکمل حملہ جیسے واقعات پیش آئے۔</p>
<p>آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ نے ان سفارشات کی منظوری دے دی، جن میں زیادہ متوازن اصلاحات پر زور دیا گیا ہے۔ ان اصلاحات میں محصولات میں اضافے اور مالیاتی استحکام، دونوں ذرائع کو بروئے کار لانے، خطرات کا بہتر جائزہ لینے اور منصوبوں کی مالی اعانت کے حوالے سے زیادہ حقیقت پسندانہ انداز اپنانے کی سفارش کی گئی ہے۔</p>
<p>آئی ایم ایف نے کہا کہ اس کا مقصد عمل درآمد اور نتائج کو بہتر بنانا ہے، معیار میں کمی لانا نہیں۔ یہ جائزہ کم آمدنی والے ممالک کے لیے آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے مشترکہ قرض فریم ورک میں کی جانے والی تبدیلیوں کے بعد سامنے آیا ہے، جبکہ آئی ایم ایف کی جانب سے ممالک کی معیشتوں کا جائزہ لینے کے طریقۂ کار کا ایک اور جائزہ بھی جلد متوقع ہے۔</p>
<p>گوئل نے کہا کہ جائزے سے ظاہر ہوا ہے کہ عالمی قرض دہندہ ادارے نے سات سالہ عرصے کے دوران بحرانوں کا تیزی سے اور لچکدار انداز میں جواب دیا اور متعدد ممالک کو استحکام بحال کرنے میں مدد دی۔</p>
<p>تاہم ان کے بقول تمام ممالک درمیانی مدت کا استحکام بحال کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پروگراموں کی تشکیل کے طریقۂ کار میں تبدیلیاں ضروری ہیں۔</p>
<p>گوئل نے کہا کہ پالیسی میں معمولی تبدیلیوں کے علاوہ آئی ایم ایف درمیانی مدت کی ساختی اصلاحات کے لیے ایک نیا طریقۂ کار متعارف کرا رہا ہے، جس کے تحت اہم اصلاحات کی نشاندہی کرنے کے بعد ان کی ترجیحات اور ترتیب طے کی جائے گی اور انہیں متعلقہ ملک کے حالات کے مطابق ڈھالا جائے گا، تاکہ ممالک اپنے دستیاب وسائل سے زیادہ سے زیادہ نتائج حاصل کرسکیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ دیگر نئے طریقۂ کار سے آئی ایم ایف کی ٹیموں اور عملے کی یہ صلاحیت بہتر ہوگی کہ کسی نئے جھٹکے کی صورت میں پروگرام کی سمت میں بروقت تبدیلی کی جاسکے۔</p>
<p>تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف بعض اوقات اپنی ہی پالیسیوں پر عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکام رہا ہے، جس کے باعث مصر، پاکستان اور ارجنٹینا جیسے بعض ممالک ایک قرض پروگرام سے دوسرے پروگرام کی طرف منتقل ہوتے رہے ہیں۔</p>
<p>جوبلی یو ایس اے نیٹ ورک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایرک لی کومپٹ نے کہا کہ اگرچہ آئی ایم ایف کی پالیسیاں بعض ممالک کے لیے مددگار ثابت ہوئی ہیں، لیکن دیگر ممالک میں ان کے نتیجے میں صحتِ عامہ جیسی بنیادی سہولتوں کو نقصان بھی پہنچا اور غریب ترین لوگوں کے لیے درکار اخراجات میں بھی کمی ہوئی۔</p>
<p>انہوں نے کہا، ’’سب سے بڑے چیلنجز میں سے ایک یہ ہے کہ ممالک دوبارہ قرضوں کے بوجھ تلے آجاتے ہیں، کیونکہ سابقہ مالیاتی پالیسیاں، سابقہ شرائطِ کار سے متعلق جائزے اور قرضوں کے جائزے ممالک کو بحران سے باہر رکھنے کے لیے کافی ثابت نہیں ہوئے۔‘‘</p>
<p>آئی ایم ایف کے سابق سربراہِ حکمتِ عملی مارٹن میولیزن نے کہا کہ انہوں نے یہ جائزہ نہیں دیکھا، تاہم اصل سوال یہ ہے کہ آیا آئی ایم ایف نے پروگرام کی شرائط پوری کرنے پر خاطر خواہ اصرار کیا اور شرائط پوری نہ ہونے کی صورت میں قرض کی رقوم کی فراہمی روکنے کا اقدام کیا۔</p>
<p>انہوں نے کہا، ’’انہیں دراصل خود سے یہ سوال کرنا چاہیے کہ بنیادی طور پر کیا تبدیل ہوا ہے اور معاملات کہاں واقعی غلط سمت میں گئے؟‘‘</p>
<p>ان کے بقول، ’’اور یہ بھی کہ دنیا میں جو کچھ ہورہا ہے، اس کے باوجود مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کا موقع پیدا کرنے کے لیے بنیادی طور پر کیا تبدیلیاں کی جائیں گی۔‘‘</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291655</guid>
      <pubDate>Thu, 24 Sep 2026 19:31:39 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/2419193234eec4f.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/2419193234eec4f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پی ٹی آئی کے احتجاج سے قبل اسلام آباد میں ہزاروں سیکیورٹی اہلکار تعینات</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291654/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسلام آباد میں حکام نے مرکزی داخلی راستوں کو دہری تہہ میں رکھے گئے شپنگ کنٹینرز سے بند کردیا، یہ اقدام جیل میں قید سابق وزیراعظم عمران خان کے حامیوں کی جانب سے ہفتے کے آخر میں متوقع احتجاج سے قبل کیا گیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام نے اے ایف پی کو بتایا کہ اسلام آباد کو بند رکھنے کے لیے 22 ہزار سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں جبکہ پڑوسی صوبے خیبرپختونخوا سے شہر میں داخلے اور باہر جانے کے راستے بھی بند کردیئے گئے ہیں، جہاں عمران خان کی جماعت کی حکومت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح اہم شاہراہوں، داخلی راستوں اور بڑے چوراہوں پر رکاوٹیں کھڑی کردی گئیں، جس سے ٹرانسپورٹ کا رابطہ تقریباً مکمل طور پر منقطع اور آمدورفت عملاً معطل ہوگئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سڑکوں پر گاڑیاں ٹریفک جام میں پھنسی نظر آئیں، جبکہ موٹر سائیکل سوار کنٹینرز کے درمیان موجود خالی جگہوں سے گزرنے کی کوشش کرتے رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اتوار کو ہونے والے متوقع احتجاج سے قبل حکومت کی جانب سے کارروائی میں رواں ہفتے اس وقت مزید شدت آئی جب عمران خان کی بہنوں علیمہ خان، عظمیٰ خان اور نورین نیاز ی کو پنجاب کے مینٹیننس آف پبلک آرڈر (ایم پی او) آرڈیننس کے تحت حراست میں لیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے ایف پی کے صحافیوں کے ہاتھ لگنے والے حکم نامے کے مطابق حکام کی جانب سے جاری 30 روزہ حفاظتی حراست کے احکامات میں ان پر ’’سوشل میڈیا کے ذریعے حامیوں کو متحرک کرنے اور ریاستی اداروں کے خلاف اشتعال انگیزی‘‘ کا الزام عائد کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے وابستہ درجنوں ارکان پارلیمنٹ، علاقائی رہنماؤں اور اپوزیشن کارکنوں کو بھی پنجاب کے متعدد اضلاع اور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں حراست میں لیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی آئی کے سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ تقریباً 1,500 پارٹی کارکنوں کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں نے پاکستان میں جاری سیاسی تعطل کے دوران بڑھتی ہوئی پریس سنسرشپ، بڑے پیمانے پر گرفتاریوں اور بنیادی آزادیوں پر عائد پابندیوں پر بارہا تشویش کا اظہار کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایمنسٹی انٹرنیشنل کے بابو رام پنت نے کہا کہ عمران خان کے خاندان اور پی ٹی آئی کارکنوں کو نشانہ بنانا آزادی، آزادی اظہار، انجمن سازی اور پرامن اجتماع کے حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات پاکستان میں موجودہ پابندیوں کی شدت کو ظاہر کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;73 سالہ سابق کرکٹ اسٹار اگست 2023 سے جیل میں ہیں اور انہیں کرپشن سے غداری اور تشدد پر اکسانے تک متعدد الزامات کا سامنا ہے۔ یہ الزامات مئی 2023 میں ہونے والے بڑے پیمانے کے حکومت مخالف فسادات کے بعد عائد کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عمران خان اور ان کی قانونی ٹیم الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں سیاسی بنیادوں پر قائم مقدمات قرار دیتی ہے جن کا مقصد ان کی مقبولیت کو محدود کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رواں سال عمران خان نے طبی علاج بھی کرایا، جبکہ ان کے خاندان اور وکیل کا کہنا ہے کہ ان کی دائیں آنکھ کی زیادہ تر بینائی متاثر ہوچکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقتدار میں عروج کے دوران ملک کے طاقتور فوجی حلقوں کی حمایت حاصل کرنے والے عمران خان اہم تقرریوں اور خارجہ پالیسی کے معاملات پر اختلافات کے بعد ان سے دور ہوگئے اور اپریل 2022 میں پارلیمان میں عدم اعتماد کی تحریک کے ذریعے وزارت عظمیٰ سے ہٹا دیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عمران خان نے فوجی قیادت پر عوامی طور پر انہیں اقتدار سے ہٹانے اور مسلسل سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے کے الزامات عائد کیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دارالحکومت کی جانب مارچ عمران خان کی رہائی کے مطالبے کے لیے پی ٹی آئی کی کئی ماہ بعد پہلی بڑی عوامی احتجاجی سرگرمی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے اسلام آباد کو لاک ڈاؤن کیے جانے کی تردید کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عطا تارڑ نے خیبرپختونخوا میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اسلام آباد آنے کی ضرورت نہیں، کسی کو شہر بند کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا جماعت اسلامی اور کسان یونین کے رہنماؤں کی جانب سے بڑھتی ہوئی مہنگائی اور پٹرولیم لیویز کے خلاف پہلے سے اعلان کردہ احتجاج کو وزیراعظم شہباز شریف کی حکومت کے ساتھ رابطے کے بعد معطل کردیا گیا، جس کے نتیجے میں عمران خان کی جماعت اب اکیلے مارچ کرے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسلام آباد میں حکام نے مرکزی داخلی راستوں کو دہری تہہ میں رکھے گئے شپنگ کنٹینرز سے بند کردیا، یہ اقدام جیل میں قید سابق وزیراعظم عمران خان کے حامیوں کی جانب سے ہفتے کے آخر میں متوقع احتجاج سے قبل کیا گیا۔</strong></p>
