وفاقی وزیر قیصر احمد شیخ کی شینڈونگ ہائی اسپیڈ گروپ کے وفد سے ملاقات
- اس موقع پر بورڈ آف انویسٹمنٹ کے سینئر افسران بھی موجود تھے
وفاقی وزیر قیصر احمد شیخ نے شینڈونگ ہائی اسپیڈ گروپ کے وفد سے پاک چین بی ٹو بی کانفرنس کے موقع پر ملاقات کی۔
ہفتہ کوبورڈ آف انویسٹمنٹ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق وفاقی وزیر برائے بورڈ آف انویسٹمنٹ قیصر احمد شیخ نے شینڈونگ ہائی اسپیڈ گروپ کے اعلیٰ سطح وفد سے ملاقات کی جس کی قیادت چیئرمین ر شو ژیانگ کر رہے تھے جبکہ کنٹری ڈائریکٹر مسٹر وانگ ژینرونگ اور تبانی گروپ کے نمائندگان بھی وفد میں شامل تھے۔
یہ ملاقات پاکستان چین بی ٹو بی سرمایہ کاری کانفرنس (فارماسیوٹیکل، ہیلتھ کیئر اور بایوٹیکنالوجی سیکٹر) کے موقع پر ہوئی۔
بورڈ آف انویسٹمنٹ کے سینئر افسران بھی اس موقع پر موجود تھے۔
ملاقات کے آغاز میں وفد نے وفاقی وزیر کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے اپنی مصروفیات میں سے وقت نکال کر اہم دوطرفہ سرمایہ کاری روابط کے دوران ملاقات کی۔
وفاقی وزیر نے وفد کا خیرمقدم کیا اور پاکستان کے دورے کو سراہا۔ وفاقی وزیر نے چینی کاروباری شخصیات کے ساتھ اپنے دیرینہ اور خوشگوار تعلقات کو اجاگر کیا اور پاکستان اور چین کے درمیان کاروباری روابط کے فروغ میں تبانی گروپ کے کردار کو سراہا۔
انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان گہری تزویراتی شراکت داری اور بدلتی ہوئی علاقائی حرکیات کے تحت معاشی تعاون کے وسیع تر دائرہ کار پر زور دیا۔
شیڈونگ ہائی اسپیڈ گروپ کے وفد نے اپنے عالمی پورٹ فولیو پر ایک جامع بریفنگ دی۔ چین کے معروف سرکاری انفرااسٹرکچر اور سرمایہ کاری کے اداروں میں سے ایک کے طور پرایس ڈی ایچ ایس ایک ٹریلین آر ایم بی سے زائد کے اثاثوں کا انتظام کرتا ہے اور اس کا دائرہ کار 100 سے زائد ممالک تک پھیلا ہوا ہے۔
یہ گروپ ایک وسیع ٹرانسپورٹ نیٹ ورک چلاتا ہے، جس میں 10,000 کلومیٹر سے زائد ایکسپریس ویز اور تقریباً 3,000 کلومیٹر ہائی اسپیڈ ریل شامل ہیں اور ’بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو‘ کے تحت انفراسٹرکچر، توانائی، لاجسٹکس، اور صنعتی ترقی میں بھاری سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔
وفد نے پاکستان میں جاری منصوبوں، خصوصاً تیل و گیس کے شعبے میں اپنی سرگرمیوں سے بھی آگاہ کیا، جن میں او جی ڈی سی کے ساتھ حیدرآباد میں ایک حالیہ منصوبہ شامل ہے۔ بطور ایک بڑی انفرااسٹرکچر کمپنی انہوں نے پاکستان میں ٹرانسپورٹ، لاجسٹکس اور کنیکٹیویٹی سمیت انفرااسٹرکچر کے شعبے میں سرمایہ کاری میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔
وفاقی وزیر نے اس دلچسپی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے یہ بہترین وقت ہے جہاں نوجوان آبادی، وسیع معاشی صلاحیت اور بہتر ہوتا ہوا کاروباری ماحول موجود ہے۔ انہوں نے پاکستان میں انفرااسٹرکچر کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے بندرگاہوں، سڑکوں کے جال اور چین و وسطی ایشیا تک رسائی دینے والے رابطہ کاری نظام کو نمایاں قرار دیا۔
اپنے کاروباری پس منظر کا حوالہ دیتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستانی اور چینی کمپنیوں کے درمیان مشترکہ منصوبے (جوائنٹ وینچرز) پائیدار اور باہمی فائدہ مند ترقی کے لیے مؤثر ذریعہ ہیں۔انہوں نے وزیراعظم محمد شہباز شریف کے غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ اور خصوصاً چین کے ساتھ اقتصادی شراکت داری کو مضبوط بنانے کے عزم کو بھی اجاگر کیا۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ بورڈ آف انویسٹمنٹ نے وزارتِ قومی صحت خدمات، ضوابط و رابطہ کاری کے ساتھ مکمل تعاون سے پاکستان چین بی ٹو بی سرمایہ کاری کانفرنس کا کامیاب انعقاد کیا جس کا مقصد شعبہ جاتی شراکت داریوں اور سرمایہ کاری کے مواقع کو فروغ دینا ہے۔
حکومت کی مکمل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے وفد کو یقین دہانی کرائی کہ بورڈ آف انویسٹمنٹ اور اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) سرمایہ کاروں کو ہر مرحلے پر مکمل سہولت فراہم کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اصلاحات اور ادارہ جاتی معاونت کے باعث غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول فراہم کر رہا ہے۔
وفد نےوفاقی وزیر کو چین کے دورے کی دعوت بھی دی تاکہ وہ شینڈونگ ہائی اسپیڈ گروپ کے جاری منصوبوں کا معائنہ کر سکیں اور دوطرفہ تعاون کو مزید فروغ دیا جا سکے۔بورڈ آف انویسٹمنٹ پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ اور پائیدار اقتصادی شراکت داریوں کے قیام کے لیے پرعزم ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026























Comments