تیل کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ہی ین پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ یہ دباؤ اب اس حد تک شدید ہو چکا کہ کرنسی مارکیٹ میں مداخلت کے خدشات دوبارہ ابھرنے لگے ہیں
حکام یہ اشارہ بھی دے رہے ہیں کہ اگر ین کی قدر میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ یا تیز گراوٹ دیکھی گئی تو وہ مداخلت کر سکتے ہیں۔
اگر پالیسی میں ہم آہنگی، عملی مہارت اور حکمت عملی پر مرکوز توجہ یکجا ہو جائیں، تو کراچی کی رن ویز اور بندرگاہیں دوبارہ علاقائی اور بین البراعظمی نقل و حمل کی شریانیں بن سکتی ہیں