حقیقت یہ ہے کہ انکم ٹیکس وصولیوں کا 75 سے 80 فیصد حصہ ودہولڈنگ ٹیکس پر مشتمل ہے، جو عملاً سیلز ٹیکس کے انداز میں وصول کیا جاتا ہے۔ دیانت داری سے دیکھا جائے تو اس آمدن کو انکم ٹیکس کے بجائے سیلز ٹیکس میں شمار کیا جانا چاہیے۔
آڈیٹر جنرل آف پاکستان بھی یہ نکتہ ایف بی آر کے سامنے اٹھا کر اس حوالے سے سفارشات دے چکے ہیں، مگر اب تک ان پر کوئی عملدرآمد نہیں ہوا۔
14 برس قبل ہم نے خبردار کیا تھا کہ پاکستان میں ٹیکس قوانین کی تشکیل کے عمل سے پارلیمان بتدریج غائب ہوتی جا رہی ہے۔ آج کے شواہد بتاتے ہیں کہ یہ غیاب اب تقریباً مکمل ہو چکا ہے۔ آئین کا یہ وعدہ کہ ٹیکس صرف باخبر اور سنجیدہ قانون سازی کے عمل کے ذریعے عائد کیے جائیں گے، رفتہ رفتہ ایک ایسے نظام میں بدل گیا ہے جہاں انتظامیہ کی تجاویز کو پارلیمان نہایت محدود جانچ پڑتال کے بعد رسمی منظوری دے دیتی ہے۔
یہ ڈیوٹی پاکستان کسٹمز ٹیرف (پی سی ٹی) کے ہیڈنگ 8702، 8703 اور 8704 کے تحت آنے والی استعمال شدہ گاڑیوں پر لاگو ہوگی، بشرطیکہ متعلقہ شرائط پوری کی جائیں۔