مالی سال 2025: جی ڈی پی میں 2.68 فیصد اضافہ، مہنگائی میں نمایاں کمی ہوئی، وزارت خزانہ
- وزارتِ خزانہ نے ماہانہ اکنامک اپڈیٹ اینڈ آؤٹ لک، جون 2025 جاری کردیا
وزارتِ خزانہ نے ماہانہ اکنامک اپڈیٹ اینڈ آؤٹ لک، جون 2025 جاری کیا ہے، جس میں مالی سال 2025 کے دوران پاکستان کی معیشت کی کارکردگی اور رجحانات پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے۔
وزارتِ خزانہ کے مطابق مالی سال 2025 کے دوران حقیقی جی ڈی پی میں 2.68 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ مہنگائی میں مسلسل کمی دیکھی گئی اور توقع ہے کہ جون 2025 میں مہنگائی کی شرح 3 سے 4 فیصد کے درمیان رہے گی۔
رپورٹ کے مطابق جولائی تا اپریل مالی سال 2025 کے دوران بڑی صنعتوں کی پیداوار (ایل ایس ایم) میں مجموعی طور پر 1.5 فیصد کمی ہوئی، جبکہ گزشتہ سال کے اسی عرصے میں 0.3 فیصد کا معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔ اپریل 2025 میں ایل ایس ایم کی کارکردگی مخلوط رہی، جہاں سالانہ بنیاد پر 2.3 فیصد اضافہ اور ماہانہ بنیاد پر 3.2 فیصد کمی دیکھی گئی۔ تاہم، آئندہ مہینوں میں ایل ایس ایم کی کارکردگی مثبت رہنے کی توقع ہے، جس کی بنیاد سیمنٹ کی فراہمی اور گاڑیوں کی فروخت جیسے اعشاریوں میں بہتری ہے۔
وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ مضبوط معاشی بنیادیات، دانشمندانہ مالیاتی نظم و نسق، اور بہتر بیرونی کھاتے کی بدولت معیشت کی رفتار برقرار رہی۔ جولائی تا اپریل مالی سال 2025 کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ میں 1.81 ارب ڈالر کا سرپلس ریکارڈ کیا گیا، مالی خسارہ کم ہوا، جبکہ بنیادی فاضل رقم جی ڈی پی کے 3.2 فیصد کے برابر رہی۔
آئی ایم ایف کے جاری پروگرامز — ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلٹی (ای ایف ایف) اورریزیلنس اینڈ سسٹین ابلیٹی فیسیلٹی (آر ایس ایف) — کے ساتھ کریڈٹ ریٹنگز میں بہتری نے پالیسی پر اعتماد اور سرمایہ کاروں کے جذبات کو تقویت دی۔ حکومت ٹیکس ہم آہنگی، توانائی قیمتوں، نجکاری، اور موسمیاتی اقدامات پر مبنی ساختی اصلاحات کے لیے پرعزم ہے۔
نجی شعبے کو قرضوں کی بڑھتی ہوئی فراہمی سے پیداوار میں اضافے اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بہتری ظاہر ہوتی ہے۔ بیرونی سطح پر ترسیلات اور برآمدات میں اضافے کے باعث کرنٹ اکاؤنٹ مالی سال 2025 میں سرپلس میں رہنے کی توقع ہے۔
رپورٹ میں پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے اجرا سے متعلق تفصیلات شامل نہیں کی گئیں۔ تاہم، نجی شعبے کو قرضوں کی فراہمی جولائی 1 تا 13 جون مالی سال 2025 میں 676.6 ارب روپے رہی، جو گزشتہ سال کے 323.5 ارب روپے کے مقابلے میں دوگنا سے زائد ہے۔
مہنگائی اور زرعی شعبہ
مئی 2025 میں کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) کے مطابق مہنگائی کی سالانہ شرح 3.5 فیصد ریکارڈ کی گئی، جو مئی 2024 میں 11.8 فیصد تھی۔ ماہانہ بنیاد پر مہنگائی میں 0.2 فیصد کمی ہوئی، جو اپریل میں 0.8 فیصد اور مئی 2024 میں 3.2 فیصد تھی۔
خریف سیزن 26-2025 کے لیے حکومت نے کپاس کی کاشت کا ہدف 2.2 ملین ہیکٹر اور پیداوار کا ہدف 10.18 ملین گانٹھیں مقرر کیا ہے۔ جولائی تا اپریل 2025 کے دوران زرعی قرضوں کی فراہمی 15.7 فیصد اضافے کے ساتھ 2,066.6 ارب روپے تک پہنچ گئی، جو سالانہ ہدف 2,572.3 ارب روپے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔
محصولات اور اخراجات
اس عرصے کے دوران محصولات میں اضافے کی شرح اخراجات سے زیادہ رہی، جس سے مالیاتی استحکام کی کوششوں کی کامیابی ظاہر ہوتی ہے۔ خالص وفاقی وصولیاں 44.4 فیصد اضافے سے 8,124.2 ارب روپے تک پہنچ گئیں، جبکہ گزشتہ سال یہ 5,627.5 ارب روپے تھیں۔
