میر رضا قتل کیس : ڈی این اے کے نمونے بالآخر کراچی یونیورسٹی کی لیب پہنچ گئے
- فارنزک ثبوتوں میں تاخیر پر تشویش میں اضافہ
میر رضا علی ہائی پروفائل قتل کیس میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں اہم فارنزک ثبوتوں کی ہینڈلنگ میں تاخیر اور مبینہ غفلت کی اطلاعات کے بعد بالآخر چھ ڈی این اے نمونے تجزیے کے لیے کراچی یونیورسٹی کی فارنزک لیبارٹری کو موصول ہو گئے ہیں۔
پولیس ذرائع کے مطابق چار نمونے تفتیش کے دوران قبر کشائی کے بعد حاصل کی گئی لاش سے لیے گئے ہیں، جبکہ دو نمونے شناخت کے حوالے کے طور پر میر رضا کے والدین سے حاصل کیے گئے ہیں۔ ڈی این اے ٹیسٹ کی رپورٹ جلد از جلد جاری ہونے کی توقع ہے، جس سے سائنسی بنیادوں پر یہ ثابت ہو سکے گا کہ قبر کشائی کے بعد برآمد ہونے والی لاش میر رضا ہی کی ہے۔
یہ پیش رفت فارنزک ثبوتوں کو سنبھالنے کے طریقہ کار پر شدید تحفظات کا اظہار کیے جانے کے بعد سامنے آئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق ہفتے کو کی گئی قبر کشائی کے دوران کل 17 فارنزک نمونے جمع کیے گئے تھے، لیکن ان نمونوں کو لیبارٹری بھیجنے میں کئی دن کاعرصہ لگ گیا۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سید طارق کا کہنا تھا کہ تمام نمونے تفتیشی افسر کے حوالے کر دیے گئے تھے اور ان کی بروقت لیبارٹری منتقلی کو یقینی بنانا مکمل طور پر تفتیشی افسر کی ذمہ داری تھی۔
موجودہ تفتیشی افسر غضنفر علی نے بتایا کہ انہیں حال ہی میں تفتیشی کمیٹی میں شامل کیا گیا ہے اور وہ سابقه ٹیم کا حصہ نہیں تھے، اس لیے وہ نمونوں کی منتقلی میں تاخیر پر تبصرہ نہیں کر سکتے، تاہم نئی تفتیشی ٹیم نے باضابطہ طور پر اپنا کام شروع کر دیا ہے۔
مقتول کے اہل خانہ کے وکیل جبران ناصر نے تاخیر پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ڈی این اے اور دیگر اہم فارنزک نمونے وقت پر لیبارٹری نہ پہنچنے کی خبریں انتہائی تشویشناک ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ تفتیشی افسران کو اس تاخیر کی وضاحت دینا ہوگی اور فارنزک ثبوتوں کو محفوظ رکھنے میں کسی بھی قسم کی غفلت یا بدنیتی کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔
جبران ناصر نے کہا کہ تفتیش میں کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی، انہوں نے مزید کہا کہ وہ اور پولیس سرجن پہلے بھی پہلی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں سنگین غلطیوں کی نشاندہی کر چکے ہیں۔ انہوں نے نئی تفتیشی ٹیم کی تشکیل کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے اب تسلیم کر لیا ہے کہ میر رضا کا کیس خودکشی کے بجائے قتل کا ہے۔ سابقہ ٹیم کی جانب سے خودکشی کے نظریے پر ضد نے اس کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا تھا، اگر نئی ٹیم بھی پیش رفت کرنے میں ناکام رہی تو اہل خانہ عدالت سے رجوع کریں گے۔
جبران ناصر کے مطابق پولیس کو تمام مشکوک افراد اور کیس کے دیگر اہم پہلوؤں کے بارے میں معلومات فراہم کر دی گئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگلے تین سے چار دنوں میں تفتیش کی سمت مزید واضح ہو جائے گی۔
یاد رہے کہ میر رضا 28 جولائی کو فیروز آباد سے لاپتہ ہوئے تھے اور اگلے دن ان کی لاش گلستان جوہر میں ایک گیسٹ ہاؤس کے قریب سے ملی تھی۔ پولیس نے ابتدائی طور پر اس موت کو مشکوک خودکشی قرار دیا تھا۔ تاہم عدالت کے حکم پر کی گئی قبر کشائی اور دوسرے پوسٹ مارٹم کے بعد ابتدائی موقف پر سنگین سوالات کھڑے ہو گئے۔
میڈیکل بورڈ کی رپورٹ میں معلوم ہوا کہ میر رضا پر شدید جسمانی تشدد کیا گیا تھا، جس میں ان کی پسلیاں، دانت اور کھوپڑی ٹوٹ گئی تھی۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ انہیں پیچھے سے گولی ماری گئی تھی، جس کے بعد کیس میں قتل کی دفعہ شامل کی گئی۔ تفتیشی ٹیم میر رضا کے موبائل فون کے ریکارڈ کا بھی جائزہ لے رہی ہے، جس کے مطابق اپنی موت سے کچھ دیر قبل انہوں نے علی نامی شخص اور اپنے دوست عبداللہ سے بات کی تھی۔ ان کے فون سے ایسے آٹھ پیغامات بھی ملے ہیں جن کا کوئی جواب نہیں دیا گیا تھا۔






















Comments