<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Latest News</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 01:17:53 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 01:17:53 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا نے پاکستان کو 41 رنز سے شکست دے دی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287009/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آسٹریلیا نے دوسرے ون ڈے میں پاکستان کو 41 رنز سے شکست دے کر سیریز 1-1 سے برابر کر دی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کھیلے گئے میچ میں 232 رنز کے ہدف کے تعاقب میں گرین شرٹس 44 اوورز میں 190 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی جانب سے شاداب خان 71 رنز بنا کر نمایاں رہے۔ غازی غوری 37، عرفات منہاس 33، بابر اعظم 16، کپتان شاہین شاہ آفریدی 11، سلمان آغا 7، صاحبزادہ فرحان 3، عبدالصمد 2 جب کہ معاذ صداقت اور حارث رؤف 0 کے انفرادی اسکور پر آؤٹ ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کینگروز کی جانب سے نیتھن ایلِس 4 اور میتھیو شارٹ نے 3 کھلاڑیوں کو پویلین بھیجا۔ ایڈم زمپا، میتھیو کوہنمن اور تنویر سانگھا نے 1، 1 وکٹ حاصل کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قبل ازیں پاکستان کی دعوت پر پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے آسٹریلیا کی ٹیم مقررہ 50 اوورز میں 9 وکٹوں کے نقصان پر 231 رنز بنا سکی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آسٹریلیا کی جانب سے کیمرون گرین 53 اور کپتان جوش انگلس 51 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ میٹ رینشا 43، اولیور پیک 31، میتھیو شارٹ 15، مارنس لبوشین 5، میتھیو کوہنمن 5 اور ایلکس کیرے 0 کے انفرادی اسکور پر آؤٹ ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی جانب سے کپتان شاہین شاہ آفریدی نے 3 جبکہ عرفات منہاس، ابرار احمد اور حارث رؤف نے 2، 2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>آسٹریلیا نے دوسرے ون ڈے میں پاکستان کو 41 رنز سے شکست دے کر سیریز 1-1 سے برابر کر دی۔</strong></p>
<p>قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کھیلے گئے میچ میں 232 رنز کے ہدف کے تعاقب میں گرین شرٹس 44 اوورز میں 190 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئی۔</p>
<p>پاکستان کی جانب سے شاداب خان 71 رنز بنا کر نمایاں رہے۔ غازی غوری 37، عرفات منہاس 33، بابر اعظم 16، کپتان شاہین شاہ آفریدی 11، سلمان آغا 7، صاحبزادہ فرحان 3، عبدالصمد 2 جب کہ معاذ صداقت اور حارث رؤف 0 کے انفرادی اسکور پر آؤٹ ہوئے۔</p>
<p>کینگروز کی جانب سے نیتھن ایلِس 4 اور میتھیو شارٹ نے 3 کھلاڑیوں کو پویلین بھیجا۔ ایڈم زمپا، میتھیو کوہنمن اور تنویر سانگھا نے 1، 1 وکٹ حاصل کی۔</p>
<p>قبل ازیں پاکستان کی دعوت پر پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے آسٹریلیا کی ٹیم مقررہ 50 اوورز میں 9 وکٹوں کے نقصان پر 231 رنز بنا سکی۔</p>
<p>آسٹریلیا کی جانب سے کیمرون گرین 53 اور کپتان جوش انگلس 51 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ میٹ رینشا 43، اولیور پیک 31، میتھیو شارٹ 15، مارنس لبوشین 5، میتھیو کوہنمن 5 اور ایلکس کیرے 0 کے انفرادی اسکور پر آؤٹ ہوئے۔</p>
<p>پاکستان کی جانب سے کپتان شاہین شاہ آفریدی نے 3 جبکہ عرفات منہاس، ابرار احمد اور حارث رؤف نے 2، 2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287009</guid>
      <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 01:11:16 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/030110169ff0e77.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/030110169ff0e77.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نیا پاکستان سرٹیفکیٹس اب سعودی ریال اور اماراتی درہم میں بھی دستیاب</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287008/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;حکومت نے نیا پاکستان سرٹیفکیٹس کو سعودی ریال اور متحدہ عرب امارات کے درہم میں بھی جاری کرنے کا فیصلہ  کیا ہے جس کا مقصد خلیجی خطے میں مقیم سمندر پار پاکستانیوں سے ان بانڈز میں مزید سرمایہ کاری راغب کرنا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس حوالے سے اسٹیٹ بینک نے باضابطہ سرکلر جاری کر دیا ہے ۔اسٹیٹ بینک کے مطابق نیا پاکستان سرٹیفکیٹس اس سے قبل پاکستانی روپے، امریکی ڈالر، برطانوی پاؤنڈ اور یورو میں دستیاب تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسکیم کی حالیہ توسیع کے بعد سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں مقیم سمندر پار پاکستانی اب اپنی مقامی کرنسیوں یعنی سعودی ریال اور اماراتی درہم میں بھی نیا پاکستان سرٹیفکیٹس میں سرمایہ کاری کر سکتے ہیں جس سے سرمایہ کاری کا عمل مزید آسان اور قابلِ رسائی ہو جائے گا۔ امید ہے کہ اس اقدام سے اوورسیز پاکستانیوں کو ان کرنسیوں میں سرمایہ کاری کے زیادہ آسان مواقع ملیں گے جو خلیج تعاون کونسل کے ممالک میں عام طور پر استعمال ہوتی ہیں۔ وقت فوقتاً جاری ہونے والے فنانس ڈویژن کے سرکلرز کے ذریعے نوٹیفائیڈ سرٹیفکیٹس میں سرمایہ کاری کا طریقہ کار، متواتر کوپن کی ادائیگیاں (منافع کی رقم)، وقت سے پہلے کیش کروانا اور میچورٹی پر رقم کی واپسی کے قوانین اب سعودی ریال اور اماراتی درہم مالیت کے نیا پاکستان سرٹیفکیٹس پر بھی لاگو ہوں گے۔ تاہم نامزد ایجنٹ بینک سرٹیفکیٹس کی اصل مالیت اسٹیٹ بینک آف پاکستانکے نوسٹرو  اکاؤنٹس میں منتقل کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی حکومت نے نیا پاکستان سرٹیفکیٹس پر منافع کی شرح میں بھی نظرثانی کر دی ہے اور یکم جون 2026 سے روایتی این پی سیز پر نئی شرحِ منافع کے نفاذ کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کم از کم 1,000 امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری اور اس کے بعد 500 امریکی ڈالر کے اضافے پر مجموعی سالانہ منافع (ٹیکس سے پہلے)میں 25 بیسس پوائنٹس تک کی نظرثانی کی گئی ہے۔  تین ماہ کی مدت کے نیا پاکستان سرٹیفکیٹ کی شرح 7  سے کم کر کے 6.75 فیصد کر دی گئی ہے۔ 6 ماہ اور 3 سال کی مدت کے سرٹیفکیٹس پر منافع کی شرح بالترتیب 7 فیصد اور 7.50 فیصد پر برقرار رکھی گئی ہے۔ دوسری جانب 12 ماہ کے نیا پاکستان سرٹیفکیٹ پر اب 7.25 فیصد منافع پیش کیا جا رہا ہےجو کہ گزشتہ 7 فیصد سے معمولی زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ، 5 سالہ مدت کے سرٹیفکیٹ کا منافع 25 بیسس پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ بڑھا کر 7.75 فیصد کر دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>حکومت نے نیا پاکستان سرٹیفکیٹس کو سعودی ریال اور متحدہ عرب امارات کے درہم میں بھی جاری کرنے کا فیصلہ  کیا ہے جس کا مقصد خلیجی خطے میں مقیم سمندر پار پاکستانیوں سے ان بانڈز میں مزید سرمایہ کاری راغب کرنا ہے۔</strong></p>
<p>اس حوالے سے اسٹیٹ بینک نے باضابطہ سرکلر جاری کر دیا ہے ۔اسٹیٹ بینک کے مطابق نیا پاکستان سرٹیفکیٹس اس سے قبل پاکستانی روپے، امریکی ڈالر، برطانوی پاؤنڈ اور یورو میں دستیاب تھے۔</p>
<p>اسکیم کی حالیہ توسیع کے بعد سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں مقیم سمندر پار پاکستانی اب اپنی مقامی کرنسیوں یعنی سعودی ریال اور اماراتی درہم میں بھی نیا پاکستان سرٹیفکیٹس میں سرمایہ کاری کر سکتے ہیں جس سے سرمایہ کاری کا عمل مزید آسان اور قابلِ رسائی ہو جائے گا۔ امید ہے کہ اس اقدام سے اوورسیز پاکستانیوں کو ان کرنسیوں میں سرمایہ کاری کے زیادہ آسان مواقع ملیں گے جو خلیج تعاون کونسل کے ممالک میں عام طور پر استعمال ہوتی ہیں۔ وقت فوقتاً جاری ہونے والے فنانس ڈویژن کے سرکلرز کے ذریعے نوٹیفائیڈ سرٹیفکیٹس میں سرمایہ کاری کا طریقہ کار، متواتر کوپن کی ادائیگیاں (منافع کی رقم)، وقت سے پہلے کیش کروانا اور میچورٹی پر رقم کی واپسی کے قوانین اب سعودی ریال اور اماراتی درہم مالیت کے نیا پاکستان سرٹیفکیٹس پر بھی لاگو ہوں گے۔ تاہم نامزد ایجنٹ بینک سرٹیفکیٹس کی اصل مالیت اسٹیٹ بینک آف پاکستانکے نوسٹرو  اکاؤنٹس میں منتقل کریں گے۔</p>
<p>وفاقی حکومت نے نیا پاکستان سرٹیفکیٹس پر منافع کی شرح میں بھی نظرثانی کر دی ہے اور یکم جون 2026 سے روایتی این پی سیز پر نئی شرحِ منافع کے نفاذ کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔</p>
<p>کم از کم 1,000 امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری اور اس کے بعد 500 امریکی ڈالر کے اضافے پر مجموعی سالانہ منافع (ٹیکس سے پہلے)میں 25 بیسس پوائنٹس تک کی نظرثانی کی گئی ہے۔  تین ماہ کی مدت کے نیا پاکستان سرٹیفکیٹ کی شرح 7  سے کم کر کے 6.75 فیصد کر دی گئی ہے۔ 6 ماہ اور 3 سال کی مدت کے سرٹیفکیٹس پر منافع کی شرح بالترتیب 7 فیصد اور 7.50 فیصد پر برقرار رکھی گئی ہے۔ دوسری جانب 12 ماہ کے نیا پاکستان سرٹیفکیٹ پر اب 7.25 فیصد منافع پیش کیا جا رہا ہےجو کہ گزشتہ 7 فیصد سے معمولی زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ، 5 سالہ مدت کے سرٹیفکیٹ کا منافع 25 بیسس پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ بڑھا کر 7.75 فیصد کر دیا گیا ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287008</guid>
      <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 01:00:35 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رضوان بھٹی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/030057235dc4ab4.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/030057235dc4ab4.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران کے ساتھ بات چیت مسلسل جاری ہے، ٹرمپ کا دعویٰ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287007/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت ’’مسلسل جاری‘‘ ہے، اور انہوں نے ان خبروں کی تردید کی جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ لبنان پر اسرائیلی حملوں کے باعث تہران نے واشنگٹن سے رابطے منقطع کر دیے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ مذاکرات کا انجام کیا ہوگا، اس بارے میں ’’کچھ نہیں کہا جا سکتا‘‘، کیونکہ کئی ہفتوں سے جاری براہِ راست اور بالواسطہ بات چیت 28 فروری کو شروع ہونے والی امریکہ،اسرائیل اور ایران جنگ کے خاتمے میں تاحال کامیاب نہیں ہو سکی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا، ’’یہ خبریں کہ اسلامی جمہوریہ ایران اور امریکہ نے چند روز قبل ایک دوسرے سے بات چیت بند کر دی ہے، جھوٹی اور گمراہ کن ہیں۔‘‘&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.brecorder.com/medium/2026/06/022234258115a23.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/medium/2026/06/022234258115a23.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے کہا کہ ’’ہمارے درمیان بات چیت کا سلسلہ مسلسل جاری ہے، چار روز پہلے بھی، تین روز پہلے بھی، دو روز پہلے بھی، گزشتہ روز بھی اور آج بھی۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ ’’یہ مذاکرات کہاں جا کر ختم ہوں گے، اس بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا، لیکن جیسا کہ میں نے ایران سے کہا ہے، ’اب وقت آ گیا ہے کہ کسی نہ کسی صورت ایک معاہدہ کر لیا جائے۔ آپ 47 برس سے یہی طرزِ عمل اپنائے ہوئے ہیں اور اب اسے مزید جاری رہنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔‘‘‘&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت ’’مسلسل جاری‘‘ ہے، اور انہوں نے ان خبروں کی تردید کی جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ لبنان پر اسرائیلی حملوں کے باعث تہران نے واشنگٹن سے رابطے منقطع کر دیے ہیں۔</strong></p>
<p>ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ مذاکرات کا انجام کیا ہوگا، اس بارے میں ’’کچھ نہیں کہا جا سکتا‘‘، کیونکہ کئی ہفتوں سے جاری براہِ راست اور بالواسطہ بات چیت 28 فروری کو شروع ہونے والی امریکہ،اسرائیل اور ایران جنگ کے خاتمے میں تاحال کامیاب نہیں ہو سکی۔</p>
<p>ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا، ’’یہ خبریں کہ اسلامی جمہوریہ ایران اور امریکہ نے چند روز قبل ایک دوسرے سے بات چیت بند کر دی ہے، جھوٹی اور گمراہ کن ہیں۔‘‘</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.brecorder.com/medium/2026/06/022234258115a23.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/medium/2026/06/022234258115a23.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>ٹرمپ نے کہا کہ ’’ہمارے درمیان بات چیت کا سلسلہ مسلسل جاری ہے، چار روز پہلے بھی، تین روز پہلے بھی، دو روز پہلے بھی، گزشتہ روز بھی اور آج بھی۔‘‘</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ ’’یہ مذاکرات کہاں جا کر ختم ہوں گے، اس بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا، لیکن جیسا کہ میں نے ایران سے کہا ہے، ’اب وقت آ گیا ہے کہ کسی نہ کسی صورت ایک معاہدہ کر لیا جائے۔ آپ 47 برس سے یہی طرزِ عمل اپنائے ہوئے ہیں اور اب اسے مزید جاری رہنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔‘‘‘</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287007</guid>
      <pubDate>Tue, 02 Jun 2026 23:25:26 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/02231325e12eea0.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/02231325e12eea0.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان اور 7 دیگر مسلم ممالک کی جانب سے مسجدِ اقصیٰ میں اسرائیلی دراندازیوں کی شدید مذمت</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287006/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک نے منگل کے روز مسجدِ اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل دراندازیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسرائیل سے ایسے تمام اشتعال انگیز اقدامات فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشترکہ بیان میں مسلم ممالک نے یروشلم اور وہاں واقع اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’پاکستان، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ اسرائیلی افواج کی سرپرستی میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی جانب سے مسجدِ اقصیٰ/الحرم الشریف میں مسلسل دراندازیوں اور اس کے احاطوں میں اسرائیلی پرچم لہرانے کے اقدامات کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔‘‘&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/ForeignOfficePk/status/2061836009747472441'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/ForeignOfficePk/status/2061836009747472441"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا، ’’یہ ممالک اس بات پر زور دیتے ہیں کہ یہ اشتعال انگیز اور ناقابلِ قبول اقدامات بین الاقوامی قانون، اقوامِ متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مسلم ممالک نے مزید کہا کہ وہ اسرائیل، جو ایک قابض طاقت ہے، کی جانب سے جاری ’’مسلسل اور منظم خلاف ورزیوں اور اقدامات‘‘ کی بھی مذمت کرتے ہیں، جن کا مقصد مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی شناخت کو تبدیل کرنا اور وہاں موجود اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تقدس اور حیثیت کو نقصان پہنچانا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان کے مطابق، ’’وزرائے خارجہ یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت میں تبدیلی کی کسی بھی کوشش کو دوٹوک انداز میں مسترد کرتے ہیں اور اس حیثیت کے تحفظ پر زور دیتے ہیں، جبکہ اس حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے تاریخی کردار کو بھی تسلیم کرتے ہیں۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ مسجدِ اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم پر مشتمل احاطہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے، اور اردن کی وزارتِ اوقاف و اسلامی امور کے تحت قائم محکمہ اوقافِ یروشلم و امورِ مسجدِ اقصیٰ ہی وہ واحد قانونی ادارہ ہے جسے مسجدِ اقصیٰ/الحرم الشریف کے انتظام و انصرام اور وہاں داخلے کے امور کو منظم کرنے کا اختیار حاصل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کو ان اشتعال انگیز اقدامات کی روک تھام کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اسرائیل کی بار بار کی خلاف ورزیاں کشیدگی میں اضافہ، عدم استحکام اور انتہاپسندی کو ہوا دینے، امن کے قیام کے لیے بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچانے اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی واضح خلاف ورزی کا سبب بن رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اسرائیل سے ایسے تمام غیر قانونی اور اشتعال انگیز اقدامات فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ کیا اور مسجدِ اقصیٰ/الحرم الشریف کی تاریخی اور قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا، ’’وزرائے خارجہ فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی اور ان کے جائز و ناقابلِ تنسیخ قومی حقوق کی بھرپور حمایت کا اعادہ کرتے ہیں، جن میں حقِ خودارادیت اور 1967 کی سرحدوں کے مطابق ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کا قیام سرفہرست ہے، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ وہ اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور بین الاقوامی قانون، اقوامِ متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور عرب امن منصوبے کے مطابق دو ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، پائیدار اور جامع امن کے قیام کے لیے کی جانے والی تمام کوششوں کی حمایت جاری رکھیں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک نے منگل کے روز مسجدِ اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل دراندازیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسرائیل سے ایسے تمام اشتعال انگیز اقدامات فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔</strong></p>
<p>مشترکہ بیان میں مسلم ممالک نے یروشلم اور وہاں واقع اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔</p>
<p>بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’پاکستان، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ اسرائیلی افواج کی سرپرستی میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی جانب سے مسجدِ اقصیٰ/الحرم الشریف میں مسلسل دراندازیوں اور اس کے احاطوں میں اسرائیلی پرچم لہرانے کے اقدامات کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔‘‘</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/ForeignOfficePk/status/2061836009747472441'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/ForeignOfficePk/status/2061836009747472441"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>بیان میں کہا گیا، ’’یہ ممالک اس بات پر زور دیتے ہیں کہ یہ اشتعال انگیز اور ناقابلِ قبول اقدامات بین الاقوامی قانون، اقوامِ متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔‘‘</p>
<p>مسلم ممالک نے مزید کہا کہ وہ اسرائیل، جو ایک قابض طاقت ہے، کی جانب سے جاری ’’مسلسل اور منظم خلاف ورزیوں اور اقدامات‘‘ کی بھی مذمت کرتے ہیں، جن کا مقصد مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی شناخت کو تبدیل کرنا اور وہاں موجود اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تقدس اور حیثیت کو نقصان پہنچانا ہے۔</p>
<p>بیان کے مطابق، ’’وزرائے خارجہ یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت میں تبدیلی کی کسی بھی کوشش کو دوٹوک انداز میں مسترد کرتے ہیں اور اس حیثیت کے تحفظ پر زور دیتے ہیں، جبکہ اس حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے تاریخی کردار کو بھی تسلیم کرتے ہیں۔‘‘</p>
<p>انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ مسجدِ اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم پر مشتمل احاطہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے، اور اردن کی وزارتِ اوقاف و اسلامی امور کے تحت قائم محکمہ اوقافِ یروشلم و امورِ مسجدِ اقصیٰ ہی وہ واحد قانونی ادارہ ہے جسے مسجدِ اقصیٰ/الحرم الشریف کے انتظام و انصرام اور وہاں داخلے کے امور کو منظم کرنے کا اختیار حاصل ہے۔</p>
