صنعتیں اپنی سمت درست کریں، برآمدات پر مبنی ترقی کیلئے کردار ادا کریں، وزیراعظم
- میں ان برآمدی صنعتوں کے نام نہیں لینا چاہتا جو مطلوبہ نتائج دینے میں ناکام رہی ہیں، شہباز شریف
وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو کہا کہ حکومت معیشت کے استحکام کے بعد برآمدات پر مبنی اور پائیدار اقتصادی ترقی کے حصول کیلئے پُرعزم ہے۔
کراچی میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) سے ورچوئل خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے بعض برآمدی صنعتوں کو تنقید کا نشانہ بنایا جنہیں گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران مراعات اور حکومتی معاونت فراہم کی جاتی رہی، تاہم وہ مطلوبہ نتائج دینے میں ناکام رہیں۔
انہوں نے کہا کہ میں ان برآمدی صنعتوں کے نام نہیں لینا چاہتا جو مطلوبہ نتائج دینے میں ناکام رہی ہیں۔ انہوں نے ان صنعتوں پر زور دیا کہ وہ اپنی سمت درست کریں اور برآمدات پر مبنی اور پائیدار اقتصادی ترقی کو آگے بڑھانے میں اپنا کردار ادا کریں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ آنے والی حکومتوں نے برآمد کنندگان کو خاطر خواہ معاونت اور مراعات فراہم کیں، لیکن متعلقہ مصنوعات کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں جبکہ معیار میں کمی آئی ہے۔
دریں اثنا، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے پی ایس ایکس کے ٹریڈنگ ہال میں خطاب کرتے ہوئے آئی ایم ایف کے توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) کے تحت طے شدہ جاری اصلاحاتی ایجنڈے کا جامع جائزہ پیش کیا۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت کو مزید مالیاتی نظم و ضبط کا مظاہرہ کرنا ہوگا اور ساتھ ہی ہم اپنی قرض گیری کو بینکوں سے غیر بینکنگ ذرائع اور ریٹیل سرمایہ کاروں کی جانب منتقل کرنا چاہتے ہیں۔
کیپٹل مارکیٹ ڈویلپمنٹ کونسل کے حوالے سے وزیر خزانہ نے بتایا کہ حکومت تمام اثاثہ جاتی طبقات، جن میں وینچر کیپیٹل، سکوک اور ریئل اسٹیٹ انویسٹمنٹ ٹرسٹس (ریٹس) شامل ہیں، کا جائزہ لینے کی کوشش کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم کیپٹل مارکیٹس کو وسعت دینے کیلئے ٹیکس اور ریگولیٹری اصلاحات کے حوالے سے مجموعی جائزہ لے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کو تمام اصلاحات ایک ہی وقت میں نافذ کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ مناسب حفاظتی اقدامات کے ساتھ مرحلہ وار اقدامات کیے جاسکتے ہیں۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ کونسل میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے چیئرمین اور دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم سال کے اختتام تک یا اس سے پہلے وزیراعظم کے دفتر کے ساتھ ساتھ مرکزی بینک، ایس ای سی پی اور وزارت خزانہ کیلئے سفارشات پیش کریں گے۔
محمد اورنگزیب نے مزید کہا کہ ایس ای سی پی پہلے ہی قانون سازی کے ایجنڈے پر کام کر رہا ہے، جسے بعد ازاں پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا۔
























Comments