حکومت اور پی بی سی کے درمیان سرکاری اداروں کی تنظیمِ نو اور نجکاری پر تبادلۂ خیال
- شرکاء نے بڑے سرکاری اداروں کو آئی پی اوز کے ذریعے کیپٹل مارکیٹس میں لانے کے مواقع پر بھی غور کیا
حکومت اور پاکستان بزنس کونسل (پی بی سی) کے درمیان سرکار کی زیرِ ملکیت اداروں (ایس او ایز) کی ساخت نو اور بحالی پر گفتگو ہوئی، جو حکومتی کاروباری حجم کو کم کرنے، کارکردگی بہتر بنانے اور نجی شعبے کی شمولیت بڑھانے کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہے۔
مالیاتی ڈویژن میں وزیرِ خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے پی بی سی کے نو منتخب چیئرمین زیاد بشیر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر جاوید قریشی سے ملاقات کی۔ اس نشست میں سرمایہ کاری کے فروغ، نجی شعبے کی شمولیت اور حکومتی اصلاحاتی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزارتِ خزانہ کے مطابق ملاقات میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز)، بینکوں اور ہوائی اڈوں کی مجوزہ نجی کاری پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ اس بات پر زور دیا گیا کہ نجی شعبے کی مشارکت سے خدمات کی فراہمی اور کارکردگی میں بہتری کے ساتھ ساتھ سرمایہ کاری کی راہ ہموار کی جا سکتی ہے۔
شرکاء نے اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن (ایس ایل آئی سی) سمیت اہم سرکاری اداروں کو ابتدائی پبلک افرنگ (آئی پی اوز) کے ذریعے کیپٹل مارکیٹ میں لانے کے مواقع پر بھی بات کی۔ اجلاس میں نوٹ کیا گیا کہ نجی اور ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کی آمد سے کارپوریٹ گورننس، شفافیت اور آپریشنل صلاحیت میں اضافہ ہوگا، جس سے مارکیٹ سے جڑی معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔
پاکستان بزنس کونسل نے حکومت کے رائٹ سائزنگ (حجم کم کرنے) کے ایجنڈے کی حمایت کرتے ہوئے ایک متحرک اور زیادہ موثر عام شعبے کی تشکیل پر زور دیا۔ کونسل نے نجی کاری، اداروں کی بحالی اور دیگر اصلاحاتی امور پر اپنی تفصیلی تجاویز اور سفارشات حکومت کے ساتھ شیئر کرنے پر اتفاق کیا۔
ملاقات میں ٹیکسوں کی معقولیت اور درمیانی مدت کے ٹیکس پالیسی فریم ورک پر بھی بحث کی گئی۔ دونوں فریقین نے ایک قابلِ پیش گوئی، شفاف اور مسابقتی ٹیکس نظام کو وقت کی ضرورت قرار دیا جو کاروبار کی توسیع اور طویل المدتی معاشی سرگرمیوں کو مدد فراہم کر سکے۔
پی بی سی کی قیادت نے مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ میں متعارف کرائے گئے اقدامات بالخصوص ٹیکس کا بوجھ بڑھانے کے بجائے ٹیکس نیٹ اور معاشی دائرہ کار کو وسیع کرنے کی حکمتِ عملی کو سراہا۔ کونسل نے برآمد کنندگان کی معاونت، کاروبار کی لاگت میں کمی اور نجی شعبے کی حوصلی افزائی کے لیے دیے گئے مراعاتی پیکیج کا خیرمقدم کیا۔
خرم شہزاد نے معاشی پالیسیوں کی تشکیل میں بزنس کمیونٹی کے ساتھ مسلسل مشاورت کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے اور پائیدار اصلاحات کے لیے حکومت اور تاجر برادری کے درمیان تعمیراتی مکالمہ انتہائی ضروری ہے۔






















Comments