BR100 Decreased By (-0.54%)
BR30 Decreased By (-1%)
KSE100 Decreased By (-0.44%)
KSE30 Decreased By (-0.41%)
BAFL 56.95 Increased By ▲ 0.08 (0.14%)
BIPL 24.95 Decreased By ▼ -0.01 (-0.04%)
BOP 30.24 Decreased By ▼ -0.11 (-0.36%)
CNERGY 13.00 Decreased By ▼ -0.12 (-0.91%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 188.29 Decreased By ▼ -4.16 (-2.16%)
FABL 93.90 Decreased By ▼ -0.24 (-0.25%)
FCCL 52.30 Decreased By ▼ -0.49 (-0.93%)
FFL 14.58 Decreased By ▼ -0.14 (-0.95%)
GGL 19.26 Decreased By ▼ -0.30 (-1.53%)
HBL 305.52 Decreased By ▼ -0.58 (-0.19%)
HUBC 199.99 Decreased By ▼ -1.43 (-0.71%)
HUMNL 10.00 Decreased By ▼ -0.16 (-1.57%)
KEL 6.13 Increased By ▲ 0.04 (0.66%)
LOTCHEM 26.32 Decreased By ▼ -0.14 (-0.53%)
MLCF 91.68 Decreased By ▼ -1.48 (-1.59%)
OGDC 315.00 Decreased By ▼ -1.73 (-0.55%)
PAEL 35.19 Decreased By ▼ -0.44 (-1.23%)
PIBTL 14.67 Decreased By ▼ -0.01 (-0.07%)
PIOC 240.89 Decreased By ▼ -2.32 (-0.95%)
PPL 223.00 Decreased By ▼ -3.91 (-1.72%)
PRL 91.49 Decreased By ▼ -1.53 (-1.64%)
SNGP 91.00 Decreased By ▼ -0.84 (-0.91%)
SSGC 23.39 Decreased By ▼ -0.42 (-1.76%)
TELE 7.68 Decreased By ▼ -0.12 (-1.54%)
TPLP 12.66 Decreased By ▼ -0.31 (-2.39%)
TRG 56.44 Decreased By ▼ -0.12 (-0.21%)
UNITY 8.03 Decreased By ▼ -0.04 (-0.5%)
WTL 1.01 No Change ▼ 0.00 (0%)
پاکستان

سرکاری قرضہ 7.7 فیصد بڑھ کر 86.72 ٹریلین روپے ہوگیا

  • رپورٹ کے مطابق ملکی قرضہ 9 فیصد اضافے سے 59.441 ٹریلین روپے جبکہ بیرونی قرضہ 6.8 فیصد بڑھ کر 98.075 ارب ڈالر ہوگیا
شائع اپ ڈیٹ

ملک کا مجموعی سرکاری قرضہ جون 2026 کے اختتام تک 7.7 فیصد بڑھ کر تقریباً 86.72 ٹریلین روپے ہوگیا، جو ایک سال قبل 13 فیصد بڑھا تھا، تاہم قرضہ مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے تناسب سے 70.6 فیصد سے کم ہو کر 68.3 فیصد رہ گیا۔

وزارت خزانہ کے ڈیبٹ مینجمنٹ آفس (ڈی ایم او) کی سالانہ ڈیبٹ ریویو مالی سال 2026 کے مطابق قرض میں اضافے کی رفتار میں کمی مالیاتی استحکام، وفاقی حکومت کے 2.185 ٹریلین روپے کے بنیادی سرپلس اور سودی اخراجات میں 22 فیصد کمی کے باعث ممکن ہوئی۔

رپورٹ کے مطابق ملکی قرضہ 9 فیصد اضافے سے 59.441 ٹریلین روپے جبکہ بیرونی قرضہ 6.8 فیصد بڑھ کر 98.075 ارب ڈالر ہوگیا۔ ڈالر کے لحاظ سے مجموعی سرکاری قرضہ 312 ارب ڈالر رہا۔

مالی سال 2026 میں سودی اخراجات 8.887 ٹریلین روپے سے کم ہو کر 6.948 ٹریلین روپے رہ گئے، جس کے نتیجے میں وفاقی مالیاتی خسارہ 7.089 ٹریلین روپے سے گھٹ کر 4.763 ٹریلین روپے ہوگیا۔ وفاقی بنیادی سرپلس بھی 1.798 ٹریلین روپے سے بڑھ کر 2.185 ٹریلین روپے ہوگیا۔

رپورٹ کے مطابق خالص وفاقی آمدنی 6 فیصد اضافے سے 10.52 ٹریلین روپے رہی، جبکہ مجموعی غیر سودی اخراجات میں صرف 2.3 فیصد اضافہ ہوا، جو مالی سال 2025 میں 15 فیصد تھا۔

مالی ذمہ داری اور قرض کی حد بندی ایکٹ کے تحت حکومت کا مجموعی قرض 77.168 ٹریلین روپے، یعنی جی ڈی پی کا 60.8 فیصد رہا، جو جون 2025 کے اختتام پر 64.2 فیصد تھا۔

وفاقی مالیاتی خسارے کا 75 فیصد ملکی اور 25 فیصد بیرونی ذرائع سے پورا کیا گیا۔ خالص بیرونی فنانسنگ 1.177 ٹریلین روپے جبکہ خالص ملکی فنانسنگ 3.586 ٹریلین روپے رہی۔

ملکی قرضوں میں مارکیٹ ٹریژری بلز کا حجم 25 فیصد بڑھ کر 10.928 ٹریلین روپے جبکہ سکوک اور بائی مؤجل فنانسنگ 35 فیصد اضافے سے 8.559 ٹریلین روپے ہوگئی۔ کمرشل بینک بدستور حکومتی سیکیورٹیز کے سب سے بڑے خریدار رہے اور ان کا حصہ 64 فیصد سے بڑھ کر 70 فیصد ہوگیا۔

پاکستان نے چار سال کے وقفے کے بعد عالمی کیپٹل مارکیٹ میں واپسی کرتے ہوئے اپریل 2026 میں 750 ملین ڈالر کا یورو بانڈ اور مئی میں 1.75 ارب یوان کا پانڈا بانڈ جاری کیا۔

رپورٹ کے مطابق جون 2026 تک بیرونی سرکاری قرضے کا 84 فیصد وفاقی حکومت جبکہ 16 فیصد صوبائی و ذیلی حکومتوں کے ذمے تھا۔ بیرونی قرضوں میں پنجاب کا حصہ 6.40 ارب ڈالر، سندھ کا 5.62 ارب ڈالر اور خیبر پختونخوا کا 2.97 ارب ڈالر رہا۔

حکومت نے مالی سال 2026 کے دوران اسٹیٹ بینک کا 1.926 ٹریلین روپے قرض واپس کیا جبکہ 996 ارب روپے کے مارکیٹ قرضوں کو بائی بیک بھی کیا۔ جون کے اختتام پر حکومتی ضمانتیں 4.283 ٹریلین روپے رہیں، جن میں پاور سیکٹر کا حصہ تقریباً 56 فیصد تھا۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026

Comments

200 حروف