پٹرول نرخ 349 روپے سے کم کرکے 306.97 روپے فی لیٹر کرنے کا مضبوط جواز موجود ہے، جس سے قیمت میں 12 فیصد کمی ہوگی، اسی طرح ڈیزل کی قیمت 374.31 روپے سے گھٹا کر 337.46 روپے فی لیٹر کی جائے تو اس میں 10 فیصد کمی واقع ہوگی
پاکستان جیسے معاشی ماحول میں منافع کو مینوفیکچرنگ سے ریٹیل شعبے میں منتقل کرنا آسان ہے، اور اگر یہ اسکیم نافذ ہوئی تو یہی قدرتی معاشی توازن مجموعی ٹیکس وصولیوں کو کم کر دے گا۔
حقیقت یہ ہے کہ انکم ٹیکس وصولیوں کا 75 سے 80 فیصد حصہ ودہولڈنگ ٹیکس پر مشتمل ہے، جو عملاً سیلز ٹیکس کے انداز میں وصول کیا جاتا ہے۔ دیانت داری سے دیکھا جائے تو اس آمدن کو انکم ٹیکس کے بجائے سیلز ٹیکس میں شمار کیا جانا چاہیے۔
آڈیٹر جنرل آف پاکستان بھی یہ نکتہ ایف بی آر کے سامنے اٹھا کر اس حوالے سے سفارشات دے چکے ہیں، مگر اب تک ان پر کوئی عملدرآمد نہیں ہوا۔