زرعی بحالی کو پائیدار بنانے کے لیے پاکستان کو منڈیوں میں حکومتی مداخلت کم، ٹیکنالوجی کا فروغ اور کسانوں کے لیے مؤثر خطرات سے بچاؤ کے نظام یقینی بنانا ہوں گے
پاکستان کو قرض لے کر موجودہ اخراجات پورے کرنے کی طویل عرصے سے جاری روایت ترک کرنا ہوگی۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کو جامع ٹیکس اور توانائی کے شعبے میں اصلاحات خود وضع کرکے مؤثر انداز میں نافذ کرنا ہوں گی۔
پاکستان نے 14 اگست 1947ء کو ریاستی خودمختاری حاصل کرلی تھی، مگر اب وقت آگیا ہے کہ اسے عوام کی مالیاتی خودمختاری میں تبدیل کیا جائے۔ حقیقی معاشی آزادی اسی وقت ممکن ہے جب حکومت کی تینوں سطحوں پر ذمہ داریاں، مالی وسائل اور جواب دہی ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہوں اور شہریوں کو معلوم ہو کہ ان کے ادا کردہ ٹیکس کہاں خرچ ہورہے ہیں۔
اگر پاکستان مالی استحکام برقرار رکھنے اور بیرونی مالی پوزیشن مضبوط بنانے میں کامیاب رہا تو ملک کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ میں مزید بہتری آسکتی ہے، یی فارن فوا
مرکزی بینک نے پیر کو جاری اپنی ششماہی مانیٹری پالیسی رپورٹ میں اگرچہ معیشت کے لیے مثبت امکانات ظاہر کیے، تاہم کم از کم 4 بڑے خطرات کی نشاندہی بھی کی ہے
اصل چیلنج ٹیکس شرح نہیں بلکہ ایسا مالیاتی نظام قائم کرنا ہے جو منصفانہ ٹیکسیشن، حکومتی جوابدہی، صوبائی ذمہ داری، مقامی خودمختاری اور عوامی سہولتیں یقینی بنائے