نہر سویز کے قریب ڈرون حملہ، امریکا ایران جنگ کے پھیلاؤ کا خدشہ بڑھ گیا
- حکام نے بتایا کہ کسی گروپ نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی
مصر کی بحیرہ روم کی بندرگاہ دمیاط پر گیس بردار جہازوں کو نشانہ بنانے والے ڈرون حملے نے امریکا ایران جنگ میں ایک نئے محاذ کے خدشات پیدا کر دیے ہیں، جس سے نہر سویز کے ذریعے بحری آمدورفت اور سعودی تیل کی برآمدات کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
مصری کابینہ کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں معلوم ہوا ہے کہ بدھ کو ایک نامعلوم ڈرون کے باعث دمیاط بندرگاہ پر موجود دو جہازوں میں آگ لگی۔ یہ بندرگاہ نہر سویز کے قریب واقع ہے، جو بحیرہ روم اور بحیرہ احمر کو ملاتی ہے۔
حکام نے بتایا کہ کسی گروپ نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ تاہم ذرائع کے مطابق ڈرون حملہ امریکا کی ملکیت والے گیس ذخیرہ کرنے والے ٹینکر انرگوس ونٹر پر ہوا، جس کے بعد آگ دوسرے جہاز تک پھیل گئی۔
دوسری جانب امریکی فوج نے بتایا کہ ایران کی جانب سے خطے میں امریکی افواج پر حملے کے بعد واشنگٹن نے پاسداران انقلاب کے کمانڈ مراکز اور ڈرون تنصیبات کو نشانہ بنایا۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق امریکی حملوں میں جزیرہ قشم پر تین شہری جاں بحق اور دو بچے زخمی ہوئے، جبکہ زنجان صوبے میں پاسداران انقلاب کے تین اہلکار مارے گئے۔
ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے اردن میں واقع الازرق فوجی اڈے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا، جبکہ کویت میں امریکی تنصیبات پر حملوں کی بھی اطلاعات سامنے آئیں۔




















Comments