ستمبر کے دوران مہنگائی کی شرح 10.3 فیصد ریکارڈ
- جاری اخراجات اور سود کی ادائیگیوں میں اضافے کے باعث جولائی 2026 میں مجموعی مالیاتی خسارہ 596.6 ارب روپے تک پہنچ گیا
ستمبر 2026 کے دوران ہیڈ لائن مہنگائی سالانہ بنیاد پر 10.3 فیصد ریکارڈ کی گئی جو اگست کے 11.1 فیصد کے مقابلے میں کم ہے۔
ادارہ شماریات کے مطابق ستمبر 2025 میں صارف قیمتوں کا اشاریہ (سی پی آئی) 5.6 فیصد ریکارڈ کیا گیا تھا۔
ماہانہ بنیاد پر ستمبر 2026 کے دوران سی پی آئی میں 1.3 فیصد اضافہ ہوا جب کہ گزشتہ ماہ اس میں 1.2 فیصد اور ستمبر 2025 میں 2.1 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔
شہری علاقوں میں صارف قیمتوں کے اشاریے (سی پی آئی) پر مبنی افراطِ زر ستمبر 2026 میں سالانہ 10.1 فیصد بڑھا جبکہ گزشتہ ماہ یہ اضافہ 10.4 فیصد اور ستمبر 2025 میں 5.7 فیصد ریکارڈ کیا گیا تھا۔
ماہانہ بنیاد پرستمبر 2026 میں سی پی آئی میں 1.3 فیصد اضافہ ہوا جبکہ گزشتہ ماہ اس میں 0.9 فیصد اور ستمبر 2025 میں 1.6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔
دیہی علاقوں میں صارف قیمتوں کے اشاریے (سی پی آئی) پر مبنی افراطِ زر ستمبر 2026 میں سالانہ بنیاد پر 10.5 فیصد بڑھا جبکہ گزشتہ ماہ یہ اضافہ 12.2 فیصد اور ستمبر 2025 میں 5.9 فیصد ریکارڈ کیا گیا تھا۔
ماہانہ بنیاد پر ستمبر 2026 میں سی پی آئی میں 1.2 فیصد اضافہ ہوا جبکہ گزشتہ ماہ اس میں 1.6 فیصد اور ستمبر 2025 میں 2.8 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔
مالی سال 2027 کی پہلی سہ ماہی کے دوران سی پی آئی پر مبنی افراطِ زر کی شرح 10.2 فیصد رہی جبکہ گزشتہ سال کی اسی مدت میں یہ شرح 4.3 فیصد تھی۔
حکومت کی توقعات
ایک روز قبل وزارتِ خزانہ نے اپنی ماہانہ رپورٹ میں توقع ظاہر کی تھی کہ قلیل مدت میں افراطِ زر کی شرح بلند رہے گی جبکہ ہیڈ لائن صارف قیمتوں کے اشاریے پر مبنی افراطِ زر ستمبر 2026 میں 10 سے 11 فیصد رہنے کا تخمینہ لگایا گیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق اس کے بعد افراطِ زر کی سمت کا انحصار بڑی حد تک عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں پر ہوگا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ حکومت کے جاری اخراجات اور سود کی ادائیگیوں میں اضافے کے باعث جولائی 2026 میں مجموعی مالیاتی خسارہ 596.6 ارب روپے تک پہنچ گیا۔
رپورٹ کے مطابق عالمی سطح پر بلند تیل کی قیمتیں معاشی منظرنامے کے لیے بدستور سب سے بڑا خطرہ ہیں جو قوت خرید، پیداواری لاگت اور درآمدی بل کو متاثر کررہی ہیں۔
رپورٹ میں یہ بات نوٹ کی گئی کہ وزیرِ اعظم کا فیول ریلیف اسکیم پیٹرولیم لیوی میں کٹوتی کیے بغیر ایک ڈیجیٹل ترسیلی نظام کے ذریعے نچلے طبقے کے گھرانوں کو ریلیف فراہم کررہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس سے مالیاتی نظم و ضبط کو برقرار رکھتے ہوئے قوتِ خرید کا تحفظ کیا جاتا ہے۔
ماہرین کی توقعات
قبل ازیں متعدد بروکریج ہاؤسز نے توقع ظاہر کی تھی کہ ستمبر کے دوران صارف قیمتوں میں افراطِ زر کم ہوکر تقریباً 10 فیصد رہ جائے گا، تاہم ایندھن اور بجلی کی بڑھتی لاگت سے قیمتوں پر دباؤ بلند رہنے کا امکان ہے جس سے مرکزی بینک کی زری پالیسی کے منظرنامے میں پیچیدگی پیدا ہوسکتی ہے۔
ٹاپ لائن سیکیورٹیز، اسماعیل اقبال سیکیورٹیز، عباسی اینڈ کمپنی اور گروتھ سیکیورٹیز کے اندازوں کے مطابق، ستمبر میں افراطِ زر کی شرح سالانہ بنیاد پر 9.9 فیصد سے 10.5 فیصد کے درمیان رہنے کی توقع تھی۔






















Comments