<p>وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کو ان اشتعال انگیز اقدامات کی روک تھام کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اسرائیل کی بار بار کی خلاف ورزیاں کشیدگی میں اضافہ، عدم استحکام اور انتہاپسندی کو ہوا دینے، امن کے قیام کے لیے بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچانے اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی واضح خلاف ورزی کا سبب بن رہی ہیں۔</p>
<p>انہوں نے اسرائیل سے ایسے تمام غیر قانونی اور اشتعال انگیز اقدامات فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ کیا اور مسجدِ اقصیٰ/الحرم الشریف کی تاریخی اور قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔</p>
<p>بیان میں کہا گیا، ’’وزرائے خارجہ فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی اور ان کے جائز و ناقابلِ تنسیخ قومی حقوق کی بھرپور حمایت کا اعادہ کرتے ہیں، جن میں حقِ خودارادیت اور 1967 کی سرحدوں کے مطابق ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کا قیام سرفہرست ہے، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔‘‘</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ وہ اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور بین الاقوامی قانون، اقوامِ متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور عرب امن منصوبے کے مطابق دو ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، پائیدار اور جامع امن کے قیام کے لیے کی جانے والی تمام کوششوں کی حمایت جاری رکھیں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category/>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287006</guid>
      <pubDate>Tue, 02 Jun 2026 23:09:51 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/02225630d993afb.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/02225630d993afb.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کانگریس میں روبیو کو سخت سوالات کا سامنا، ایران جنگ چوتھے مہینے میں داخل</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287005/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان کے ارکان کو رواں ہفتے ایک نادر موقع ملا ہے کہ وہ وزیرِ خارجہ مارکو روبیو سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی پر کھلے عام سوالات کر سکیں، ایسے وقت میں جب ان کے ہم جماعت ریپبلکن اراکین بھی ایران جنگ پر تشویش کے آثار ظاہر کر رہے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روبیو، جو بیک وقت ٹرمپ کے قومی سلامتی کے مشیر کے طور پر بھی خدمات انجام دے رہے ہیں، نے منگل کی صبح سینیٹ کی خارجہ امور کمیٹی کے سامنے محکمہ خارجہ کے بجٹ کی درخواست کے بارے میں اپنا موقف پیش کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہیں آئندہ دو روز کے دوران ایوانِ نمائندگان کی خارجہ امور کمیٹی اور ایوان و سینیٹ کی تخصیصی ذیلی کمیٹیوں کے سامنے بھی پیش ہونا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ انتظامیہ نے کانگریس سے درخواست کی ہے کہ وہ خارجہ امور کے بجٹ میں مجوزہ 30 فیصد کٹوتی کی منظوری دے، جبکہ ساتھ ہی دفاعی اخراجات میں 50 فیصد اضافے کی کوشش بھی جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ خارجہ &lt;strong&gt;مارکو روبیو&lt;/strong&gt;، جو جنوری 2025 تک فلوریڈا سے سینیٹر رہے، سے قانون سازوں نے توقع ظاہر کی کہ وہ اپنے سابق ساتھی کی حیثیت سے ایران تنازع کے خاتمے کے لیے حکمتِ عملی واضح کریں گے۔ یہ تنازع 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد شروع ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="ایران-جنگ-پر-روبیو-کی-پہلی-عوامی-گواہی" href="#ایران-جنگ-پر-روبیو-کی-پہلی-عوامی-گواہی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;ایران جنگ پر روبیو کی پہلی عوامی گواہی&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;روبیو اس سے قبل ایران جنگ پر اعلیٰ حکومتی حکام کے ساتھ کانگریس ارکان کو بند دروازوں کے پیچھے بریفنگ دیتے رہے ہیں، تاہم یہ ان کی اس تنازع پر پہلی عوامی گواہی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینیٹ کی خارجہ امور کمیٹی کی اعلیٰ ڈیموکریٹ رکن جین شیہن نے روبیو پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ کانگریس کو انتظامیہ کے منصوبوں سے متعلق معلومات فراہم کرنے میں ناکام رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ”جب میں اپنے ووٹرز سے بات کرتی ہوں تو وہ ملک میں معاشی ریلیف مانگتے ہیں، نہ کہ ہوانا، کاراکاس یا تہران میں حکومت کی تبدیلی۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا ”آپ نے کانگریس کو ایک وار پاورز نوٹیفکیشن بھیجا جس میں کہا گیا کہ ہم ایران کے ساتھ فعال جنگی حالت میں نہیں ہیں، جبکہ امریکہ ایران پر حملے کر رہا تھا اور ایران مشرقِ وسطیٰ میں امریکی سفارتخانوں اور اڈوں کو نشانہ بنا رہا تھا۔ یہ مشاورت نہیں تھی بلکہ اس جنگ پر اس کمیٹی اور کانگریس کو جواب دہی سے بچنے کی کوشش تھی۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی عوام میں بڑھتی ہوئی مہنگائی پر شدید تشویش پائی جاتی ہے، جبکہ ٹرمپ کی جماعت کے ریپبلکن ارکان بھی امید کر رہے ہیں کہ وہ نومبر کے انتخابات سے قبل آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور پیٹرول کی قیمتیں کم کرنے میں کامیاب ہوں گے، تاکہ کانگریس میں اپنی کمزور اکثریت برقرار رکھ سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="ایران-جنگ-ختم-کرنے-کی-کوششیں" href="#ایران-جنگ-ختم-کرنے-کی-کوششیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;ایران جنگ ختم کرنے کی کوششیں&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;صدر ٹرمپ کو اپنی ہی جماعت کے ان ارکان کا بھی سامنا ہے جو ایران کے ساتھ کسی بھی قسم کی نرمی کے سخت مخالف ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ اور ان کے حامیوں کے مطابق یہ جنگ اس صورت میں درست ثابت ہوگی اگر ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکا جا سکے۔ ٹرمپ یہ بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ پیٹرول کی قیمتیں کم ہوں گی اور وہ کئی ہفتوں سے اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ وہ جنگ کے خاتمے کے لیے ایک “بہتر معاہدہ” کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روبیو نے سینیٹرز کو بتایا کہ ایران اپنے روایتی ہتھیاروں کی صلاحیتوں کو اپنے جوہری پروگرام کے لیے ایک “ڈھال” کے طور پر استعمال کرنا چاہتا تھا۔ ان کے مطابق، “وہ ایک روایتی دفاعی ڈھال تیار کر کے اس کے پیچھے اپنا جوہری پروگرام چھپانا چاہتے تھے۔” اسی وجہ سے صدر ٹرمپ نے جنگ شروع کرنا ضروری سمجھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قانون سازوں، بشمول ٹرمپ کی اپنی جماعت کے کچھ ارکان، نے ایران اور دیگر خارجہ پالیسی اہداف پر انتظامیہ سے مزید تفصیلات کا مطالبہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ماہ امریکی سینیٹ نے ایک وار پاورز قرارداد کو آگے بڑھانے کی منظوری دی تھی، جس کے تحت اگر ٹرمپ کانگریس کی اجازت حاصل نہ کریں تو ایران جنگ ختم کی جا سکتی ہے۔ چند روز بعد ایوانِ نمائندگان کی قیادت نے ایسی ہی ایک قرارداد پر ووٹ اس وقت مؤخر کر دیا جب اس کی منظوری کے امکانات بڑھ گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ارکانِ کانگریس نے وینزویلا سے متعلق بھی مزید معلومات کا مطالبہ کیا ہے، خصوصاً اس صورتحال کے بعد جب ٹرمپ نے 3 جنوری کو وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کے خلاف کارروائی کی اور ان کی نائب شخصیت عبوری صدر کے طور پر کام کر رہی ہے، جبکہ نئے انتخابات کا کوئی واضح منصوبہ موجود نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قانون سازوں نے وینزویلا کے ساحل کے قریب امریکی فورسز کی کشتیوں پر حملوں سے متعلق بھی سوالات اٹھائے ہیں، جو ستمبر سے جاری ایک مہم کا حصہ ہیں۔ انتظامیہ کے مطابق یہ کارروائیاں ”منشیات اسمگلروں“ کے خلاف ہیں، جن میں 200 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ کیوبا کے حوالے سے بھی سوالات سامنے آئے ہیں، جہاں کمیونسٹ حکومت پر دباؤ بڑھنے کے ساتھ ساتھ ممکنہ امریکی فوجی کارروائی کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ افریقا میں مہلک بیماری ایبولا کے پھیلاؤ نے بھی نئی تشویش پیدا کر دی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان کے ارکان کو رواں ہفتے ایک نادر موقع ملا ہے کہ وہ وزیرِ خارجہ مارکو روبیو سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی پر کھلے عام سوالات کر سکیں، ایسے وقت میں جب ان کے ہم جماعت ریپبلکن اراکین بھی ایران جنگ پر تشویش کے آثار ظاہر کر رہے ہیں۔</strong></p>
<p>روبیو، جو بیک وقت ٹرمپ کے قومی سلامتی کے مشیر کے طور پر بھی خدمات انجام دے رہے ہیں، نے منگل کی صبح سینیٹ کی خارجہ امور کمیٹی کے سامنے محکمہ خارجہ کے بجٹ کی درخواست کے بارے میں اپنا موقف پیش کیا۔</p>
<p>انہیں آئندہ دو روز کے دوران ایوانِ نمائندگان کی خارجہ امور کمیٹی اور ایوان و سینیٹ کی تخصیصی ذیلی کمیٹیوں کے سامنے بھی پیش ہونا تھا۔</p>
<p>ٹرمپ انتظامیہ نے کانگریس سے درخواست کی ہے کہ وہ خارجہ امور کے بجٹ میں مجوزہ 30 فیصد کٹوتی کی منظوری دے، جبکہ ساتھ ہی دفاعی اخراجات میں 50 فیصد اضافے کی کوشش بھی جاری ہے۔</p>
<p>وزیرِ خارجہ <strong>مارکو روبیو</strong>، جو جنوری 2025 تک فلوریڈا سے سینیٹر رہے، سے قانون سازوں نے توقع ظاہر کی کہ وہ اپنے سابق ساتھی کی حیثیت سے ایران تنازع کے خاتمے کے لیے حکمتِ عملی واضح کریں گے۔ یہ تنازع 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد شروع ہوا تھا۔</p>
<h3><a id="ایران-جنگ-پر-روبیو-کی-پہلی-عوامی-گواہی" href="#ایران-جنگ-پر-روبیو-کی-پہلی-عوامی-گواہی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>ایران جنگ پر روبیو کی پہلی عوامی گواہی</h3>
<p>روبیو اس سے قبل ایران جنگ پر اعلیٰ حکومتی حکام کے ساتھ کانگریس ارکان کو بند دروازوں کے پیچھے بریفنگ دیتے رہے ہیں، تاہم یہ ان کی اس تنازع پر پہلی عوامی گواہی تھی۔</p>
<p>سینیٹ کی خارجہ امور کمیٹی کی اعلیٰ ڈیموکریٹ رکن جین شیہن نے روبیو پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ کانگریس کو انتظامیہ کے منصوبوں سے متعلق معلومات فراہم کرنے میں ناکام رہے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ”جب میں اپنے ووٹرز سے بات کرتی ہوں تو وہ ملک میں معاشی ریلیف مانگتے ہیں، نہ کہ ہوانا، کاراکاس یا تہران میں حکومت کی تبدیلی۔“</p>
<p>انہوں نے مزید کہا ”آپ نے کانگریس کو ایک وار پاورز نوٹیفکیشن بھیجا جس میں کہا گیا کہ ہم ایران کے ساتھ فعال جنگی حالت میں نہیں ہیں، جبکہ امریکہ ایران پر حملے کر رہا تھا اور ایران مشرقِ وسطیٰ میں امریکی سفارتخانوں اور اڈوں کو نشانہ بنا رہا تھا۔ یہ مشاورت نہیں تھی بلکہ اس جنگ پر اس کمیٹی اور کانگریس کو جواب دہی سے بچنے کی کوشش تھی۔“</p>
<p>امریکی عوام میں بڑھتی ہوئی مہنگائی پر شدید تشویش پائی جاتی ہے، جبکہ ٹرمپ کی جماعت کے ریپبلکن ارکان بھی امید کر رہے ہیں کہ وہ نومبر کے انتخابات سے قبل آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور پیٹرول کی قیمتیں کم کرنے میں کامیاب ہوں گے، تاکہ کانگریس میں اپنی کمزور اکثریت برقرار رکھ سکیں۔</p>
<h3><a id="ایران-جنگ-ختم-کرنے-کی-کوششیں" href="#ایران-جنگ-ختم-کرنے-کی-کوششیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>ایران جنگ ختم کرنے کی کوششیں</h3>
<p>صدر ٹرمپ کو اپنی ہی جماعت کے ان ارکان کا بھی سامنا ہے جو ایران کے ساتھ کسی بھی قسم کی نرمی کے سخت مخالف ہیں۔</p>
<p>ٹرمپ اور ان کے حامیوں کے مطابق یہ جنگ اس صورت میں درست ثابت ہوگی اگر ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکا جا سکے۔ ٹرمپ یہ بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ پیٹرول کی قیمتیں کم ہوں گی اور وہ کئی ہفتوں سے اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ وہ جنگ کے خاتمے کے لیے ایک “بہتر معاہدہ” کریں گے۔</p>
<p>روبیو نے سینیٹرز کو بتایا کہ ایران اپنے روایتی ہتھیاروں کی صلاحیتوں کو اپنے جوہری پروگرام کے لیے ایک “ڈھال” کے طور پر استعمال کرنا چاہتا تھا۔ ان کے مطابق، “وہ ایک روایتی دفاعی ڈھال تیار کر کے اس کے پیچھے اپنا جوہری پروگرام چھپانا چاہتے تھے۔” اسی وجہ سے صدر ٹرمپ نے جنگ شروع کرنا ضروری سمجھا۔</p>
<p>قانون سازوں، بشمول ٹرمپ کی اپنی جماعت کے کچھ ارکان، نے ایران اور دیگر خارجہ پالیسی اہداف پر انتظامیہ سے مزید تفصیلات کا مطالبہ کیا ہے۔</p>
<p>گزشتہ ماہ امریکی سینیٹ نے ایک وار پاورز قرارداد کو آگے بڑھانے کی منظوری دی تھی، جس کے تحت اگر ٹرمپ کانگریس کی اجازت حاصل نہ کریں تو ایران جنگ ختم کی جا سکتی ہے۔ چند روز بعد ایوانِ نمائندگان کی قیادت نے ایسی ہی ایک قرارداد پر ووٹ اس وقت مؤخر کر دیا جب اس کی منظوری کے امکانات بڑھ گئے تھے۔</p>
<p>ارکانِ کانگریس نے وینزویلا سے متعلق بھی مزید معلومات کا مطالبہ کیا ہے، خصوصاً اس صورتحال کے بعد جب ٹرمپ نے 3 جنوری کو وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کے خلاف کارروائی کی اور ان کی نائب شخصیت عبوری صدر کے طور پر کام کر رہی ہے، جبکہ نئے انتخابات کا کوئی واضح منصوبہ موجود نہیں۔</p>
<p>قانون سازوں نے وینزویلا کے ساحل کے قریب امریکی فورسز کی کشتیوں پر حملوں سے متعلق بھی سوالات اٹھائے ہیں، جو ستمبر سے جاری ایک مہم کا حصہ ہیں۔ انتظامیہ کے مطابق یہ کارروائیاں ”منشیات اسمگلروں“ کے خلاف ہیں، جن میں 200 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔</p>
<p>اس کے علاوہ کیوبا کے حوالے سے بھی سوالات سامنے آئے ہیں، جہاں کمیونسٹ حکومت پر دباؤ بڑھنے کے ساتھ ساتھ ممکنہ امریکی فوجی کارروائی کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ افریقا میں مہلک بیماری ایبولا کے پھیلاؤ نے بھی نئی تشویش پیدا کر دی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category/>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287005</guid>
      <pubDate>Tue, 02 Jun 2026 21:53:11 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/02233023f59a6ad.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/02233023f59a6ad.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 17 دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا گیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287004/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) نے منگل کے روز کہا ہے کہ بلوچستان میں مختلف انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیوں کے دوران 17 دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایس پی آر کے مطابق یہ کارروائیاں گزشتہ ماہ کوئٹہ میں ٹرین پر ہونے والے خودکش حملے کے بعد کی گئیں، جس میں 30 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا کہ 24 مئی 2026 کے واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے اضلاع مستونگ، نوشکی، زہری، خضدار اور کیچ میں سلسلہ وار انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایس پی آر کے مطابق کارروائیوں کے دوران سیکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کے متعدد ٹھکانوں کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا، جس کے بعد شدید فائرنگ کے تبادلے میں 17 دہشتگرد ہلاک ہو گئے، جن کا تعلق بھارت کی سرپرستی میں کام کرنے والے ’’فتنہ الہندوستان‘‘ سے بتایا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں مزید کہا گیا کہ ہلاک دہشتگرد علاقے میں متعدد کارروائیوں میں سرگرم رہے تھے، جبکہ ان کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود اور بڑی مقدار میں دھماکہ خیز مواد اور تیار شدہ آئی ای ڈیز بھی برآمد کیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایس پی آر کے مطابق ان علاقوں میں کلیئرنس اور سینیٹائزیشن آپریشنز جاری ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ ’’عزمِ استحکام‘‘ کے وژن کے تحت انسدادِ دہشتگردی مہم بھرپور انداز میں جاری رہے گی، تاکہ ملک سے بیرونی سرپرستی میں ہونے والی دہشتگردی کے مکمل خاتمے کو یقینی بنایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) نے منگل کے روز کہا ہے کہ بلوچستان میں مختلف انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیوں کے دوران 17 دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔</strong></p>
<p>آئی ایس پی آر کے مطابق یہ کارروائیاں گزشتہ ماہ کوئٹہ میں ٹرین پر ہونے والے خودکش حملے کے بعد کی گئیں، جس میں 30 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے تھے۔</p>
<p>بیان میں کہا گیا کہ 24 مئی 2026 کے واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے اضلاع مستونگ، نوشکی، زہری، خضدار اور کیچ میں سلسلہ وار انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے۔</p>
<p>آئی ایس پی آر کے مطابق کارروائیوں کے دوران سیکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کے متعدد ٹھکانوں کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا، جس کے بعد شدید فائرنگ کے تبادلے میں 17 دہشتگرد ہلاک ہو گئے، جن کا تعلق بھارت کی سرپرستی میں کام کرنے والے ’’فتنہ الہندوستان‘‘ سے بتایا گیا ہے۔</p>
<p>بیان میں مزید کہا گیا کہ ہلاک دہشتگرد علاقے میں متعدد کارروائیوں میں سرگرم رہے تھے، جبکہ ان کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود اور بڑی مقدار میں دھماکہ خیز مواد اور تیار شدہ آئی ای ڈیز بھی برآمد کیے گئے ہیں۔</p>
<p>آئی ایس پی آر کے مطابق ان علاقوں میں کلیئرنس اور سینیٹائزیشن آپریشنز جاری ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ ’’عزمِ استحکام‘‘ کے وژن کے تحت انسدادِ دہشتگردی مہم بھرپور انداز میں جاری رہے گی، تاکہ ملک سے بیرونی سرپرستی میں ہونے والی دہشتگردی کے مکمل خاتمے کو یقینی بنایا جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287004</guid>