<p>حکام نے اے ایف پی کو بتایا کہ اسلام آباد کو بند رکھنے کے لیے 22 ہزار سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں جبکہ پڑوسی صوبے خیبرپختونخوا سے شہر میں داخلے اور باہر جانے کے راستے بھی بند کردیئے گئے ہیں، جہاں عمران خان کی جماعت کی حکومت ہے۔</p>
<p>اسی طرح اہم شاہراہوں، داخلی راستوں اور بڑے چوراہوں پر رکاوٹیں کھڑی کردی گئیں، جس سے ٹرانسپورٹ کا رابطہ تقریباً مکمل طور پر منقطع اور آمدورفت عملاً معطل ہوگئی۔</p>
<p>سڑکوں پر گاڑیاں ٹریفک جام میں پھنسی نظر آئیں، جبکہ موٹر سائیکل سوار کنٹینرز کے درمیان موجود خالی جگہوں سے گزرنے کی کوشش کرتے رہے۔</p>
<p>اتوار کو ہونے والے متوقع احتجاج سے قبل حکومت کی جانب سے کارروائی میں رواں ہفتے اس وقت مزید شدت آئی جب عمران خان کی بہنوں علیمہ خان، عظمیٰ خان اور نورین نیاز ی کو پنجاب کے مینٹیننس آف پبلک آرڈر (ایم پی او) آرڈیننس کے تحت حراست میں لیا گیا۔</p>
<p>اے ایف پی کے صحافیوں کے ہاتھ لگنے والے حکم نامے کے مطابق حکام کی جانب سے جاری 30 روزہ حفاظتی حراست کے احکامات میں ان پر ’’سوشل میڈیا کے ذریعے حامیوں کو متحرک کرنے اور ریاستی اداروں کے خلاف اشتعال انگیزی‘‘ کا الزام عائد کیا گیا۔</p>
<p>عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے وابستہ درجنوں ارکان پارلیمنٹ، علاقائی رہنماؤں اور اپوزیشن کارکنوں کو بھی پنجاب کے متعدد اضلاع اور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں حراست میں لیا گیا۔</p>
<p>پی ٹی آئی کے سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ تقریباً 1,500 پارٹی کارکنوں کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔</p>
<p>بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں نے پاکستان میں جاری سیاسی تعطل کے دوران بڑھتی ہوئی پریس سنسرشپ، بڑے پیمانے پر گرفتاریوں اور بنیادی آزادیوں پر عائد پابندیوں پر بارہا تشویش کا اظہار کیا ہے۔</p>
<p>ایمنسٹی انٹرنیشنل کے بابو رام پنت نے کہا کہ عمران خان کے خاندان اور پی ٹی آئی کارکنوں کو نشانہ بنانا آزادی، آزادی اظہار، انجمن سازی اور پرامن اجتماع کے حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات پاکستان میں موجودہ پابندیوں کی شدت کو ظاہر کرتے ہیں۔</p>
<p>73 سالہ سابق کرکٹ اسٹار اگست 2023 سے جیل میں ہیں اور انہیں کرپشن سے غداری اور تشدد پر اکسانے تک متعدد الزامات کا سامنا ہے۔ یہ الزامات مئی 2023 میں ہونے والے بڑے پیمانے کے حکومت مخالف فسادات کے بعد عائد کیے گئے۔</p>
<p>عمران خان اور ان کی قانونی ٹیم الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں سیاسی بنیادوں پر قائم مقدمات قرار دیتی ہے جن کا مقصد ان کی مقبولیت کو محدود کرنا ہے۔</p>
<p>رواں سال عمران خان نے طبی علاج بھی کرایا، جبکہ ان کے خاندان اور وکیل کا کہنا ہے کہ ان کی دائیں آنکھ کی زیادہ تر بینائی متاثر ہوچکی ہے۔</p>
<p>اقتدار میں عروج کے دوران ملک کے طاقتور فوجی حلقوں کی حمایت حاصل کرنے والے عمران خان اہم تقرریوں اور خارجہ پالیسی کے معاملات پر اختلافات کے بعد ان سے دور ہوگئے اور اپریل 2022 میں پارلیمان میں عدم اعتماد کی تحریک کے ذریعے وزارت عظمیٰ سے ہٹا دیے گئے۔</p>
<p>عمران خان نے فوجی قیادت پر عوامی طور پر انہیں اقتدار سے ہٹانے اور مسلسل سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے کے الزامات عائد کیے ہیں۔</p>
<p>دارالحکومت کی جانب مارچ عمران خان کی رہائی کے مطالبے کے لیے پی ٹی آئی کی کئی ماہ بعد پہلی بڑی عوامی احتجاجی سرگرمی ہے۔</p>
<p>وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے اسلام آباد کو لاک ڈاؤن کیے جانے کی تردید کی۔</p>
<p>عطا تارڑ نے خیبرپختونخوا میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اسلام آباد آنے کی ضرورت نہیں، کسی کو شہر بند کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔</p>
<p>دریں اثنا جماعت اسلامی اور کسان یونین کے رہنماؤں کی جانب سے بڑھتی ہوئی مہنگائی اور پٹرولیم لیویز کے خلاف پہلے سے اعلان کردہ احتجاج کو وزیراعظم شہباز شریف کی حکومت کے ساتھ رابطے کے بعد معطل کردیا گیا، جس کے نتیجے میں عمران خان کی جماعت اب اکیلے مارچ کرے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291654</guid>
      <pubDate>Thu, 24 Sep 2026 18:44:54 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/241829349ad8dd5.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/241829349ad8dd5.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کاروباری رہنماؤں کا کراچی کی معیشت کی بحالی کے لیے اصلاحات کا مطالبہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291653/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کاروباری اور سیاسی و سماجی رہنماؤں نے کراچی کی معیشت کی بحالی کے لیے بلدیاتی نظام مضبوط بنانے، سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر کرنے، توانائی کے اخراجات کم کرنے، ٹیکسوں کا بوجھ گھٹانے، شہری مسائل حل کرنے، اسٹریٹ کرائم کے خلاف کارروائی اور معیشت کے فروغ کے لیے ضروری اصلاحات متعارف کرانے پر زور دیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معروف برآمد کنندہ اور سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری (ایس اے آئی) کے صدر عبدالرحمٰن فدا نے کہا کہ کسی ایک شعبے میں الگ تھلگ اقدامات سے مسائل حل نہیں ہوسکتے۔ کاروباری اور صنعتی ترقی کے لیے قومی سطح پر کاروبار اور صنعت دوست پالیسیاں ضروری ہیں، جن میں مناسب توانائی کی قیمتیں، کم کارپوریٹ ٹیکس اور مجموعی طور پر سازگار کاروباری ماحول شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ بالخصوص کراچی کے لیے صوبائی و بلدیاتی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مکمل معاونت درکار ہے، تاکہ بہتر انفرااسٹرکچر، مؤثر امن و امان، پانی کی مناسب فراہمی اور صنعتی علاقوں کو مختلف سرکاری محکموں کی ہراسانی سے پاک رکھنے کو یقینی بنایا جاسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عبدالرحمٰن فدا نے کہا کہ سب سے اہم ضرورت صنعتی علاقوں کی ایسوسی ایشنز کو اپنے متعلقہ علاقوں کی ملکیت اور انتظامی اختیار دینا ہے، جیسا کہ کورنگی، ایف بی ایریا اور نارتھ کراچی میں ڈویلپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنیوں (ڈی ایم سیز) کے ذریعے کیا گیا ہے۔ یہ کمپنیاں اپنے علاقوں کی دیکھ بھال اور ترقی کی ذمہ دار اور مجاز ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کے سائٹ ایریا کے لیے بھی ایسا ہی نظام درکار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ بنیادی مسئلہ ناقص طرز حکمرانی ہے اور یہ تمام مسائل صوبائی و بلدیاتی حکومتوں کے دائرہ کار میں آتے ہیں، جہاں مکمل ناکامی نظر آتی ہے۔ ان کے مطابق نااہلی کے علاوہ اکثر اداروں میں ارادے کی بھی کمی نظر آتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قانون کی حکمرانی بحال کرنے کے لیے سیاسی قیادت، انتظامیہ اور سیکیورٹی اداروں کے درمیان ہم آہنگی ضروری ہے۔ ان کے بقول ای ٹریفک چالان کا کامیاب نفاذ متعلقہ حکام کی عزم اور فیصلہ سازی کی اچھی مثال ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معروف صنعت کار ڈاکٹر محمد فاروق افضل نے کہا کہ کراچی پاکستان کی معاشی سرگرمیوں کا انجن ہے مگر مسابقت برقرار رکھنے کے لیے شہر کے کاروباری اور صنعتی علاقوں کو قابلِ اعتماد انفرااسٹرکچر اور سازگار ماحول کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترقیاتی فنڈز صنعتی ایسوسی ایشنز کی مشاورت سے سڑکوں، نکاسی آب، پانی، سیوریج اور دیگر بنیادی سہولتوں پر خرچ کیے جانے چاہئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے زور دیا کہ صنعت کو بلاتعطل اور مسابقتی نرخوں پر بجلی اور گیس بھی فراہم کی جائے۔ کراچی میں کاروباری ضوابط آسان، بندرگاہوں سے رابطہ مؤثر، پبلک ٹرانسپورٹ بہتر اور برآمدات و سرمایہ کاری کے لیے معاونت مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ حکومت، بلدیاتی اداروں اور کاروباری قیادت پر مشتمل مستقل رابطہ نظام قائم کرکے اقدامات پر عمل درآمد اور جواب دہی یقینی بنائی جانی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ کراچی کے مسائل الگ تھلگ یا عارضی اقدامات سے حل نہیں ہوسکتے، شہر کو مضبوط طرز حکمرانی اور مربوط اقدامات کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق پولیس کو مقامی، جدید، سیاسی مداخلت سے آزاد اور جواب دہ ہونا چاہیے، جبکہ اسٹریٹ کرائم، ڈکیتیوں اور بھتہ خوری کی روک تھام کے لیے انٹیلی جنس کی بنیاد پر پولیسنگ اور نگرانی کا نظام مؤثر بنایا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ زمین کے ریکارڈ کو ڈیجیٹل بنایا جائے اور غیرقانونی قبضوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ ٹریفک قوانین بلاامتیاز نافذ کیے جائیں، جبکہ ماس ٹرانزٹ اور سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے میں فوری بہتری لائی جائے۔ بجلی، گیس اور پانی بنیادی ضروریات ہیں۔ سب سے بڑھ کر کراچی کو بااختیار شہری انتظامیہ کی ضرورت ہے، جس کے پاس واضح اختیارات، مناسب وسائل اور خدمات کی فراہمی کے حوالے سے جواب دہی ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان مسلم لیگ فنکشنل (پی ایم ایل ایف) سندھ کے جنرل سیکریٹری سردار عبدالرحیم نے کہا کہ بڑے پیمانے پر بدعنوانی کے خاتمے، بلدیاتی نظام کو مضبوط بنانے اور معیاری تعلیم کی فراہمی کے ذریعے کراچی تیزی سے ترقی کرسکتا ہے، جس سے ملک کی مجموعی معیشت کے ساتھ کراچی کی معیشت بھی مضبوط ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے سندھ میں 18 سال سے برسراقتدار جماعت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے بہتر طرز حکمرانی کا مطالبہ کیا اور کہا کہ تمام جرائم پیشہ عناصر کا خاتمہ کرکے مؤثر امن و امان بحال کیا جائے۔ ان کے مطابق سخت اور دیانتدار انتظامیہ کراچی کو ڈاکوؤں، قبضہ مافیا اور مختلف سرپرستی حاصل کرنے والے مافیاز سے نجات دلانے میں کردار ادا کرسکتی ہے، جبکہ انہوں نے کراچی کے مسائل کا ذمہ دار سندھ کے وزیراعلیٰ کو قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زراعت سے وابستہ اور مسلم لیگ (ن) کے سینئر نائب صدر شاہ محمد شاہ نے کہا کہ ملک بھر سے لوگ کراچی کا رخ کرتے ہیں۔ انہوں نے وفاقی سے صوبائی حکومت اور صوبائی حکومت سے بلدیاتی نظام تک مقامی حکومت کے بہتر نظام کی ضرورت پر زور دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے عوام پر زور دیا کہ وہ باقاعدگی سے ٹیکس ادا کریں، محنت کش طبقے کو سہولتیں فراہم کی جائیں، ملک کے کاروباری مرکز میں آبادی کے بڑھتے ہوئے دباؤ کو کنٹرول کیا جائے، سندھ میں زیرِ تکمیل موٹرویز مکمل کی جائیں، روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں اور شہریوں کے لیے ہموار سفری سہولت یقینی بنائی جائے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کاروباری اور سیاسی و سماجی رہنماؤں نے کراچی کی معیشت کی بحالی کے لیے بلدیاتی نظام مضبوط بنانے، سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر کرنے، توانائی کے اخراجات کم کرنے، ٹیکسوں کا بوجھ گھٹانے، شہری مسائل حل کرنے، اسٹریٹ کرائم کے خلاف کارروائی اور معیشت کے فروغ کے لیے ضروری اصلاحات متعارف کرانے پر زور دیا ہے۔</strong></p>
<p>معروف برآمد کنندہ اور سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری (ایس اے آئی) کے صدر عبدالرحمٰن فدا نے کہا کہ کسی ایک شعبے میں الگ تھلگ اقدامات سے مسائل حل نہیں ہوسکتے۔ کاروباری اور صنعتی ترقی کے لیے قومی سطح پر کاروبار اور صنعت دوست پالیسیاں ضروری ہیں، جن میں مناسب توانائی کی قیمتیں، کم کارپوریٹ ٹیکس اور مجموعی طور پر سازگار کاروباری ماحول شامل ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ بالخصوص کراچی کے لیے صوبائی و بلدیاتی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مکمل معاونت درکار ہے، تاکہ بہتر انفرااسٹرکچر، مؤثر امن و امان، پانی کی مناسب فراہمی اور صنعتی علاقوں کو مختلف سرکاری محکموں کی ہراسانی سے پاک رکھنے کو یقینی بنایا جاسکے۔</p>
<p>عبدالرحمٰن فدا نے کہا کہ سب سے اہم ضرورت صنعتی علاقوں کی ایسوسی ایشنز کو اپنے متعلقہ علاقوں کی ملکیت اور انتظامی اختیار دینا ہے، جیسا کہ کورنگی، ایف بی ایریا اور نارتھ کراچی میں ڈویلپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنیوں (ڈی ایم سیز) کے ذریعے کیا گیا ہے۔ یہ کمپنیاں اپنے علاقوں کی دیکھ بھال اور ترقی کی ذمہ دار اور مجاز ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کے سائٹ ایریا کے لیے بھی ایسا ہی نظام درکار ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ بنیادی مسئلہ ناقص طرز حکمرانی ہے اور یہ تمام مسائل صوبائی و بلدیاتی حکومتوں کے دائرہ کار میں آتے ہیں، جہاں مکمل ناکامی نظر آتی ہے۔ ان کے مطابق نااہلی کے علاوہ اکثر اداروں میں ارادے کی بھی کمی نظر آتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قانون کی حکمرانی بحال کرنے کے لیے سیاسی قیادت، انتظامیہ اور سیکیورٹی اداروں کے درمیان ہم آہنگی ضروری ہے۔ ان کے بقول ای ٹریفک چالان کا کامیاب نفاذ متعلقہ حکام کی عزم اور فیصلہ سازی کی اچھی مثال ہے۔</p>
<p>معروف صنعت کار ڈاکٹر محمد فاروق افضل نے کہا کہ کراچی پاکستان کی معاشی سرگرمیوں کا انجن ہے مگر مسابقت برقرار رکھنے کے لیے شہر کے کاروباری اور صنعتی علاقوں کو قابلِ اعتماد انفرااسٹرکچر اور سازگار ماحول کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترقیاتی فنڈز صنعتی ایسوسی ایشنز کی مشاورت سے سڑکوں، نکاسی آب، پانی، سیوریج اور دیگر بنیادی سہولتوں پر خرچ کیے جانے چاہئیں۔</p>
<p>انہوں نے زور دیا کہ صنعت کو بلاتعطل اور مسابقتی نرخوں پر بجلی اور گیس بھی فراہم کی جائے۔ کراچی میں کاروباری ضوابط آسان، بندرگاہوں سے رابطہ مؤثر، پبلک ٹرانسپورٹ بہتر اور برآمدات و سرمایہ کاری کے لیے معاونت مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ حکومت، بلدیاتی اداروں اور کاروباری قیادت پر مشتمل مستقل رابطہ نظام قائم کرکے اقدامات پر عمل درآمد اور جواب دہی یقینی بنائی جانی چاہیے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ کراچی کے مسائل الگ تھلگ یا عارضی اقدامات سے حل نہیں ہوسکتے، شہر کو مضبوط طرز حکمرانی اور مربوط اقدامات کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق پولیس کو مقامی، جدید، سیاسی مداخلت سے آزاد اور جواب دہ ہونا چاہیے، جبکہ اسٹریٹ کرائم، ڈکیتیوں اور بھتہ خوری کی روک تھام کے لیے انٹیلی جنس کی بنیاد پر پولیسنگ اور نگرانی کا نظام مؤثر بنایا جائے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ زمین کے ریکارڈ کو ڈیجیٹل بنایا جائے اور غیرقانونی قبضوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ ٹریفک قوانین بلاامتیاز نافذ کیے جائیں، جبکہ ماس ٹرانزٹ اور سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے میں فوری بہتری لائی جائے۔ بجلی، گیس اور پانی بنیادی ضروریات ہیں۔ سب سے بڑھ کر کراچی کو بااختیار شہری انتظامیہ کی ضرورت ہے، جس کے پاس واضح اختیارات، مناسب وسائل اور خدمات کی فراہمی کے حوالے سے جواب دہی ہو۔</p>
<p>پاکستان مسلم لیگ فنکشنل (پی ایم ایل ایف) سندھ کے جنرل سیکریٹری سردار عبدالرحیم نے کہا کہ بڑے پیمانے پر بدعنوانی کے خاتمے، بلدیاتی نظام کو مضبوط بنانے اور معیاری تعلیم کی فراہمی کے ذریعے کراچی تیزی سے ترقی کرسکتا ہے، جس سے ملک کی مجموعی معیشت کے ساتھ کراچی کی معیشت بھی مضبوط ہوگی۔</p>
<p>انہوں نے سندھ میں 18 سال سے برسراقتدار جماعت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے بہتر طرز حکمرانی کا مطالبہ کیا اور کہا کہ تمام جرائم پیشہ عناصر کا خاتمہ کرکے مؤثر امن و امان بحال کیا جائے۔ ان کے مطابق سخت اور دیانتدار انتظامیہ کراچی کو ڈاکوؤں، قبضہ مافیا اور مختلف سرپرستی حاصل کرنے والے مافیاز سے نجات دلانے میں کردار ادا کرسکتی ہے، جبکہ انہوں نے کراچی کے مسائل کا ذمہ دار سندھ کے وزیراعلیٰ کو قرار دیا۔</p>
<p>زراعت سے وابستہ اور مسلم لیگ (ن) کے سینئر نائب صدر شاہ محمد شاہ نے کہا کہ ملک بھر سے لوگ کراچی کا رخ کرتے ہیں۔ انہوں نے وفاقی سے صوبائی حکومت اور صوبائی حکومت سے بلدیاتی نظام تک مقامی حکومت کے بہتر نظام کی ضرورت پر زور دیا۔</p>
<p>انہوں نے عوام پر زور دیا کہ وہ باقاعدگی سے ٹیکس ادا کریں، محنت کش طبقے کو سہولتیں فراہم کی جائیں، ملک کے کاروباری مرکز میں آبادی کے بڑھتے ہوئے دباؤ کو کنٹرول کیا جائے، سندھ میں زیرِ تکمیل موٹرویز مکمل کی جائیں، روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں اور شہریوں کے لیے ہموار سفری سہولت یقینی بنائی جائے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291653</guid>
