یہ پیش رفت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے چند روز بعد سامنے آئی ہے جس میں انہوں نے خلیج میں ناکام ہونے والی جنگ بندی کو بحال کرنے سے متعلق تہران کی تجویز کو مسترد کر دیا تھا
ٹرمپ حتمی معاہدے کے تحت ایران کی جانب سے جوہری معاملے پر ٹھوس پیش رفت کی شرط پر پابندیوں میں ریلیف اور منجمد فنڈز جاری کرنے پر تیار تھے، امریکی عہدیدار
ایران اور امریکا کے درمیان نیویارک میں ثالثی کے ذریعے مذاکرات جاری ہیں، جن میں پابندیاں ختم کرنے اور اہم آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کی تجویز پر بات چیت کی جا رہی ہے
دونوں ممالک کی جانب سے قائم کیے جانے والے تجارتی کونسل کے تحت ابتدائی اقدامات میں 30 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر باہمی ٹیرف میں کمی پر بات چیت شامل ہے۔
برطانیہ نے اقوام متحدہ میں ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اپنی سرزمین پر ایران سے منسلک گروہوں کی کسی بھی دشمنانہ سرگرمی کو برداشت نہیں کیا جائے گا، اور اس حوالے سے اپنے پختہ عزم کا اظہار کیا
نیویارک میں امریکا، ایران مذاکرات میں مرحلہ وار معاہدے کی کوشش، آبنائے ہرمز کھولنے کے بدلے پابندیوں میں نرمی کی تجویز؛ دونوں جانب اپنا دباؤ برقرار رکھنے کی خواہش سے معاملہ پیچیدہ
امریکی صدر نے کہا، ’’میرا خیال ہے کہ انتخابات کے فوراً بعد ہم معاہدہ کرلیں گے کیونکہ ان کے لیے ایسا نہ کرنا بے معنی ہوگا۔ وہ یہ دیکھنے کے منتظر ہیں کہ وسط مدتی انتخابات میں میری کارکردگی کیسی رہتی ہے۔‘‘