آبنائے ہرمز سے متعلق مذاکرات میں پیش رفت، تیل کی قیمتیں ایک ہفتے کی بلند ترین سطح کے قریب برقرار
- برینٹ فیوچرز کی قیمت 12 سینٹ یا 0.1 فیصد اضافے سے 87.84 ڈالر فی بیرل ہوگئی
عالمی منڈی میں منگل کے روز تیل کی قیمتیں ایک ہفتے کی بلند ترین سطح کے قریب رہیں، کیونکہ مارکیٹ میں آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری آمدورفت بحال کرنے کے لیے عمان اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کے اشاروں کا جائزہ لیا جا رہا ہے، جبکہ مشرق وسطیٰ اور روس سے توانائی کی ترسیل میں خلل بدستور برقرار ہے۔
برینٹ فیوچرز کی قیمت صبح 10:31 بجے (ای ڈی ٹی) 12 سینٹ یا 0.1 فیصد اضافے سے 87.84 ڈالر فی بیرل ہوگئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل 7 سینٹ یا 0.1 فیصد اضافے سے 82.20 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا۔
پیر کو دونوں بینچ مارکس 31 جولائی کے بعد بلند ترین سطح پر بند ہوئے تھے۔
قطر کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کے معاملے پر عمان اور ایران کے درمیان مذاکرات حتمی مراحل میں پہنچ چکے ہیں۔ یہ پیش رفت امریکا اور ایران کے درمیان مطالبات کے تبادلے کے ایک روز بعد سامنے آئی ہے، جس سے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی کوششیں پیچیدہ ہوگئی تھیں۔
ایران جنگ شروع ہونے سے قبل عالمی تیل کی تقریباً 20 فیصد سپلائی آبنائے ہرمز سے گزرتی تھی۔
سٹی انڈیکس اور فاریکس ڈاٹ کام کے تجزیہ کار فواد رزاق زادہ نے کہا، ’’کشیدگی میں کمی یا کسی معاہدے کی کوئی بھی علامت خطرے والے اثاثوں کے لیے اچھی خبر اور تیل کے لیے بُری خبر ہوگی، لیکن فی الحال یہ سب محض باتیں اور سرخیاں ہیں۔ کوئی بامعنی پیش رفت نہیں ہوئی۔‘‘
شپنگ ڈیٹا کے مطابق پیر کو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کی تعداد کم ہو کر صرف 6 رہ گئی، جبکہ گزشتہ 10 دن کی اوسط تقریباً 11 جہاز روزانہ تھی۔
مشرق وسطیٰ میں دیگر پیش رفت
مشرق وسطیٰ کے دیگر علاقوں میں منگل کو بحیرۂ احمر اور کھلے بحیرۂ ہند کے درمیان آبنائے باب المندب میں حوثیوں کے ایک چھوٹے کارگو جہاز پر مشتبہ حملے میں عملے کے تین ارکان ہلاک ہوگئے۔ ذرائع کے مطابق پاکستان کے قریب ایک کنٹینر جہاز بھی میزائل کی زد میں آیا، جسے مشتبہ طور پر امریکی حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔
اگر مصری ملکیت والے بحری جہاز ’’تیہامہ‘‘ پر ہونے والی ہلاکتوں کی تصدیق ہوجاتی ہے تو ایران جنگ شروع ہونے کے بعد حوثیوں کے بحری جہازوں پر حملے میں یہ پہلی ہلاکتیں ہوں گی۔ حوثیوں نے تاحال اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔
حوثیوں نے 20 جولائی کو بحیرۂ احمر میں سعودی عرب کے خلاف بحری پابندی کا اعلان کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام سعودی عرب کی جانب سے یمن کے محاصرے کے ردعمل میں کیا گیا ہے، تاہم ریاض نے یمن کے محاصرے کی تردید کی ہے۔
دنیا بھر میں تیل کی صورتحال
تجارتی ذرائع کے مطابق ابوظہبی نیشنل آئل کمپنی (اے ڈی این او سی) نے اسپاٹ خام تیل کی فروخت کے لیے ٹینڈر جاری کیا ہے۔ جون کے آغاز سے یہ کمپنی کی جانب سے جاری کیا جانے والا آٹھواں ٹینڈر ہے، کیونکہ متحدہ عرب امارات کی سرکاری آئل کمپنی آبنائے ہرمز کے اندر موجود تیل کو منتقل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
لیبیا کے اہم شہر زاوِیہ میں ایک بار پھر تشدد شروع ہونے سے ملک کی آئل انڈسٹری متاثر ہوئی ہے۔ سرکاری آئل کمپنی این او سی نے کہا ہے کہ اگر شہر میں توانائی کے اثاثوں پر ڈرون حملے جاری رہے تو وہ فورس میجر کا اعلان کرسکتی ہے۔ لیبیا اوپیک کا رکن ہے۔
ادھر یورپ میں یوکرین کی فوج نے منگل کو روس کے شہر اورسک میں ایک آئل ریفائنری کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ اورسک اورینبرگ خطے کا دوسرا بڑا شہر اور ایک اہم صنعتی مرکز ہے۔
یوکرین کے روسی توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں اور ایران جنگ کے امتزاج نے عالمی توانائی کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے، کیونکہ عالمی سطح پر تیل کی رسد محدود ہوئی ہے۔ برینٹ فیوچرز کی قیمت رواں سال اب تک تقریباً 44 فیصد بڑھ چکی ہے۔
امریکی توانائی کے اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں روس امریکا اور سعودی عرب کے بعد دنیا کا تیسرا سب سے بڑا خام تیل پیدا کرنے والا ملک تھا۔ روس اوپیک پلس گروپ کا رکن بھی ہے، جس میں اوپیک اور اس کے اتحادی ممالک شامل ہیں۔
























Comments