      <pubDate>Tue, 02 Jun 2026 21:29:28 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/022120551f7c6a8.webp" type="image/webp" medium="image" height="483" width="696">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/022120551f7c6a8.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>رونالڈو ادھورا مشن ساتھ لیے چھٹے ورلڈ کپ کے لیے تیار</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287003/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کرسٹیانو رونالڈو نے فٹبال کی ریکارڈ بک کو اس قدر نئے زاویے دیے ہیں کہ ایک اور سنگِ میل اب گویا معمول کی بات محسوس ہونے لگا ہے، تاہم 41 برس کی عمر میں چھٹا ورلڈ کپ کھیلنا ان کے اپنے معیار پر بھی ایک غیر معمولی کارنامہ ہوگا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2026 کا ٹورنامنٹ رونالڈو کے طویل اور اکثر کٹھن ورلڈ کپ سفر میں ایک اور پڑاؤ کا اضافہ کرے گا، جس کا آغاز 2006 میں جرمنی سے ہوا تھا اور جو جنوبی افریقہ، برازیل، روس اور قطر تک پھیلتا چلا گیا، مگر وہ اب تک اس انعام کے حصول میں کامیاب نہیں ہو سکے جس کے وہ برسوں سے متلاشی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صرف لیونل میسی ہی ان کے چھ ورلڈ کپ میں شرکت کے ریکارڈ کی برابری کے قریب ہیں، جو اس تاریخی رقابت کا ایک اور نیا موڑ ہے، ایک ایسی رقابت جو ریال میڈرڈ اور بارسلونا کی ٹکر سے شروع ہو کر بیلن ڈی آر کی محفلوں تک پہنچی اور اب فٹبال کی تاریخ کے سب سے بڑے ریکارڈز کے باب میں داخل ہو چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میسی کے پاس آٹھ بیلن ڈی اور ایوارڈز ہیں جبکہ رونالڈو پانچ مرتبہ اس اعزاز کے حق دار ٹھہرے ہیں۔ دونوں عظیم کھلاڑی اپنی شاندار کہانیوں میں اب بھی نئے ابواب کی گنجائش پیدا کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رونالڈو کے لیے ورلڈ کپ وہ واحد بڑا مرحلہ رہا ہے جو کبھی مکمل طور پر ان کے قابو میں نہیں آ سکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا بہترین سفر 2006 میں سامنے آیا، جب پرتگال فرانس کے ہاتھوں شکست سے قبل سیمی فائنل تک پہنچا۔ اس کے بعد دو مرتبہ راؤنڈ آف 16 سے باہر ہونا، ایک کوارٹر فائنل میں شکست اور 2014 میں برازیل میں گروپ مرحلے سے مایوس کن اخراج ان کے حصے میں آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس بار پرتگال کو گروپ K میں ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو، ڈیبیو کرنے والے ازبکستان اور کولمبیا کا سامنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پانچ ورلڈ کپ ٹورنامنٹس میں رونالڈو 22 میچ کھیل چکے ہیں اور آٹھ گول اسکور کیے ہیں—عام کھلاڑی کے لیے یہ شاندار ریکارڈ ہے، لیکن اس فارورڈ کے معیار کے مقابلے میں نسبتاً کم، جس نے کلب سطح پر غیر معمولی کارکردگی کو معمول بنا دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قطر 2022 ان کے ورلڈ کپ سفر کے اختتام کا تاثر دے رہا تھا۔ وہ مانچسٹر یونائیٹڈ سے علیحدگی کے شور میں ٹورنامنٹ میں آئے، ایک گول کیا، لیکن جنوبی کوریا سے 2-1 کی شکست کے بعد کوچ فرنینڈو سانتوس نے انہیں سوئٹزرلینڈ کے خلاف ناک آؤٹ میچ میں بینچ پر بٹھا دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اس کے برعکس وہ رابرٹو مارٹینیز کی قیادت میں ایک بار پھر میدان میں واپس آئے ہیں، ایک ایسے کھلاڑی کے عزم کے ساتھ جو وقت کو بھی ایک رکاوٹ سمجھ کر عبور کرتا چلا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پرتگال کے پاس اس وقت ایک شاندار معاون دستہ موجود ہے، جس میں وِتِینا، جواؤ نیویس، برونو فرنانڈیز اور نونو مینڈیز جیسے نام شامل ہیں، مگر اس کے باوجود رونالڈو ہی توجہ کا مرکزی محور ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورو 2024 میں مایوس کن کوارٹر فائنل اخراج کے بعد پرتگال نے نیشنز لیگ کے فائنل میں یورپی چیمپئن اسپین کو زیر کر کے شاندار واپسی کی اور اب وہ شمالی امریکہ میں مضبوط فارم کے ساتھ پہنچ رہے ہیں، جہاں رونالڈو ان کے قائد کی حیثیت سے موجود ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارٹینیز کے مطابق اعداد و شمار اب بھی رونالڈو کی اہمیت کے گواہ ہیں: ان کی کوچنگ میں 30 میچوں میں 25 گول—یعنی فی میچ اوسط ان کے سابق قومی کوچز سے بہتر—اور ایسے بے شمار کردار جو محض گول اسکورنگ میں ظاہر نہیں ہوتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے رائٹرز سے گفتگو میں کہا، ’’وہ اپنی رننگ موومنٹس، اسپیس بنانے اور سینٹر بیک کو الجھانے میں غیر معمولی مہارت رکھتے ہیں۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارٹینیز نے مزید کہا، ’’جس نے سب کچھ جیت لیا ہو، اس میں بھی وہی بھوک نظر آتی ہے جو کسی ایسے کھلاڑی میں ہوتی ہے جس نے ابھی کچھ بھی حاصل نہ کیا ہو۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رونالڈو کے لیے 2026 عالمی اسٹیج پر شاید آخری باب ثابت ہو،اگرچہ یہ بات پہلے بھی کئی بار کہی جا چکی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کرسٹیانو رونالڈو نے فٹبال کی ریکارڈ بک کو اس قدر نئے زاویے دیے ہیں کہ ایک اور سنگِ میل اب گویا معمول کی بات محسوس ہونے لگا ہے، تاہم 41 برس کی عمر میں چھٹا ورلڈ کپ کھیلنا ان کے اپنے معیار پر بھی ایک غیر معمولی کارنامہ ہوگا۔</strong></p>
<p>2026 کا ٹورنامنٹ رونالڈو کے طویل اور اکثر کٹھن ورلڈ کپ سفر میں ایک اور پڑاؤ کا اضافہ کرے گا، جس کا آغاز 2006 میں جرمنی سے ہوا تھا اور جو جنوبی افریقہ، برازیل، روس اور قطر تک پھیلتا چلا گیا، مگر وہ اب تک اس انعام کے حصول میں کامیاب نہیں ہو سکے جس کے وہ برسوں سے متلاشی ہیں۔</p>
<p>صرف لیونل میسی ہی ان کے چھ ورلڈ کپ میں شرکت کے ریکارڈ کی برابری کے قریب ہیں، جو اس تاریخی رقابت کا ایک اور نیا موڑ ہے، ایک ایسی رقابت جو ریال میڈرڈ اور بارسلونا کی ٹکر سے شروع ہو کر بیلن ڈی آر کی محفلوں تک پہنچی اور اب فٹبال کی تاریخ کے سب سے بڑے ریکارڈز کے باب میں داخل ہو چکی ہے۔</p>
<p>میسی کے پاس آٹھ بیلن ڈی اور ایوارڈز ہیں جبکہ رونالڈو پانچ مرتبہ اس اعزاز کے حق دار ٹھہرے ہیں۔ دونوں عظیم کھلاڑی اپنی شاندار کہانیوں میں اب بھی نئے ابواب کی گنجائش پیدا کر رہے ہیں۔</p>
<p>رونالڈو کے لیے ورلڈ کپ وہ واحد بڑا مرحلہ رہا ہے جو کبھی مکمل طور پر ان کے قابو میں نہیں آ سکا۔</p>
<p>ان کا بہترین سفر 2006 میں سامنے آیا، جب پرتگال فرانس کے ہاتھوں شکست سے قبل سیمی فائنل تک پہنچا۔ اس کے بعد دو مرتبہ راؤنڈ آف 16 سے باہر ہونا، ایک کوارٹر فائنل میں شکست اور 2014 میں برازیل میں گروپ مرحلے سے مایوس کن اخراج ان کے حصے میں آیا۔</p>
<p>اس بار پرتگال کو گروپ K میں ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو، ڈیبیو کرنے والے ازبکستان اور کولمبیا کا سامنا ہوگا۔</p>
<p>پانچ ورلڈ کپ ٹورنامنٹس میں رونالڈو 22 میچ کھیل چکے ہیں اور آٹھ گول اسکور کیے ہیں—عام کھلاڑی کے لیے یہ شاندار ریکارڈ ہے، لیکن اس فارورڈ کے معیار کے مقابلے میں نسبتاً کم، جس نے کلب سطح پر غیر معمولی کارکردگی کو معمول بنا دیا۔</p>
<p>قطر 2022 ان کے ورلڈ کپ سفر کے اختتام کا تاثر دے رہا تھا۔ وہ مانچسٹر یونائیٹڈ سے علیحدگی کے شور میں ٹورنامنٹ میں آئے، ایک گول کیا، لیکن جنوبی کوریا سے 2-1 کی شکست کے بعد کوچ فرنینڈو سانتوس نے انہیں سوئٹزرلینڈ کے خلاف ناک آؤٹ میچ میں بینچ پر بٹھا دیا۔</p>
<p>تاہم اس کے برعکس وہ رابرٹو مارٹینیز کی قیادت میں ایک بار پھر میدان میں واپس آئے ہیں، ایک ایسے کھلاڑی کے عزم کے ساتھ جو وقت کو بھی ایک رکاوٹ سمجھ کر عبور کرتا چلا جاتا ہے۔</p>
<p>پرتگال کے پاس اس وقت ایک شاندار معاون دستہ موجود ہے، جس میں وِتِینا، جواؤ نیویس، برونو فرنانڈیز اور نونو مینڈیز جیسے نام شامل ہیں، مگر اس کے باوجود رونالڈو ہی توجہ کا مرکزی محور ہیں۔</p>
<p>یورو 2024 میں مایوس کن کوارٹر فائنل اخراج کے بعد پرتگال نے نیشنز لیگ کے فائنل میں یورپی چیمپئن اسپین کو زیر کر کے شاندار واپسی کی اور اب وہ شمالی امریکہ میں مضبوط فارم کے ساتھ پہنچ رہے ہیں، جہاں رونالڈو ان کے قائد کی حیثیت سے موجود ہوں گے۔</p>
<p>مارٹینیز کے مطابق اعداد و شمار اب بھی رونالڈو کی اہمیت کے گواہ ہیں: ان کی کوچنگ میں 30 میچوں میں 25 گول—یعنی فی میچ اوسط ان کے سابق قومی کوچز سے بہتر—اور ایسے بے شمار کردار جو محض گول اسکورنگ میں ظاہر نہیں ہوتے۔</p>
<p>انہوں نے رائٹرز سے گفتگو میں کہا، ’’وہ اپنی رننگ موومنٹس، اسپیس بنانے اور سینٹر بیک کو الجھانے میں غیر معمولی مہارت رکھتے ہیں۔‘‘</p>
<p>مارٹینیز نے مزید کہا، ’’جس نے سب کچھ جیت لیا ہو، اس میں بھی وہی بھوک نظر آتی ہے جو کسی ایسے کھلاڑی میں ہوتی ہے جس نے ابھی کچھ بھی حاصل نہ کیا ہو۔‘‘</p>
<p>رونالڈو کے لیے 2026 عالمی اسٹیج پر شاید آخری باب ثابت ہو،اگرچہ یہ بات پہلے بھی کئی بار کہی جا چکی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287003</guid>
      <pubDate>Tue, 02 Jun 2026 20:21:48 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/02201228c166d40.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/02201228c166d40.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران امریکہ جنگ : کویتی وزیر خارجہ کی علاقائی امن کے لیے پاکستان کے مثبت کردار کی تعریف</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287002/</link>
      <description>&lt;p&gt;کویت کے وزیرِ خارجہ شیخ جراح جابر الاحمد الصباح نے  پاکستان کے مسلسل ثالثی کردار اور امریکہ و ایران کے درمیان مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کی کوششوں کو سراہتے ہوئے علاقائی امن و سلامتی کے لیے پاکستان کے ”مثبت اور تعمیری کردار“ کی تعریف کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دفترِ خارجہ کے مطابق یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کویتی وزیرِ خارجہ سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور بدلتی ہوئی علاقائی و بین الاقوامی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دفترِ خارجہ کے مطابق وزیرِ خارجہ شیخ جراح نے پاکستان کے مسلسل ثالثی کردار اور امریکہ و ایران کے مابین رابطوں کو آسان بنانے کی کوششوں کی تعریف کی اور علاقائی امن و استحکام کے لیے اس کے تعمیری کردار کو سراہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں مزید کہا گیا کہ  نائب وزیرِ اعظم/وزیرِ خارجہ  اسحاق ڈار نے خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے سفارت کاری اور مسلسل مذاکرات کی حمایت کرنے کے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا، کیونکہ یہی بہترین راستہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں رہنماؤں نے اس امید کا اظہار کیا کہ جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج برآمد ہوں گے اور مستقبل قریب میں پائیدار امن قائم ہوگا۔ انہوں نے پاکستان اور کویت کے درمیان مضبوط برادرانہ تعلقات کو بھی دہرایا اور مستقبل میں قریبی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد کہ ”معاہدے کے لیے مذاکرات جاری ہیں“ ایرانی میڈیا نے منگل کو رپورٹ کیا کہ تہران دونوں ممالک کے درمیان جنگ روکنے کے لیے امریکہ کے ایک مجوزہ معاہدے کا جائزہ لے رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے شروع کیے جانے کے تین ماہ سے زیادہ کا عرصہ گزرنے کے بعد اب یہ تنازع ایک تعطل کا شکار ہو چکا ہے، جبکہ عبوری معاہدے کے لیے ہونے والے زیادہ تر بالواسطہ مذاکرات اب تک بے نتیجہ ثابت ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے آبنائے ہرمز کا بڑا حصہ بدستور بند ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کویت کے وزیرِ خارجہ شیخ جراح جابر الاحمد الصباح نے  پاکستان کے مسلسل ثالثی کردار اور امریکہ و ایران کے درمیان مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کی کوششوں کو سراہتے ہوئے علاقائی امن و سلامتی کے لیے پاکستان کے ”مثبت اور تعمیری کردار“ کی تعریف کی ہے۔</p>
<p>دفترِ خارجہ کے مطابق یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کویتی وزیرِ خارجہ سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور بدلتی ہوئی علاقائی و بین الاقوامی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔</p>
<p>دفترِ خارجہ کے مطابق وزیرِ خارجہ شیخ جراح نے پاکستان کے مسلسل ثالثی کردار اور امریکہ و ایران کے مابین رابطوں کو آسان بنانے کی کوششوں کی تعریف کی اور علاقائی امن و استحکام کے لیے اس کے تعمیری کردار کو سراہا۔</p>
<p>بیان میں مزید کہا گیا کہ  نائب وزیرِ اعظم/وزیرِ خارجہ  اسحاق ڈار نے خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے سفارت کاری اور مسلسل مذاکرات کی حمایت کرنے کے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا، کیونکہ یہی بہترین راستہ ہے۔</p>
<p>دونوں رہنماؤں نے اس امید کا اظہار کیا کہ جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج برآمد ہوں گے اور مستقبل قریب میں پائیدار امن قائم ہوگا۔ انہوں نے پاکستان اور کویت کے درمیان مضبوط برادرانہ تعلقات کو بھی دہرایا اور مستقبل میں قریبی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔</p>
<p>دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد کہ ”معاہدے کے لیے مذاکرات جاری ہیں“ ایرانی میڈیا نے منگل کو رپورٹ کیا کہ تہران دونوں ممالک کے درمیان جنگ روکنے کے لیے امریکہ کے ایک مجوزہ معاہدے کا جائزہ لے رہا ہے۔</p>
<p>امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے شروع کیے جانے کے تین ماہ سے زیادہ کا عرصہ گزرنے کے بعد اب یہ تنازع ایک تعطل کا شکار ہو چکا ہے، جبکہ عبوری معاہدے کے لیے ہونے والے زیادہ تر بالواسطہ مذاکرات اب تک بے نتیجہ ثابت ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے آبنائے ہرمز کا بڑا حصہ بدستور بند ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287002</guid>
      <pubDate>Tue, 02 Jun 2026 20:03:19 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/021959414018aa2.webp" type="image/webp" medium="image" height="1131" width="1600">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/021959414018aa2.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وینزویلا کی عبوری صدر 3 سے 7 جون تک بھارت کا دورہ کریں گی، توانائی سمیت دوطرفہ تعاون پر مذاکرات متوقع</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287001/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وینزویلا کی عبوری صدر ڈیلسی روڈریگیز 3 سے 7 جون تک بھارت کا دورہ کریں گی، ایسے وقت میں جب نئی دہلی کاراکاس سے خام تیل کی درآمدات میں تیزی سے اضافہ کر رہا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رائٹرز کے مطابق مئی میں بھارت وینزویلا سے تیل درآمد کرنے والا دوسرا بڑا خریدار رہا، جس نے یومیہ 4 لاکھ 27 ہزار بیرل خام تیل خریدا۔ اس فہرست میں امریکہ پہلے نمبر پر تھا، جبکہ بھارتی کمپنی ریلائنس انڈسٹریز حالیہ مہینوں میں وینزویلا کے خام تیل کی تین بڑی خریدار کمپنیوں میں شامل رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ دورے کے دوران ڈیلسی روڈریگیز بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی سے ملاقات اور مذاکرات کریں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ بات چیت میں دونوں ممالک کے دوطرفہ تعلقات کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا، جبکہ توانائی، تجارت، سرمایہ کاری، ادویات سازی، صحت، ٹرانسپورٹ اور قابلِ تجدید توانائی کے شعبوں میں تعاون کے امکانات بھی زیرِ غور آئیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا کہ ’’مذاکرات میں بھارت اور وینزویلا کے تعلقات کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کیا جائے گا اور توانائی، تجارت، سرمایہ کاری، ادویات سازی، صحت، ٹرانسپورٹ اور قابلِ تجدید توانائی کے شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے کے امکانات کا جائزہ لیا جائے گا۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روڈریگیز نے آخری بار فروری 2025 میں، جب وہ وینزویلا کی وزیرِ تیل تھیں، بھارت کا دورہ کیا تھا اور انڈیا انرجی ویک کانفرنس میں شرکت کرنے والے ایک وفد کی قیادت کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب دنیا کا تیسرا بڑا خام تیل درآمد اور استعمال کرنے والا ملک بھارت، ایران کے خلاف امریکہ اسرائیل جنگ کے باعث پیدا ہونے والی رسد کی رکاوٹوں سے نمٹنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس جنگ کے نتیجے میں آبنائے ہرمز تقریباً بند ہو چکی ہے، جو جنوبی ایشیائی ملک کی خام تیل درآمدات کے 40 فیصد سے زائد کی ترسیل کا اہم راستہ رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت نے گزشتہ سال وینزویلا سے تیل کی خریداری روک دی تھی، جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوبی امریکی ملک سے خام تیل خریدنے والے ممالک پر 25 فیصد صوابدیدی ٹیرف عائد کرنے کی منظوری دی تھی۔ تاہم فروری میں واشنگٹن اور کاراکاس کے درمیان تیل کی فراہمی سے متعلق ایک اہم معاہدے کے بعد پابندیوں میں نرمی کی گئی، جس کے نتیجے میں بھارت نے دوبارہ وینزویلا سے تیل خریدنا شروع کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس معاہدے کے تحت، جو جنوری میں صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کے بعد طے پایا، وینزویلا کے تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقوم امریکی محکمۂ خزانہ کے زیرِ انتظام بینک کھاتوں کے ذریعے کنٹرول کی جاتی ہیں، جبکہ تجارتی شرائط بھی واشنگٹن کی ہدایات کے مطابق طے کی جاتی ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وینزویلا کی عبوری صدر ڈیلسی روڈریگیز 3 سے 7 جون تک بھارت کا دورہ کریں گی، ایسے وقت میں جب نئی دہلی کاراکاس سے خام تیل کی درآمدات میں تیزی سے اضافہ کر رہا ہے۔</strong></p>
<p>رائٹرز کے مطابق مئی میں بھارت وینزویلا سے تیل درآمد کرنے والا دوسرا بڑا خریدار رہا، جس نے یومیہ 4 لاکھ 27 ہزار بیرل خام تیل خریدا۔ اس فہرست میں امریکہ پہلے نمبر پر تھا، جبکہ بھارتی کمپنی ریلائنس انڈسٹریز حالیہ مہینوں میں وینزویلا کے خام تیل کی تین بڑی خریدار کمپنیوں میں شامل رہی ہے۔</p>
<p>بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ دورے کے دوران ڈیلسی روڈریگیز بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی سے ملاقات اور مذاکرات کریں گی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ بات چیت میں دونوں ممالک کے دوطرفہ تعلقات کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا، جبکہ توانائی، تجارت، سرمایہ کاری، ادویات سازی، صحت، ٹرانسپورٹ اور قابلِ تجدید توانائی کے شعبوں میں تعاون کے امکانات بھی زیرِ غور آئیں گے۔</p>
<p>بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا کہ ’’مذاکرات میں بھارت اور وینزویلا کے تعلقات کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کیا جائے گا اور توانائی، تجارت، سرمایہ کاری، ادویات سازی، صحت، ٹرانسپورٹ اور قابلِ تجدید توانائی کے شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے کے امکانات کا جائزہ لیا جائے گا۔‘‘</p>
<p>روڈریگیز نے آخری بار فروری 2025 میں، جب وہ وینزویلا کی وزیرِ تیل تھیں، بھارت کا دورہ کیا تھا اور انڈیا انرجی ویک کانفرنس میں شرکت کرنے والے ایک وفد کی قیادت کی تھی۔</p>
<p>ان کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب دنیا کا تیسرا بڑا خام تیل درآمد اور استعمال کرنے والا ملک بھارت، ایران کے خلاف امریکہ اسرائیل جنگ کے باعث پیدا ہونے والی رسد کی رکاوٹوں سے نمٹنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس جنگ کے نتیجے میں آبنائے ہرمز تقریباً بند ہو چکی ہے، جو جنوبی ایشیائی ملک کی خام تیل درآمدات کے 40 فیصد سے زائد کی ترسیل کا اہم راستہ رہی ہے۔</p>
<p>بھارت نے گزشتہ سال وینزویلا سے تیل کی خریداری روک دی تھی، جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوبی امریکی ملک سے خام تیل خریدنے والے ممالک پر 25 فیصد صوابدیدی ٹیرف عائد کرنے کی منظوری دی تھی۔ تاہم فروری میں واشنگٹن اور کاراکاس کے درمیان تیل کی فراہمی سے متعلق ایک اہم معاہدے کے بعد پابندیوں میں نرمی کی گئی، جس کے نتیجے میں بھارت نے دوبارہ وینزویلا سے تیل خریدنا شروع کر دیا۔</p>
<p>اس معاہدے کے تحت، جو جنوری میں صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کے بعد طے پایا، وینزویلا کے تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقوم امریکی محکمۂ خزانہ کے زیرِ انتظام بینک کھاتوں کے ذریعے کنٹرول کی جاتی ہیں، جبکہ تجارتی شرائط بھی واشنگٹن کی ہدایات کے مطابق طے کی جاتی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287001</guid>
      <pubDate>Tue, 02 Jun 2026 19:57:40 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/021946322908a7d.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/021946322908a7d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اقوام متحدہ : ایران جنگ کی تباہ کاریاں بچوں کے لیے زندگی بچانے والی امداد کی فراہمی کے لیے خطرہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40287000/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اقوامِ متحدہ کے بچوں کے امدادی ادارے یواین آئی سی ای ایف نے متنبہ کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے بحران کے باعث عالمی نقل و حمل کے اخراجات میں اضافے اور سپلائی چین کی معطلی سے بچوں تک زندگی بچانے والی امداد کی فراہمی شدید خطرے میں ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران جنگ کے آغاز کو 100 دن مکمل ہونے پر خلیج کے بحری راستوں میں عدم تحفظ کی وجہ سے ایندھن اور انشورنس کی قیمتیں بڑھ چکی ہیں، جبکہ متبادل بندرگاہوں پر رش کی وجہ سے بحری جہازوں کی آمد میں 4 سے 6 ہفتے کی تاخیر ہو رہی ہے۔ یونیسف اب فضائی کارگو پر انحصار کرنے پر مجبور ہے، جس کی وجہ سے اس کا سالانہ لاجسٹک بجٹ سال کے پہلے ہی کوارٹر میں ختم ہونے کے قریب پہنچ گیا ہے۔ افریقہ میں بھی بندرگاہوں پر بھیڑ اور بحری راستے تبدیل کرنے سے مالی، صومالیہ اور نائیجیریا جیسے ممالک میں بچوں کی غذائی قلت کے کارٹنز اور پولیو مہم کے لیے سرنجوں کی ترسیل کے اخراجات 30 سے 56 فیصد تک بڑھ گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اقوامِ متحدہ کے بچوں کے امدادی ادارے یواین آئی سی ای ایف نے متنبہ کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے بحران کے باعث عالمی نقل و حمل کے اخراجات میں اضافے اور سپلائی چین کی معطلی سے بچوں تک زندگی بچانے والی امداد کی فراہمی شدید خطرے میں ہے۔</strong></p>
