امریکہ ایران تازہ حملوں کے بعد آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت مزید کم ہوگئی
- کپلر کے اعداد و شمار کے مطابق پیر کے روز صرف چار تجارتی جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے
شپنگ کے اعداد و شمار کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان تازہ حملوں کے تبادلے کے بعد بڑھتی ہوئی احتیاط کے باعث ہفتے کے آغاز پر آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کی تعداد میں مزید کمی ریکارڈ کی گئی۔
کپلر کے اعداد و شمار کے مطابق پیر کے روز صرف چار تجارتی جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، جن میں زیادہ تر ایرانی راستے سے سفر کر رہے تھے، جبکہ ایک روز قبل یہ تعداد سات تھی۔
ان چار جہازوں میں دو ٹینکر آبنائے ہرمز سے باہر نکلے جبکہ دو دیگر آبنائے میں داخل ہوئے۔
آبنائے سے باہر نکلنے والے دونوں جہازوں میں ایک پیٹروکیمیکل مصنوعات لے جانے والا ٹینکر تھا، جبکہ دوسرا خالی ٹینکر تھا۔
دوسری جانب آبنائے میں داخل ہونے والے دو جہازوں میں ایک بٹومن لے جانے والا ٹینکر اور ایک خام تیل کا ٹینکر شامل تھا۔
پیر کے روز آبنائے ہرمز سے انتہائی بڑے خام تیل بردار جہاز یا مائع قدرتی گیس (ایل این جی) لے جانے والے کسی ٹینکر کی آمدورفت ریکارڈ نہیں کی گئی۔
ادھر بحری کشیدگی میں اس وقت مزید اضافہ ہو گیا جب ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں نے پیر کو سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا، جس سے خلیجی خطے سے باہر بھی عالمی توانائی کی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
دریں اثنا، برطانیہ کی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز ایجنسی نے منگل کو بتایا کہ اسے متعدد اطلاعات موصول ہوئی ہیں جن کے مطابق آبنائے ہرمز میں ایک آئل ٹینکر نے اطلاع دی کہ اسے نامعلوم نوعیت کے ایک میزائل یا گولے نے نشانہ بنایا ہے۔
علاوہ ازیں، یونان کی شپنگ کمپنی ڈائناکام ٹینکرز نے بتایا کہ اس کے زیر انتظام دو بحری جہاز پیر کے روز عمان کے ساحل کے قریب سفر کے دوران نامعلوم نوعیت کے پروجیکٹائلز کی زد میں آئے، جبکہ ایک تیسرے آئل ٹینکر کو روس کے بحیرہ اسود میں واقع نووروسیسک سی پی سی ٹرمینل پر ایک ڈرون حملے کا سامنا کرنا پڑا۔























Comments