قرض ترقی کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے، مگر جب اسے اصلاحات کے بجائے عارضی سہارا اور غیر پیداواری اخراجات کے لیے استعمال کیا جائے تو اس کی قیمت پوری قوم چکاتی ہے
2025-26 میں ہدف سے کم مالی معاونت کے باوجود حکومت نے نئے مالی سال کے لیے 10.4 ارب ڈالر کی بیرونی معاونت کا ہدف مقرر کر دیا، جبکہ قرضوں کی ادائیگیوں میں نمایاں اضافے کے باعث مالیاتی چیلنجز برقرار ہیں
حقیقت یہ ہے کہ انکم ٹیکس وصولیوں کا 75 سے 80 فیصد حصہ ودہولڈنگ ٹیکس پر مشتمل ہے، جو عملاً سیلز ٹیکس کے انداز میں وصول کیا جاتا ہے۔ دیانت داری سے دیکھا جائے تو اس آمدن کو انکم ٹیکس کے بجائے سیلز ٹیکس میں شمار کیا جانا چاہیے۔
آڈیٹر جنرل آف پاکستان بھی یہ نکتہ ایف بی آر کے سامنے اٹھا کر اس حوالے سے سفارشات دے چکے ہیں، مگر اب تک ان پر کوئی عملدرآمد نہیں ہوا۔