وزیراعظم شہباز شریف کا بانڈڈ ویئر ہاؤسز کے آڈٹ کا حکم
- بانڈڈ تجارت ملک کی مجموعی درآمدات کا 16.5 فیصد ہے
وزیراعظم شہباز شریف نے حکام کو ملک بھر میں کسٹمز بانڈڈ ویئر ہاؤسز کا تین سالہ آزادانہ آڈٹ کرانے کی ہدایت کردی۔
وزیراعظم نے یہ ہدایات فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) سے متعلق امور پر منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دیں، جس کے بارے میں سرکاری اعلامیے میں بتایا گیا۔
اجلاس کے دوران وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ملک بھر میں کسٹمز بانڈڈ ویئر ہاؤسز کا تین سال کے دوران آزاد تھرڈ پارٹی آڈٹ کرایا جائے۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ کسٹمز بانڈڈ ویئر ہاؤسز میں کسی بھی قسم کی بے ضابطگی کی کوئی گنجائش نہیں۔ انہوں نے یہ بھی ہدایت کی کہ بے ضابطگیوں اور غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث افسران کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے۔
اجلاس کو کسٹمز بانڈڈ ویئر ہاؤسز اور ان لینڈ ریونیو کے نفاذ سے متعلق امور پر بریفنگ دی گئی۔اجلاس کو بتایا گیا کہ کسٹمز ویئر ہاؤسز میں پٹرولیم مصنوعات سے متعلق کارگو کی نگرانی وی بوک نظام سے منسلک ہے۔ بانڈڈ تجارت ملک کی مجموعی درآمدات کا 16.5 فیصد ہے۔
وزیراعظم کی ہدایت پر ملک بھر کے کسٹمز بانڈڈ ویئر ہاؤسز میں موجود اسٹاک کی فزیکل تصدیق کی جائے گی۔ کسٹمز بانڈڈ ویئر ہاؤسز کی لائسنسنگ اور سکیورٹی یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
کسٹمز بانڈڈ ویئر ہاؤسز کی ویلیوایشن کی جانچ کی جائے گی، جبکہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے نظام کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔ کسٹمز بانڈڈ ویئر ہاؤسز میں بے ضابطگیوں کے خاتمے کے لیے ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
اجلاس میں وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، وزیر برائے پٹرولیم ڈویژن علی پرویز ملک، وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام شزہ فاطمہ، وزیراعظم کے مشیر ہارون اختر، رکن قومی اسمبلی عثمان اویسی، اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔























Comments