BR100 Increased By (0.24%)
BR30 Increased By (0.04%)
KSE100 Increased By (0.23%)
KSE30 Increased By (0.27%)
BAFL 57.09 Increased By ▲ 0.22 (0.39%)
BIPL 24.90 Decreased By ▼ -0.06 (-0.24%)
BOP 30.46 Increased By ▲ 0.11 (0.36%)
CNERGY 13.13 Increased By ▲ 0.01 (0.08%)
DFML 16.72 Increased By ▲ 0.82 (5.16%)
DGKC 193.38 Increased By ▲ 0.93 (0.48%)
FABL 94.15 Increased By ▲ 0.01 (0.01%)
FCCL 52.97 Increased By ▲ 0.18 (0.34%)
FFL 14.77 Increased By ▲ 0.05 (0.34%)
GGL 19.15 Decreased By ▼ -0.41 (-2.1%)
HBL 307.50 Increased By ▲ 1.40 (0.46%)
HUBC 201.95 Increased By ▲ 0.53 (0.26%)
HUMNL 10.16 No Change ▼ 0.00 (0%)
KEL 6.10 Increased By ▲ 0.01 (0.16%)
LOTCHEM 26.55 Increased By ▲ 0.09 (0.34%)
MLCF 93.66 Increased By ▲ 0.50 (0.54%)
OGDC 315.90 Decreased By ▼ -0.83 (-0.26%)
PAEL 35.70 Increased By ▲ 0.07 (0.2%)
PIBTL 14.98 Increased By ▲ 0.30 (2.04%)
PIOC 243.70 Increased By ▲ 0.49 (0.2%)
PPL 226.00 Decreased By ▼ -0.91 (-0.4%)
PRL 93.40 Increased By ▲ 0.38 (0.41%)
SNGP 92.00 Increased By ▲ 0.16 (0.17%)
SSGC 23.81 No Change ▼ 0.00 (0%)
TELE 7.85 Increased By ▲ 0.05 (0.64%)
TPLP 12.95 Decreased By ▼ -0.02 (-0.15%)
TRG 56.90 Increased By ▲ 0.34 (0.6%)
UNITY 8.06 Decreased By ▼ -0.01 (-0.12%)
WTL 1.01 No Change ▼ 0.00 (0%)
دنیا

آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکر پر حملہ، ایران اور امریکا میں کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ گئی

  • دونوں فریقین کا ایک دوسرے پر عبوری جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام
شائع اپ ڈیٹ

آبنائے ہرمز میں ہفتے کے روز ایک آئل ٹینکر پر میزائل نما ہتھیار سے حملے کی اطلاع ملی ہے، جس کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ عبوری امن معاہدے کے باوجود کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے۔ برطانیہ کی میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی کے مطابق حملے میں ٹینکر کے برج (بریج) کو نقصان پہنچا، تاہم تمام عملہ محفوظ رہا۔

امریکا اور ایران نے ایک دوسرے پر دو ہفتے قبل طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے۔ واشنگٹن کا کہنا ہے کہ اس نے رات بھر ایران کے مختلف اہداف کو نشانہ بنایا، جبکہ تہران نے دعویٰ کیا کہ اس نے امریکی افواج سے منسلک فوجی اہداف پر دفاعی کارروائی کی ہے۔

یہ تازہ حملہ جمعرات کو ایک مال بردار جہاز پر ہونے والے حملے کے بعد پیش آیا، جس نے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کو مزید بڑھا دیا۔ مشترکہ میری ٹائم انفارمیشن سینٹر نے حالیہ واقعات کے پیش نظر بحری سلامتی کے خطرے کی سطح بھی بلند کر دی ہے۔

ایران نے مخصوص بحری حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی، تاہم ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق پاسداران انقلاب نے ایرانی ہدایات کے بغیر گزرنے والے بعض جہازوں پر وارننگ شاٹس فائر کیے، جس کے بعد کئی جہاز آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے ایرانی اجازت حاصل کرنے لگے ہیں۔