      <pubDate>Thu, 24 Sep 2026 17:51:12 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (گوہر علی خان)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/2417344663ee94d.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/2417344663ee94d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ڈالر کے مقابلے روپے کی قدر میں بہتری کا سلسلہ جاری</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291652/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;انٹربینک مارکیٹ میں جمعرات کو بھی ڈالر کے مقابلے روپے کی قدر میں بہتری کا سلسلہ جاری رہا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک کے مطابق کاروبار کے اختتام پر ڈالر کے مقابلے میں روپیہ 3 پیسے کی بہتری سے 277.17 روپے پر بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ بدھ کو مقامی کرنسی 277.20 روپے پر بند ہوئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی سطح پر امریکی ڈالر جمعرات کو دو ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب برقرار رہا۔ مضبوط مینوفیکچرنگ ڈیٹا نے مہنگائی کے خدشات اور شرحِ سود میں اضافے کی توقعات کو دوبارہ تقویت دی جبکہ امریکی ٹریژری کی کمزور نیلامی کے باعث مختلف مدت کے بانڈز کی ییلڈز میں اضافہ ہوا جس سے امریکی کرنسی کو مزید تقویت ملی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی ڈالر کی مجموعی مضبوطی کے باعث یورو کی قدر کم ہو کر 1.1378 ڈالر پر آگئی جو دو ماہ کی کم ترین سطح ہے جبکہ برطانوی پاؤنڈ بھی 1.3231 ڈالر کی تین ماہ کی کم ترین سطح کے قریب رہا۔ ڈالر انڈیکس 101.1 کی سطح پر دو ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب برقرار رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رات گئے جاری ہونے والی توقع سے زیادہ مضبوط پرچیزنگ منیجرز رپورٹ نے قیمتوں میں اضافے کے نئے خدشات کو ہوا دی جبکہ پانچ سالہ امریکی ٹریژری نوٹس کی کمزور پذیرائی والی نیلامی نے بانڈز کی فروخت کی ایک نئی لہر کو جنم دیا جس کے نتیجے میں پانچ سالہ بانڈز کی ییلڈ 2007 کے بعد پہلی بار 5 فیصد سے تجاوز کر گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مہنگائی کے خطرات میں بدھ کو تیل کی قیمتوں میں تقریباً 4 فیصد اضافے سے بھی اضافہ ہوا جس کے بعد ایران کے صدر نے کبھی ہتھیار نہ ڈالنے کے عزم کا اظہار کیا۔ دوسری جانب مارکیٹیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ڈیزل کی برآمدات پر پابندی کے ممکنہ اثرات کا بھی جائزہ لے رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سی ایم ای گروپ کے فیڈ واچ ٹول کے مطابق، اب ٹریڈرز اکتوبر میں امریکی مرکزی بینک کے آئندہ اجلاس میں شرحِ سود میں مزید اضافے کے تقریباً 70 فیصد امکانات دیکھ رہے ہیں جبکہ ایک ہفتہ قبل یہ امکان 50 فیصد تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>انٹربینک مارکیٹ میں جمعرات کو بھی ڈالر کے مقابلے روپے کی قدر میں بہتری کا سلسلہ جاری رہا۔</strong></p>
<p>اسٹیٹ بینک کے مطابق کاروبار کے اختتام پر ڈالر کے مقابلے میں روپیہ 3 پیسے کی بہتری سے 277.17 روپے پر بند ہوا۔</p>
<p>یاد رہے کہ بدھ کو مقامی کرنسی 277.20 روپے پر بند ہوئی تھی۔</p>
<p>بین الاقوامی سطح پر امریکی ڈالر جمعرات کو دو ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب برقرار رہا۔ مضبوط مینوفیکچرنگ ڈیٹا نے مہنگائی کے خدشات اور شرحِ سود میں اضافے کی توقعات کو دوبارہ تقویت دی جبکہ امریکی ٹریژری کی کمزور نیلامی کے باعث مختلف مدت کے بانڈز کی ییلڈز میں اضافہ ہوا جس سے امریکی کرنسی کو مزید تقویت ملی۔</p>
<p>امریکی ڈالر کی مجموعی مضبوطی کے باعث یورو کی قدر کم ہو کر 1.1378 ڈالر پر آگئی جو دو ماہ کی کم ترین سطح ہے جبکہ برطانوی پاؤنڈ بھی 1.3231 ڈالر کی تین ماہ کی کم ترین سطح کے قریب رہا۔ ڈالر انڈیکس 101.1 کی سطح پر دو ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب برقرار رہا۔</p>
<p>رات گئے جاری ہونے والی توقع سے زیادہ مضبوط پرچیزنگ منیجرز رپورٹ نے قیمتوں میں اضافے کے نئے خدشات کو ہوا دی جبکہ پانچ سالہ امریکی ٹریژری نوٹس کی کمزور پذیرائی والی نیلامی نے بانڈز کی فروخت کی ایک نئی لہر کو جنم دیا جس کے نتیجے میں پانچ سالہ بانڈز کی ییلڈ 2007 کے بعد پہلی بار 5 فیصد سے تجاوز کر گئی۔</p>
<p>مہنگائی کے خطرات میں بدھ کو تیل کی قیمتوں میں تقریباً 4 فیصد اضافے سے بھی اضافہ ہوا جس کے بعد ایران کے صدر نے کبھی ہتھیار نہ ڈالنے کے عزم کا اظہار کیا۔ دوسری جانب مارکیٹیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ڈیزل کی برآمدات پر پابندی کے ممکنہ اثرات کا بھی جائزہ لے رہی ہیں۔</p>
<p>سی ایم ای گروپ کے فیڈ واچ ٹول کے مطابق، اب ٹریڈرز اکتوبر میں امریکی مرکزی بینک کے آئندہ اجلاس میں شرحِ سود میں مزید اضافے کے تقریباً 70 فیصد امکانات دیکھ رہے ہیں جبکہ ایک ہفتہ قبل یہ امکان 50 فیصد تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291652</guid>
      <pubDate>Thu, 24 Sep 2026 15:57:21 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/2415541025080b3.webp" type="image/webp" medium="image" height="299" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/2415541025080b3.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان انویسٹر سمٹ، این آئی سی کراچی کے اسٹارٹ اپس کی معاونت بڑھانے کیلئے 4 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291650/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان انویسٹر سمٹ 2026 کے موقع پر نیشنل انکیوبیشن سینٹر کراچی (این آئی سی کراچی) نے کاروباری اور صنعتی تنظیموں کے ساتھ چار مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر دستخط کیے ہیں، جن کا مقصد اسٹارٹ اپس کے لیے رہنمائی، صنعتی نیٹ ورکس، تکنیکی وسائل اور کاروباری تعلیم کے مواقع تک رسائی کو وسعت دینا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ معاہدے صالح کامل سسٹین ایبل انٹرپرینیورشپ اینڈ انٹرپرائز ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن، کراچی ویمن چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری  کورنگی، یو کے پاکستان ٹیک فورم اور کامن ویلتھ انٹرپرینیورز فورم کے ساتھ طے پائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مفاہمتی یادداشتوں پر پاکستان انویسٹر سمٹ کے 13 ویں ایڈیشن کے موقع پر دستخط کیے گئے۔ این آئی سی کراچی کی میزبانی میں منعقدہ دو روزہ سمٹ میں اسٹارٹ اپس، سرمایہ کاروں، وینچر کیپیٹلسٹس، کاروباری رہنماؤں، صنعتی نمائندوں اور قومی و بین الاقوامی ایکو سسٹم کے ماہرین نے شرکت کی، جس کا مقصد پاکستان کے اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم میں سرمایہ کاری اور اسٹریٹجک تعاون کو فروغ دینا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سمٹ نے اسٹارٹ اپس کو سرمایہ کاروں کے سامنے اپنے کاروبار پیش کرنے، ماہرین سے رائے حاصل کرنے، فنڈنگ کے امکانات تلاش کرنے اور ممکنہ سرمایہ کاروں و اسٹریٹجک شراکت داروں کے ساتھ روابط قائم کرنے کے مواقع فراہم کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پہلے روز این آئی سی کراچی کے کوہورٹ 14 اور کوہورٹ 15 کے اسٹارٹ اپس نے پچنگ سیشنز میں شرکت کی، جہاں انہوں نے سرمایہ کاروں کے پینل کے سامنے اپنے کاروباری آئیڈیاز اور قابلِ توسیع حل پیش کیے۔ پروگرام میں ون آن ون انویسٹر آفس آورز بھی شامل تھے، جس کے دوران کاروباری افراد نے سرمایہ کاروں کے ساتھ تفصیلی گفتگو، ممکنہ معاہدوں اور خصوصی رہنمائی کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سمٹ کا دوسرا روز آئی ٹی سی این ایشیا میں منعقد ہوا، جہاں قومی و بین الاقوامی سرمایہ کاروں، ٹیکنالوجی رہنماؤں، کاروباری نمائندوں اور ایکو سسٹم سے وابستہ افراد کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ پروگرام میں انویسٹر فائر سائیڈ چیٹ بھی شامل تھی، جس میں تجربہ کار سرمایہ کاروں اور کاروباری رہنماؤں کے نقطہ نظر سے پاکستان کے سرمایہ کاری کے منظرنامے کا جائزہ لیا گیا۔ اس کے بعد اسٹارٹ اپ شوکیس میں چھ اسٹارٹ اپس نے اپنے کاروباری ماڈلز، ترقی کے امکانات اور مارکیٹ کے مواقع پیش کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے این آئی سی کراچی کے پروجیکٹ ڈائریکٹر سید اظفر حسین نے کہا کہ یہ اقدام ایک مربوط سرمایہ کاری ایکو سسٹم کی تشکیل کے لیے مرکز کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پاکستان انویسٹر سمٹ ملک میں مضبوط اور مربوط سرمایہ کاری کے ایکو سسٹم کی تشکیل کے لیے این آئی سی کراچی کے عزم کا اظہار ہے۔ اسٹارٹ اپس اور سرمایہ کاروں کے درمیان رابطے کے منظم مواقع پیدا کرکے نہ صرف سرمائے تک رسائی میں سہولت فراہم کی جارہی ہے بلکہ علم کے تبادلے، رہنمائی اور طویل مدتی شراکت داریوں کو بھی فروغ دیا جارہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اظفر حسین نے مزید کہا کہ رواں سال سمٹ میں اسٹارٹ اپس کے معیار اور سرمایہ کاروں کی شرکت پاکستان کے جدت طرازی کے ایکو سسٹم میں مسلسل ترقی کی عکاسی کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سمٹ میں ورلڈ بزنس اینجلز انویسٹمنٹ فورم  کے چیئرمین بائبارس التونتاش، فِن سَرو ایکسپرٹس کے منیجنگ ڈائریکٹر اریئل وولانو،ایس کے ایس ای ای ڈی کے ڈاکٹر وائل الدیسوقی بدہ، ٹریکنگ کے چیف ڈیجیٹل آفیسر فیصل غوری اور سسکو پاکستان کے کنٹری ہیڈ کاشف الحق سمیت دیگر مقررین نے شرکت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کی شرکت سے سرمایہ کاری، کاروبار، ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل تبدیلی اور کاروباری ترقی سے متعلق مباحث میں قومی اور بین الاقوامی نقطہ نظر شامل ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سمٹ کا اختتام سیکریٹری آئی ٹی گلگت بلتستان ضمیر عباس کے خطاب سے ہوا، جنہوں نے پاکستان کی ٹیکنالوجی اور جدت طرازی کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے حکومت، صنعت، سرمایہ کاروں، تعلیمی اداروں اور کاروباری افراد کے درمیان تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان انویسٹر سمٹ 2026 نے اسٹارٹ اپس اور سرمایہ کاروں کو ابتدائی اور ترقی کے مراحل میں سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے، اسٹریٹجک شراکت داریاں قائم کرنے اور مقامی جدت طرازی کو قومی و بین الاقوامی سرمایہ کاری کے نیٹ ورکس سے منسلک کرنے کے لیے پلیٹ فارم فراہم کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;این آئی سی کراچی 2018 میں کراچی کی این ای ڈی یونیورسٹی میں قائم کیا گیا تھا۔ یہ اِگنائٹ کے زیرِ فنڈ انکیوبیشن سینٹر کے طور پر ایل ایم کے ٹی اور لکی لینڈ مارک پرائیویٹ لمیٹڈ کی جانب سے اور اوربٹ وینچرز کے اشتراک سے چلایا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مرکز کے مطابق قیام سے اب تک 440 سے زائد اسٹارٹ اپس کی انکیوبیشن کی جاچکی ہے، جبکہ اس کے پورٹ فولیو میں شامل کاروباری منصوبوں نے 13 ارب روپے سے زائد آمدنی حاصل کی اور 13 ارب روپے سے زائد کی سرمایہ کاری حاصل کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;این آئی سی کراچی مفت انکیوبیشن، رہنمائی، قانونی و مالی مشاورت، سرمایہ کاروں تک رسائی اور فن ٹیک، صنعتی آٹومیشن اور میڈیا کے شعبوں میں خصوصی لیبارٹریز کی سہولت فراہم کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان انویسٹر سمٹ 2026 کے موقع پر نیشنل انکیوبیشن سینٹر کراچی (این آئی سی کراچی) نے کاروباری اور صنعتی تنظیموں کے ساتھ چار مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر دستخط کیے ہیں، جن کا مقصد اسٹارٹ اپس کے لیے رہنمائی، صنعتی نیٹ ورکس، تکنیکی وسائل اور کاروباری تعلیم کے مواقع تک رسائی کو وسعت دینا ہے۔</strong></p>
<p>یہ معاہدے صالح کامل سسٹین ایبل انٹرپرینیورشپ اینڈ انٹرپرائز ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن، کراچی ویمن چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری  کورنگی، یو کے پاکستان ٹیک فورم اور کامن ویلتھ انٹرپرینیورز فورم کے ساتھ طے پائے۔</p>
<p>مفاہمتی یادداشتوں پر پاکستان انویسٹر سمٹ کے 13 ویں ایڈیشن کے موقع پر دستخط کیے گئے۔ این آئی سی کراچی کی میزبانی میں منعقدہ دو روزہ سمٹ میں اسٹارٹ اپس، سرمایہ کاروں، وینچر کیپیٹلسٹس، کاروباری رہنماؤں، صنعتی نمائندوں اور قومی و بین الاقوامی ایکو سسٹم کے ماہرین نے شرکت کی، جس کا مقصد پاکستان کے اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم میں سرمایہ کاری اور اسٹریٹجک تعاون کو فروغ دینا تھا۔</p>
<p>سمٹ نے اسٹارٹ اپس کو سرمایہ کاروں کے سامنے اپنے کاروبار پیش کرنے، ماہرین سے رائے حاصل کرنے، فنڈنگ کے امکانات تلاش کرنے اور ممکنہ سرمایہ کاروں و اسٹریٹجک شراکت داروں کے ساتھ روابط قائم کرنے کے مواقع فراہم کیے۔</p>
<p>پہلے روز این آئی سی کراچی کے کوہورٹ 14 اور کوہورٹ 15 کے اسٹارٹ اپس نے پچنگ سیشنز میں شرکت کی، جہاں انہوں نے سرمایہ کاروں کے پینل کے سامنے اپنے کاروباری آئیڈیاز اور قابلِ توسیع حل پیش کیے۔ پروگرام میں ون آن ون انویسٹر آفس آورز بھی شامل تھے، جس کے دوران کاروباری افراد نے سرمایہ کاروں کے ساتھ تفصیلی گفتگو، ممکنہ معاہدوں اور خصوصی رہنمائی کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا۔</p>
<p>سمٹ کا دوسرا روز آئی ٹی سی این ایشیا میں منعقد ہوا، جہاں قومی و بین الاقوامی سرمایہ کاروں، ٹیکنالوجی رہنماؤں، کاروباری نمائندوں اور ایکو سسٹم سے وابستہ افراد کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ پروگرام میں انویسٹر فائر سائیڈ چیٹ بھی شامل تھی، جس میں تجربہ کار سرمایہ کاروں اور کاروباری رہنماؤں کے نقطہ نظر سے پاکستان کے سرمایہ کاری کے منظرنامے کا جائزہ لیا گیا۔ اس کے بعد اسٹارٹ اپ شوکیس میں چھ اسٹارٹ اپس نے اپنے کاروباری ماڈلز، ترقی کے امکانات اور مارکیٹ کے مواقع پیش کیے۔</p>
<p>سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے این آئی سی کراچی کے پروجیکٹ ڈائریکٹر سید اظفر حسین نے کہا کہ یہ اقدام ایک مربوط سرمایہ کاری ایکو سسٹم کی تشکیل کے لیے مرکز کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پاکستان انویسٹر سمٹ ملک میں مضبوط اور مربوط سرمایہ کاری کے ایکو سسٹم کی تشکیل کے لیے این آئی سی کراچی کے عزم کا اظہار ہے۔ اسٹارٹ اپس اور سرمایہ کاروں کے درمیان رابطے کے منظم مواقع پیدا کرکے نہ صرف سرمائے تک رسائی میں سہولت فراہم کی جارہی ہے بلکہ علم کے تبادلے، رہنمائی اور طویل مدتی شراکت داریوں کو بھی فروغ دیا جارہا ہے۔</p>
<p>اظفر حسین نے مزید کہا کہ رواں سال سمٹ میں اسٹارٹ اپس کے معیار اور سرمایہ کاروں کی شرکت پاکستان کے جدت طرازی کے ایکو سسٹم میں مسلسل ترقی کی عکاسی کرتی ہے۔</p>
<p>سمٹ میں ورلڈ بزنس اینجلز انویسٹمنٹ فورم  کے چیئرمین بائبارس التونتاش، فِن سَرو ایکسپرٹس کے منیجنگ ڈائریکٹر اریئل وولانو،ایس کے ایس ای ای ڈی کے ڈاکٹر وائل الدیسوقی بدہ، ٹریکنگ کے چیف ڈیجیٹل آفیسر فیصل غوری اور سسکو پاکستان کے کنٹری ہیڈ کاشف الحق سمیت دیگر مقررین نے شرکت کی۔</p>
<p>ان کی شرکت سے سرمایہ کاری، کاروبار، ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل تبدیلی اور کاروباری ترقی سے متعلق مباحث میں قومی اور بین الاقوامی نقطہ نظر شامل ہوئے۔</p>
<p>سمٹ کا اختتام سیکریٹری آئی ٹی گلگت بلتستان ضمیر عباس کے خطاب سے ہوا، جنہوں نے پاکستان کی ٹیکنالوجی اور جدت طرازی کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے حکومت، صنعت، سرمایہ کاروں، تعلیمی اداروں اور کاروباری افراد کے درمیان تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔</p>
<p>پاکستان انویسٹر سمٹ 2026 نے اسٹارٹ اپس اور سرمایہ کاروں کو ابتدائی اور ترقی کے مراحل میں سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے، اسٹریٹجک شراکت داریاں قائم کرنے اور مقامی جدت طرازی کو قومی و بین الاقوامی سرمایہ کاری کے نیٹ ورکس سے منسلک کرنے کے لیے پلیٹ فارم فراہم کیا۔</p>
<p>این آئی سی کراچی 2018 میں کراچی کی این ای ڈی یونیورسٹی میں قائم کیا گیا تھا۔ یہ اِگنائٹ کے زیرِ فنڈ انکیوبیشن سینٹر کے طور پر ایل ایم کے ٹی اور لکی لینڈ مارک پرائیویٹ لمیٹڈ کی جانب سے اور اوربٹ وینچرز کے اشتراک سے چلایا جاتا ہے۔</p>
<p>مرکز کے مطابق قیام سے اب تک 440 سے زائد اسٹارٹ اپس کی انکیوبیشن کی جاچکی ہے، جبکہ اس کے پورٹ فولیو میں شامل کاروباری منصوبوں نے 13 ارب روپے سے زائد آمدنی حاصل کی اور 13 ارب روپے سے زائد کی سرمایہ کاری حاصل کی ہے۔</p>
<p>این آئی سی کراچی مفت انکیوبیشن، رہنمائی، قانونی و مالی مشاورت، سرمایہ کاروں تک رسائی اور فن ٹیک، صنعتی آٹومیشن اور میڈیا کے شعبوں میں خصوصی لیبارٹریز کی سہولت فراہم کرتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291650</guid>
      <pubDate>Thu, 24 Sep 2026 15:31:11 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/2415231212a48b7.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/2415231212a48b7.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سونے کی قیمت میں مسلسل پانچویں روز بھی بڑی کمی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291648/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سونے کی قیمتوں میں مسلسل پانچویں روز بھی کمی ریکارڈ کی گئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی بلین مارکیٹ میں جمعرات کو سونا 56 ڈالر کی کمی سے 4258 ڈالر فی اونس کا ہوگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی مارکیٹ میں سونے کے نرخ میں کمی کے باعث مقامی سطح پر بھی فی تولہ سونا 5600 روپے کی کمی سے 4 لاکھ 48 ہزار 336 روپے کا ہوگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح دس گرام سونے کی قیمت بھی 4,801 روپے کی کمی سے 3 لاکھ 84 ہزار 375 روپے ہوگئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ بدھ کو سونے کی فی تولہ قیمت 1,800 روپے کی کمی سے  4 لاکھ 53 ہزار 936 روپے ہوگئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا چاندی کی فی تولہ قیمت 171 روپے کی کمی سے6,837 روپے ہوگئی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سونے کی قیمتوں میں مسلسل پانچویں روز بھی کمی ریکارڈ کی گئی۔</strong></p>
