امریکا اور ایران کے مذاکرات میں تعطل، ایندھن کی قلت سے تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں
- بدھ کو مدت پوری ہونے والا برینٹ نومبر فیوچرز معاہدہ 1.12 ڈالر یا ایک فیصد اضافے سے 103.71 ڈالر فی بیرل ہوگیا
بدھ کو تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا اور امریکا۔ایران امن مذاکرات میں تعطل اور امریکی ایندھن کی منڈیوں میں رسد کی صورتحال سخت ہونے کے باعث قیمتیں رواں ماہ نمایاں اضافے کے ساتھ بند ہونے کی جانب گامزن ہیں۔
بدھ کو مدت پوری ہونے والے برینٹ نومبر فیوچرز معاہدے کی قیمت صبح 10:50 بجے امریکی مشرقی وقت کے مطابق 1.12 ڈالر یا ایک فیصد اضافے سے 103.71 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔ زیادہ فعال دسمبر معاہدہ 2.65 ڈالر یا 2.8 فیصد اضافے سے 98.81 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا۔ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمت 1.98 ڈالر یا 2.2 فیصد اضافے سے 91.98 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔
برینٹ کی قیمت میں رواں ماہ تقریباً 14 فیصد اضافے کا امکان ہے، جو جولائی کے بعد اس کا سب سے بڑا ماہانہ اضافہ ہوگا، جبکہ ڈبلیو ٹی آئی میں تقریباً 5.5 فیصد اضافے کا امکان ہے۔
قطر نے منگل کو کہا تھا کہ اسے امید ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان ثالثی کے لیے جاری سفارتی کوششیں کسی پیش رفت کا باعث بن سکتی ہیں۔
تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ’ایکسِیوس‘ اور ’سی این این‘ کی ان رپورٹس کی تردید کردی جن میں امریکی حکام کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ وہ ایران کی جانب سے اس کے جوہری پروگرام پر ’’ٹھوس‘‘ اقدامات کے بدلے میں تہران کو پابندیوں میں ریلیف دینے اور منجمد ایرانی اثاثے بحال کرنے پر آمادہ ہیں۔
منگل کو سعودی عرب نے مشرق۔مغرب پائپ لائن کے ذریعے آپریشنز دوبارہ شروع کرنے کے بعد بحیرہ احمر کی بندرگاہ ینبع سے تیل بردار ٹینکروں میں تیل کی لوڈنگ دوبارہ شروع کردی۔
گولڈمین سیکس نے منگل کو جاری کردہ ایک نوٹ میں اندازہ ظاہر کیا کہ گزشتہ ہفتے خلیجی ممالک کی تیل برآمدات بحال ہوکر 2 کروڑ 33 لاکھ بیرل یومیہ ہوگئی ہیں، جو 2025 کی اوسط کے برابر ہیں۔ ادارے کے مطابق ستمبر میں تیل کی برآمدات دگنی ہوگئی تھیں۔
جے پی مورگن کے اندازے کے مطابق گزشتہ پانچ روز کے دوران مجموعی تیل برآمدات کی 10 روزہ اوسط 2 کروڑ 5 لاکھ بیرل یومیہ رہی، جو 2025 کی سطح کا 89 فیصد ہے۔
دو باخبر ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ اوپیک پلس کے تیل پیدا کرنے والے ممالک اتوار کو ہونے والے اجلاس میں نومبر کے لیے تیل کی پیداوار کے اہداف موجودہ سطح پر برقرار رکھنے کا امکان ہے۔
جاپانی بینک ایم یو ایف جی کے تجزیہ کاروں نے کہا، ’’خام تیل کی ترسیل بحال ہونے سے رسد کی بنیاد پر قیمتوں میں اضافے کا دباؤ کم ہونا چاہیے، تاہم پیٹرولیم مصنوعات کی مسلسل قلت اور بلند فریٹ لاگت کے باعث مجموعی توانائی کی منڈی میں سختی برقرار رہنے کا امکان ہے۔‘‘
دو باخبر ذرائع کے مطابق وائٹ ہاؤس نے عالمی قیمتوں میں کمی لانے کی کوشش کے تحت یورپی یونین پر ہنگامی ڈیزل ذخائر میں کمی لانے پر زور دیا ہے۔
امریکی ایندھن کے ذخائر میں کمی نے تیل کی قیمتوں کو سہارا دیا، اگرچہ خام تیل کے ذخائر میں اضافہ ہوا۔
کےپلر کے تجزیہ کار میٹ اسمتھ نے کہا، ’’ریفائننگ سرگرمی میں کمی کے باعث ڈسٹلیٹس اور پٹرول، دونوں کے ذخائر میں کمی آئی ہے۔ ریفائننگ سرگرمی میں آئندہ بتدریج اضافہ متوقع ہے، جس سے پیٹرولیم مصنوعات کے ذخائر کو مزید کم سطح تک گرنے سے تحفظ ملے گا۔‘‘
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ہفتے امریکا میں پٹرول کے ذخائر 17 لاکھ بیرل کم ہوکر 20 کروڑ 44 لاکھ بیرل رہ گئے، جبکہ ڈیزل اور ہیٹنگ آئل سمیت ڈسٹلیٹ ذخائر 23 لاکھ بیرل کمی سے 10 کروڑ 52 لاکھ بیرل رہ گئے۔
دریں اثنا، 25 ستمبر کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران امریکا کے خام تیل کے ذخائر 9 لاکھ 22 ہزار بیرل اضافے سے 42 کروڑ 73 لاکھ بیرل ہوگئے۔ ای آئی اے کے مطابق رائٹرز کے ایک سروے میں تجزیہ کاروں نے خام تیل کے ذخائر میں 2 لاکھ 64 ہزار بیرل کمی کی توقع ظاہر کی تھی۔
تیل کے دو اہم بینچ مارکس کے درمیان قیمت کا فرق بھی چار ماہ کی بلند ترین سطح تک پہنچ گیا، جبکہ تاجر امریکا کی جانب سے ڈیزل کی برآمدات محدود کرنے کے ممکنہ منصوبوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ایسے اقدام سے امریکی منڈی میں ڈیزل کی اضافی رسد پیدا ہوسکتی ہے اور وہاں ریفائنریوں کو خام تیل کی پروسیسنگ کم کرنا پڑسکتی ہے۔
ٹرمپ نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل صارفین کو قیمتوں میں کچھ ریلیف فراہم کرنے کے لیے ڈیزل کی برآمدات پر پابندی عائد کرنے کے بجائے سرخ رنگ سے نشان زد ڈیزل کی فروخت کی اجازت دینے پر غور کر رہے ہیں۔
























Comments