ریکوڈک منصوبے کی مکمل تعمیر سیکیورٹی میں بہتری سے مشروط، بیرک
- مکمل تعمیراتی شیڈول کے ساتھ آگے بڑھنے سے قبل سیکیورٹی صورتحال میں بہتری ضروری ہے، کمپنی
بیرک مائننگ کارپوریشن جو کان کنی، معدنیات کی تلاش اور منصوبوں کی ترقی کے شعبے میں دنیا کی معروف کمپنی ہے نے بلوچستان میں ریکوڈک تانبے اور سونے کے منصوبے کی ترقیاتی سرگرمیاں سست کردی ہیں اور اپنے منصوبوں کا ازسرنو جائزہ لے رہی ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ مکمل تعمیراتی شیڈول کے ساتھ آگے بڑھنے سے قبل سیکیورٹی صورتحال میں بہتری ضروری ہے۔
بیرک کے چیف ایگزیکٹو مارک ہِل نے مائننگ فورم امریکا میں کہا کہ ہم اس منصوبے کا دوبارہ جائزہ لے رہے ہیں کیونکہ ریکوڈک میں تعمیرات کے مکمل شیڈول پر کام شروع کرنے سے پہلے ہمیں سیکیورٹی صورتحال میں کسی حد تک بہتری درکار ہے۔
چیف ایگزیکٹو نے منصوبے کیلئے تعمیرات کے نئے شیڈول کے بارے میں کوئی تفصیل فراہم نہیں کی اور نہ ہی پریزنٹیشن میں ترقیاتی سرگرمیوں کی رفتار سست کیے جانے کے اثرات کی کوئی مقدار بتائی۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب بلوچستان میں سیکیورٹی صورتحال بدستور تشویش کا باعث ہے جہاں عسکریت پسندوں کی سرگرمیوں میں اضافہ اور انسدادِ دہشت گردی کی وسیع کارروائیاں جاری ہیں۔ 2026 میں پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے ملک بھر میں 40 ہزار سے زائد انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز (آئی بی اوز) کیے جن میں سے 31 ہزار سے زیادہ صرف بلوچستان میں کیے گئے۔
ریکوڈک منصوبہ کینیڈا کی بارک مائننگ چلا رہی ہے جو پہلے بارک گولڈ کارپوریشن کے نام سے جانی جاتی تھی اور منصوبے میں اس کا 50 فیصد حصص ہے۔ بلوچستان حکومت کی ملکیت 25 فیصد ہے جبکہ باقی 25 فیصد حصص پاکستانی سرکاری ملکیتی اداروں کے پاس ہیں۔
منصوبے کے پہلے مرحلے کے لیے ابتدائی سرمایہ کاری کا تخمینہ 4 ارب ڈالر لگایا گیا تھا جسے بعد میں بڑھا کر 5.6 ارب ڈالر کر دیا گیا۔ دونوں مراحل میں مجموعی سرمایہ کاری تقریباً 7 ارب ڈالر متوقع ہے جبکہ دوسرے مرحلے کی لاگت کا تخمینہ 3.5 ارب ڈالر ہے۔
مائن کی عمر کم از کم 40 سال متوقع ہے، تاہم حالیہ فزیبلٹی اسٹڈی میں زیادہ پیداواری صلاحیت کے باعث مائن کی متوقع عمر کو کم کرکے 37 سال کر دیا گیا ہے جبکہ اسے 80 سال تک بڑھانے کی گنجائش موجود ہے۔
منصوبے کی تعمیر کے عروج کے دوران 7,500 افراد کو روزگار ملنے کی توقع ہے جبکہ پیداوار شروع ہونے کے بعد 4 ہزار طویل مدتی ملازمتیں پیدا ہوں گی۔
منصوبے میں روایتی اوپن پٹ کان کنی اور ملنگ کا عمل شامل ہوگا جس کے ذریعے اعلیٰ معیار کا تانبے اور سونے کا کنسنٹریٹ تیار کیا جائے گا۔ پہلے مرحلے میں سالانہ تقریباً 4 کروڑ 50 لاکھ ٹن خام مال پراسیس کیا جائے گا جبکہ دوسرے مرحلے میں یہ صلاحیت ممکنہ طور پر دگنی ہو کر 9 کروڑ ٹن سالانہ تک پہنچ جائے گی۔
طویل مدتی متفقہ قیمتوں کی بنیاد پر ریکوڈک منصوبے سے 37 سال کے دوران تقریباً 74 ارب ڈالر کا فری کیش فلو پیدا ہونے کی توقع ہے۔
























Comments