ساختی عدم توازن دور کرنے، معاشی جھٹکوں کے دوران دوبارہ غربت میں جانے سے روکنے اور دور دراز علاقوں کے مسائل سے نمٹنے کے لیے جرات مندانہ پالیسی اصلاحات ناگزیر ہیں
اس وقت صارفین پر سب سے بھاری بوجھ حکومت کا وہ وعدہ بن رہا ہے جو اس نے فنڈ سے ملکی ایندھن کی قیمتوں کو عالمی نرخوں کے مطابق کرنے کے لیے پیشگی شرط کے طور پر کیا ہے۔ اسی شرط پر عملدرآمد کے بعد حالیہ قرض قسط جاری کی گئی ہے
پاکستان میں غربت کی شرح مالی سال 2024 میں بڑھ کر 25.3 فیصد تک پہنچ گئی، جو مالی سال 2022 میں 18.3 فیصد تھی
مزید معاشی تنزلی کو روکنے کے لیے پاکستان کے بھاری جاری اخراجات میں کمی کی خاطر فوری اصلاحات ناگزیر ہیں، جن میں تنخواہوں اور خریداریوں پر پابندی بھی شامل ہے
وزیرِ خزانہ نے علی الاعلان تسلیم کیا کہ جی سی ڈی رپورٹ کے اجراء میں تاخیر ہوئی، جو اگست میں متوقع تھی لیکن 10 نومبر کو جاری ہوئی، تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ 100 ملاقاتوں اور 30 اداروں کی مشاورت کے عمل کی وجہ سے معمول کے مطابق ہوا۔