سابق پاکستانی فوجی افسر کے قتل سے متعلق بھارتی میڈیا کی خبر ڈی جی آئی ایس پی آر نے مسترد کردی
- قتل کیے جانے کا دعویٰ سامنے آنے والا سابق پاکستانی فوجی ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس میں نمودار ہوگیا
ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صحافیوں کو بھارتی میڈیا کے ان دعوؤں سے آگاہ کیا جن میں کہا گیا تھا کہ 22 اپریل کے پہلگام حملے میں مبینہ طور پر مطلوب محمد آصف کو آئی آئی او جے کے کے علاقے کوراگ میں ایک مقابلے کے دوران ہلاک کردیا گیا۔
رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ آصف، جو ہاشم موسیٰ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، کالعدم لشکر طیبہ سے وابستہ تھا اور ماضی میں پاک فوج میں خدمات انجام دے چکا تھا۔
بھارتی خبر رساں ادارے اے این آئی نے نامعلوم ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ آصف 7 مارچ 1980 کو پیدا ہوا، 2000 میں سروس نمبر پی اے 3106947 کے تحت پاک فوج میں شامل ہوا اور حوالدار کے عہدے سے ریٹائر ہوا۔
بھارتی میڈیا کے متعدد اداروں نے سابق پاکستانی فوجی اہلکار کی مبینہ تصاویر بھی شائع کیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے میڈیا کو یہ رپورٹس دکھانے کے بعد آصف کو خود روسٹرم پر بلا لیا۔
آصف نے صحافیوں کو بتایا کہ مبینہ ہلاکت کی خبریں سامنے آنے کے بعد ان کے دوستوں اور رشتہ داروں نے انہیں فون کرنا شروع کردیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ زندہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ میں ضلع اٹک کے علاقے پنڈی گھیب کا رہائشی ہوں۔ مجھے سوشل میڈیا کے ذریعے معلوم ہوا کہ بھارتیوں کے ہاتھوں میری شہادت ہوچکی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارتی میڈیا نے ان کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا کیا۔ آصف نے دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہونے کے الزامات کی مذمت کی۔
فوجی ترجمان نے کہا کہ بھارتی کور نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے ایس ایس جی کے ایک ریٹائرڈ حوالدار کو ہلاک کرکے اس کی لاش بھی برآمد کرلی ہے۔ ان کے مطابق یہ کوئی نئی بات نہیں، بھارت کئی دہائیوں سے پاکستان کے خلاف جھوٹے فلیگ آپریشنز کرتا آرہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے ہمارا ایک گھٹیا ذہن رکھنے والا پڑوسی ہے، جو سمجھتا ہے کہ ہر مسئلہ دہشت گردی کے ذریعے حل کیا جاسکتا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں کہ اگر بھارت پاکستانی فوجی افسر کے مقابلے میں مارے جانے کی جعلی خبر کی بنیاد پر حملہ کرتا ہے تو کیا ہوگا جس پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ تیار ہے اور اگر بھارت کچھ کرنا چاہتا ہے تو کرلے۔
انہوں نے کہا کہ لیکن میں یہ بات بالکل واضح کردوں کہ اس بار پاکستان ایسی قیمت عائد کرے گا جو انتہائی بھاری ہوگی اور جواب انتہائی سخت ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ اگر وہ اس خبر کی بنیاد پر ایسا کرنا چاہتے ہیں تو اپنی قسمت آزما سکتے ہیں۔ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مکہ دفاعی اتحاد اور حرمین شریفین کی حرمت کے حوالے سے پاکستان کے عزم میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے۔
مزید تفصیلات جاری ہیں۔۔۔






















Comments