اگست ایف سی اے، بجلی صارفین پر 29.5 ارب روپے اضافی بوجھ کا امکان
- مجوزہ ایڈجسٹمنٹ کی مجموعی رقم میں سے 20.7142 ارب روپے براہ راست آئی پی پیز کو ادائیگیوں سے متعلق ہیں
بجلی صارفین کیلئے اگست کے ماہانہ فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ (ایف سی اے) کی مد میں فی یونٹ 1.73 روپے اضافے کا امکان ہے۔ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے منگل کو سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کی جانب سے ٹیرف میں اضافے کیلئے دائر درخواست پر سماعت مکمل کرلی۔
نیپرا نے فیصلہ محفوظ کرلیا ہے اور کہا ہے کہ سماعت کے دوران پیش کیے گئے مالیاتی اعدادوشمار اور حسابات کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد فیصلہ جاری کیا جائے گا۔
سی پی پی اے حکام کے مطابق مجوزہ ایڈجسٹمنٹ کی مجموعی رقم میں سے 20.7142 ارب روپے براہ راست انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) کو ادائیگیوں سے متعلق ہیں۔
اگست 2026 کے ایندھن سے بجلی پیدا کرنے کی لاگت کی بنیاد پر مجوزہ ٹیرف ایڈجسٹمنٹ کے نتیجے میں کے الیکٹرک کے صارفین سمیت بجلی صارفین پر مجموعی طور پر تقریباً 29.5 ارب روپے کا اضافی مالی بوجھ پڑنے کا امکان ہے۔ اگست میں مجموعی طور پر 14.464 ارب یونٹس بجلی پیدا کی گئی، جس کی اوسط لاگت 8.82 روپے فی یونٹ رہی۔
بجلی کی پیداوار میں پن بجلی کا حصہ سب سے زیادہ 37.84 فیصد رہا، جبکہ درآمدی کوئلے سے 15.59 فیصد، مقامی کوئلے سے 10.86 فیصد، ایل این جی سے 8.48 فیصد اور مقامی گیس سے 7.04 فیصد بجلی پیدا ہوئی۔ ایل این جی سے پیدا ہونے والی بجلی سب سے مہنگی رہی، جس کی لاگت 45.92 روپے فی یونٹ تک پہنچ گئی۔
سی پی پی اے کی بریفنگ کے مطابق چشمہ نیوکلیئر پاور پلانٹ سی ٹو کیلئے 1.3246 ارب روپے، تاوانیر ایران کیلئے 528.1 ملین روپے، پنجاب تھرمل پاور پرائیویٹ کیلئے 183.8 ملین روپے اور تھر کول بلاک ون پاور جنریشن کمپنی کیلئے 159 ملین روپے کی ایڈجسٹمنٹ کلیمز جمع کرائے گئے۔
نشاط پاور لمیٹڈ، اینگرو پاورجن تھر، نارووال انرجی اور لکی الیکٹرک پاور کمپنی سمیت دیگر اداروں نے بھی مختلف ایڈجسٹمنٹ کلیمز دائر کیے۔ ایل این جی سے چلنے والے پاور پلانٹس کیلئے جولائی اور اگست کی مد میں 10.6168 ارب روپے کی عبوری ایڈجسٹمنٹ بھی شامل کی گئی ہے۔
دوسری جانب جولائی 2026 کی سابقہ حقیقی لاگت میں 10.7432 ارب روپے اور جون 2026 میں 2.2274 ارب روپے کی کمی سمیت مختلف مدوں میں نمایاں منفی ایڈجسٹمنٹس بھی سامنے آئیں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026
























Comments