<p>ایران جنگ کے آغاز کو 100 دن مکمل ہونے پر خلیج کے بحری راستوں میں عدم تحفظ کی وجہ سے ایندھن اور انشورنس کی قیمتیں بڑھ چکی ہیں، جبکہ متبادل بندرگاہوں پر رش کی وجہ سے بحری جہازوں کی آمد میں 4 سے 6 ہفتے کی تاخیر ہو رہی ہے۔ یونیسف اب فضائی کارگو پر انحصار کرنے پر مجبور ہے، جس کی وجہ سے اس کا سالانہ لاجسٹک بجٹ سال کے پہلے ہی کوارٹر میں ختم ہونے کے قریب پہنچ گیا ہے۔ افریقہ میں بھی بندرگاہوں پر بھیڑ اور بحری راستے تبدیل کرنے سے مالی، صومالیہ اور نائیجیریا جیسے ممالک میں بچوں کی غذائی قلت کے کارٹنز اور پولیو مہم کے لیے سرنجوں کی ترسیل کے اخراجات 30 سے 56 فیصد تک بڑھ گئے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40287000</guid>
      <pubDate>Tue, 02 Jun 2026 19:17:57 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/02191212e54cfd5.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/02191212e54cfd5.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسرائیل کی اسلحہ برآمدات ایک بار پھر تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں، وزارتِ دفاع۔</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40286998/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسرائیل کی وزارتِ دفاع نے منگل کو اعلان کیا ہے کہ ملک کی اسلحہ برآمدات مسلسل پانچویں سال ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہیں اور 2025 میں ان کا حجم 19.2 ارب ڈالر تک جا پہنچا، جس میں میزائل، راکٹ اور فضائی دفاعی نظاموں کی فروخت نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیل دنیا کے بڑے اسلحہ برآمد کرنے والے ممالک میں شمار ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ دفاع کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’اسرائیل نے دفاعی برآمدات کا اپنا ریکارڈ مسلسل پانچویں سال توڑ دیا ہے اور 2025 میں یہ حجم 19.2 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 30 فیصد زیادہ ہے۔ دفاعی برآمدات کا حجم گزشتہ پانچ برسوں میں دوگنا سے زیادہ اور ایک دہائی میں چار گنا ہو چکا ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا کہ میزائل، راکٹ اور فضائی دفاعی نظام سب سے زیادہ برآمد ہونے والی دفاعی مصنوعات رہیں اور مجموعی سودوں میں ان کا حصہ 29 فیصد تھا۔ وزارتِ دفاع کے مطابق نگرانی اور آپٹرانک مشاہداتی نظاموں (آبزرویشن اور آپٹرونکس سسٹم) کی برآمدات میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیلی دفاعی برآمدات کا 36 فیصد یورپی ممالک نے خریدا، جبکہ ایشیا اور بحرالکاہل کے خطے کا حصہ 32 فیصد رہا۔ مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے ممالک نے 15 فیصد دفاعی برآمدات خریدیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان کے مطابق اسرائیلی وزیرِ دفاع &lt;strong&gt;اسرائیل کاٹز&lt;/strong&gt; نے کہا، ’’اسرائیلی فوج (آئی ڈی ایف) کی مختلف محاذوں پر حاصل کردہ کامیابیوں، اسرائیل کی دفاعی صنعتوں کی غیرمعمولی صلاحیتوں اور دنیا بھر میں اسرائیلی دفاعی برآمدات کی کامیابی کے درمیان ایک واضح اور ناقابلِ تردید تعلق موجود ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپریل میں وزارتِ دفاع نے کہا تھا کہ ایران کے ساتھ جنگ کے تناظر میں ایرو ( تیر) میزائل شکن نظام کے انٹرسیپٹر میزائلوں کی پیداوار تیز کرنے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا تھا جب بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں یہ سوالات اٹھائے جا رہے تھے کہ اسرائیل کے پاس موجود انٹرسیپٹر میزائلوں کے ذخائر کب تک برقرار رہ سکیں گے۔ بعض تجزیہ کاروں نے خاص طور پر جدید &lt;strong&gt;ایرو&lt;/strong&gt; انٹرسیپٹر میزائلوں کی ممکنہ قلت کی نشاندہی بھی کی تھی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسرائیل کی وزارتِ دفاع نے منگل کو اعلان کیا ہے کہ ملک کی اسلحہ برآمدات مسلسل پانچویں سال ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہیں اور 2025 میں ان کا حجم 19.2 ارب ڈالر تک جا پہنچا، جس میں میزائل، راکٹ اور فضائی دفاعی نظاموں کی فروخت نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔</strong></p>
<p>اسرائیل دنیا کے بڑے اسلحہ برآمد کرنے والے ممالک میں شمار ہوتا ہے۔</p>
<p>وزارتِ دفاع کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’اسرائیل نے دفاعی برآمدات کا اپنا ریکارڈ مسلسل پانچویں سال توڑ دیا ہے اور 2025 میں یہ حجم 19.2 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 30 فیصد زیادہ ہے۔ دفاعی برآمدات کا حجم گزشتہ پانچ برسوں میں دوگنا سے زیادہ اور ایک دہائی میں چار گنا ہو چکا ہے۔‘‘</p>
<p>بیان میں کہا گیا کہ میزائل، راکٹ اور فضائی دفاعی نظام سب سے زیادہ برآمد ہونے والی دفاعی مصنوعات رہیں اور مجموعی سودوں میں ان کا حصہ 29 فیصد تھا۔ وزارتِ دفاع کے مطابق نگرانی اور آپٹرانک مشاہداتی نظاموں (آبزرویشن اور آپٹرونکس سسٹم) کی برآمدات میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔</p>
<p>اسرائیلی دفاعی برآمدات کا 36 فیصد یورپی ممالک نے خریدا، جبکہ ایشیا اور بحرالکاہل کے خطے کا حصہ 32 فیصد رہا۔ مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے ممالک نے 15 فیصد دفاعی برآمدات خریدیں۔</p>
<p>بیان کے مطابق اسرائیلی وزیرِ دفاع <strong>اسرائیل کاٹز</strong> نے کہا، ’’اسرائیلی فوج (آئی ڈی ایف) کی مختلف محاذوں پر حاصل کردہ کامیابیوں، اسرائیل کی دفاعی صنعتوں کی غیرمعمولی صلاحیتوں اور دنیا بھر میں اسرائیلی دفاعی برآمدات کی کامیابی کے درمیان ایک واضح اور ناقابلِ تردید تعلق موجود ہے۔‘‘</p>
<p>اپریل میں وزارتِ دفاع نے کہا تھا کہ ایران کے ساتھ جنگ کے تناظر میں ایرو ( تیر) میزائل شکن نظام کے انٹرسیپٹر میزائلوں کی پیداوار تیز کرنے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔</p>
<p>یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا تھا جب بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں یہ سوالات اٹھائے جا رہے تھے کہ اسرائیل کے پاس موجود انٹرسیپٹر میزائلوں کے ذخائر کب تک برقرار رہ سکیں گے۔ بعض تجزیہ کاروں نے خاص طور پر جدید <strong>ایرو</strong> انٹرسیپٹر میزائلوں کی ممکنہ قلت کی نشاندہی بھی کی تھی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40286998</guid>
      <pubDate>Tue, 02 Jun 2026 19:17:38 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/021909017957225.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/021909017957225.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>تعطل برقرار : ایران جنگ بندی کے لیے مجوزہ معاہدے کا جائزہ لے رہا ہے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40286999/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایرانی میڈیا کے مطابق تہران امریکہ کے ساتھ جنگ بندی کے لیے مجوزہ معاہدے کا جائزہ لے رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اگلے ہفتے تک معاہدہ طے پانے اور آبنائے ہرمز کھلنے کی امید ظاہر کی ہے، تاہم ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ ماضی کی امریکی وعدہ خلافیوں کے باعث وہ سخت اور محتاط رویہ اپنائے ہوئے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فروری میں شروع ہونے والی اس جنگ کے باعث آبنائے ہرمز بند ہے، جس سے عالمی معیشت اور تیل کی سپلائی شدید متاثر ہوئی۔ ایران جوہری پروگرام پر سمجھوتہ کیے بغیر اقتصادی دباؤ کم کرنے کے لیے ایک محدود عارضی ڈیل کا خواہاں ہے، جس میں تمام محاذوں پر جنگ بندی اور منجمد فنڈز تک رسائی شامل ہو۔ دوسری طرف لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان امریکی ثالثی سے جزوی جنگ بندی کا اعلان کیا گیا ہے لیکن اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو اس پر اندرونی سیاسی دباؤ کا سامنا ہے۔ اس دوران ایران نے دھمکی دی ہے کہ اگر بیروت پر حملے دوبارہ شروع ہوئے تو وہ بحیرہ احمر کی تجارتی گزرگاہ ’باب المندب‘ کی ناکہ بندی بھی کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایرانی میڈیا کے مطابق تہران امریکہ کے ساتھ جنگ بندی کے لیے مجوزہ معاہدے کا جائزہ لے رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اگلے ہفتے تک معاہدہ طے پانے اور آبنائے ہرمز کھلنے کی امید ظاہر کی ہے، تاہم ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ ماضی کی امریکی وعدہ خلافیوں کے باعث وہ سخت اور محتاط رویہ اپنائے ہوئے ہیں۔</strong></p>
<p>فروری میں شروع ہونے والی اس جنگ کے باعث آبنائے ہرمز بند ہے، جس سے عالمی معیشت اور تیل کی سپلائی شدید متاثر ہوئی۔ ایران جوہری پروگرام پر سمجھوتہ کیے بغیر اقتصادی دباؤ کم کرنے کے لیے ایک محدود عارضی ڈیل کا خواہاں ہے، جس میں تمام محاذوں پر جنگ بندی اور منجمد فنڈز تک رسائی شامل ہو۔ دوسری طرف لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان امریکی ثالثی سے جزوی جنگ بندی کا اعلان کیا گیا ہے لیکن اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو اس پر اندرونی سیاسی دباؤ کا سامنا ہے۔ اس دوران ایران نے دھمکی دی ہے کہ اگر بیروت پر حملے دوبارہ شروع ہوئے تو وہ بحیرہ احمر کی تجارتی گزرگاہ ’باب المندب‘ کی ناکہ بندی بھی کر سکتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40286999</guid>
      <pubDate>Tue, 02 Jun 2026 19:10:11 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/02190529fe9a9c2.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/02190529fe9a9c2.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بارشوں اور گلیشیئرز کے پگھلاؤ کے باعث شمالی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ، این ڈی ایم اے کا الرٹ جاری</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40286997/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;قدرتی آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے (این ڈی ایم اے) کے نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر (این ای او سی) نے 2 سے 6 جون تک ملک کے پہاڑی علاقوں کے لیے لینڈ سلائیڈنگ کا الرٹ جاری کر دیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;این ڈی ایم اے کے مطابق مسلسل بارشوں اور گلیشیئرز کے پگھلنے کے باعث 2 سے 5 جون کے دوران خیبر پختونخوا، خصوصاً چترال، اپر اور لوئر دیر، سوات، شانگلہ، کوہستان، بٹگرام، مانسہرہ، ایبٹ آباد اور ہری پور میں لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات میں اضافہ متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادارے نے  پیش گوئی کے اس عرصے کے دوران لواری ٹنل، چترال دیر روڈ، وادی سوات کے مختلف راستوں، شاہراہِ قراقرم اور ناران کاغان روڈ کو لینڈ سلائیڈنگ کے حوالے سے انتہائی حساس قرار دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;این ڈی ایم اے نے آزاد جموں و کشمیر میں بھی 2 سے 6 جون تک لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات برقرار رہنے سے خبردار کرتے ہوئے شاہی، شاردہ، اٹھمقام اور آڑنگ کیل جانے والی رابطہ سڑکوں کو حساس قرار دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادارے کے مطابق بالائی علاقوں میں شدید بارشیں مقامی ندی نالوں میں اچانک سیلابی ریلوں کا سبب بن سکتی ہیں، جس سے سفر میں مشکلات اور سڑکوں کی بندش کا خدشہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شمالی علاقوں کا رخ کرنے والے سیاحوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ روانگی سے قبل موسمی پیش گوئی اور سڑکوں کی صورتحال ضرور معلوم کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;این ڈی ایم اے نے کہا ہے کہ متعلقہ محکموں اور اداروں کو پیشگی الرٹس جاری کر دیے گئے ہیں، جبکہ نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر ملک بھر میں موسم کی صورتحال اور ممکنہ سیلاب، گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے سے آنے والے سیلاب (گلوف) اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات کی مسلسل نگرانی کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>قدرتی آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے (این ڈی ایم اے) کے نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر (این ای او سی) نے 2 سے 6 جون تک ملک کے پہاڑی علاقوں کے لیے لینڈ سلائیڈنگ کا الرٹ جاری کر دیا ہے۔</strong></p>
<p>این ڈی ایم اے کے مطابق مسلسل بارشوں اور گلیشیئرز کے پگھلنے کے باعث 2 سے 5 جون کے دوران خیبر پختونخوا، خصوصاً چترال، اپر اور لوئر دیر، سوات، شانگلہ، کوہستان، بٹگرام، مانسہرہ، ایبٹ آباد اور ہری پور میں لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات میں اضافہ متوقع ہے۔</p>
<p>ادارے نے  پیش گوئی کے اس عرصے کے دوران لواری ٹنل، چترال دیر روڈ، وادی سوات کے مختلف راستوں، شاہراہِ قراقرم اور ناران کاغان روڈ کو لینڈ سلائیڈنگ کے حوالے سے انتہائی حساس قرار دیا ہے۔</p>
<p>این ڈی ایم اے نے آزاد جموں و کشمیر میں بھی 2 سے 6 جون تک لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات برقرار رہنے سے خبردار کرتے ہوئے شاہی، شاردہ، اٹھمقام اور آڑنگ کیل جانے والی رابطہ سڑکوں کو حساس قرار دیا ہے۔</p>
<p>ادارے کے مطابق بالائی علاقوں میں شدید بارشیں مقامی ندی نالوں میں اچانک سیلابی ریلوں کا سبب بن سکتی ہیں، جس سے سفر میں مشکلات اور سڑکوں کی بندش کا خدشہ ہے۔</p>
<p>شمالی علاقوں کا رخ کرنے والے سیاحوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ روانگی سے قبل موسمی پیش گوئی اور سڑکوں کی صورتحال ضرور معلوم کریں۔</p>
<p>این ڈی ایم اے نے کہا ہے کہ متعلقہ محکموں اور اداروں کو پیشگی الرٹس جاری کر دیے گئے ہیں، جبکہ نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر ملک بھر میں موسم کی صورتحال اور ممکنہ سیلاب، گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے سے آنے والے سیلاب (گلوف) اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات کی مسلسل نگرانی کر رہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40286997</guid>
      <pubDate>Tue, 02 Jun 2026 17:43:40 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/021738162202996.webp" type="image/webp" medium="image" height="288" width="436">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/021738162202996.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حکومت 5 جون کی بجائے 10 جون کو بجٹ پیش کرے گی، رکنِ پارلیمنٹ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40286996/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;معلوم ہوا ہے کہ پاکستان کی وفاقی حکومت مالی سال 2026-27 کا سالانہ بجٹ 10 جون کو پیش کرے گی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان مسلم لیگ (ن) کی سینئر رہنما اور رکنِ قومی اسمبلی &lt;strong&gt;طاہرہ اورنگزیب&lt;/strong&gt; نے &lt;em&gt;بزنس ریکارڈر&lt;/em&gt; کو تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ وفاقی بجٹ، جو پہلے 5 جون (جمعہ) کو پیش کیا جانا تھا، اب 10 جون (بدھ) کو پیش کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے یہ بھی بتایا کہ بجٹ پیش کرنے کے لیے طلب کیا گیا قومی اسمبلی کا اجلاس بھی اسی مناسبت سے مؤخر کر دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاخیر کی وجوہات کے بارے میں پوچھے جانے پر رکنِ اسمبلی نے شیڈول میں تبدیلی کے اسباب پر مزید تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قبل ازیں، وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت قومی اقتصادی کونسل (این ای سی) کا اہم اجلاس، جو کل منعقد ہونا تھا، آئندہ بجٹ پر مزید غور و خوض کے لیے ملتوی کر دیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کابینہ ڈویژن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا، ’’یہ اطلاع دی جاتی ہے کہ قومی اقتصادی کونسل (این ای سی) کا اجلاس، جو بدھ 3 جون 2026 کو منعقد ہونا تھا، ملتوی کر دیا گیا ہے۔ اجلاس کی نئی تاریخ سے بروقت آگاہ کر دیا جائے گا۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قومی اقتصادی کونسل (این ای سی) کے اجلاس کا التوا خاص اہمیت کا حامل ہے کیونکہ آئینی تقاضوں کے مطابق وفاقی بجٹ پیش کیے جانے سے قبل اس ادارے کی جانب سے اہم معاشی اہداف کی منظوری اور پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے حجم کی توثیق ضروری ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معاملے سے باخبر ذرائع نے &lt;em&gt;بزنس ریکارڈر&lt;/em&gt; کو بتایا کہ تعطل کا ایک بڑا سبب پی ایس ڈی پی کا حجم اور اس کی تشکیل ہے، کیونکہ اتحادی حکومت کے مختلف حلقے مالی گنجائش کی محدود صورتحال کے باوجود ترقیاتی منصوبوں کے لیے زیادہ فنڈز مختص کرنے پر زور دے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیر کے روز وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا تھا کہ وزارتِ خزانہ نے پی ایس ڈی پی 2026-27 کے لیے 1.126 کھرب روپے مختص کیے ہیں، جبکہ مجموعی ترقیاتی ضروریات 4.097 کھرب روپے ہیں، جس کے نتیجے میں تقریباً 3 کھرب روپے کا مالی خلا پیدا ہو رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا، ذرائع کے مطابق بجٹ میں تاخیر کی ایک اور وجہ آئندہ مالی منصوبے کے مالیاتی خدوخال پر حکومت اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان جاری مشاورت بھی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اس وقت محصولات کے اہداف، اخراجات میں کفایت شعاری اور مالیاتی استحکام سے متعلق اقدامات پر مذاکرات کر رہا ہے، جس کے باعث بجٹ کی حتمی تشکیل میں آئی ایم ایف سے مشاورت مرکزی حیثیت اختیار کر گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کا کہنا ہے کہ حکام بجٹ اخراجات کو حتمی شکل دینے اور ٹیکس اقدامات کا اعلان کرنے سے قبل آئی ایم ایف کی توقعات سے وسیع ہم آہنگی یقینی بنانا چاہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذاکرات میں شامل ایک ذریعے نے کہا، ’’حکومت بجٹ کے اعلان کے بعد آخری وقت میں تبدیلیوں سے بچنا چاہتی ہے۔ اہم مالیاتی اعداد و شمار پر آئی ایم ایف کا اعتماد اور اتفاقِ رائے حاصل کرنا ناگزیر سمجھا جا رہا ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بجٹ ایسے وقت میں پیش کیا جا رہا ہے جب پاکستان آئی ایم ایف کی عائد کردہ سخت مالیاتی پابندیوں کے تحت معاشی استحکام کے حصول کی کوشش کر رہا ہے۔ حکومت آئندہ مالی سال میں مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 4 فیصد تک پہنچانے کا ہدف رکھتی ہے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں قدرے زیادہ ہے، تاہم مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں ممکنہ اضافے کے خطرات بدستور موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کو توقع ہے کہ آئندہ مالی سال کے دوران اوسط مہنگائی کی شرح 8.2 فیصد رہے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>معلوم ہوا ہے کہ پاکستان کی وفاقی حکومت مالی سال 2026-27 کا سالانہ بجٹ 10 جون کو پیش کرے گی۔</strong></p>
<p>پاکستان مسلم لیگ (ن) کی سینئر رہنما اور رکنِ قومی اسمبلی <strong>طاہرہ اورنگزیب</strong> نے <em>بزنس ریکارڈر</em> کو تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ وفاقی بجٹ، جو پہلے 5 جون (جمعہ) کو پیش کیا جانا تھا، اب 10 جون (بدھ) کو پیش کیا جائے گا۔</p>
<p>انہوں نے یہ بھی بتایا کہ بجٹ پیش کرنے کے لیے طلب کیا گیا قومی اسمبلی کا اجلاس بھی اسی مناسبت سے مؤخر کر دیا گیا ہے۔</p>
<p>تاخیر کی وجوہات کے بارے میں پوچھے جانے پر رکنِ اسمبلی نے شیڈول میں تبدیلی کے اسباب پر مزید تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔</p>