محصولات میں اضافے کی بڑی وجہ نان ٹیکس آمدن میں 68.1 فیصد اضافہ ہے۔ ٹیکس وصولی جولائی تا مئی مالی سال 2025 میں 25.9 فیصد اضافے سے 10,233.9 ارب روپے تک پہنچ گئی، جبکہ گزشتہ سال یہ 8,125.7 ارب روپے تھی۔ فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (33.8 فیصد)، براہِ راست ٹیکس (27 فیصد)، سیلز ٹیکس (26.5 فیصد)، اور کسٹمز (16.3 فیصد) میں نمایاں اضافہ ہوا۔
کل اخراجات جولائی تا اپریل 2025 میں 18.5 فیصد اضافے سے 12,948.3 ارب روپے رہے، جو گزشتہ سال 10,922.5 ارب روپے تھے۔ اس میں ترقیاتی اخراجات میں 40.6 فیصد اضافہ جبکہ جاری اخراجات میں 17.8 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
نتیجتاً مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کے 3.2 فیصد تک محدود رہا، جو گزشتہ سال 4.5 فیصد تھا۔ بنیادی سرپلس رقم 3,648.9 ارب روپے (جی ڈی پی کا 3.2 فیصد) رہی، جو پچھلے سال کے 1,611.5 ارب روپے (1.5 فیصد) سے نمایاں اضافہ ہے۔
بیرونی کھاتہ اور سرمایہ کاری
جولائی تا مئی مالی سال 2025 کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ 1.8 ارب ڈالر سرپلس میں رہا، جو گزشتہ سال کے 1.6 ارب ڈالر خسارے سے بہتری کی نشاندہی کرتا ہے۔ برآمدات میں 4 فیصد اضافہ ہو کر 29.7 ارب ڈالر ہوئیں، جبکہ درآمدات 11.5 فیصد اضافے کے ساتھ 54.1 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جس سے تجارتی خسارہ 24.4 ارب ڈالر ہو گیا (گزشتہ سال 20.0 ارب ڈالر)۔
اہم برآمدات میں نِٹ ویئر (14.5 فیصد)، ملبوسات (16.4 فیصد)، اور بیڈ ویئر (10.6 فیصد) شامل ہیں۔ درآمدات میں پام آئل (26.3 فیصد) اور الیکٹریکل مشینری (13.6 فیصد) میں اضافہ جبکہ خام تیل کی درآمد میں 1.7 فیصد کمی ہوئی۔
خدمات کی برآمدات 8.5 فیصد اضافے سے 7.6 ارب ڈالر اور درآمدات 6.6 فیصد اضافے سے 10.3 ارب ڈالر رہیں، جس سے 2.7 ارب ڈالر کا خدماتی تجارتی خسارہ ریکارڈ کیا گیا۔ آئی ٹی برآمدات میں 18.7 فیصد اضافہ ہو کر 3.5 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔
ترسیلات زر 28.8 فیصد اضافے کے ساتھ 34.9 ارب ڈالر رہیں، جو گزشتہ سال 27.1 ارب ڈالر تھیں۔ سب سے زیادہ ترسیلات سعودی عرب (24.4 فیصد) اور یو اے ای (20.4 فیصد) سے آئیں۔ تاہم، غیر ملکی پورٹ فولیو سرمایہ کاری (نجی و عوامی) میں بالترتیب 312.5 اور 311.9 ملین ڈالر کے خالص اخراجات ریکارڈ ہوئے۔
13 جون 2025 تک زرمبادلہ کے ذخائر 17.0 ارب ڈالر تھے، جن میں سے 11.7 ارب ڈالر اسٹیٹ بینک کے پاس موجود تھے۔
مالیاتی و معاشی اشاریے
اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی نے 16 جون 2025 کو شرح سود 11 فیصد برقرار رکھی۔ اگرچہ مئی میں مہنگائی 3.5 فیصد رہی، مگر آئندہ مالی سال میں اس کے 5 تا 7 فیصد رہنے کی توقع ہے۔
یکم جولائی تا 30 مئی مالی سال 2025 کے دوران براؤڈ منی (M2) میں 6.3 فیصد اضافہ ہوا، جو گزشتہ سال 9.5 فیصد تھا۔ یہ اضافہ بنیادی طور پر خالص غیر ملکی اثاثوں میں اضافے کی وجہ سے ہوا، جبکہ خالص ملکی اثاثوں کی نمو میں کمی دیکھی گئی۔
نجی شعبے کو قرضوں کی فراہمی 831.8 ارب روپے رہی، جو گزشتہ سال کے 351 ارب روپے سے دوگنی سے زیادہ ہے۔ مئی 2025 میں کے ایس ای-100 انڈیکس 8,365 پوائنٹس بڑھ کر 119,691 پر بند ہوا، جبکہ مارکیٹ کیپٹلائزیشن 982 ارب روپے کے اضافے سے 14,503 ارب روپے تک پہنچ گئی۔
سماجی تحفظ اور روزگار
مئی 2025 میں بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ نے 59,995 ورکرز کو رجسٹر کیا، جو اپریل کے مقابلے میں 12.7 فیصد زیادہ تھے۔ پاکستان پاورٹی ایلیویئیشن فنڈ نے 24 تنظیموں کے ساتھ مل کر مئی میں 18,525 بلا سود قرضے فراہم کیے جن کی مالیت 894 ملین روپے تھی۔ 2019 سے اب تک 3.01 ملین قرضے (117.61 ارب روپے) دیے جا چکے ہیں۔
بی آئی ایس پی کے تحت جولائی تا اپریل 2025 میں 411.56 ارب روپے خرچ کیے گئے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 29 فیصد زیادہ ہیں، جبکہ کل بجٹ 592.5 ارب روپے ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025
























Comments
Comments are closed.