<p>عالمی بلین مارکیٹ میں جمعرات کو سونا 56 ڈالر کی کمی سے 4258 ڈالر فی اونس کا ہوگیا۔</p>
<p>بین الاقوامی مارکیٹ میں سونے کے نرخ میں کمی کے باعث مقامی سطح پر بھی فی تولہ سونا 5600 روپے کی کمی سے 4 لاکھ 48 ہزار 336 روپے کا ہوگیا۔</p>
<p>اسی طرح دس گرام سونے کی قیمت بھی 4,801 روپے کی کمی سے 3 لاکھ 84 ہزار 375 روپے ہوگئی۔</p>
<p>یاد رہے کہ بدھ کو سونے کی فی تولہ قیمت 1,800 روپے کی کمی سے  4 لاکھ 53 ہزار 936 روپے ہوگئی تھی۔</p>
<p>دریں اثنا چاندی کی فی تولہ قیمت 171 روپے کی کمی سے6,837 روپے ہوگئی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291648</guid>
      <pubDate>Thu, 24 Sep 2026 15:52:17 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/24151234226864f.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/24151234226864f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>تین بڑی ریفائنریوں کے حکومت کے ساتھ اپ گریڈیشن معاہدے طے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291647/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کی تین بڑی ریفائنریوں، جن میں سینرجیکو پی کے، اٹک ریفائنری اور نیشنل ریفائنری شامل ہیں نے انٹر اسٹیٹ گیس سسٹمز (آئی ایس جی ایس) کے ساتھ معاہدوں پر دستخط کردیے ہیں۔ کمپنیوں نے بتایا کہ ان معاہدوں کے تحت 2023 کی ترمیم شدہ ریفائنری پالیسی کے تحت موجودہ پلانٹس کی اپ گریڈیشن کے منصوبوں پر پیش رفت کی جائے گی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لسٹڈ ریفائنریوں نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کو اپنے الگ الگ نوٹس میں اس پیش رفت سے آگاہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معاہدوں پر اسلام آباد میں آئی ایس جی ایس کے ساتھ دستخط کیے گئے، جسے وزارت توانائی کے پٹرولیم ڈویژن نے موجودہ اور براؤن فیلڈ ریفائنریوں کی اپ گریڈیشن سے متعلق پاکستان آئل ریفائننگ پالیسی (فروری 2024 اور اگست 2026 میں ترمیم شدہ) کے تحت عمل درآمد کرنے والا ادارہ مقرر کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینرجیکو پی کے نے اسٹاک ایکسچینج کو جمع کرائے گئے نوٹس میں کہا کہ پالیسی کے تحت آئی ایس جی ایس کو پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے اپ گریڈیشن معاہدے پر عمل درآمد کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔ معاہدے کے تحت کمپنی کی موجودہ ریفائنری کو اپ گریڈ کرنے اور منظور شدہ منصوبے پر عمل درآمد کی گنجائش موجود ہے، جو پالیسی میں درج شرائط و ضوابط کے مطابق ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی نے کہا کہ وہ پالیسی کے مقاصد کے مطابق اپنی ریفائنری کو جدید بنانے اور اپ گریڈ کرنے کے لیے پرعزم ہے اور ملک کے ریفائننگ شعبے کو جدید بنانے میں حکومت پاکستان کی معاونت اور اقدامات کو سراہتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا اٹک ریفائنری لمیٹڈ نے کہا کہ اپ گریڈیشن معاہدے پر عمل درآمد اس کی موجودہ ریفائنری کے بنیادی ڈھانچے کو جدید اور بہتر بنانے، آپریشنل کارکردگی بڑھانے، مصنوعات کا معیار بہتر کرنے، یورو-V معیار کے ایندھن کی پیداوار اور پاکستان کے لیے زیادہ پائیدار اور محفوظ توانائی کے مستقبل میں کردار ادا کرنے کی کوششوں میں ایک اہم سنگ میل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح نیشنل ریفائنری لمیٹڈ نے کہا کہ معاہدے پر دستخط موجودہ ریفائنری کے بنیادی ڈھانچے کو جدید بنانے، ملک کے لیے زیادہ پائیدار اور محفوظ توانائی کے مستقبل میں کردار ادا کرنے اور سپلائی چین کے استحکام کو مضبوط بنانے کی کوششوں میں اہم پیش رفت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موجودہ اور براؤن فیلڈ ریفائنریوں کی اپ گریڈیشن سے متعلق پاکستان آئل ریفائننگ پالیسی 2023 کا مقصد ملک میں موجود ریفائنریوں کی صلاحیتوں کو جدید اور بہتر بنانا ہے۔ پالیسی کے تحت عالمی معیار کے ایندھن کے تقاضے پورے کرنے، صاف اور ماحول دوست ایندھن کی پیداوار اور مارکیٹ کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے پر توجہ دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگست 2026 میں پانچوں ریفائنریوں یعنی پارکو، پی آر ایل، این آر ایل، سینرجیکو اور اے آر ایل کی انتظامیہ نے آئندہ ماہ کے آغاز میں معاہدوں پر دستخط کرنے کے عزم کا اعادہ کیا تھا۔ توقع تھی کہ اس سے تقریباً 6 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی راہ ہموار ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ستمبر 2026 میں وفاقی کابینہ نے مزید ترامیم کی منظوری دیتے ہوئے ریفائنریوں کو یکم اکتوبر 2026 تک وزارت توانائی کے پٹرولیم ڈویژن کے ساتھ اپ گریڈیشن معاہدے کرنے کی ہدایت کی، جبکہ معاہدے اوگرا کے بجائے پٹرولیم ڈویژن کے ساتھ کیے جانے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقررہ مدت میں معاہدے نہ کرنے والی ریفائنریوں کے لیے مالی جرمانے بھی متعارف کرائے گئے، جن میں ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) پر ڈیمڈ ڈیوٹی میں کمی بھی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کی تین بڑی ریفائنریوں، جن میں سینرجیکو پی کے، اٹک ریفائنری اور نیشنل ریفائنری شامل ہیں نے انٹر اسٹیٹ گیس سسٹمز (آئی ایس جی ایس) کے ساتھ معاہدوں پر دستخط کردیے ہیں۔ کمپنیوں نے بتایا کہ ان معاہدوں کے تحت 2023 کی ترمیم شدہ ریفائنری پالیسی کے تحت موجودہ پلانٹس کی اپ گریڈیشن کے منصوبوں پر پیش رفت کی جائے گی۔</strong></p>
<p>لسٹڈ ریفائنریوں نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کو اپنے الگ الگ نوٹس میں اس پیش رفت سے آگاہ کیا۔</p>
<p>معاہدوں پر اسلام آباد میں آئی ایس جی ایس کے ساتھ دستخط کیے گئے، جسے وزارت توانائی کے پٹرولیم ڈویژن نے موجودہ اور براؤن فیلڈ ریفائنریوں کی اپ گریڈیشن سے متعلق پاکستان آئل ریفائننگ پالیسی (فروری 2024 اور اگست 2026 میں ترمیم شدہ) کے تحت عمل درآمد کرنے والا ادارہ مقرر کیا ہے۔</p>
<p>سینرجیکو پی کے نے اسٹاک ایکسچینج کو جمع کرائے گئے نوٹس میں کہا کہ پالیسی کے تحت آئی ایس جی ایس کو پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے اپ گریڈیشن معاہدے پر عمل درآمد کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔ معاہدے کے تحت کمپنی کی موجودہ ریفائنری کو اپ گریڈ کرنے اور منظور شدہ منصوبے پر عمل درآمد کی گنجائش موجود ہے، جو پالیسی میں درج شرائط و ضوابط کے مطابق ہوگا۔</p>
<p>کمپنی نے کہا کہ وہ پالیسی کے مقاصد کے مطابق اپنی ریفائنری کو جدید بنانے اور اپ گریڈ کرنے کے لیے پرعزم ہے اور ملک کے ریفائننگ شعبے کو جدید بنانے میں حکومت پاکستان کی معاونت اور اقدامات کو سراہتی ہے۔</p>
<p>دریں اثنا اٹک ریفائنری لمیٹڈ نے کہا کہ اپ گریڈیشن معاہدے پر عمل درآمد اس کی موجودہ ریفائنری کے بنیادی ڈھانچے کو جدید اور بہتر بنانے، آپریشنل کارکردگی بڑھانے، مصنوعات کا معیار بہتر کرنے، یورو-V معیار کے ایندھن کی پیداوار اور پاکستان کے لیے زیادہ پائیدار اور محفوظ توانائی کے مستقبل میں کردار ادا کرنے کی کوششوں میں ایک اہم سنگ میل ہے۔</p>
<p>اسی طرح نیشنل ریفائنری لمیٹڈ نے کہا کہ معاہدے پر دستخط موجودہ ریفائنری کے بنیادی ڈھانچے کو جدید بنانے، ملک کے لیے زیادہ پائیدار اور محفوظ توانائی کے مستقبل میں کردار ادا کرنے اور سپلائی چین کے استحکام کو مضبوط بنانے کی کوششوں میں اہم پیش رفت ہے۔</p>
<p>موجودہ اور براؤن فیلڈ ریفائنریوں کی اپ گریڈیشن سے متعلق پاکستان آئل ریفائننگ پالیسی 2023 کا مقصد ملک میں موجود ریفائنریوں کی صلاحیتوں کو جدید اور بہتر بنانا ہے۔ پالیسی کے تحت عالمی معیار کے ایندھن کے تقاضے پورے کرنے، صاف اور ماحول دوست ایندھن کی پیداوار اور مارکیٹ کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے پر توجہ دی گئی ہے۔</p>
<p>اگست 2026 میں پانچوں ریفائنریوں یعنی پارکو، پی آر ایل، این آر ایل، سینرجیکو اور اے آر ایل کی انتظامیہ نے آئندہ ماہ کے آغاز میں معاہدوں پر دستخط کرنے کے عزم کا اعادہ کیا تھا۔ توقع تھی کہ اس سے تقریباً 6 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی راہ ہموار ہوگی۔</p>
<p>تاہم ستمبر 2026 میں وفاقی کابینہ نے مزید ترامیم کی منظوری دیتے ہوئے ریفائنریوں کو یکم اکتوبر 2026 تک وزارت توانائی کے پٹرولیم ڈویژن کے ساتھ اپ گریڈیشن معاہدے کرنے کی ہدایت کی، جبکہ معاہدے اوگرا کے بجائے پٹرولیم ڈویژن کے ساتھ کیے جانے تھے۔</p>
<p>مقررہ مدت میں معاہدے نہ کرنے والی ریفائنریوں کے لیے مالی جرمانے بھی متعارف کرائے گئے، جن میں ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) پر ڈیمڈ ڈیوٹی میں کمی بھی شامل ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291647</guid>
