پاک چین فارماسیوٹیکل اینڈ ہیلتھ کیئر بی ٹو بی سرمایہ کاری کانفرنس کا اختتام، 16 معاہدوں پر دستخط،
- کانفرنس کی کامیابی تقریباً 850 ملین امریکی ڈالر کے معاہدوں کی صورت میں سرمایہ کاری لائے گی، مصطفی کمال
پاک چین فارماسیوٹیکل اینڈ ہیلتھ کیئر بزنس ٹو بزنس انویسٹمنٹ کانفرنس 2026 ہفتے کے روز 16 معاہدوں پر دستخط کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی جن میں پاکستان کے شعبہ صحت میں تقریباً 850 ملین امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری شامل ہے۔
کانفرنس کے دوران بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے معروف چینی فارماسیوٹیکل اور ہیلتھ کیئر کمپنیوں کے کئی اعلیٰ ایگزیکٹوز نے کہا کہ وہ پاکستان کی فارماسیوٹیکل صنعت کے ساتھ شراکت داری قائم کرنے کے خواہشمند ہیں جس کی وجہ انہوں نے ملک میں پیداواری لاگت کی کمی اور مارکیٹ کے وسیع امکانات کو قرار دیا۔
چینی سرمایہ کاروں نے کہا کہ وہ پاکستان میں طبی آلات بنانے کے یونٹس، ویکسین پروڈکشن پلانٹس اور فارماسیوٹیکل خام مال تیار کرنے کی تنصیبات قائم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ یہ سرمایہ کاری نہ صرف پاکستان کے شعبہ صحت اور فارماسیوٹیکل سیکٹر کو مضبوط بنا کر اس کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگی بلکہ اس سے چینی کمپنیوں کے لیے بھی مواقع پیدا ہوں گے۔
زیادہ تر چینی فرموں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ یہ منصوبے اگلے دو سالوں کے اندر مکمل کر لیے جائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومتی حکام اور پارٹنر تنظیموں سمیت تمام متعلقہ پاکستانی اسٹیک ہولڈرز نے انہیں منصوبوں پر عمل درآمد میں اپنی مکمل حمایت اور تعاون کا یقین دلایا ہے۔
وفاقی وزیرِ صحت سید مصطفیٰ کمال نے انویسٹمنٹ کانفرنس کی کامیابیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ بی ٹو بی انویسٹمنٹ کانفرنس 2026 کی کامیابی تقریباً 850 ملین امریکی ڈالر کے معاہدوں کی صورت میں سرمایہ کاری لائے گی۔ انہوں نے کہا کہ کانفرنس کے دوران دونوں ممالک کے سرمایہ کاروں کے درمیان مجموعی طور پر 16 معاہدوں اور 80 مفاہمت کی یادداشتوں (ایم او یوز) پر دستخط کیے گئے ہیں۔
مصطفیٰ کمال نے ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کے ذریعے پاکستان کے فارما اور ہیلتھ سیکٹر میں انقلاب لانے کے حوالے سے اعتماد کا اظہار کیا جس سے نہ صرف مقامی پیداوار کو فروغ ملے گا بلکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ کانفرنس میں ویکسینز، خام مال (راؤ میٹریل) اور طبی آلات سمیت مقامی پیداوار بڑھانے پر توجہ دی گئی جس سے درآمدی بل میں کمی آئے گی اور ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ کرنے میں مدد ملے گی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026
























Comments