بلوچستان میں آپریشن شعبان، مزید 9 دہشت گرد ہلاک
- پاک فوج، ایف سی بلوچستان اور پولیس کی مشترکہ کارروائی، پانچ جولائی سے اب تک مجموعی طور پر 88 خوارج دہشتگرد ہلاک کیے جا چکے
بلوچستان میں جاری آپریشن شعبان کے تحت تازہ جھڑپوں میں سکیورٹی فورسز نے مزید 9 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔
ریڈیو پاکستان کے مطابق پاک فوج، ایف سی بلوچستان اور پولیس کا مشترکہ آپریشن شعبان جاری ہے۔
سکیورٹی ذرائع نے بتایا ہے کہ تازہ کارروائیوں کے دوران 9 خارجیوں کو جہنم واصل کیا گیا۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق دشوار گزار راستوں اور پہاڑوں میں چھپے ہوئے خارجی دہشتگردوں کو ہوائی اور زمینی ایکشنز کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔
سکیورٹی ذرائع نے کہا ہے کہ آپریشن شعبان میں جہنم واصل ہونے والوں کی مجموعی تعداد 52 ہو گئی ہے۔
5 جولائی سے اب تک آپریشن شعبان اور دیگر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں مجموعی طور پر 88 خارجی دہشتگرد جہنم واصل ہو چکے ہیں.
سکیورٹی ذرائع نے کہا ہے کہ بلوچستان میں آخری دہشتگرد کے خاتمے تک آپریشن شعبان جاری رہے گا۔
آج نیوز کے مطابق اگر اس پورے آپریشن کے پس منظر پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ کارروائی جولائی 2026ء کے بالکل آغاز میں بلوچستان کے ضلع زیارت میں پیش آنے والے ایک افسوسناک واقعے کے بعد شروع کی گئی تھی.
وہاں واقع مانگی ڈیم پولیس اسٹیشن پر دہشتگردوں نے ایک بڑا حملہ کیا تھا، جس میں نو بہادر پولیس اہلکار شہید ہو گئے تھے.
اس حملے کے فوراً بعد حکومت اور سیکیورٹی اداروں نے امن دشمنوں کے پورے نیٹ ورک اور ان کے ٹھکانوں کو تباہ کرنے کا فیصلہ کیا.
اسی فیصلے کے تحت پاک فوج، ایف سی اور بلوچستان پولیس نے مل کر یہ مشترکہ محاذ سنبھالا ہے، جس کا بنیادی مقصد علاقے میں کالعدم تنظیموں اور عسکریت پسندوں کا مکمل صفایا کر کے عوام کی جان و مال کو محفوظ بنانا اور امن قائم کرنا ہے.

























Comments