      <pubDate>Thu, 24 Sep 2026 14:30:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/24142042d5b44a6.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/24142042d5b44a6.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکا یا اسرائیل نے دوبارہ حملہ کیا تو جنگ بحر ہند تک پھیل سکتی ہے، مشیر ایرانی رہبر اعلی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291645/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے ایک مشیر نے جمعرات کو خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا یا اسرائیل نے دوبارہ حملہ کیا تو تہران مشرق وسطیٰ کی جنگ کو بحر ہند تک پھیلا سکتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی خبر رساں ایجنسی فارس نیوز کی جانب سے جاری کی گئی ایک ویڈیو میں یحییٰ رحیم صفوی نے کہا کہ چونکہ تنازع خلیج فارس اور آبنائے ہرمز سے بحیرہ احمر تک پھیل چکا ہے، اس لیے مزید جنگ کی صورت میں محاذ کے مزید پھیلنے اور بحر ہند بلکہ اس سے آگے تک پہنچنے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے ایک مشیر نے جمعرات کو خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا یا اسرائیل نے دوبارہ حملہ کیا تو تہران مشرق وسطیٰ کی جنگ کو بحر ہند تک پھیلا سکتا ہے۔</strong></p>
<p>ایرانی خبر رساں ایجنسی فارس نیوز کی جانب سے جاری کی گئی ایک ویڈیو میں یحییٰ رحیم صفوی نے کہا کہ چونکہ تنازع خلیج فارس اور آبنائے ہرمز سے بحیرہ احمر تک پھیل چکا ہے، اس لیے مزید جنگ کی صورت میں محاذ کے مزید پھیلنے اور بحر ہند بلکہ اس سے آگے تک پہنچنے کا امکان ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291645</guid>
      <pubDate>Thu, 24 Sep 2026 13:52:19 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/24135053c699bef.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/24135053c699bef.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے کراچی چیمبر انتخابات میں بی ایم جی کی حمایت کردی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291646/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن (پی پی ڈی اے) نے کراچی چیمبر کے آئندہ انتخابات میں بزنس مین گروپ کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسے یونائیٹڈ بزنس گروپ کی قیادت کے فیصلے پر مکمل اعتماد ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی پی ڈی اے کے چیئرمین ملک خدا بخش، وائس چیئرمین طارق حسن، انور کمال، ملک شیر خان اور ایسوسی ایشن کے دیگر رہنماؤں نے یو بی جی کی قیادت کے فیصلے کی حمایت کا اظہار کیا۔ ایسوسی ایشن نے کہا کہ اس کے اراکین کراچی چیمبر کے انتخابات میں یو بی جی کے سرپرستِ اعلیٰ ایس ایم تنویر، صدر زبیر طفیل، سندھ ریجن کے صدر خالد تواب اور یو بی جی کے دیگر رہنماؤں کی ہدایات کے مطابق بی ایم جی کے امیدواروں کو ووٹ دیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملک خدا بخش نے کہا کہ پی پی ڈی اے نے پٹرولیم ڈیلرز کو درپیش مسائل کے حل کے لیے مسلسل کام کیا  جبکہ بی ایم جی کے چیئرمین زبیر موتی والا اور ان کی ٹیم نے کراچی کی کاروباری برادری سے متعلق مسائل کو اجاگر کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ کراچی چیمبر، پی پی ڈی اے کے ساتھ مل کر کام کرتے ہوئے پٹرولیم ڈیلرز کو درپیش مسائل کے حل میں معاون ثابت ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خدا بخش نے کہا کہ پٹرولیم ڈیلرز اور وسیع تر کاروباری برادری کو درپیش چیلنجز باہم جڑے ہوئے ہیں، جنہیں حکومت اور ضابطہ جاتی اداروں کے ساتھ باہمی اتفاقِ رائے اور رابطہ کاری کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی پی ڈی اے کے چیئرمین نے کاروباری برادری کو درپیش مسائل کے حل کے لیے کاروباری تنظیموں کے درمیان اتحاد و یکجہتی کی ضرورت پر زور دیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن (پی پی ڈی اے) نے کراچی چیمبر کے آئندہ انتخابات میں بزنس مین گروپ کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسے یونائیٹڈ بزنس گروپ کی قیادت کے فیصلے پر مکمل اعتماد ہے۔</strong></p>
<p>پی پی ڈی اے کے چیئرمین ملک خدا بخش، وائس چیئرمین طارق حسن، انور کمال، ملک شیر خان اور ایسوسی ایشن کے دیگر رہنماؤں نے یو بی جی کی قیادت کے فیصلے کی حمایت کا اظہار کیا۔ ایسوسی ایشن نے کہا کہ اس کے اراکین کراچی چیمبر کے انتخابات میں یو بی جی کے سرپرستِ اعلیٰ ایس ایم تنویر، صدر زبیر طفیل، سندھ ریجن کے صدر خالد تواب اور یو بی جی کے دیگر رہنماؤں کی ہدایات کے مطابق بی ایم جی کے امیدواروں کو ووٹ دیں گے۔</p>
<p>ملک خدا بخش نے کہا کہ پی پی ڈی اے نے پٹرولیم ڈیلرز کو درپیش مسائل کے حل کے لیے مسلسل کام کیا  جبکہ بی ایم جی کے چیئرمین زبیر موتی والا اور ان کی ٹیم نے کراچی کی کاروباری برادری سے متعلق مسائل کو اجاگر کیا ہے۔</p>
<p>انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ کراچی چیمبر، پی پی ڈی اے کے ساتھ مل کر کام کرتے ہوئے پٹرولیم ڈیلرز کو درپیش مسائل کے حل میں معاون ثابت ہوگا۔</p>
<p>خدا بخش نے کہا کہ پٹرولیم ڈیلرز اور وسیع تر کاروباری برادری کو درپیش چیلنجز باہم جڑے ہوئے ہیں، جنہیں حکومت اور ضابطہ جاتی اداروں کے ساتھ باہمی اتفاقِ رائے اور رابطہ کاری کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔</p>
<p>پی پی ڈی اے کے چیئرمین نے کاروباری برادری کو درپیش مسائل کے حل کے لیے کاروباری تنظیموں کے درمیان اتحاد و یکجہتی کی ضرورت پر زور دیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291646</guid>
      <pubDate>Thu, 24 Sep 2026 13:50:40 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/24134917cabcfe6.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/24134917cabcfe6.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امن و امان کے خدشات کے باوجود ایندھن کی بلاتعطل فراہمی یقینی بنانے کے اقدامات</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291640/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے جمعرات کو یقین دہانی کرائی کہ حکومت امن و امان کی کسی بھی صورتحال یا سڑکوں کی بندش کی صورت میں ایندھن کی فراہمی بلا تعطل جاری رکھنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کررہی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر نے تمام متعلقہ فریقین کو پیشگی انتظامات کرنے اور پٹرولیم مصنوعات کی ترسیل کو بلا رکاوٹ یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک بیان کے مطابق یہ پیش رفت وزیراعظم کی فیول ریلیف اسکیم کے تحت ادائیگیوں کا جائزہ لینے کے لیے منعقدہ اجلاس کے دوران سامنے آئی۔ اجلاس میں ملک بھر میں پٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل دستیابی یقینی بنانے کے لیے سپلائی چین، نقل و حمل اور لاجسٹکس کے انتظامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں پاکستان ریلوے، اوگرا ، آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں ، پاکستان پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن ، آل پاکستان پٹرول پمپ اونرز ایسوسی ایشن  کے نمائندوں اور متعلقہ حکام نے شرکت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے وزیراعظم کی فیول ریلیف اسکیم کے لیے تعاون اور بھرپور حمایت پر پٹرولیم ڈیلرز کی تنظیموں کو سراہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایڈیشنل سیکریٹری ریلوے نے اجلاس کو یقین دہانی کرائی کہ پاکستان ریلوے ہائی اسپیڈ ڈیزل  کی ترسیل کے لیے ٹرین کی بوگیوں کی زیادہ سے زیادہ دستیابی یقینی بنائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر نے پاکستان اسٹیٹ آئل کو ہدایت کی کہ وہ اپنے ڈپو پر وافر مقدار میں ایندھن کی دستیابی یقینی بنانے کے لیے پیشگی انتظامات کرے۔ پی ایس او نے اجلاس کو بتایا کہ ممکنہ تعطل کے پیش نظر اہم ڈپوز پر اضافی ذخائر پہلے ہی فراہم کر دیے گئے ہیں تاکہ سپلائی بلا تعطل جاری رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اوگرا نے اجلاس کو بتایا کہ بحران سے نمٹنے اور رابطہ کاری کے لیے ایک خصوصی کنٹرول روم قائم کر دیا گیا ہے تاکہ ریٹیل آؤٹ لیٹس پر پٹرولیم مصنوعات کی مسلسل دستیابی یقینی بنائی جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پرویز ملک نے اٹک ریفائنری لمیٹڈ  کے لیے خام تیل کی بلا تعطل فراہمی اور تیار مصنوعات کی ترسیل کے انتظامات یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی تاکہ لاجسٹک رکاوٹوں کے باعث ریفائنری کی ممکنہ بندش سے بچا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں وزیراعظم کی فیول ریلیف اسکیم کے تحت ادائیگی کے طریقۂ کار کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ تقریباً 10 ہزار سے زائد پٹرول پمپس میں سے جمعرات تک 8,500 سے زائد پٹرول پمپس کو ادائیگیاں کی جا چکی ہیں جبکہ یہ تعداد روزانہ کی بنیاد پر بڑھ رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر نے ہدایت کی کہ معمولی نوعیت کے مسائل جن میں اکاؤنٹ نمبرز میں عدم مطابقت بھی شامل ہے، فوری بنیادوں پر حل کیے جائیں تاکہ باقی ماندہ پٹرول پمپس کو ادائیگیاں بلا تاخیر مکمل ہوں اور عوام کو اسکیم کے تحت ریلیف کا سلسلہ جاری رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علی پرویز نے مزید اوگرا کو ہدایت کی کہ ایسے کسی بھی پٹرول پمپ کے خلاف کارروائی کی جائے جو اسکیم کے تحت اہل صارفین کو فراہم کیے جانے والے فیول ریلیف سے انکار کرتے ہوئے پایا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ملک خدا بخش نے کہا کہ اسکیم کامیابی سے جاری ہے اور حکومت کو ایسوسی ایشن کی جانب سے مسلسل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے کہا کہ ڈیلرز اس اقدام پر عملدرآمد میں حکومت کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آل پاکستان پٹرول پمپ اونرز ایسوسی ایشن کے ہمایوں خان اور نعمان بٹ نے پٹرول پمپ مالکان کو اعتماد میں لینے پر حکومت کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ان کی ایسوسی ایشن اسکیم کی مکمل حمایت کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;او سی اے سی کے چیئرمین نوید تنویر عباسی نے کہا کہ اسکیم کامیابی سے جاری ہے اور اسے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے ایک اچھا اقدام قرار دیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے جمعرات کو یقین دہانی کرائی کہ حکومت امن و امان کی کسی بھی صورتحال یا سڑکوں کی بندش کی صورت میں ایندھن کی فراہمی بلا تعطل جاری رکھنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کررہی ہے۔</strong></p>
<p>وفاقی وزیر نے تمام متعلقہ فریقین کو پیشگی انتظامات کرنے اور پٹرولیم مصنوعات کی ترسیل کو بلا رکاوٹ یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی۔</p>
<p>ایک بیان کے مطابق یہ پیش رفت وزیراعظم کی فیول ریلیف اسکیم کے تحت ادائیگیوں کا جائزہ لینے کے لیے منعقدہ اجلاس کے دوران سامنے آئی۔ اجلاس میں ملک بھر میں پٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل دستیابی یقینی بنانے کے لیے سپلائی چین، نقل و حمل اور لاجسٹکس کے انتظامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔</p>
<p>اجلاس میں پاکستان ریلوے، اوگرا ، آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں ، پاکستان پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن ، آل پاکستان پٹرول پمپ اونرز ایسوسی ایشن  کے نمائندوں اور متعلقہ حکام نے شرکت کی۔</p>
<p>اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے وزیراعظم کی فیول ریلیف اسکیم کے لیے تعاون اور بھرپور حمایت پر پٹرولیم ڈیلرز کی تنظیموں کو سراہا۔</p>
<p>ایڈیشنل سیکریٹری ریلوے نے اجلاس کو یقین دہانی کرائی کہ پاکستان ریلوے ہائی اسپیڈ ڈیزل  کی ترسیل کے لیے ٹرین کی بوگیوں کی زیادہ سے زیادہ دستیابی یقینی بنائے گا۔</p>
<p>وفاقی وزیر نے پاکستان اسٹیٹ آئل کو ہدایت کی کہ وہ اپنے ڈپو پر وافر مقدار میں ایندھن کی دستیابی یقینی بنانے کے لیے پیشگی انتظامات کرے۔ پی ایس او نے اجلاس کو بتایا کہ ممکنہ تعطل کے پیش نظر اہم ڈپوز پر اضافی ذخائر پہلے ہی فراہم کر دیے گئے ہیں تاکہ سپلائی بلا تعطل جاری رہے۔</p>
<p>اوگرا نے اجلاس کو بتایا کہ بحران سے نمٹنے اور رابطہ کاری کے لیے ایک خصوصی کنٹرول روم قائم کر دیا گیا ہے تاکہ ریٹیل آؤٹ لیٹس پر پٹرولیم مصنوعات کی مسلسل دستیابی یقینی بنائی جا سکے۔</p>
<p>پرویز ملک نے اٹک ریفائنری لمیٹڈ  کے لیے خام تیل کی بلا تعطل فراہمی اور تیار مصنوعات کی ترسیل کے انتظامات یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی تاکہ لاجسٹک رکاوٹوں کے باعث ریفائنری کی ممکنہ بندش سے بچا جا سکے۔</p>
<p>اجلاس میں وزیراعظم کی فیول ریلیف اسکیم کے تحت ادائیگی کے طریقۂ کار کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ تقریباً 10 ہزار سے زائد پٹرول پمپس میں سے جمعرات تک 8,500 سے زائد پٹرول پمپس کو ادائیگیاں کی جا چکی ہیں جبکہ یہ تعداد روزانہ کی بنیاد پر بڑھ رہی ہے۔</p>
<p>وفاقی وزیر نے ہدایت کی کہ معمولی نوعیت کے مسائل جن میں اکاؤنٹ نمبرز میں عدم مطابقت بھی شامل ہے، فوری بنیادوں پر حل کیے جائیں تاکہ باقی ماندہ پٹرول پمپس کو ادائیگیاں بلا تاخیر مکمل ہوں اور عوام کو اسکیم کے تحت ریلیف کا سلسلہ جاری رہے۔</p>
<p>علی پرویز نے مزید اوگرا کو ہدایت کی کہ ایسے کسی بھی پٹرول پمپ کے خلاف کارروائی کی جائے جو اسکیم کے تحت اہل صارفین کو فراہم کیے جانے والے فیول ریلیف سے انکار کرتے ہوئے پایا جائے۔</p>
<p>پاکستان پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ملک خدا بخش نے کہا کہ اسکیم کامیابی سے جاری ہے اور حکومت کو ایسوسی ایشن کی جانب سے مسلسل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے کہا کہ ڈیلرز اس اقدام پر عملدرآمد میں حکومت کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔</p>
<p>آل پاکستان پٹرول پمپ اونرز ایسوسی ایشن کے ہمایوں خان اور نعمان بٹ نے پٹرول پمپ مالکان کو اعتماد میں لینے پر حکومت کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ان کی ایسوسی ایشن اسکیم کی مکمل حمایت کرتی ہے۔</p>
<p>او سی اے سی کے چیئرمین نوید تنویر عباسی نے کہا کہ اسکیم کامیابی سے جاری ہے اور اسے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے ایک اچھا اقدام قرار دیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291640</guid>
      <pubDate>Thu, 24 Sep 2026 13:35:09 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/24131724dea51c6.webp" type="image/webp" medium="image" height="453" width="670">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/24131724dea51c6.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ریئل میڈرڈ کی سست شروعات پر شائقِ کرلوس الکاراز بھی پریشان</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40291643/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسپین کے ٹینس اسٹار کارلوس الکاراز انجریز کی مشکلات سے نکلنے کے بعد اب اپنی پسندیدہ فٹبال ٹیم ریئل میڈرڈ کی رواں سیزن میں سست شروعات پر پریشان ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریئل میڈرڈ کو اتوار کو حریف ایٹلیٹیکو میڈرڈ کے ہاتھوں 2-1 سے شکست ہوئی، جس کے بعد وہ 15 پوائنٹس کے ساتھ پوائنٹس ٹیبل پر چوتھے نمبر پر ہے اور سرفہرست بارسلونا سے 6 پوائنٹس پیچھے ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نئے کوچ جوز مورینیو کی زیرِ قیادت ٹیم کی کارکردگی پر الکاراز نے کہا کہ ریئل میڈرڈ اس سے بہتر کھیل پیش کرسکتا ہے۔ ان کے مطابق ٹیم میں بہترین اور باصلاحیت کھلاڑی موجود ہیں، تاہم اسے مزید محنت اور کھیل میں شدت پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;الکاراز نے کہا کہ وہ ریئل کے میچز دیکھتے ہوئے پریشان ہوتے ہیں کیونکہ انہیں اندازہ نہیں ہوتا کہ اگلے لمحے کیا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;الکاراز کے لیور کپ ساتھی کیسپر روڈ نے بھی فٹبال پر اظہار خیال کرتے ہوئے ناروے کے مانچسٹر سٹی کے اسٹرائیکر ایرلنگ ہالینڈ کو دنیا کا بہترین فارورڈ قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تین روزہ لیور کپ جمعہ سے لندن میں شروع ہوگا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسپین کے ٹینس اسٹار کارلوس الکاراز انجریز کی مشکلات سے نکلنے کے بعد اب اپنی پسندیدہ فٹبال ٹیم ریئل میڈرڈ کی رواں سیزن میں سست شروعات پر پریشان ہیں۔</strong></p>
<p>ریئل میڈرڈ کو اتوار کو حریف ایٹلیٹیکو میڈرڈ کے ہاتھوں 2-1 سے شکست ہوئی، جس کے بعد وہ 15 پوائنٹس کے ساتھ پوائنٹس ٹیبل پر چوتھے نمبر پر ہے اور سرفہرست بارسلونا سے 6 پوائنٹس پیچھے ہے۔</p>
<p>نئے کوچ جوز مورینیو کی زیرِ قیادت ٹیم کی کارکردگی پر الکاراز نے کہا کہ ریئل میڈرڈ اس سے بہتر کھیل پیش کرسکتا ہے۔ ان کے مطابق ٹیم میں بہترین اور باصلاحیت کھلاڑی موجود ہیں، تاہم اسے مزید محنت اور کھیل میں شدت پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔</p>
<p>الکاراز نے کہا کہ وہ ریئل کے میچز دیکھتے ہوئے پریشان ہوتے ہیں کیونکہ انہیں اندازہ نہیں ہوتا کہ اگلے لمحے کیا ہوگا۔</p>
<p>الکاراز کے لیور کپ ساتھی کیسپر روڈ نے بھی فٹبال پر اظہار خیال کرتے ہوئے ناروے کے مانچسٹر سٹی کے اسٹرائیکر ایرلنگ ہالینڈ کو دنیا کا بہترین فارورڈ قرار دیا۔</p>
<p>تین روزہ لیور کپ جمعہ سے لندن میں شروع ہوگا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40291643</guid>
      <pubDate>Thu, 24 Sep 2026 13:26:26 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/09/24132150d3121f8.gif" type="image/gif" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/09/24132150d3121f8.gif"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