<p>قبل ازیں، وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت قومی اقتصادی کونسل (این ای سی) کا اہم اجلاس، جو کل منعقد ہونا تھا، آئندہ بجٹ پر مزید غور و خوض کے لیے ملتوی کر دیا گیا تھا۔</p>
<p>کابینہ ڈویژن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا، ’’یہ اطلاع دی جاتی ہے کہ قومی اقتصادی کونسل (این ای سی) کا اجلاس، جو بدھ 3 جون 2026 کو منعقد ہونا تھا، ملتوی کر دیا گیا ہے۔ اجلاس کی نئی تاریخ سے بروقت آگاہ کر دیا جائے گا۔‘‘</p>
<p>قومی اقتصادی کونسل (این ای سی) کے اجلاس کا التوا خاص اہمیت کا حامل ہے کیونکہ آئینی تقاضوں کے مطابق وفاقی بجٹ پیش کیے جانے سے قبل اس ادارے کی جانب سے اہم معاشی اہداف کی منظوری اور پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے حجم کی توثیق ضروری ہوتی ہے۔</p>
<p>معاملے سے باخبر ذرائع نے <em>بزنس ریکارڈر</em> کو بتایا کہ تعطل کا ایک بڑا سبب پی ایس ڈی پی کا حجم اور اس کی تشکیل ہے، کیونکہ اتحادی حکومت کے مختلف حلقے مالی گنجائش کی محدود صورتحال کے باوجود ترقیاتی منصوبوں کے لیے زیادہ فنڈز مختص کرنے پر زور دے رہے ہیں۔</p>
<p>پیر کے روز وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا تھا کہ وزارتِ خزانہ نے پی ایس ڈی پی 2026-27 کے لیے 1.126 کھرب روپے مختص کیے ہیں، جبکہ مجموعی ترقیاتی ضروریات 4.097 کھرب روپے ہیں، جس کے نتیجے میں تقریباً 3 کھرب روپے کا مالی خلا پیدا ہو رہا ہے۔</p>
<p>دریں اثنا، ذرائع کے مطابق بجٹ میں تاخیر کی ایک اور وجہ آئندہ مالی منصوبے کے مالیاتی خدوخال پر حکومت اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان جاری مشاورت بھی ہے۔</p>
<p>پاکستان اس وقت محصولات کے اہداف، اخراجات میں کفایت شعاری اور مالیاتی استحکام سے متعلق اقدامات پر مذاکرات کر رہا ہے، جس کے باعث بجٹ کی حتمی تشکیل میں آئی ایم ایف سے مشاورت مرکزی حیثیت اختیار کر گئی ہے۔</p>
<p>ذرائع کا کہنا ہے کہ حکام بجٹ اخراجات کو حتمی شکل دینے اور ٹیکس اقدامات کا اعلان کرنے سے قبل آئی ایم ایف کی توقعات سے وسیع ہم آہنگی یقینی بنانا چاہتے ہیں۔</p>
<p>مذاکرات میں شامل ایک ذریعے نے کہا، ’’حکومت بجٹ کے اعلان کے بعد آخری وقت میں تبدیلیوں سے بچنا چاہتی ہے۔ اہم مالیاتی اعداد و شمار پر آئی ایم ایف کا اعتماد اور اتفاقِ رائے حاصل کرنا ناگزیر سمجھا جا رہا ہے۔‘‘</p>
<p>یہ بجٹ ایسے وقت میں پیش کیا جا رہا ہے جب پاکستان آئی ایم ایف کی عائد کردہ سخت مالیاتی پابندیوں کے تحت معاشی استحکام کے حصول کی کوشش کر رہا ہے۔ حکومت آئندہ مالی سال میں مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 4 فیصد تک پہنچانے کا ہدف رکھتی ہے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں قدرے زیادہ ہے، تاہم مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں ممکنہ اضافے کے خطرات بدستور موجود ہیں۔</p>
<p>پاکستان کو توقع ہے کہ آئندہ مالی سال کے دوران اوسط مہنگائی کی شرح 8.2 فیصد رہے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40286996</guid>
      <pubDate>Tue, 02 Jun 2026 17:29:17 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (طاہر امین)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/021719056d68853.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/021719056d68853.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ڈالر کے مقابلے میں روپیہ مزید بہتر</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40286995/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;انٹربینک مارکیٹ میں منگل کو بھی ڈالر کے مقابلے روپے کی قدر میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک کے مطابق کاروبار کے اختتام پر ڈالر کے مقابلے میں روپیہ ایک پیسے کی معمولی بہتری سے 278.47 روپے پر بند ہوا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://pbs.twimg.com/media/HJz2a0SXwAA9gpg?format=jpg&amp;amp;name=small'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://pbs.twimg.com/media/HJz2a0SXwAA9gpg?format=jpg&amp;amp;name=small'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ پیر کو مقامی کرنسی 278.47 روپے پر بند ہوئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی سطح پر منگل کو امریکی ڈالر کی قدر مستحکم رہی کیونکہ مارکیٹوں نے مشرقِ وسطیٰ کے امن مذاکرات کے حوالے سے انتظار کرو اور دیکھو کی حکمتِ عملی اختیار کر رکھی ہے، اگرچہ لبنان نے حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان محدود جنگ بندی کا اعلان کیا ہے تاہم وسیع تر جغرافیائی و سیاسی غیر یقینی صورتحال نے سرمایہ کاروں کو تذبذب کا شکار کئے رکھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرمایہ کاروں نے ایران تنازع کے خاتمے کی جانب ہونے والی کسی بھی پیشرفت کا محتاط انداز میں جائزہ لیا جس کی وجہ اپریل کے آغاز میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والی جنگ بندی کی نازک صورتحال ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈالر انڈیکس پیر کو لبنان کے اعلان کے بعد اپنے ابتدائی اضافے سے کچھ نیچے آگیا۔ اگرچہ یہ معاہدہ کسی حد تک کشیدگی میں کمی کا اشارہ دیتا ہے تاہم یہ ایک وسیع تر علاقائی تنازع کے پس منظر میں محدود ہی ہے جس نے آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی کو متاثر کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈالر انڈیکس 99.17 پر مستحکم رہا جبکہ یورو 0.03 فیصد اضافے کے ساتھ 1.1634 ڈالر پر پہنچ گیا اور برطانوی پاؤنڈ (اسٹرلنگ) 0.07 فیصد اضافے سے 1.346 ڈالر کا ہو گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;28 فروری کو شروع ہونے والے تنازع کے آغاز پر امریکی ڈالر کی قدر میں تیزی سے اضافہ ہوا تھا جسے سیف ہیون کی مانگ اور توانائی سے پیدا ہونے والی مہنگائی سے امریکی معیشت کے نسبتاً کم متاثر ہونے کے باعث سہارا ملا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم تنازع کے مستقبل رخ کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال کے باعث ڈالر اب اپنے اس ابتدائی اضافے کا کچھ حصہ گنوا چکا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>انٹربینک مارکیٹ میں منگل کو بھی ڈالر کے مقابلے روپے کی قدر میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔</strong></p>
<p>اسٹیٹ بینک کے مطابق کاروبار کے اختتام پر ڈالر کے مقابلے میں روپیہ ایک پیسے کی معمولی بہتری سے 278.47 روپے پر بند ہوا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://pbs.twimg.com/media/HJz2a0SXwAA9gpg?format=jpg&amp;name=small'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://pbs.twimg.com/media/HJz2a0SXwAA9gpg?format=jpg&amp;name=small'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>یاد رہے کہ پیر کو مقامی کرنسی 278.47 روپے پر بند ہوئی تھی۔</p>
<p>بین الاقوامی سطح پر منگل کو امریکی ڈالر کی قدر مستحکم رہی کیونکہ مارکیٹوں نے مشرقِ وسطیٰ کے امن مذاکرات کے حوالے سے انتظار کرو اور دیکھو کی حکمتِ عملی اختیار کر رکھی ہے، اگرچہ لبنان نے حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان محدود جنگ بندی کا اعلان کیا ہے تاہم وسیع تر جغرافیائی و سیاسی غیر یقینی صورتحال نے سرمایہ کاروں کو تذبذب کا شکار کئے رکھا۔</p>
<p>سرمایہ کاروں نے ایران تنازع کے خاتمے کی جانب ہونے والی کسی بھی پیشرفت کا محتاط انداز میں جائزہ لیا جس کی وجہ اپریل کے آغاز میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والی جنگ بندی کی نازک صورتحال ہے۔</p>
<p>ڈالر انڈیکس پیر کو لبنان کے اعلان کے بعد اپنے ابتدائی اضافے سے کچھ نیچے آگیا۔ اگرچہ یہ معاہدہ کسی حد تک کشیدگی میں کمی کا اشارہ دیتا ہے تاہم یہ ایک وسیع تر علاقائی تنازع کے پس منظر میں محدود ہی ہے جس نے آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی کو متاثر کیا ہے۔</p>
<p>ڈالر انڈیکس 99.17 پر مستحکم رہا جبکہ یورو 0.03 فیصد اضافے کے ساتھ 1.1634 ڈالر پر پہنچ گیا اور برطانوی پاؤنڈ (اسٹرلنگ) 0.07 فیصد اضافے سے 1.346 ڈالر کا ہو گیا۔</p>
<p>28 فروری کو شروع ہونے والے تنازع کے آغاز پر امریکی ڈالر کی قدر میں تیزی سے اضافہ ہوا تھا جسے سیف ہیون کی مانگ اور توانائی سے پیدا ہونے والی مہنگائی سے امریکی معیشت کے نسبتاً کم متاثر ہونے کے باعث سہارا ملا تھا۔</p>
<p>تاہم تنازع کے مستقبل رخ کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال کے باعث ڈالر اب اپنے اس ابتدائی اضافے کا کچھ حصہ گنوا چکا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40286995</guid>
      <pubDate>Tue, 02 Jun 2026 18:45:54 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/0218454327d9224.webp" type="image/webp" medium="image" height="360" width="720">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/0218454327d9224.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مشرقِ وسطیٰ تناؤ اور بڑھتے اخراجات، آم کا برآمدی ہدف 30 فیصد کم کردیا گیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40286994/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان میں آم کی برآمدات کا سیزن یکم جون سے شروع ہوگیا، تاہم مشرقِ وسطیٰ میں جغرافیائی و سیاسی  تناؤ، مال برداری اخراجات، موسمیاتی چیلنجز اور پھل کی پیداوار میں کمی کے شدید دباؤ کے باعث برآمد کنندگان نے اس سال کا برآمدی ہدف تقریباً 30 فیصد تک کم کردیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انڈسٹری سے وابستہ اسٹیک ہولڈرز کو خدشہ ہے کہ یہ سیزن مشکل ترین برآمدی سیزنز میں سے ایک ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹیبل ایکسپورٹرز، امپورٹرز اینڈ مرچنٹس ایسوسی ایشن (پی ایف وی اے) کے پیٹرن ان چیف وحید احمد کے مطابق برآمد کنندگان کو لاجسٹکس اور مالیات کے شعبے میں بے پناہ رکاوٹوں کا سامنا ہے کیونکہ علاقائی عدم استحکام نے خلیج کی بڑی مارکیٹوں تک رسائی کو شدید متاثر کیا ہے جو کہ پاکستانی آموں کی سب سے بڑی منزل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وحید احمد نے کے مطابق تجارت کو درپیش غیر معمولی چیلنجز کے پیشِ نظر برآمدی ہدف کو گزشتہ سال کے 1 لاکھ 10 ہزار ٹن سے کم کر کے اس سال 80 ہزار ٹن کردیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کمی کے باعث برآمدی آمدن پر نمایاں اثر پڑنے کا خدشہ ہے۔ گزشتہ سیزن میں پاکستان نے آم کی برآمدات سے تقریباً 110 ملین (11 کروڑ) امریکی ڈالر کمائے تھے لیکن اس سال یہ آمدنی کم ہو کر 75 ملین سے 80 ملین امریکی ڈالر کے درمیان رہنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="" href="#" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="-1" href="#-1" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;/h3&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان میں آم کی برآمدات کا سیزن یکم جون سے شروع ہوگیا، تاہم مشرقِ وسطیٰ میں جغرافیائی و سیاسی  تناؤ، مال برداری اخراجات، موسمیاتی چیلنجز اور پھل کی پیداوار میں کمی کے شدید دباؤ کے باعث برآمد کنندگان نے اس سال کا برآمدی ہدف تقریباً 30 فیصد تک کم کردیا ہے۔</strong></p>
<p>انڈسٹری سے وابستہ اسٹیک ہولڈرز کو خدشہ ہے کہ یہ سیزن مشکل ترین برآمدی سیزنز میں سے ایک ہوسکتا ہے۔</p>
<p>پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹیبل ایکسپورٹرز، امپورٹرز اینڈ مرچنٹس ایسوسی ایشن (پی ایف وی اے) کے پیٹرن ان چیف وحید احمد کے مطابق برآمد کنندگان کو لاجسٹکس اور مالیات کے شعبے میں بے پناہ رکاوٹوں کا سامنا ہے کیونکہ علاقائی عدم استحکام نے خلیج کی بڑی مارکیٹوں تک رسائی کو شدید متاثر کیا ہے جو کہ پاکستانی آموں کی سب سے بڑی منزل ہیں۔</p>
<p>وحید احمد نے کے مطابق تجارت کو درپیش غیر معمولی چیلنجز کے پیشِ نظر برآمدی ہدف کو گزشتہ سال کے 1 لاکھ 10 ہزار ٹن سے کم کر کے اس سال 80 ہزار ٹن کردیا گیا ہے۔</p>
<p>اس کمی کے باعث برآمدی آمدن پر نمایاں اثر پڑنے کا خدشہ ہے۔ گزشتہ سیزن میں پاکستان نے آم کی برآمدات سے تقریباً 110 ملین (11 کروڑ) امریکی ڈالر کمائے تھے لیکن اس سال یہ آمدنی کم ہو کر 75 ملین سے 80 ملین امریکی ڈالر کے درمیان رہنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔</p>
<h3><a id="" href="#" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a></h3>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
<h3><a id="-1" href="#-1" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a></h3>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40286994</guid>
      <pubDate>Tue, 02 Jun 2026 16:29:50 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/0216274771bf476.webp" type="image/webp" medium="image" height="1280" width="1920">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/0216274771bf476.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایکسپورٹ گروتھ اور صنعتی پیداوار حکومتی ترجیحات میں سرفہرست، شہباز شریف</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40286993/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ صنعتی مصنوعات کی ملکی پیداوار بڑھانے کے ساتھ ساتھ برآمدات میں اضافے کے لیے مؤثر پالیسی اقدامات حکومت کی ترجیحات میں شامل ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت سرمایہ کاری میں اضافے اور معیشت کی مجموعی ترقی کے لیے شعبہ جاتی اصلاحات اور پالیسی اقدامات پر جائزہ اجلاس منعقد ہوا جس میں مختلف وزارتوں کی جانب سے زیر غور پالیسی تجاویز پر بریفنگ دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملکی معیشت کی پائیدار ترقی کے لیے صنعت و تجارت کا فروغ اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم کا کہنا تھا کہ صنعت، تجارت اور معیشت کے مختلف شعبوں میں اصلاحات کو طویل المدتی معاشی افادیت اور عوامی فلاح پر مرکوز ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ہدایت کی کہ مستقبل کی توانائی ضروریات کو متبادل توانائی کے ذرائع سے پورا کرنے کے لیے جامع حکمت عملی پر بھرپور انداز میں کام جاری رکھا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہباز شریف نے کہا کہ توانائی کی بچت اور سستی ٹرانسپورٹ کی ملکی ضروریات پوری کرنے کے لیے جامع اور مؤثر الیکٹرک وہیکلز پالیسی وقت کی اہم ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم  نے تمام وزارتوں کو ہدایت کی کہ جدید ٹیکنالوجی کو مختلف شعبوں میں شامل کرنے کے لیے ماہرین کے ساتھ بامعنی مشاورت کو یقینی بنایا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے زور دیا کہ مؤثر ترقیاتی پالیسیوں کی تشکیل اور نفاذ کے لیے تمام وزارتیں باہمی تعاون اور ہم آہنگی سے کام کریں جبکہ تمام اصلاحات اور اقدامات میں انتظامی شفافیت اور بہترین کارکردگی حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="" href="#" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;/h3&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ صنعتی مصنوعات کی ملکی پیداوار بڑھانے کے ساتھ ساتھ برآمدات میں اضافے کے لیے مؤثر پالیسی اقدامات حکومت کی ترجیحات میں شامل ہیں۔</strong></p>
<p>وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت سرمایہ کاری میں اضافے اور معیشت کی مجموعی ترقی کے لیے شعبہ جاتی اصلاحات اور پالیسی اقدامات پر جائزہ اجلاس منعقد ہوا جس میں مختلف وزارتوں کی جانب سے زیر غور پالیسی تجاویز پر بریفنگ دی گئی۔</p>
<p>وزیراعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملکی معیشت کی پائیدار ترقی کے لیے صنعت و تجارت کا فروغ اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے.</p>
<p>وزیراعظم کا کہنا تھا کہ صنعت، تجارت اور معیشت کے مختلف شعبوں میں اصلاحات کو طویل المدتی معاشی افادیت اور عوامی فلاح پر مرکوز ہونا چاہیے۔</p>
<p>انہوں نے ہدایت کی کہ مستقبل کی توانائی ضروریات کو متبادل توانائی کے ذرائع سے پورا کرنے کے لیے جامع حکمت عملی پر بھرپور انداز میں کام جاری رکھا جائے۔</p>
<p>شہباز شریف نے کہا کہ توانائی کی بچت اور سستی ٹرانسپورٹ کی ملکی ضروریات پوری کرنے کے لیے جامع اور مؤثر الیکٹرک وہیکلز پالیسی وقت کی اہم ضرورت ہے۔</p>
<p>وزیراعظم  نے تمام وزارتوں کو ہدایت کی کہ جدید ٹیکنالوجی کو مختلف شعبوں میں شامل کرنے کے لیے ماہرین کے ساتھ بامعنی مشاورت کو یقینی بنایا جائے۔</p>
<p>وزیراعظم نے زور دیا کہ مؤثر ترقیاتی پالیسیوں کی تشکیل اور نفاذ کے لیے تمام وزارتیں باہمی تعاون اور ہم آہنگی سے کام کریں جبکہ تمام اصلاحات اور اقدامات میں انتظامی شفافیت اور بہترین کارکردگی حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔</p>
<h3><a id="" href="#" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a></h3>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40286993</guid>
      <pubDate>Tue, 02 Jun 2026 16:17:03 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/0216080586ed5e8.webp" type="image/webp" medium="image" height="831" width="1280">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/0216080586ed5e8.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>قومی اقتصادی کونسل کا اہم اجلاس ملتوی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40286992/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیراعظم شہباز شریف کی صدارت میں ہونے والا قومی اقتصادی کونسل (این ای سی) نے آئندہ بجٹ پر مزید مشاورت کیلئے اپنا اہم اجلاس جو کل منعقد ہونا تھا ملتوی کردیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کابینہ ڈویژن کے نوٹس میں کہا گیا ہے کہ نیشنل اکنامک کونسل کا اجلاس جو بدھ 3 جون 2026 کو منعقد ہونا طے تھا ملتوی کر دیا گیا ہے۔ نوٹس کے مطابق اجلاس کی نئی تاریخ کا اعلان مناسب وقت پر کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیشنل اکنامک کونسل  وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان معاشی منصوبہ بندی اور ہم آہنگی کا پاکستان کا سب سے اعلیٰ آئینی فورم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت کی جانب سے مالی سال 2026-27 کا وفاقی بجٹ 5 جون 2026 (جمعہ) کو پیش کیے جانے کی توقع ہے جس میں جی ڈی پی کی شرح نمو 4 فیصد رکھنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم این ای سی اجلاس کی ملتوی ہونے سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ ممکن ہے بجٹ میں بھی تاخیر ہو جائے۔ مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق بجٹ کا اعلان 8 یا 10 جون کو کیے جانے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بجٹ ایک ایسے وقت میں پیش کیا جارہا ہے جب پاکستان آئی ایم ایف کی عائد کردہ سخت مالی پابندیوں کے تحت کام کررہا ہے اور معاشی استحکام کا خواہاں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیراعظم شہباز شریف کی صدارت میں ہونے والا قومی اقتصادی کونسل (این ای سی) نے آئندہ بجٹ پر مزید مشاورت کیلئے اپنا اہم اجلاس جو کل منعقد ہونا تھا ملتوی کردیا ہے۔</strong></p>
<p>کابینہ ڈویژن کے نوٹس میں کہا گیا ہے کہ نیشنل اکنامک کونسل کا اجلاس جو بدھ 3 جون 2026 کو منعقد ہونا طے تھا ملتوی کر دیا گیا ہے۔ نوٹس کے مطابق اجلاس کی نئی تاریخ کا اعلان مناسب وقت پر کیا جائے گا۔</p>
<p>نیشنل اکنامک کونسل  وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان معاشی منصوبہ بندی اور ہم آہنگی کا پاکستان کا سب سے اعلیٰ آئینی فورم ہے۔</p>
<p>حکومت کی جانب سے مالی سال 2026-27 کا وفاقی بجٹ 5 جون 2026 (جمعہ) کو پیش کیے جانے کی توقع ہے جس میں جی ڈی پی کی شرح نمو 4 فیصد رکھنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔</p>
<p>تاہم این ای سی اجلاس کی ملتوی ہونے سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ ممکن ہے بجٹ میں بھی تاخیر ہو جائے۔ مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق بجٹ کا اعلان 8 یا 10 جون کو کیے جانے کا امکان ہے۔</p>
<p>یہ بجٹ ایک ایسے وقت میں پیش کیا جارہا ہے جب پاکستان آئی ایم ایف کی عائد کردہ سخت مالی پابندیوں کے تحت کام کررہا ہے اور معاشی استحکام کا خواہاں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40286992</guid>
