اسٹاک ایکسچینج میں تیزی، 100 انڈیکس میں 300 پوائنٹس کا اضافہ
- ایک اہم پیش رفت میں پاکستان میں مہنگائی کی شرح دوبارہ سنگل ڈیجٹ میں آگئی ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں منگل کو مثبت رجحان دیکھا گیا، کیونکہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری تنازع تعطل کا شکار رہا، جس کے باعث سرمایہ کاروں کا اعتماد برقرار رہا اور بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس نے کاروبار کے آغاز پر اضافہ ریکارڈ کیا۔
صبح 9 بجکر 45 منٹ پر بینچ مارک انڈیکس 178,497.71 پوائنٹس پر ٹریڈ کر رہا تھا، جو 297.69 پوائنٹس یا 0.17 فیصد اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔
اہم شعبوں میں خریداری دیکھی گئی، جن میں آٹو موبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینک، آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن کمپنیاں، آئل مارکیٹنگ کمپنیاں (او ایم سیز) اور بجلی پیدا کرنے والی کمپنیاں شامل ہیں۔انڈیکس پر زیادہ اثر رکھنے والے حصص، جن میں حبکو، ماری، پی او ایل، پی پی ایل، پی ایس او ،ایس اسی جی سی، ایم سی بی، ایم ای بی ایل اور این بی پی شامل ہیں، مثبت زون میں ٹریڈ کر رہے تھے۔
ایک اہم پیش رفت میں پاکستان میں مہنگائی کی شرح دوبارہ سنگل ڈیجٹ میں آگئی ہے۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق جولائی 2026 میں صارف قیمت اشاریہ (سی پی آئی) سالانہ بنیاد پر 9.2 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔
گزشتہ روز پیر کو بھی پاکستان اسٹاک ایکسچینج نے مضبوط بحالی کا مظاہرہ کیا تھا۔ مشرق وسطیٰ میں جغرافیائی کشیدگی میں کمی اور عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بحال کیا، جس کے نتیجے میں اہم شعبوں میں وسیع پیمانے پر خریداری دیکھی گئی۔
گزشتہ روز کے ایس ای-100 انڈیکس 2,105.91 پوائنٹس یا 1.20 فیصد اضافے کے ساتھ 178,200.02 پوائنٹس پر بند ہوا۔
ایشیائی حصص بازاروں نے محتاط انداز میں بہتری کا آغاز کیا، کیونکہ سرمایہ کار عالمی سطح پر آنے والی تیزی پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ تیل کی قیمتیں کئی ہفتوں کی کم ترین سطح کے قریب رہیں جبکہ امریکا اور ایران کا تنازع بدستور تعطل کا شکار ہے۔
ایم ایس سی آئی ایشیا پیسیفک انڈیکس (جاپان کے علاوہ) میں 0.1 فیصد اضافہ ہوا، جس کی قیادت جنوبی کوریا کے حصص نے کی جو 2.1 فیصد تک بڑھے۔ جاپان کا نکئی 225 انڈیکس 0.3 فیصد نیچے آیا جبکہ ایس اینڈ پی 500 ای منی فیوچرز میں 0.1 فیصد اضافہ ہوا۔
رات گئے مارکیٹوں کو امریکا کے مینوفیکچرنگ ڈیٹا سے حوصلہ ملا، جس کے مطابق جولائی میں امریکی صنعتی سرگرمی چار سال سے زائد عرصے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جس کے بعد ڈاؤ جونز انڈسٹریل ایوریج ریکارڈ سطح پر بند ہوا۔
ایشیائی کاروباری اوقات میں خام تیل کی قیمتوں میں محدود اضافہ ہوا۔ برینٹ کروڈ 0.6 فیصد اضافے کے ساتھ 84.29 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا۔ اس سے قبل پیر کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر نئے حملے مؤخر کرنے کے اعلان کے بعد قیمتیں تین ہفتوں کی کم ترین سطح تک گر گئی تھیں۔
تاہم ایران نے امریکا کے ساتھ کسی بھی مذاکرات کے جاری ہونے کی تردید کی ہے۔
یہ انٹرا ڈے اپ ڈیٹ ہے























Comments