آبنائے ہرمز میں ہفتے کے روز ٹینکر پر ہونے والا یہ حملہ جمعرات کو ایک مالبردار جہاز پر ہونے والے حملے کے بعد ہوا ہے، جس نے حالیہ کشیدگی کو جنم دیا۔ ایران نے دنیا کے اس اہم ترین توانائی کی ترسیل کے بحری راستے پر دوبارہ اپنا کنٹرول قائم کرنے کی تازہ کوشش کی ہے، جو مہینوں کے تعطل کے بعد اب کھلنا شروع ہوا تھا۔

برطانیہ کی بحری سیکیورٹی ایجنسی ’یو کے ایم ٹی او‘ (UKMTO) نے بتایا کہ ہفتے کے روز حملے کا شکار ہونے والے ٹینکر کے برج (کپتان کے کیبن) کو نقصان پہنچا ہے، تاہم عملے کے تمام ارکان محفوظ ہیں۔ بحری جہازوں کے تحفظ پر مامور اتحادی ممالک کی نیوی کی جانب سے قائم کردہ جوائنٹ ماری ٹائم انفارمیشن سینٹر نے حالیہ واقعات کے بعد سیکیورٹی خطرے کا الرٹ لیول بڑھا دیا ہے۔

ایران نے بحری جہازوں پر مخصوص حملوں کی رپورٹوں پر کوئی براہ راست تبصرہ نہیں کیا، تاہم ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن نے رپورٹ کیا ہے کہ پاسدارانِ انقلاب (ایران کی انقلابی فورس) نے ان نامعلوم جہازوں پر ”انتباہی فائرنگ“ کی ہے جنہوں نے ایران کے منظور شدہ راستوں کے بجائے دوسرے چینلز سے گزرنے کی کوشش کی تھی، اور اس اقدام کے بعد اب دیگر بحری جہاز آبنائے ہرمز عبور کرنے سے پہلے ایرانی حکام سے اجازت نامے حاصل کر رہے ہیں۔

اس سے قبل، ایران کی وزارتِ خارجہ نے کہا تھا کہ اس نے امریکہ سے منسلک فوجی اہداف پر ”دفاعی“ حملے کیے ہیں، جبکہ امریکی بحریہ کے علاقائی ہیڈکوارٹر کی میزبانی کرنے والے ملک بحرین نے ایرانی ڈرون حملے کی اطلاع دی ہے۔ امریکی فوج نے فوری طور پر ان رپورٹوں کا کوئی جواب نہیں دیا۔

اہم آبنائے پر ایرانی کنٹرول کا دعویٰ

ایران نے امریکہ پر عبوری معاہدے کی پاسداری نہ کرنے کا الزام لگایا ہے، خاص طور پر لبنان میں طے شدہ جنگ بندی کو برقرار رکھنے میں ناکامی پر، جہاں امریکی اتحادی اسرائیل نے مارچ میں ایران کے حمایت یافتہ گروپ حزب اللہ کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے حملہ کیا تھا۔

اسرائیل اور لبنان نے امریکہ کی ثالثی میں کئی بار جنگ بندی کے معاہدے کیے ہیں، جن میں سے تازہ ترین کا اعلان جمعہ کو کیا گیا تھا۔ لیکن ان معاہدوں کا اب تک محدود اثر ہی دیکھنے میں آیا ہے، کیونکہ اسرائیل کا اصرار ہے کہ وہ اپنے قبضے میں لیے گئے علاقوں سے پیچھے نہیں ہٹے گا، جبکہ حزب اللہ نے بارہا یہ مطالبات مسترد کر دیے ہیں کہ جب تک اسرائیلی فوجی وہاں موجود ہیں، وہ اپنے ہتھیار نہیں ڈالے گی۔