      <pubDate>Tue, 02 Jun 2026 15:58:51 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/02155847cb9d208.webp" type="image/webp" medium="image" height="634" width="1280">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/02155847cb9d208.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>گلگت بلتستان میں ترقی نہ ہونے پر دکھ ہے، نواز شریف</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40286991/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سابق وزیراعظم اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف نے منگل کے روز کہا کہ گلگت بلتستان کی موجودہ صورتحال اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے فقدان کو دیکھ کر انہیں گہرا دکھ ہوا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گلگت بلتستان میں مسلم لیگ (ن) کے انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف نے علاقے کی خستہ حال سڑکوں اور بنیادی سہولیات کی ابتر حالت پر سوال اٹھایا۔ انہوں نے عوام سے وعدہ کیا کہ ترقیاتی منصوبے مکمل کیے جائیں گے، چاہے انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کامیاب ہو یا نہ ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;7 جون کو ہونے والے گلگت بلتستان کے عام انتخابات سے قبل مختلف سیاسی جماعتوں کی انتخابی مہم زور و شور سے جاری ہے۔ بلاول بھٹو زرداری کے بعد نواز شریف بھی انتخابی مہم کے سلسلے میں گلگت بلتستان پہنچے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنے خطاب میں نواز شریف نے کہا کہ وہ کئی برس بعد اس خطے کے عوام سے مخاطب ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ممکن ہے آپ مجھے بھول گئے ہوں، لیکن میں آج بھی گلگت بلتستان سے اتنی ہی محبت کرتا ہوں۔ انہوں نے مزید کہا کہ شمالی علاقہ جات اور پہاڑوں سے ان کا خصوصی لگاؤ ہے اور گلگت بلتستان کے عوام ان کے دل کے قریب ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گلگت ایئرپورٹ سے شہر تک سفر کے دوران سڑکوں کی خراب حالت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ اس صورتحال کو الفاظ میں بیان نہیں کر سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر عوامی فلاح اور ترقی کے لیے مختص فنڈز درست طریقے سے استعمال کیے جاتے تو آج اس علاقے کی حالت مختلف ہوتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نواز شریف نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے دورِ حکومت میں ملک بھر میں سڑکوں کا جال بچھایا گیا، تاہم افسوس ہے کہ بعض منصوبے گلگت بلتستان تک نہیں پہنچ سکے۔ کسی سیاسی جماعت کا نام لیے بغیر انہوں نے سوال کیا کہ اقتدار میں آنے والی حکومتوں نے اس خطے کی ترقی پر مطلوبہ توجہ کیوں نہیں دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) مخالفین پر تنقید کے بجائے اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتی ہے۔ ان کے مطابق ان کے دور میں علاقے میں اسپتالوں، پاور ہاؤسز اور پن بجلی منصوبوں پر کام کیا گیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کے دور میں شروع ہونے والے شاہراہ منصوبے کو گلگت بلتستان سے آگے خنجراب تک توسیع دی جانی چاہیے تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نواز شریف نے کہا کہ میں نے کوئی احسان نہیں کیا، یہ سب گلگت بلتستان کے عوام کا حق تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی حکومت نے گلگت اور اسکردو کے درمیان سفر کا دورانیہ 9 گھنٹوں سے کم کرکے تقریباً 3 گھنٹے کر دیا تھا، جس سے عوام کو بڑی سہولت ملی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے عوام کو یقین دلایا کہ وہ وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کر کے گلگت ایئرپورٹ کی توسیع اور بڑے تجارتی طیاروں کی پروازوں کے آغاز کے لیے سفارش کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنے مختصر دورۂ گلگت بلتستان کے دوران نواز شریف انتخابی میدان میں موجود مسلم لیگ (ن) کے امیدواروں سے بھی ملاقات کریں گے۔ اس دورے میں وزیر دفاع خواجہ آصف، وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، بین الصوبائی رابطہ کے وزیر رانا ثناء اللہ، پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب، سینیٹر پرویز رشید، سینیٹر انوشہ رحمان اور دیگر رہنما بھی ان کے ہمراہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ گلگت بلتستان میں عام انتخابات 7 جون کو منعقد ہو رہے ہیں، جو شدید سرد موسم کے باعث تقریباً چار ماہ کی تاخیر کے بعد کرائے جا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سابق وزیراعظم اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف نے منگل کے روز کہا کہ گلگت بلتستان کی موجودہ صورتحال اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے فقدان کو دیکھ کر انہیں گہرا دکھ ہوا ہے۔</strong></p>
<p>گلگت بلتستان میں مسلم لیگ (ن) کے انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف نے علاقے کی خستہ حال سڑکوں اور بنیادی سہولیات کی ابتر حالت پر سوال اٹھایا۔ انہوں نے عوام سے وعدہ کیا کہ ترقیاتی منصوبے مکمل کیے جائیں گے، چاہے انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کامیاب ہو یا نہ ہو۔</p>
<p>7 جون کو ہونے والے گلگت بلتستان کے عام انتخابات سے قبل مختلف سیاسی جماعتوں کی انتخابی مہم زور و شور سے جاری ہے۔ بلاول بھٹو زرداری کے بعد نواز شریف بھی انتخابی مہم کے سلسلے میں گلگت بلتستان پہنچے ہیں۔</p>
<p>اپنے خطاب میں نواز شریف نے کہا کہ وہ کئی برس بعد اس خطے کے عوام سے مخاطب ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ممکن ہے آپ مجھے بھول گئے ہوں، لیکن میں آج بھی گلگت بلتستان سے اتنی ہی محبت کرتا ہوں۔ انہوں نے مزید کہا کہ شمالی علاقہ جات اور پہاڑوں سے ان کا خصوصی لگاؤ ہے اور گلگت بلتستان کے عوام ان کے دل کے قریب ہیں۔</p>
<p>گلگت ایئرپورٹ سے شہر تک سفر کے دوران سڑکوں کی خراب حالت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ اس صورتحال کو الفاظ میں بیان نہیں کر سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر عوامی فلاح اور ترقی کے لیے مختص فنڈز درست طریقے سے استعمال کیے جاتے تو آج اس علاقے کی حالت مختلف ہوتی۔</p>
<p>نواز شریف نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے دورِ حکومت میں ملک بھر میں سڑکوں کا جال بچھایا گیا، تاہم افسوس ہے کہ بعض منصوبے گلگت بلتستان تک نہیں پہنچ سکے۔ کسی سیاسی جماعت کا نام لیے بغیر انہوں نے سوال کیا کہ اقتدار میں آنے والی حکومتوں نے اس خطے کی ترقی پر مطلوبہ توجہ کیوں نہیں دی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) مخالفین پر تنقید کے بجائے اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتی ہے۔ ان کے مطابق ان کے دور میں علاقے میں اسپتالوں، پاور ہاؤسز اور پن بجلی منصوبوں پر کام کیا گیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کے دور میں شروع ہونے والے شاہراہ منصوبے کو گلگت بلتستان سے آگے خنجراب تک توسیع دی جانی چاہیے تھی۔</p>
<p>نواز شریف نے کہا کہ میں نے کوئی احسان نہیں کیا، یہ سب گلگت بلتستان کے عوام کا حق تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی حکومت نے گلگت اور اسکردو کے درمیان سفر کا دورانیہ 9 گھنٹوں سے کم کرکے تقریباً 3 گھنٹے کر دیا تھا، جس سے عوام کو بڑی سہولت ملی۔</p>
<p>انہوں نے عوام کو یقین دلایا کہ وہ وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کر کے گلگت ایئرپورٹ کی توسیع اور بڑے تجارتی طیاروں کی پروازوں کے آغاز کے لیے سفارش کریں گے۔</p>
<p>اپنے مختصر دورۂ گلگت بلتستان کے دوران نواز شریف انتخابی میدان میں موجود مسلم لیگ (ن) کے امیدواروں سے بھی ملاقات کریں گے۔ اس دورے میں وزیر دفاع خواجہ آصف، وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، بین الصوبائی رابطہ کے وزیر رانا ثناء اللہ، پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب، سینیٹر پرویز رشید، سینیٹر انوشہ رحمان اور دیگر رہنما بھی ان کے ہمراہ ہیں۔</p>
<p>واضح رہے کہ گلگت بلتستان میں عام انتخابات 7 جون کو منعقد ہو رہے ہیں، جو شدید سرد موسم کے باعث تقریباً چار ماہ کی تاخیر کے بعد کرائے جا رہے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40286991</guid>
      <pubDate>Tue, 02 Jun 2026 15:53:11 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/0215500603d7829.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/0215500603d7829.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اٹلی: جلی ہوئی گاڑی سے 4 پاکستانی فارم ورکرز کی لاشیں برآمد، 2 ہم وطن گرفتار</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40286990/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اطالوی اخبار کوریئر ڈیلا سیرا نے منگل کو رپورٹ کیا ہے کہ اٹلی پولیس نے 4 پاکستانی فارم ورکرز کے قتل کے الزام میں دو پاکستانی شہریوں کو گرفتار کرلیا ہے۔ مقتولین کی لاشیں جنوبی اٹلی میں ایک جلی ہوئی منی وین سے ملی تھیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جلی ہوئی گاڑی کلابریا کے علاقے میں ایک وسیع زرعی رقبے پر واقع گاؤں امینڈولارا  کے قریب ایک پٹرول پمپ سے ملی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اخبار کوریئر ڈیلا سیرا نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ پٹرول پمپ کی سی سی ٹی وی  فوٹیج میں دو افراد کو باہر سے وین کے دروازے بند کرتے اور اندر کوئی مائع (لیکوڈ) پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق تصاویر میں آگ بھڑکتے اور پھر ان دونوں افراد کو وہاں سے بھاگتے ہوئے دیکھا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فائر فائٹرز نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے لاشیں برآمد کیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اخبار نے مقامی پولیس چیف انتونیو بوریلی کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ یہ یقینی طور پر قتل کا معاملہ ہے، ہمیں بس اب اس کی تفصیلات معلوم کرنی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اخبار نے کہا کہ حالیہ مہینوں میں اس علاقے میں پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو نذرِ آتش کرنے کے 14 واقعات پیش آئے ہیں، جہاں مہاجرین کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="" href="#" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="-1" href="#-1" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="-2" href="#-2" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="-3" href="#-3" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;/h3&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اطالوی اخبار کوریئر ڈیلا سیرا نے منگل کو رپورٹ کیا ہے کہ اٹلی پولیس نے 4 پاکستانی فارم ورکرز کے قتل کے الزام میں دو پاکستانی شہریوں کو گرفتار کرلیا ہے۔ مقتولین کی لاشیں جنوبی اٹلی میں ایک جلی ہوئی منی وین سے ملی تھیں۔</strong></p>
<p>جلی ہوئی گاڑی کلابریا کے علاقے میں ایک وسیع زرعی رقبے پر واقع گاؤں امینڈولارا  کے قریب ایک پٹرول پمپ سے ملی۔</p>
<p>اخبار کوریئر ڈیلا سیرا نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ پٹرول پمپ کی سی سی ٹی وی  فوٹیج میں دو افراد کو باہر سے وین کے دروازے بند کرتے اور اندر کوئی مائع (لیکوڈ) پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق تصاویر میں آگ بھڑکتے اور پھر ان دونوں افراد کو وہاں سے بھاگتے ہوئے دیکھا گیا۔</p>
<p>فائر فائٹرز نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے لاشیں برآمد کیں۔</p>
<p>اخبار نے مقامی پولیس چیف انتونیو بوریلی کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ یہ یقینی طور پر قتل کا معاملہ ہے، ہمیں بس اب اس کی تفصیلات معلوم کرنی ہیں۔</p>
<p>اخبار نے کہا کہ حالیہ مہینوں میں اس علاقے میں پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو نذرِ آتش کرنے کے 14 واقعات پیش آئے ہیں، جہاں مہاجرین کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے۔</p>
<h3><a id="" href="#" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a></h3>
<h3><a id="-1" href="#-1" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a></h3>
<h3><a id="-2" href="#-2" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a></h3>
<h3><a id="-3" href="#-3" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a></h3>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40286990</guid>
      <pubDate>Tue, 02 Jun 2026 15:42:14 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/02153640a2b40b6.gif" type="image/gif" medium="image">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/02153640a2b40b6.gif"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بجٹ میں تاجر برادری کے لیے مزید مشکلات کا خدشہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40286988/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے سابق نائب صدر طارق حلیم نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کی سخت شرائط کے تحت تیار کیا جانے والا آئندہ وفاقی بجٹ کاروباری برادری، صنعتوں اور عام عوام کے لیے مزید مشکلات پیدا کرسکتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ ایسے اقدامات سے گریز کیا جائے جو معاشی سرگرمیوں کو سست کرسکتے ہوں اور سرمایہ کاری کے ماحول پر منفی اثر ڈالیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طارق حلیم نے مزید کہا کہ ریونیو (ٹیکس) وصولی کے اہداف میں مسلسل کمی فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جارحانہ پالیسیوں پر نظرثانی کا تقاضا کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موجودہ ٹیکس دہندگان پر مزید ٹیکسز کا بوجھ ڈالنے کے بجائے تمام تر کوششیں ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے پر مرکوز ہونی چاہئیں تاکہ مزید افراد اور شعبے قومی خزانے میں اپنا حصہ ڈال سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید مطالبہ کیا کہ جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) کی شرح کو بتدریج کم کرکے سنگل ڈیجٹ سطح پر لایا جائے۔ انہوں نے وفاقی بجٹ میں شپ ایجنٹس اور بحری تجارتی شعبے کے لیے خصوصی مراعات اور سہولیات فراہم کرنے کا بھی مطالبہ کیا تاکہ قومی تجارت، بندرگاہی آپریشنز اور برآمدات کو مضبوط بنایا جاسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے سابق نائب صدر طارق حلیم نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کی سخت شرائط کے تحت تیار کیا جانے والا آئندہ وفاقی بجٹ کاروباری برادری، صنعتوں اور عام عوام کے لیے مزید مشکلات پیدا کرسکتا ہے۔</strong></p>
<p>انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ ایسے اقدامات سے گریز کیا جائے جو معاشی سرگرمیوں کو سست کرسکتے ہوں اور سرمایہ کاری کے ماحول پر منفی اثر ڈالیں۔</p>
<p>طارق حلیم نے مزید کہا کہ ریونیو (ٹیکس) وصولی کے اہداف میں مسلسل کمی فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جارحانہ پالیسیوں پر نظرثانی کا تقاضا کرتی ہے۔</p>
<p>موجودہ ٹیکس دہندگان پر مزید ٹیکسز کا بوجھ ڈالنے کے بجائے تمام تر کوششیں ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے پر مرکوز ہونی چاہئیں تاکہ مزید افراد اور شعبے قومی خزانے میں اپنا حصہ ڈال سکیں۔</p>
<p>انہوں نے مزید مطالبہ کیا کہ جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) کی شرح کو بتدریج کم کرکے سنگل ڈیجٹ سطح پر لایا جائے۔ انہوں نے وفاقی بجٹ میں شپ ایجنٹس اور بحری تجارتی شعبے کے لیے خصوصی مراعات اور سہولیات فراہم کرنے کا بھی مطالبہ کیا تاکہ قومی تجارت، بندرگاہی آپریشنز اور برآمدات کو مضبوط بنایا جاسکے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40286988</guid>
      <pubDate>Tue, 02 Jun 2026 15:30:42 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/021522242dda542.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/021522242dda542.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>انڈونیشین پام آئل برآمدات میں بڑا اضافہ، 4 ماہ میں 77 لاکھ میٹرک ٹن سے زائد ریکارڈ برآمد</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40286987/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;انڈونیشیا نے  رواں سال کے پہلے 4 ماہ میں 7.72 ملین (77 لاکھ 20 ہزار) میٹرک ٹن خام اور ریفائنڈ پام آئل برآمد کیا جو گزشتہ سال اسی مدت کے مقابلے میں 20.38 فیصد زیادہ ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منگل کو ادارہ شماریات کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ان برآمدی کھیپوں کی کل مالیت 8.22 ارب ڈالرز ریکارڈ کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعدادوشمار میں پام کرنل آئل، اولیو کیمیکلز اور بائیو ڈیزل شامل نہیں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انڈونیشیا کی پام آئل ایسوسی ایشن گیپکی عام طور پر بعد کی تاریخ میں اپنے اعدادوشمار جاری کرتی ہے جس میں مزید مصنوعات شامل ہوتی ہیں، اسی وجہ سے اس کے برآمدی اعداد و شمار مختلف ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="" href="#" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="-1" href="#-1" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;/h3&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>انڈونیشیا نے  رواں سال کے پہلے 4 ماہ میں 7.72 ملین (77 لاکھ 20 ہزار) میٹرک ٹن خام اور ریفائنڈ پام آئل برآمد کیا جو گزشتہ سال اسی مدت کے مقابلے میں 20.38 فیصد زیادہ ہے۔</strong></p>
<p>منگل کو ادارہ شماریات کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ان برآمدی کھیپوں کی کل مالیت 8.22 ارب ڈالرز ریکارڈ کی گئی۔</p>
<p>اعدادوشمار میں پام کرنل آئل، اولیو کیمیکلز اور بائیو ڈیزل شامل نہیں ہیں۔</p>
<p>انڈونیشیا کی پام آئل ایسوسی ایشن گیپکی عام طور پر بعد کی تاریخ میں اپنے اعدادوشمار جاری کرتی ہے جس میں مزید مصنوعات شامل ہوتی ہیں، اسی وجہ سے اس کے برآمدی اعداد و شمار مختلف ہوتے ہیں۔</p>
<h3><a id="" href="#" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a></h3>
<h3><a id="-1" href="#-1" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a></h3>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40286987</guid>
      <pubDate>Tue, 02 Jun 2026 15:20:33 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/021516531863c8b.gif" type="image/gif" medium="image">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/021516531863c8b.gif"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بیافو انڈسٹریز میں متین امجد کی بطور سی ای او تقرری، انور معین مستعفی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40286983/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بیافو انڈسٹریز لمیٹڈ  نے منگل کو اہم عہدوں پر تقرریوں کا اعلان کردیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پیشرفت اسٹاک ایکسچینج کو بھیجے گئے نوٹس میں شیئر کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کا کہنا ہے کہ متین امجد کو یکم جولائی 2026 سے نیا چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) مقرر کردیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تقرری انور معین کے بطور سی ای او استعفیٰ دینے کے بعد کی گئی جو 30 جون سے نافذ العمل ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بورڈ نے معین کی کمپنی کیلئے خدمات کو سراہتے ہوئے ان کا استعفیٰ منظور کرلیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب بیافو نے مزید بتایا کہ متین امجد کی ملازمت کے قواعد و ضوابط  کی منظوری بورڈ نے ان کے ایمپلائمنٹ کنٹریکٹ (معاہدہ ملازمت) کے مطابق دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کے مطابق بورڈ آف ڈائریکٹرز نے یکم جون 2026 کو منعقدہ اپنے اجلاس میں انور معین کا استعفیٰ منظور کیا اور متین امجد کی بطور سی ای او تقرری کی توثیق کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیافو انڈسٹریز لمیٹڈ کو 1988 میں پاکستان میں بطور پبلک لمیٹڈ کمپنی رجسٹرڈ (شامل) کیا گیا تھا اور اس نے 1994 میں اپنے تجارتی آپریشنز کا باقاعدہ آغاز کیا۔ کمپنی کی بنیادی سرگرمی تجارتی دھماکہ خیز مواد  اور بلاسٹنگ کے سازوسامان کی تیاری اور فروخت ہے جس میں ڈیٹونیٹرز اور دیگر متعلقہ مواد شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="" href="#" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;/h3&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بیافو انڈسٹریز لمیٹڈ  نے منگل کو اہم عہدوں پر تقرریوں کا اعلان کردیا۔</strong></p>
