اسٹاک ایکسچینج میں فروخت کا دبائو، انڈیکس 800 پوائنٹس سے زائد گرگیا
- بینچ مارک انڈیکس 862.50 پوائنٹس یا 0.51 فیصد کمی کے بعد 169,106.82 پوائنٹس پر تھا
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جمعرات کو ابتدائی تیزی کے بعد مسلسل فروخت کا دباؤ دیکھا گیا، جس کے باعث صبح کے سیشن کے دوران مارکیٹ کی ابتدائی تیزی بتدریج ختم ہوگئی اور بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں کاروبار کے دوران 800 سے زائد پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی۔
دوپہر 1 بجکر 11 منٹ پربینچ مارک انڈیکس 862.50 پوائنٹس یا 0.51 فیصد کمی کے بعد 169,106.82 پوائنٹس پر تھا۔
اہم شعبوں، جن میں آٹو موبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکس، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیاں اور آئل مارکیٹنگ کمپنیاں شامل ہیں، میں خریداری دیکھی گئی۔ انڈیکس پر بھاری اثر رکھنے والے حصص، جن میں ڈی جی کے سی، ایچ بی ایل، ایم سی بی، ایم ای بی ایل، این بی پی، ماری، پی او ایل اور پی ایس او شامل ہیں، منفی زون میں کاروبار کرتے رہے۔
ایک اہم پیش رفت میں، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے بدھ کو ٹیکس سال 2026 کے انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 30 ستمبر سے بڑھا کر 15 اکتوبر کردی۔
پی ایس ایکس میں بدھ کو بھی بحالی کا سلسلہ جاری رہا، جہاں کمرشل بینکس، سیمنٹ اور فرٹیلائزر اسٹاکس میں منتخب خریداری نے مارکیٹ کو سہارا دیا۔ بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 368.92 پوائنٹس یا 0.22 فیصد اضافے سے 169,969.33 پوائنٹس پر بند ہوا۔
عالمی سطح پر جمعرات کو ایشیائی اسٹاکس میں محتاط رجحان رہا، جبکہ ستمبر میں شدید دباؤ کے بعد عالمی بانڈز بھی دباؤ میں رہے۔ سرمایہ کار اگست میں امریکی مہنگائی میں توقعات سے کم اضافے کا جائزہ لے رہے ہیں، جس سے رواں ماہ شرح سود میں اضافے کے امکانات کم ہوگئے ہیں۔
مصنوعی ذہانت کیلئے چِپ بنانے والی کمپنی مائکرون کی شاندار مالیاتی نتائج بھی ایشیا میں کمزور سرمایہ کارانہ جذبات کو بہتر نہ کرسکے، جبکہ مشرق وسطیٰ میں سات ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کیلئے امریکا اور ایران کے درمیان امن مذاکرات میں تعطل نے تیل کی قیمتوں کو بلند رکھا، جس سے مارکیٹ کا رجحان مزید متاثر ہوا۔
ایم ایس سی آئی کا جاپان کے علاوہ ایشیا بحرالکاہل کے حصص کا وسیع ترین انڈیکس 0.2 فیصد نیچے رہا، جبکہ جنوبی کوریا کا کوسپی 0.14 فیصد کم ہوا۔ تاہم جاپان کا نکئی ایک فیصد سے زائد بڑھ گیا، جس کی وجہ چِپ سے متعلق کمپنیوں کے حصص میں اضافہ تھا۔
نیسڈیک اور ایس اینڈ پی 500 کے فیوچرز میں 0.3 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ یورپی اسٹاک فیوچرز ابتدائی کاروبار میں 0.75 فیصد گر گئے۔
بدھ کو جاری اعدادوشمار کے مطابق اگست میں امریکی مہنگائی میں توقعات سے کم اضافہ ہوا، جبکہ گزشتہ ماہ قیمتوں کا دباؤ بھی پہلے بتائے گئے اعدادوشمار کے مقابلے میں زیادہ معتدل رہا۔ اس کے نتیجے میں ٹریڈرز نے 28 اکتوبر کو فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافے پر اپنی شرطیں کم کردیں۔
سی ایم ای کے فیڈ واچ ٹول کے مطابق اب ٹریڈرز رواں ماہ شرح سود میں اضافے کا 38 فیصد امکان دیکھ رہے ہیں، جبکہ ایک روز قبل یہ امکان 50 فیصد تھا۔ فیڈ نے ستمبر میں تین سال میں پہلی مرتبہ شرح سود میں اضافہ کیا تھا اور آنے والے مہینوں میں قرض لینے کی لاگت میں مزید اضافے کا عندیہ دیا تھا۔
یہ انٹرا ڈے اپ ڈیٹ ہے۔























Comments