حقیقت یہ ہے کہ انکم ٹیکس وصولیوں کا 75 سے 80 فیصد حصہ ودہولڈنگ ٹیکس پر مشتمل ہے، جو عملاً سیلز ٹیکس کے انداز میں وصول کیا جاتا ہے۔ دیانت داری سے دیکھا جائے تو اس آمدن کو انکم ٹیکس کے بجائے سیلز ٹیکس میں شمار کیا جانا چاہیے۔
آڈیٹر جنرل آف پاکستان بھی یہ نکتہ ایف بی آر کے سامنے اٹھا کر اس حوالے سے سفارشات دے چکے ہیں، مگر اب تک ان پر کوئی عملدرآمد نہیں ہوا۔
مزید معاشی تنزلی کو روکنے کے لیے پاکستان کے بھاری جاری اخراجات میں کمی کی خاطر فوری اصلاحات ناگزیر ہیں، جن میں تنخواہوں اور خریداریوں پر پابندی بھی شامل ہے