نئے پبلک پروکیورمنٹ رولز 2026 نافذ، سرکاری خریداری کا نظام ڈیجیٹل کردیا گیا
- نئے قواعد کے تحت تمام وفاقی سرکاری خریداری ای پاک ایکوزیشن اینڈ ڈسپوزل سسٹم (ای پی اے ڈی ایس) کے ذریعے کی جائے گی
وفاقی حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ رولز 2026 فوری طور پر نافذ کرتے ہوئے پبلک پروکیورمنٹ رولز 2004 کی جگہ نیا ضابطہ متعارف کرادیا ہے، جس کے تحت سرکاری خریداری کے عمل کو ڈیجیٹل بنانے، تھرڈ پارٹی نگرانی، شفافیت میں اضافے اور متبادل خریداری کے طریقوں کو وسعت دینے پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔
نئے قواعد کے تحت تمام وفاقی سرکاری خریداری ای پاک ایکوزیشن اینڈ ڈسپوزل سسٹم (ای پی اے ڈی ایس) کے ذریعے کی جائے گی۔ خریداری کرنے والے اداروں کو سالانہ خریداری منصوبے بھی ای پی اے ڈی ایس اور پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (پی پی آر اے) کی ویب سائٹ پر جاری کرنا ہوں گے۔
قواعد کے مطابق 2 ارب روپے تک کی خریداری کے لیے بولی کی جانچ کمیٹی تشکیل دی جائے گی، جبکہ 50 کروڑ روپے سے زائد اور 2 ارب روپے تک کی خریداری کی تھرڈ پارٹی سے بھی توثیق کرائی جائے گی۔ 2 ارب روپے سے زائد کی خریداری کے لیے بیرونی بولی جائزہ کمیٹی قائم ہوگی، جس کے کم از کم دو تہائی ارکان متعلقہ خریداری ادارے سے باہر کے ہوں گے۔
نئے قواعد کے تحت خریداری کرنے والے اداروں میں پروکیورمنٹ سیلز قائم کیے جائیں گے، جو خریداری کی منصوبہ بندی، مارکیٹ کا تجزیہ، بولی کی دستاویزات کی تیاری، ٹینڈرز کے اجراء، ریکارڈ کے انتظام اور معاہدوں کی نگرانی کے ذمہ دار ہوں گے۔
2 لاکھ روپے سے زائد کی خریداری کے مواقع ای پی اے ڈی ایس اور پیپرا کی ویب سائٹ پر شائع کرنا لازمی ہوگا، جبکہ 50 لاکھ روپے سے زائد کی خریداری کے لیے کم از کم دو قومی اخبارات، ایک انگریزی اور ایک اردو، میں اشتہار دینا ہوگا۔
قومی مسابقتی بولی کے لیے کم از کم 10 دن جبکہ بین الاقوامی بولی کے لیے 20 دن کا وقت مقرر کیا گیا ہے۔ 7 لاکھ سے 20 لاکھ روپے تک کی خریداری کے لیے متعارف کرائے گئے گیلپ ٹینڈرنگ طریقہ کار میں کم از کم 5 دن کی مہلت ہوگی۔
قواعد میں فریم ورک معاہدوں کی بھی اجازت دی گئی ہے۔ اوپن فریم ورک معاہدہ زیادہ سے زیادہ تین سال جبکہ کلوزڈ فریم ورک معاہدہ ایک سال سے زائد نہیں ہوگا۔
شفافیت بڑھانے کے لیے 50 کروڑ روپے سے زائد مالیت کی اشیا و خدمات اور ایک ارب روپے سے زائد کے تعمیراتی کاموں کی بولی کھولنے کے عمل کو قومی میڈیا، ویب سائٹس یا ڈیجیٹل ذرائع کے ذریعے براہ راست نشر کیا جائے گا۔
نئے قواعد کے تحت 25 کروڑ روپے تک کی خریداری میں بولی سکیورٹی زیادہ سے زیادہ 5 فیصد جبکہ اس سے زائد کی خریداری میں 2 فیصد تک رکھی جاسکے گی۔ کارکردگی کی ضمانت معاہدے کی مالیت کے 10 فیصد سے زیادہ نہیں ہوگی۔
قواعد میں بلیک لسٹنگ سے متعلق دفعات بھی سخت کی گئی ہیں۔ بدعنوانی اور دھوکہ دہی پر 10 سال تک، غلط معلومات فراہم کرنے پر 5 سال تک جبکہ بعض معاہداتی یا بولی سے متعلق خلاف ورزیوں پر 6 ماہ تک بلیک لسٹ کیا جاسکے گا۔
پیپرا کے مینجنگ ڈائریکٹر حسنات احمد قریشی نے کہا کہ پبلک پروکیورمنٹ رولز 2026 شفافیت، مسابقت، احتساب، کارکردگی اور سرکاری وسائل کے بہتر استعمال کو مضبوط بنانے کے لیے جدید ضابطہ فراہم کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نئے قواعد خریداری کی منصوبہ بندی سے لے کر بولی، معاہدہ، کارکردگی کے جائزے اور تکمیل تک نگرانی کو مضبوط بنائیں گے۔ ان کے مطابق ڈیجیٹل خریداری، آزاد نگرانی اور معلومات کے اجرا سے عوام کا اعتماد بہتر ہونے کی توقع ہے۔
28 ستمبر کو کابینہ ڈویژن کی جانب سے قواعد کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا، جبکہ نئے قواعد کے نفاذ سے قبل شروع کیے گئے خریداری کے معاملات پبلک پروکیورمنٹ رولز 2004 کے تحت ہی جاری رہیں گے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026
























Comments