<p>یہ پیشرفت اسٹاک ایکسچینج کو بھیجے گئے نوٹس میں شیئر کی گئی۔</p>
<p>کمپنی کا کہنا ہے کہ متین امجد کو یکم جولائی 2026 سے نیا چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) مقرر کردیا گیا ہے۔</p>
<p>یہ تقرری انور معین کے بطور سی ای او استعفیٰ دینے کے بعد کی گئی جو 30 جون سے نافذ العمل ہوگا۔</p>
<p>بورڈ نے معین کی کمپنی کیلئے خدمات کو سراہتے ہوئے ان کا استعفیٰ منظور کرلیا۔</p>
<p>دوسری جانب بیافو نے مزید بتایا کہ متین امجد کی ملازمت کے قواعد و ضوابط  کی منظوری بورڈ نے ان کے ایمپلائمنٹ کنٹریکٹ (معاہدہ ملازمت) کے مطابق دی ہے۔</p>
<p>کمپنی کے مطابق بورڈ آف ڈائریکٹرز نے یکم جون 2026 کو منعقدہ اپنے اجلاس میں انور معین کا استعفیٰ منظور کیا اور متین امجد کی بطور سی ای او تقرری کی توثیق کی۔</p>
<p>بیافو انڈسٹریز لمیٹڈ کو 1988 میں پاکستان میں بطور پبلک لمیٹڈ کمپنی رجسٹرڈ (شامل) کیا گیا تھا اور اس نے 1994 میں اپنے تجارتی آپریشنز کا باقاعدہ آغاز کیا۔ کمپنی کی بنیادی سرگرمی تجارتی دھماکہ خیز مواد  اور بلاسٹنگ کے سازوسامان کی تیاری اور فروخت ہے جس میں ڈیٹونیٹرز اور دیگر متعلقہ مواد شامل ہیں۔</p>
<h3><a id="" href="#" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a></h3>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40286983</guid>
      <pubDate>Tue, 02 Jun 2026 15:11:44 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/021454165958a80.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/021454165958a80.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران کے ساتھ مذاکرات تیز رفتاری سے جاری ہیں، ٹرمپ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40286985/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات تیز رفتاری سے جاری ہیں، حالانکہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے خاتمے کے لیے جاری سفارتی کوششوں کو نئے چیلنجز کا سامنا ہے اور ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے نئے محاذ کھولنے کی دھمکی دی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق تہران نے لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں میں توسیع کے خلاف احتجاجاً ثالثوں کے ذریعے جاری مذاکرات معطل کر دیے ہیں۔ دوسری جانب اسرائیل نے بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں میں دوبارہ حملوں کا عندیہ دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ مذاکرات تیزی سے جاری ہیں۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ اسرائیل اور ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ کو کشیدگی کم کرنے پر آمادہ کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا اور ایران کے درمیان کئی ہفتوں سے بالواسطہ مذاکرات جاری ہیں، تاہم اب تک نہ جنگ کے خاتمے پر اتفاق ہو سکا ہے اور نہ ہی آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولا جا سکا ہے، جو خلیجی تیل اور گیس کی ترسیل کا اہم راستہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے لبنان میں زمینی کارروائیاں مزید گہری کرنے کا اعلان کرتے ہوئے فوج کو بیروت کے جنوبی علاقوں میں مبینہ دہشت گرد اہداف پر حملوں کا حکم دیا ہے۔ اسرائیلی فوج کے عربی ترجمان نے ان علاقوں کے رہائشیوں کو فوری انخلا کی ہدایت بھی کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی کارروائیاں بند ہونے تک کسی وسیع معاہدے یا جوہری مذاکرات کی راہ ہموار نہیں ہو سکتی۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ترجمان نے بھی جنوبی لبنان میں فوجی سرگرمیوں میں اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا، ایران کی پاسدارانِ انقلاب کے انٹیلی جنس ونگ نے خبردار کیا ہے کہ لبنان اور غزہ میں سرخ لکیریں عبور ہونے کی صورت میں ایران اسے براہِ راست جنگ تصور کرے گا اور دفاعی کارروائیوں کے ساتھ نئے محاذ بھی کھول سکتا ہے۔ تسنیم کے مطابق ایران آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی برقرار رکھنے کے علاوہ اپنے اتحادیوں کے ذریعے باب المندب کے محاذ کو بھی فعال کر سکتا ہے، جس سے عالمی توانائی کی ترسیل مزید متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات تیز رفتاری سے جاری ہیں، حالانکہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے خاتمے کے لیے جاری سفارتی کوششوں کو نئے چیلنجز کا سامنا ہے اور ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے نئے محاذ کھولنے کی دھمکی دی ہے۔</strong></p>
<p>ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق تہران نے لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں میں توسیع کے خلاف احتجاجاً ثالثوں کے ذریعے جاری مذاکرات معطل کر دیے ہیں۔ دوسری جانب اسرائیل نے بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں میں دوبارہ حملوں کا عندیہ دیا ہے۔</p>
<p>صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ مذاکرات تیزی سے جاری ہیں۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ اسرائیل اور ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ کو کشیدگی کم کرنے پر آمادہ کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔</p>
<p>امریکا اور ایران کے درمیان کئی ہفتوں سے بالواسطہ مذاکرات جاری ہیں، تاہم اب تک نہ جنگ کے خاتمے پر اتفاق ہو سکا ہے اور نہ ہی آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولا جا سکا ہے، جو خلیجی تیل اور گیس کی ترسیل کا اہم راستہ ہے۔</p>
<p>ادھر اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے لبنان میں زمینی کارروائیاں مزید گہری کرنے کا اعلان کرتے ہوئے فوج کو بیروت کے جنوبی علاقوں میں مبینہ دہشت گرد اہداف پر حملوں کا حکم دیا ہے۔ اسرائیلی فوج کے عربی ترجمان نے ان علاقوں کے رہائشیوں کو فوری انخلا کی ہدایت بھی کی۔</p>
<p>ایران نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی کارروائیاں بند ہونے تک کسی وسیع معاہدے یا جوہری مذاکرات کی راہ ہموار نہیں ہو سکتی۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ترجمان نے بھی جنوبی لبنان میں فوجی سرگرمیوں میں اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔</p>
<p>دریں اثنا، ایران کی پاسدارانِ انقلاب کے انٹیلی جنس ونگ نے خبردار کیا ہے کہ لبنان اور غزہ میں سرخ لکیریں عبور ہونے کی صورت میں ایران اسے براہِ راست جنگ تصور کرے گا اور دفاعی کارروائیوں کے ساتھ نئے محاذ بھی کھول سکتا ہے۔ تسنیم کے مطابق ایران آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی برقرار رکھنے کے علاوہ اپنے اتحادیوں کے ذریعے باب المندب کے محاذ کو بھی فعال کر سکتا ہے، جس سے عالمی توانائی کی ترسیل مزید متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40286985</guid>
      <pubDate>Tue, 02 Jun 2026 15:05:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/021503595b67f85.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/021503595b67f85.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کرپٹو کرنسی کے لین دین پر ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40286986/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی حکومت آئندہ مالی سال (27-2026) کے بجٹ میں فنانس بل 2026ء کے ذریعے کرپٹو کرنسی کے لین دین کو دستاویزی شکل دینے اور اس پر ٹیکس عائد کرنے کے لیے قانون سازی متعارف کروا سکتی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ کرپٹو کرنسی پر ٹیکس عائد کرنا حکومت کے لیے سب سے بڑا اور چیلنجنگ کام ہے۔وزارتِ خزانہ کا ٹیکس پالیسی یونٹ اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) مل کر کرپٹو ٹیکسیشن کا ایک ابتدائی فریم ورک تیار کر رہے ہیں، جسے وقت کے ساتھ ساتھ پاکستان کے وسیع تر مالیاتی نظام کے ساتھ مربوط کر دیا جائے گا۔ تاہم اس سلسلے میں سب سے بڑا ادارہ جاتی چیلنج بیرونِ ملک موجود کرپٹو اثاثوں کی واپسی کا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معاملے کی حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت دستاویزی عمل کو یقینی بنانے اور ساتھ ہی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کے لیے متعدد تجاویز پر کام کر رہی ہے۔ ایف بی آر ڈیجیٹل کرنسی کے سودوں سے پیدا ہونے والے منافع اور بنائے جانے والے اثاثوں پر ٹیکس لگانے کے مختلف آپشنز کا بھی جائزہ لے رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک طرف حکومت ڈیجیٹل اثاثوں میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے تو دوسری طرف وہ اس بات کو بھی یقینی بنانا چاہتی ہے کہ اس سہولت کا غلط استعمال نہ ہو۔ سب سے بڑا چیلنج کرپٹو کرنسی کے لین دین کو دستاویزی بنانا ہے لیکن ساتھ ہی سرمایہ کاری کے ذرائع کا تحفظ بھی مقصود ہے۔ ٹیکس مشینری کے لیے غیر رجسٹرڈ افراد کو دستاویزی دائرے میں لانا سب سے بڑا امتحان ہوگا، اسی لیے کرپٹو کرنسی کے لیے ٹیکسیشن فریم ورک تیار کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت کرپٹو کرنسی کے لین دین پر کچھ رعایتیں دینے اور ٹیکس کی شرح، ٹیکس کے طریقہ کار اور غیر رجسٹرڈ افراد کی دستاویز سازی کے معاملے سے ہوشیاری سے نمٹنے پر غور کر رہی ہے۔ ایک اور اہم نکتہ یہ ہے کہ شاید سرمایہ کاری کے ذرائع کی جانچ پڑتال نہ کی جائے لیکن نئے قانون کے تحت اس سہولت کا غلط استعمال بھی نہیں ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زیرِ غور تجاویز میں سے ایک یہ ہے کہ انکم ٹیکس آرڈیننس 2001ء کے سیکشن 37 (کیپیٹل گینز ٹیکس) کے دائرہ کار کو کرپٹو کرنسی تک بڑھایا جائے، تاکہ اس پر ٹیکس عائد کیا جا سکے۔ موجودہ صورتحال کا تقاضا ہے کہ ایک ایسا ٹیکسیشن طریقہ کار تیار کیا جائے جو کرپٹو سرگرمیوں کے تمام شعبوں کا احاطہ کرے۔ ورچوئل کرنسیوں کی تجارت سے ہونے والے کیپیٹل گینز (سرمایہ کاری کے منافع) پر ٹیکس لگانا اس کا سب سے سیدھا اور واضح حصہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی ٹیکس محتسب (ایف ٹی او) کی جانب سے ایف بی آر کو کرپٹو کرنسیوں پر پیش کی گئی ماضی کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں ڈیجیٹل کرنسی کے 56 کروڑ (560 ملین) صارفین ہیں، جن میں سے 90 لاکھ (9 ملین) صارفین پاکستان میں ہیں۔ کرپٹو کرنسی کو اپنانے کے لحاظ سے پاکستان دنیا کا چھٹا سب سے بڑا ملک ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے 6 اپریل 2018ء کو ورچوئل کرنسیوں کے خطرات کے حوالے سے ایک سرکولر جاری کیا تھا لیکن اس نے ورچوئل کرنسی کو غیر قانونی قرار نہیں دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی ٹیکس محتسب کا موقف ہے کہ پاکستان کی کرپٹو کرنسی مارکیٹ تیزی سے ترقی کر رہی ہے، جس میں انفرادی سرمایہ کاروں اور ادارہ جاتی کھلاڑیوں دونوں کی دلچسپی بڑھ رہی ہے۔ یہاں یہ نوٹ کرنا ضروری ہے کہ کرپٹو کرنسی کے لین دین سے حاصل ہونے والا منافع اور بنائے جانے والے اثاثے اس وقت تک غیر دستاویزی اور ٹیکس سے مستثنیٰ رہیں گے جب تک کہ قانونی دفعات متعارف کروا کر اس نظام کو ہموار نہیں کیا جاتا اور واضح قوانین کے ذریعے اسے ریگولیٹ نہیں کیا جاتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بڑے پیمانے پر ٹیکس چوری کے ناسور سے نمٹنے کے لیے یہ نیا ابھرتا ہوا راستہ حکومت کی آمدنی کی بعض رکاوٹوں کو کم کر سکتا ہے۔ ایف ٹی او کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ کرپٹو کرنسی پر قانون سازی سے ٹیکس نیٹ (ٹیکس بیس) وسیع ہوگا، جو کہ اب تک ایف بی آر کے پالیسی ونگ کے پاس زیرِ التوا ہے اور اسے ترجیحی بنیادوں پر مناسب طریقے سے حل کرنے کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک ٹیکس ماہر نے مشورہ دیا ہے کہ قانونی حیثیت دینے کا یہ عمل جہاں وقت کی ضرورت اور ناگزیر ہے وہیں یہ پیچیدہ مالیاتی، ریگولیٹری اور ساختی چیلنجز بھی پیدا کرتا ہے جن میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ ورچوئل اثاثوں کے لین دین پر اس طرح مؤثر طریقے سے ٹیکس کیسے لگایا جائے جس سے جدت پسندی کی حوصلہ شکنی نہ ہو اور نہ ہی سرمایہ ملک سے باہر منتقل ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی حکومت آئندہ مالی سال (27-2026) کے بجٹ میں فنانس بل 2026ء کے ذریعے کرپٹو کرنسی کے لین دین کو دستاویزی شکل دینے اور اس پر ٹیکس عائد کرنے کے لیے قانون سازی متعارف کروا سکتی ہے۔</strong></p>
<p>ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ کرپٹو کرنسی پر ٹیکس عائد کرنا حکومت کے لیے سب سے بڑا اور چیلنجنگ کام ہے۔وزارتِ خزانہ کا ٹیکس پالیسی یونٹ اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) مل کر کرپٹو ٹیکسیشن کا ایک ابتدائی فریم ورک تیار کر رہے ہیں، جسے وقت کے ساتھ ساتھ پاکستان کے وسیع تر مالیاتی نظام کے ساتھ مربوط کر دیا جائے گا۔ تاہم اس سلسلے میں سب سے بڑا ادارہ جاتی چیلنج بیرونِ ملک موجود کرپٹو اثاثوں کی واپسی کا ہے۔</p>
<p>معاملے کی حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت دستاویزی عمل کو یقینی بنانے اور ساتھ ہی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کے لیے متعدد تجاویز پر کام کر رہی ہے۔ ایف بی آر ڈیجیٹل کرنسی کے سودوں سے پیدا ہونے والے منافع اور بنائے جانے والے اثاثوں پر ٹیکس لگانے کے مختلف آپشنز کا بھی جائزہ لے رہا ہے۔</p>
<p>ایک طرف حکومت ڈیجیٹل اثاثوں میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے تو دوسری طرف وہ اس بات کو بھی یقینی بنانا چاہتی ہے کہ اس سہولت کا غلط استعمال نہ ہو۔ سب سے بڑا چیلنج کرپٹو کرنسی کے لین دین کو دستاویزی بنانا ہے لیکن ساتھ ہی سرمایہ کاری کے ذرائع کا تحفظ بھی مقصود ہے۔ ٹیکس مشینری کے لیے غیر رجسٹرڈ افراد کو دستاویزی دائرے میں لانا سب سے بڑا امتحان ہوگا، اسی لیے کرپٹو کرنسی کے لیے ٹیکسیشن فریم ورک تیار کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔</p>
<p>حکومت کرپٹو کرنسی کے لین دین پر کچھ رعایتیں دینے اور ٹیکس کی شرح، ٹیکس کے طریقہ کار اور غیر رجسٹرڈ افراد کی دستاویز سازی کے معاملے سے ہوشیاری سے نمٹنے پر غور کر رہی ہے۔ ایک اور اہم نکتہ یہ ہے کہ شاید سرمایہ کاری کے ذرائع کی جانچ پڑتال نہ کی جائے لیکن نئے قانون کے تحت اس سہولت کا غلط استعمال بھی نہیں ہونا چاہیے۔</p>
<p>زیرِ غور تجاویز میں سے ایک یہ ہے کہ انکم ٹیکس آرڈیننس 2001ء کے سیکشن 37 (کیپیٹل گینز ٹیکس) کے دائرہ کار کو کرپٹو کرنسی تک بڑھایا جائے، تاکہ اس پر ٹیکس عائد کیا جا سکے۔ موجودہ صورتحال کا تقاضا ہے کہ ایک ایسا ٹیکسیشن طریقہ کار تیار کیا جائے جو کرپٹو سرگرمیوں کے تمام شعبوں کا احاطہ کرے۔ ورچوئل کرنسیوں کی تجارت سے ہونے والے کیپیٹل گینز (سرمایہ کاری کے منافع) پر ٹیکس لگانا اس کا سب سے سیدھا اور واضح حصہ ہے۔</p>
<p>وفاقی ٹیکس محتسب (ایف ٹی او) کی جانب سے ایف بی آر کو کرپٹو کرنسیوں پر پیش کی گئی ماضی کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں ڈیجیٹل کرنسی کے 56 کروڑ (560 ملین) صارفین ہیں، جن میں سے 90 لاکھ (9 ملین) صارفین پاکستان میں ہیں۔ کرپٹو کرنسی کو اپنانے کے لحاظ سے پاکستان دنیا کا چھٹا سب سے بڑا ملک ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے 6 اپریل 2018ء کو ورچوئل کرنسیوں کے خطرات کے حوالے سے ایک سرکولر جاری کیا تھا لیکن اس نے ورچوئل کرنسی کو غیر قانونی قرار نہیں دیا تھا۔</p>
<p>وفاقی ٹیکس محتسب کا موقف ہے کہ پاکستان کی کرپٹو کرنسی مارکیٹ تیزی سے ترقی کر رہی ہے، جس میں انفرادی سرمایہ کاروں اور ادارہ جاتی کھلاڑیوں دونوں کی دلچسپی بڑھ رہی ہے۔ یہاں یہ نوٹ کرنا ضروری ہے کہ کرپٹو کرنسی کے لین دین سے حاصل ہونے والا منافع اور بنائے جانے والے اثاثے اس وقت تک غیر دستاویزی اور ٹیکس سے مستثنیٰ رہیں گے جب تک کہ قانونی دفعات متعارف کروا کر اس نظام کو ہموار نہیں کیا جاتا اور واضح قوانین کے ذریعے اسے ریگولیٹ نہیں کیا جاتا۔</p>
<p>بڑے پیمانے پر ٹیکس چوری کے ناسور سے نمٹنے کے لیے یہ نیا ابھرتا ہوا راستہ حکومت کی آمدنی کی بعض رکاوٹوں کو کم کر سکتا ہے۔ ایف ٹی او کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ کرپٹو کرنسی پر قانون سازی سے ٹیکس نیٹ (ٹیکس بیس) وسیع ہوگا، جو کہ اب تک ایف بی آر کے پالیسی ونگ کے پاس زیرِ التوا ہے اور اسے ترجیحی بنیادوں پر مناسب طریقے سے حل کرنے کی ضرورت ہے۔</p>
<p>ایک ٹیکس ماہر نے مشورہ دیا ہے کہ قانونی حیثیت دینے کا یہ عمل جہاں وقت کی ضرورت اور ناگزیر ہے وہیں یہ پیچیدہ مالیاتی، ریگولیٹری اور ساختی چیلنجز بھی پیدا کرتا ہے جن میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ ورچوئل اثاثوں کے لین دین پر اس طرح مؤثر طریقے سے ٹیکس کیسے لگایا جائے جس سے جدت پسندی کی حوصلہ شکنی نہ ہو اور نہ ہی سرمایہ ملک سے باہر منتقل ہو۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40286986</guid>
      <pubDate>Tue, 02 Jun 2026 15:05:03 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سہیل سرفراز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/02145559ed6f96d.gif" type="image/gif" medium="image">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/02145559ed6f96d.gif"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آئیووا میں مسلح شخص کی فائرنگ، 6 افراد ہلاک</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40286984/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی ریاست آئیووا کے شہر مسکاٹین میں، جو دریائے مسیسیپی کے پار ریاست الینوائے کے مقابل واقع ہے، ایک مسلح شخص نے مختلف مقامات پر فائرنگ کے سلسلہ وار واقعات میں چھ افراد کو قتل کر دیا، جبکہ بعد ازاں خود کو بھی ہلاک کردیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مسکاٹین پولیس ڈیپارٹمنٹ کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ فائرنگ ایک گھریلو تنازعے (ڈومیسٹک ڈسپیوٹ) کے نتیجے میں ہوئی۔ پولیس نے ایک بیان میں کہا کہ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی ریاست آئیووا کے شہر مسکاٹین میں، جو دریائے مسیسیپی کے پار ریاست الینوائے کے مقابل واقع ہے، ایک مسلح شخص نے مختلف مقامات پر فائرنگ کے سلسلہ وار واقعات میں چھ افراد کو قتل کر دیا، جبکہ بعد ازاں خود کو بھی ہلاک کردیا۔</strong></p>
<p>مسکاٹین پولیس ڈیپارٹمنٹ کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ فائرنگ ایک گھریلو تنازعے (ڈومیسٹک ڈسپیوٹ) کے نتیجے میں ہوئی۔ پولیس نے ایک بیان میں کہا کہ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40286984</guid>
