قرض ترقی کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے، مگر جب اسے اصلاحات کے بجائے عارضی سہارا اور غیر پیداواری اخراجات کے لیے استعمال کیا جائے تو اس کی قیمت پوری قوم چکاتی ہے
2025-26 میں ہدف سے کم مالی معاونت کے باوجود حکومت نے نئے مالی سال کے لیے 10.4 ارب ڈالر کی بیرونی معاونت کا ہدف مقرر کر دیا، جبکہ قرضوں کی ادائیگیوں میں نمایاں اضافے کے باعث مالیاتی چیلنجز برقرار ہیں
اگر پاکستان واقعی خود کو عالمی سرمایہ کاری کے لیے ایک پرکشش منزل بنانا چاہتا ہے تو اسے یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ پائیدار سیکیورٹی کے بغیر پائیدار براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری ممکن نہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ اس انقلاب کو مزید مضبوط بنایا جائے، تاکہ ڈیجیٹل معیشت میں شامل ہونے والا ہر پاکستانی محفوظ مالیاتی نظام کے اعتماد کے ساتھ آگے بڑھ سکے
حقیقت یہ ہے کہ انکم ٹیکس وصولیوں کا 75 سے 80 فیصد حصہ ودہولڈنگ ٹیکس پر مشتمل ہے، جو عملاً سیلز ٹیکس کے انداز میں وصول کیا جاتا ہے۔ دیانت داری سے دیکھا جائے تو اس آمدن کو انکم ٹیکس کے بجائے سیلز ٹیکس میں شمار کیا جانا چاہیے۔
آڈیٹر جنرل آف پاکستان بھی یہ نکتہ ایف بی آر کے سامنے اٹھا کر اس حوالے سے سفارشات دے چکے ہیں، مگر اب تک ان پر کوئی عملدرآمد نہیں ہوا۔
پاکستان نے ریل کو محض ایسا محکمہ سمجھا جسے سبسڈی دی جائے جبکہ بھارت نے اسے معاشی شہ رگ کے طور پر دیکھا، بھارتی ماڈل ثابت کرتا ہے کہ ریل کو معاشی محور بنانے سے شاندار نتائج ملتے ہیں
اے آئی ڈیش بورڈز وزارتِ منصوبہ بندی کو روزانہ کی بنیاد پر اخراجات کی لائیو صورتحال دکھا کر پہلی سہ ماہی میں ہی فنڈز کے ضیاع اور فوری مداخلت والے منصوبوں کی نشان دہی کر سکتے ہیں
14 برس قبل ہم نے خبردار کیا تھا کہ پاکستان میں ٹیکس قوانین کی تشکیل کے عمل سے پارلیمان بتدریج غائب ہوتی جا رہی ہے۔ آج کے شواہد بتاتے ہیں کہ یہ غیاب اب تقریباً مکمل ہو چکا ہے۔ آئین کا یہ وعدہ کہ ٹیکس صرف باخبر اور سنجیدہ قانون سازی کے عمل کے ذریعے عائد کیے جائیں گے، رفتہ رفتہ ایک ایسے نظام میں بدل گیا ہے جہاں انتظامیہ کی تجاویز کو پارلیمان نہایت محدود جانچ پڑتال کے بعد رسمی منظوری دے دیتی ہے۔
پنجاب کا نہری نظام محض ایک انجینئرنگ کی وراثت نہیں ہے۔ یہ ایک زندہ معاشی مشین ہے۔ یہ دریا کے پانی کو غذائی سیکیورٹی، دیہی روزگار، زرعی صنعت، برآمدات اور صوبائی استحکام میں تبدیل کرتا ہے
جس جگہ لوگوں کو یہ احساس ملتا ہے کہ انہیں سمجھا گیا ہے، وہیں انہیں اپنائیت کا احساس بھی ہوتا ہے۔ یہی احساسِ فہم و وابستگی مضبوط اور پائیدار تعلقات کی بنیاد بنتا ہے۔
صرف ٹیکنالوجی تبدیلی نہیں لا سکتی۔ حقیقی تبدیلی وہ لوگ لاتے ہیں جنہیں سوچنے، تجربہ کرنے، سیکھنے اور نئی راہیں تلاش کرنے کا اختیار حاصل ہو۔ مستقبل کے کامیاب ادارے وہ نہیں ہوں گے جن کے پاس سب سے زیادہ قواعد و ضوابط ہوں، بلکہ وہ ہوں گے جن میں سیکھنے، خود کو بدلنے اور حالات سے ہم آہنگ ہونے کی سب سے زیادہ صلاحیت ہوگی