لبنان کے سرکاری ٹیلی ویژن نے ہفتے کے روز جنوبی علاقے نبطیہ میں اسرائیلی ڈرون حملے کی اطلاع دی ہے، جو اس پورے تنازع کے دوران اسرائیلی حملوں کا نشانہ بنتا رہا ہے۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے ایک ایسے شخص کو نشانہ بنایا جو اس کی افواج کے لیے خطرہ تھا۔

حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم نے ایک دن پرانے اسرائیل لبنان معاہدے کو ہتھیار ڈالنے کے مترادف قرار دے کر مسترد کر دیا اور کہا کہ یہ کالعدم اور باطل ہے۔

اسرائیل کے زیرِ قبضہ علاقوں میں لاکھوں لبنانیوں، جن میں اکثریت شیعہ مسلمانوں کی ہے، کی اپنے گھروں کو واپسی اب تک ممکن نہ ہونے کی وجہ سے اس معاہدے کے خلاف غصہ صرف حزب اللہ تک محدود نہیں رہا بلکہ وسیع تر شیعہ برادری میں پھیل چکا ہے۔

اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے اس معاہدے کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہ اسرائیل کو لبنان میں قائم کردہ نام نہاد سیکیورٹی زون پر اپنا قبضہ برقرار رکھنے کی اجازت دیتا ہے اور بے گھر ہونے والے شہریوں کی واپسی کو روکتا ہے۔

ایران کے رہبرِ اعلیٰ کے مشیر محسن رضائی نے کہا کہ واشنگٹن نے خطے میں کٹھ پتلی فورسز کی حمایت کرکے اور آبنائے ہرمز میں تناؤ پیدا کرکے جنگ کے خاتمے کی مفاہمت کی یادداشت کی خلاف ورزی کی ہے۔

پوری جنگ کے دوران ایران نے امریکی حملوں کا جواب ان پڑوسی خلیجی ممالک کو نشانہ بنا کر دیا ہے جہاں بڑے امریکی فوجی اڈے موجود ہیں۔ ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن نے کہا کہ امریکی افواج کی جانب سے ساحلی شہر سیریک میں ایک کمیونیکیشن ٹاور کو نشانہ بنائے جانے کے بعد پاسدارانِ انقلاب نے حتمی اور فیصلہ کن جواب دیا ہے۔ دوسری طرف ایران کی مہر نیوز ایجنسی کا کہنا ہے کہ ایرانی بندرگاہ معمول کے مطابق کام کر رہی ہے اور تنصیبات یا آلات کو کسی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔بحرین نے کہا ہے کہ ایران کے حالیہ حملے مفاہمت کی یادداشت کی خلاف ورزی ہیں۔جنگ شروع ہونے کے بعد سے تیل بردار ٹینکرز سمیت سینکڑوں بحری جہاز خلیج کے اندر پھنسے ہوئے تھے۔ پچھلے دو ہفتوں کے دوران جب انہوں نے آبنائے ہرمز کے راستے نکلنا شروع کیا تو مارکیٹ میں سپلائی بڑھنے کے نتیجے میں تیل کی قیمتیں گر کر جنگ سے پہلے کی سطح کے قریب آگئیں تھیں لیکن اس بحران کے مکمل حل کے لیے آبنائے ہرمز سے جنگ سے پہلے کی سطح پر دونوں طرف کی بحری ٹریفک کی مسلسل بحالی ضروری ہے، جو صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب شپنگ کمپنیاں اسے محفوظ تصور کریں۔ واشنگٹن عمان کے ساحل کے ساتھ ساتھ ایک جنوبی بحری راستے کو فروغ دے رہا ہے، جبکہ تہران، جس کا حتمی مقصد اس آبنائے کے استعمال پر فیس وصول کرنا ہے، چاہتا ہے کہ جہاز اس کے پانیوں اور اس کے کنٹرول میں موجود شمالی راستے کا استعمال کریں۔

ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے کہا کہ ایران کی شپنگ ہدایات کی کسی بھی قسم کی خلاف ورزی کا فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔

Comments

200 حروف