مکہ معاہدہ کسی کے خلاف اعلانِ جنگ سے زیادہ اپنے لیے ایک تزویراتی گنجائش کے اعلان کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کی حقیقی اہمیت اس بات میں نہیں کہ یہ کس کی مخالفت کرتا ہے، بلکہ اس میں ہے کہ یہ کس کو بااختیار بناتا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ لادانوف سے کہا گیا کہ وہ بھارتی حکومت کی شدید تشویش ماسکو تک پہنچائیں، جبکہ انہیں یہ بھی بتایا گیا کہ تجارتی جہاز رانی کو نشانہ بنانا اور اس کے نتیجے میں شہریوں کی ہلاکت ناقابلِ قبول ہے۔