      <pubDate>Tue, 02 Jun 2026 15:00:39 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/0214585526b8fb2.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/0214585526b8fb2.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مئی میں 3 ہزار سے زائد نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، آئی ٹی کا شعبہ سرفہرست رہا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40286982/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے مطابق مئی کے دوران ملک بھر میں 3,161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ ہوئیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایس ای سی پی کے مطابق ملک بھر میں رجسٹرڈ کمپنیوں کی مجموعی تعداد بڑھ کر 297,239 تک پہنچ گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں مزید بتایا گیا کہ 99 فیصد کمپنیوں کا اندراج آن لائن کیا گیا جن میں سے 260 کمپنیاں خیبر پختونخوا، 112 گلگت بلتستان اور 71 کمپنیاں بلوچستان میں رجسٹرڈ ہوئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب پنجاب میں 1,643 کمپنیاں، اسلام آباد میں 596 اور سندھ میں 479 کمپنیاں رجسٹرڈ کی گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق مئی میں آئی ٹی (انفارمیشن ٹیکنالوجی) اور ای کامرس کے شعبے میں سب سے زیادہ نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن ریکارڈ کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) کا شعبہ 598 نئی رجسٹرڈ کمپنیوں کے ساتھ تمام صنعتوں میں سرِفہرست رہا جس کے بعد ٹریڈنگ (تجارتی) سیکٹر 503 رجسٹریشنز کے ساتھ دوسرے اور سروسز (خدمات) کا شعبہ 404 رجسٹریشنز کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب رئیل اسٹیٹ اور تعمیراتی شعبے  میں 303 نئی کمپنیوں کا اندراج دیکھا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح مئی کے دوران سیاحت اور ٹرانسپورٹ کے شعبے میں 206 نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن ریکارڈ کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان کے مطابق غیر ملکی سرمایہ کاری کی سرگرمیاں بھی مستحکم رہیں جہاں 17 ممالک سے تعلق رکھنے والے سرمایہ کاروں نے پاکستان میں کمپنیاں رجسٹرڈ کروائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایس ای سی پی کے مطابق ان کمپنیوں میں چین سے تعلق رکھنے والے 89 شیئر ہولڈرز نے ڈائریکٹرز کے عہدے حاصل کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر ملکی سرمایہ کاروں کی جانب سے قائم کی جانے والی ان کمپنیوں کا مجموعی پیڈ اپ کیپیٹل (ادا شدہ سرمایہ) 13 کروڑ 94 لاکھ (139.4 ملین) روپے ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="" href="#" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;/h3&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے مطابق مئی کے دوران ملک بھر میں 3,161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ ہوئیں۔</strong></p>
<p>ایس ای سی پی کے مطابق ملک بھر میں رجسٹرڈ کمپنیوں کی مجموعی تعداد بڑھ کر 297,239 تک پہنچ گئی ہے۔</p>
<p>بیان میں مزید بتایا گیا کہ 99 فیصد کمپنیوں کا اندراج آن لائن کیا گیا جن میں سے 260 کمپنیاں خیبر پختونخوا، 112 گلگت بلتستان اور 71 کمپنیاں بلوچستان میں رجسٹرڈ ہوئیں۔</p>
<p>دوسری جانب پنجاب میں 1,643 کمپنیاں، اسلام آباد میں 596 اور سندھ میں 479 کمپنیاں رجسٹرڈ کی گئیں۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق مئی میں آئی ٹی (انفارمیشن ٹیکنالوجی) اور ای کامرس کے شعبے میں سب سے زیادہ نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن ریکارڈ کی گئی۔</p>
<p>انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) کا شعبہ 598 نئی رجسٹرڈ کمپنیوں کے ساتھ تمام صنعتوں میں سرِفہرست رہا جس کے بعد ٹریڈنگ (تجارتی) سیکٹر 503 رجسٹریشنز کے ساتھ دوسرے اور سروسز (خدمات) کا شعبہ 404 رجسٹریشنز کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہا۔</p>
<p>دوسری جانب رئیل اسٹیٹ اور تعمیراتی شعبے  میں 303 نئی کمپنیوں کا اندراج دیکھا گیا۔</p>
<p>اسی طرح مئی کے دوران سیاحت اور ٹرانسپورٹ کے شعبے میں 206 نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن ریکارڈ کی گئی۔</p>
<p>بیان کے مطابق غیر ملکی سرمایہ کاری کی سرگرمیاں بھی مستحکم رہیں جہاں 17 ممالک سے تعلق رکھنے والے سرمایہ کاروں نے پاکستان میں کمپنیاں رجسٹرڈ کروائیں۔</p>
<p>ایس ای سی پی کے مطابق ان کمپنیوں میں چین سے تعلق رکھنے والے 89 شیئر ہولڈرز نے ڈائریکٹرز کے عہدے حاصل کیے۔</p>
<p>غیر ملکی سرمایہ کاروں کی جانب سے قائم کی جانے والی ان کمپنیوں کا مجموعی پیڈ اپ کیپیٹل (ادا شدہ سرمایہ) 13 کروڑ 94 لاکھ (139.4 ملین) روپے ہے۔</p>
<h3><a id="" href="#" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a></h3>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40286982</guid>
      <pubDate>Tue, 02 Jun 2026 14:51:39 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/0214490744ed545.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/0214490744ed545.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکی کوچ موریسیو پوچیٹینو اور دیگر ورلڈ کپ میں لیپ ٹاپ استعمال کر سکیں گے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40286980/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی فٹ بال ٹیم کے کوچ  موریسیو پوچیٹینو نے  سینیگال کے خلاف ایک دوستانہ میچ میں پانی کے وقفے (ہائیڈریشن بریک) کے دوران کھلاڑیوں کو لیپ ٹاپ پر لائیو ویڈیو کے ذریعے نئی حکمتِ عملی سمجھائی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میچ کے بعد انہوں نے اعتراف کیا کہ وہ غیر یقینی کا شکار تھے کہ آیا ورلڈ کپ میں ایسا کرنے کی اجازت ہوگی یا نہیں۔ تاہم  دی ایتھلیٹک کی رپورٹ کے مطابق پوچیٹینو اور دیگر کوچز ورلڈ کپ میچوں کے دوران ہر وقت لیپ ٹاپ استعمال کرنے کے مجاز ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فٹ بال قوانین کے نگراں ادارے (آئی ایف اے بی) کے تحت کوچز کو پہلے ہی اسمارٹ فون، ٹیبلٹ اور لیپ ٹاپ جیسے آلات استعمال کرنے کی اجازت ہے۔ نئے قواعد کے مطابق کوچز پانی کے وقفے کے دوران پچ پر موجود کھلاڑیوں کو لیپ ٹاپ دکھا سکتے ہیں، بشرطیکہ کھلاڑی حدِ نگاہ (سفید لائن) پار نہ کریں۔ واضح رہے کہ ورلڈ کپ 2026ء میں ہر میچ کے دونوں ہاف کے وسط میں تین تین منٹ کا ’ہائیڈریشن بریک‘ لازمی قرار دیا گیا ہے، جسے کوچز گیم پلان تبدیل کرنے کے لیے استعمال کریں گے۔ اس دوستانہ میچ میں امریکہ نے سینیگال کو 2-3 سے شکست دی تھی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی فٹ بال ٹیم کے کوچ  موریسیو پوچیٹینو نے  سینیگال کے خلاف ایک دوستانہ میچ میں پانی کے وقفے (ہائیڈریشن بریک) کے دوران کھلاڑیوں کو لیپ ٹاپ پر لائیو ویڈیو کے ذریعے نئی حکمتِ عملی سمجھائی۔</strong></p>
<p>میچ کے بعد انہوں نے اعتراف کیا کہ وہ غیر یقینی کا شکار تھے کہ آیا ورلڈ کپ میں ایسا کرنے کی اجازت ہوگی یا نہیں۔ تاہم  دی ایتھلیٹک کی رپورٹ کے مطابق پوچیٹینو اور دیگر کوچز ورلڈ کپ میچوں کے دوران ہر وقت لیپ ٹاپ استعمال کرنے کے مجاز ہوں گے۔</p>
<p>فٹ بال قوانین کے نگراں ادارے (آئی ایف اے بی) کے تحت کوچز کو پہلے ہی اسمارٹ فون، ٹیبلٹ اور لیپ ٹاپ جیسے آلات استعمال کرنے کی اجازت ہے۔ نئے قواعد کے مطابق کوچز پانی کے وقفے کے دوران پچ پر موجود کھلاڑیوں کو لیپ ٹاپ دکھا سکتے ہیں، بشرطیکہ کھلاڑی حدِ نگاہ (سفید لائن) پار نہ کریں۔ واضح رہے کہ ورلڈ کپ 2026ء میں ہر میچ کے دونوں ہاف کے وسط میں تین تین منٹ کا ’ہائیڈریشن بریک‘ لازمی قرار دیا گیا ہے، جسے کوچز گیم پلان تبدیل کرنے کے لیے استعمال کریں گے۔ اس دوستانہ میچ میں امریکہ نے سینیگال کو 2-3 سے شکست دی تھی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40286980</guid>
      <pubDate>Tue, 02 Jun 2026 13:57:41 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/02134857fa0c687.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/02134857fa0c687.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سیکیورٹی خدشات : بھارت میں میسی کا بڑا مجسمہ ہٹا دیا گیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40286979/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھارتی ریاست مغربی بنگال کے دارالحکومت کولکتہ میں فٹ بال اسٹار لیونل میسی کا 21 میٹر (70 فٹ) اونچا دیو ہیکل مجسمہ تیز ہوا کے باعث خطرناک حد تک جھولنے پر پیر کو ہٹا دیا گیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام نے مقامی لوگوں کی شکایات کے بعد ہائیڈرولک کرینوں اور رسوں کی مدد سے اس سنہرے مجسمے کو اتارا اور ایک ٹرک کے ذریعے سرکاری گودام منتقل کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ مجسمہ جس میں 38 سالہ ارجنٹائن اور انٹر میامی کے اسٹار کو ورلڈ کپ کی ٹرافی اٹھائے دکھایا گیا ہے، مجسمہ گزشتہ سال دسمبر میں ان کے دورہ بھارت کے دوران نصب کیا گیا تھا۔ تاہم ریاست میں حالیہ سیاسی تبدیلی کے بعد یہ مجسمہ تنازع کا شکار ہو گیا تھا۔ یہ منصوبہ سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی سرپرستی میں تیار ہوا تھا لیکن حال ہی میں برسرِاقتدار آنے والی بی جے پی حکومت کے وزیرِ کھیل نستھ پرامانک نے اسے ”بدنما“ قرار دے کر تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ واضح رہے کہ کرکٹ کے دیوانے ملک بھارت میں فٹ بال دوسرا پسندیدہ ترین کھیل ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بھارتی ریاست مغربی بنگال کے دارالحکومت کولکتہ میں فٹ بال اسٹار لیونل میسی کا 21 میٹر (70 فٹ) اونچا دیو ہیکل مجسمہ تیز ہوا کے باعث خطرناک حد تک جھولنے پر پیر کو ہٹا دیا گیا۔</strong></p>
<p>حکام نے مقامی لوگوں کی شکایات کے بعد ہائیڈرولک کرینوں اور رسوں کی مدد سے اس سنہرے مجسمے کو اتارا اور ایک ٹرک کے ذریعے سرکاری گودام منتقل کر دیا۔</p>
<p>یہ مجسمہ جس میں 38 سالہ ارجنٹائن اور انٹر میامی کے اسٹار کو ورلڈ کپ کی ٹرافی اٹھائے دکھایا گیا ہے، مجسمہ گزشتہ سال دسمبر میں ان کے دورہ بھارت کے دوران نصب کیا گیا تھا۔ تاہم ریاست میں حالیہ سیاسی تبدیلی کے بعد یہ مجسمہ تنازع کا شکار ہو گیا تھا۔ یہ منصوبہ سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی سرپرستی میں تیار ہوا تھا لیکن حال ہی میں برسرِاقتدار آنے والی بی جے پی حکومت کے وزیرِ کھیل نستھ پرامانک نے اسے ”بدنما“ قرار دے کر تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ واضح رہے کہ کرکٹ کے دیوانے ملک بھارت میں فٹ بال دوسرا پسندیدہ ترین کھیل ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40286979</guid>
      <pubDate>Tue, 02 Jun 2026 13:38:51 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/0213315086a6937.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/0213315086a6937.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مشرقِ وسطیٰ بحران، پاکستان میں بزنس کنفیڈنس انڈیکس میں بڑی گراوٹ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40286978/</link>
      <description>&lt;p&gt;اوورسیز انوسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (او آئی سی سی آئی) کے بزنس کنفیڈنس انڈیکس سروے کے نتائج سے معلوم ہوا ہے کہ سال  2026 کی دوسری سہ ماہی کے دوران پاکستان میں کاروباری اعتماد شدید متاثر ہوا ہے کیونکہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی جغرافیائی سیاسی کشیدگی نے سرمایہ کاری کے منصوبوں پر دباؤ ڈالا، سپلائی چینز میں رکاوٹیں پیدا کیں اور لاگت میں اضافے کو ہوا دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;او آئی سی سی آئی کے بزنس کانفیڈنس انڈیکس (بی سی آئی) سروے ویو 29 کے مطابق جو 2026 کی دوسری سہ ماہی میں پاکستان بھر میں کیا گیا کاروباری برادری کے جذبات اور اعتماد میں کمی دیکھی گئی۔ اس کے نتیجے میں مجموعی بزنس کنفیڈنس انڈیکس 9 فیصد پوائنٹس کی گراوٹ کے بعد مثبت 13 فیصد پر آ گیا  جو کہ اس سے پچھلے یعنی 28 ویں ویو میں 22 فیصد پر ریکارڈ کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق کاروباری اعتماد میں اس کمی کی بنیادی وجوہات میں مہنگائی کا بڑھتا ہوا دباؤ، ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے شدت اختیار کرتے ہوئے منفی اثرات شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سروسز کے شعبے میں سب سے بڑی گراوٹ دیکھی گئی جہاں یہ انڈیکس 20 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ 14 فیصد پر آ گیا جبکہ مینوفیکچرنگ  کے شعبے میں 7 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ریٹیل کا شعبہ واحد  تھا جس میں بہتری دیکھنے میں آئی اور یہ 3 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ مثبت 20 فیصد تک پہنچ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سروے کے نتائج کے مطابق کاروباری اداروں میں سرمایہ کاری کے ارادے نمایاں طور پر کمزور ہوئے ہیں، جہاں نیو انویسٹمنٹ انڈیکس 10 پوائنٹس کی کمی کے بعد صرف 2 فیصد رہ گیا ہے جو قریبی مدت میں سرمایہ کی تعیناتی تقریباً مکمل طور پر منجمد ہونے کی عکاسی کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں بتایا گیا کہ تمام شعبوں سے وابستہ تقریباً 70 سے 80 فیصد کاروباری ادارے سرمایہ کاری کے فیصلوں کو مؤخر کررہے ہیں یا ان پر نظرثانی کررہے ہیں اور متاثرہ تجارتی راستوں کے اثرات سے بچنے کے لیے اپنی سپلائی چینز کو متنوع بنا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ  اسٹریٹجک توجہ اب خطرات میں کمی اور آپریشنل لچک کو مضبوط بنانے کی طرف منتقل ہورہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی دوران سروے کا عالمی کاروباری صورتحال کا اشاریہ 31 پوائنٹس گرگیا  اور تمام شعبوں سے وابستہ کاروباری اداروں کو توقع ہے کہ یہ بحران چھ ماہ سے بھی زائد عرصے تک برقرار رہ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;او آئی سی سی آئی کے سیکریٹری جنرل عبدالعلیم کا کہنا تھا کہ سروے کے نتائج اس بات کا واضح اشارہ ہیں کہ پاکستان میں کام کرنے والے کاروباری ادارے اس وقت انتہائی پیچیدہ ماحول کا سامنا کررہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشرقِ وسطیٰ تنازع کے اثرات سرمایہ کاری کے جمود سے لے کر سپلائی چین کی ازسرِنو تشکیل تک ہر شعبے میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔ اگرچہ پاکستانی مارکیٹ کے بنیادی عوامل  اب بھی مستحکم ہیں، تاہم کاروباری اعتماد کو بحال کرنے کے لیے پالیسی کے استحکام، پیداواری لاگت میں ریلیف اور معیشت کو طویل جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال کے اثرات سے بچانے کے لیے بھرپور اور مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مستقبل کی بات کی جائے تو سروے میں شامل 34 فیصد شرکاء نے آئندہ چھ ماہ کے دوران منفی کاروباری صورتحال کی پیش گوئی کی ہے جو کہ پچھلے یعنی 28 ویں مرحلے کے 22 فیصد کے مقابلے میں ایک بڑی گراوٹ ہے، اس حوالے سے سیاسی عدم استحکام، ایندھن (فیول) کی قیمتوں اور مہنگائی کو سب سے بڑے خدشات قرار دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب کاروباری ترقی کے لیے اہم ساختی خطرات کے بارے میں پوچھا گیا تو مہنگائی سب سے اوپر رہی، جسے 84 فیصد نے سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا، اس کے بعد بلند ٹیکس 79 فیصد کے ساتھ اور کرنسی کے استحکام اور غیر مستقل حکومتی پالیسیوں سے متعلق خدشات دونوں 61 فیصد پر رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب، ملک کے بڑے غیر ملکی سرمایہ کاروں کی نمائندہ تنظیم او آئی سی سی آئی کی ممبر کمپنیوں کے کاروباری اعتماد میں نسبتاً پائیداری دیکھی گئی اور یہ معمولی بہتری کے ساتھ مثبت 28 فیصد پر برقرار رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="" href="#" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="-1" href="#-1" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="-2" href="#-2" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;/h3&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اوورسیز انوسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (او آئی سی سی آئی) کے بزنس کنفیڈنس انڈیکس سروے کے نتائج سے معلوم ہوا ہے کہ سال  2026 کی دوسری سہ ماہی کے دوران پاکستان میں کاروباری اعتماد شدید متاثر ہوا ہے کیونکہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی جغرافیائی سیاسی کشیدگی نے سرمایہ کاری کے منصوبوں پر دباؤ ڈالا، سپلائی چینز میں رکاوٹیں پیدا کیں اور لاگت میں اضافے کو ہوا دی۔</p>
<p>او آئی سی سی آئی کے بزنس کانفیڈنس انڈیکس (بی سی آئی) سروے ویو 29 کے مطابق جو 2026 کی دوسری سہ ماہی میں پاکستان بھر میں کیا گیا کاروباری برادری کے جذبات اور اعتماد میں کمی دیکھی گئی۔ اس کے نتیجے میں مجموعی بزنس کنفیڈنس انڈیکس 9 فیصد پوائنٹس کی گراوٹ کے بعد مثبت 13 فیصد پر آ گیا  جو کہ اس سے پچھلے یعنی 28 ویں ویو میں 22 فیصد پر ریکارڈ کیا گیا تھا۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق کاروباری اعتماد میں اس کمی کی بنیادی وجوہات میں مہنگائی کا بڑھتا ہوا دباؤ، ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے شدت اختیار کرتے ہوئے منفی اثرات شامل ہیں۔</p>
<p>سروسز کے شعبے میں سب سے بڑی گراوٹ دیکھی گئی جہاں یہ انڈیکس 20 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ 14 فیصد پر آ گیا جبکہ مینوفیکچرنگ  کے شعبے میں 7 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی۔</p>
<p>دوسری جانب ریٹیل کا شعبہ واحد  تھا جس میں بہتری دیکھنے میں آئی اور یہ 3 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ مثبت 20 فیصد تک پہنچ گیا۔</p>
<p>سروے کے نتائج کے مطابق کاروباری اداروں میں سرمایہ کاری کے ارادے نمایاں طور پر کمزور ہوئے ہیں، جہاں نیو انویسٹمنٹ انڈیکس 10 پوائنٹس کی کمی کے بعد صرف 2 فیصد رہ گیا ہے جو قریبی مدت میں سرمایہ کی تعیناتی تقریباً مکمل طور پر منجمد ہونے کی عکاسی کرتا ہے۔</p>
<p>رپورٹ میں بتایا گیا کہ تمام شعبوں سے وابستہ تقریباً 70 سے 80 فیصد کاروباری ادارے سرمایہ کاری کے فیصلوں کو مؤخر کررہے ہیں یا ان پر نظرثانی کررہے ہیں اور متاثرہ تجارتی راستوں کے اثرات سے بچنے کے لیے اپنی سپلائی چینز کو متنوع بنا رہے ہیں۔</p>
<p>رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ  اسٹریٹجک توجہ اب خطرات میں کمی اور آپریشنل لچک کو مضبوط بنانے کی طرف منتقل ہورہی ہے۔</p>
<p>اسی دوران سروے کا عالمی کاروباری صورتحال کا اشاریہ 31 پوائنٹس گرگیا  اور تمام شعبوں سے وابستہ کاروباری اداروں کو توقع ہے کہ یہ بحران چھ ماہ سے بھی زائد عرصے تک برقرار رہ سکتا ہے۔</p>
<p>او آئی سی سی آئی کے سیکریٹری جنرل عبدالعلیم کا کہنا تھا کہ سروے کے نتائج اس بات کا واضح اشارہ ہیں کہ پاکستان میں کام کرنے والے کاروباری ادارے اس وقت انتہائی پیچیدہ ماحول کا سامنا کررہے ہیں۔</p>
<p>مشرقِ وسطیٰ تنازع کے اثرات سرمایہ کاری کے جمود سے لے کر سپلائی چین کی ازسرِنو تشکیل تک ہر شعبے میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔ اگرچہ پاکستانی مارکیٹ کے بنیادی عوامل  اب بھی مستحکم ہیں، تاہم کاروباری اعتماد کو بحال کرنے کے لیے پالیسی کے استحکام، پیداواری لاگت میں ریلیف اور معیشت کو طویل جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال کے اثرات سے بچانے کے لیے بھرپور اور مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہوگی۔</p>
<p>مستقبل کی بات کی جائے تو سروے میں شامل 34 فیصد شرکاء نے آئندہ چھ ماہ کے دوران منفی کاروباری صورتحال کی پیش گوئی کی ہے جو کہ پچھلے یعنی 28 ویں مرحلے کے 22 فیصد کے مقابلے میں ایک بڑی گراوٹ ہے، اس حوالے سے سیاسی عدم استحکام، ایندھن (فیول) کی قیمتوں اور مہنگائی کو سب سے بڑے خدشات قرار دیا گیا ہے۔</p>
<p>جب کاروباری ترقی کے لیے اہم ساختی خطرات کے بارے میں پوچھا گیا تو مہنگائی سب سے اوپر رہی، جسے 84 فیصد نے سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا، اس کے بعد بلند ٹیکس 79 فیصد کے ساتھ اور کرنسی کے استحکام اور غیر مستقل حکومتی پالیسیوں سے متعلق خدشات دونوں 61 فیصد پر رہے۔</p>
<p>دوسری جانب، ملک کے بڑے غیر ملکی سرمایہ کاروں کی نمائندہ تنظیم او آئی سی سی آئی کی ممبر کمپنیوں کے کاروباری اعتماد میں نسبتاً پائیداری دیکھی گئی اور یہ معمولی بہتری کے ساتھ مثبت 28 فیصد پر برقرار رہا۔</p>
<h3><a id="" href="#" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a></h3>
<h3><a id="-1" href="#-1" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a></h3>
<h3><a id="-2" href="#-2" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a></h3>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40286978</guid>
      <pubDate>Tue, 02 Jun 2026 13:35:22 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/06/02131346c45054d.webp" type="image/webp" medium="image" height="427" width="640">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/06/02131346c45054d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
