کوہِ نور انرجی اور چینی کمپنی کا پاکستان میں بیٹری مینوفیکچرنگ کا منصوبہ
- کے ایس ایل اور چین میں رجسٹرڈ کمپنی ہیبئی جُہانگ انرجی ٹیکنالوجی گروپ کمپنی لمیٹڈ کے مفاہمتی یادداشت پر دستخط
کوہِ نور انرجی لمیٹڈ (کے ای ایل) اور چین کی ہیبئی جُہانگ انرجی ٹیکنالوجی گروپ نے پاکستان میں لیتھیم آئن بیٹری پیکس اور بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹمز کی اسمبلی اور تیاری کے لیے مشترکہ منصوبہ شروع کرنے کے امکانات کا جائزہ لینے کی غرض سے ایک نان بائنڈنگ مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے ہیں۔
کمپنی نے جمعرات کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو بھیجے گئے نوٹس میں اس پیش رفت سے آگاہ کیا۔
نوٹس میں کہا گیا کہ یکم اکتوبر 2026 کو کے ایس ایل اور چین میں رجسٹرڈ کمپنی ہیبئی جُہانگ انرجی ٹیکنالوجی گروپ کمپنی لمیٹڈ نے ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے۔
نوٹس میں کہا گیا کہ مفاہمتی یادداشت میں فریقین کے اس ارادے کو درج کیا گیا کہ وہ پاکستان میں لیتھیم آئن بیٹری پیکس، بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹمز، متعلقہ مصنوعات اور منسلک برقی آلات کی اسمبلنگ، تیاری، مارکیٹنگ اور فروخت کے لیے ایک مشترکہ منصوبے کے قیام پر غور کریں۔
کوہِ نور لاہور میں 124 میگاواٹ پیداواری صلاحیت کا ایک بجلی گھر چلاتی ہے اور وہاں پیدا ہونے والی بجلی اپنے واحد صارف، واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) کو فروخت کرتی ہے۔
دریں اثنا اس منصوبے کو فی الحال مختلف مراحل میں مکمل کرنے کا تصور پیش کیا گیا ہے: ابتدائی طور پر سالانہ تقریباً 50 سے 100 میگاواٹ گھنٹہ کی پیداواری صلاحیت، بعد ازاں تقریباً 300 سے 500 میگاواٹ گھنٹہ اور پھر تقریباً 700 سے 1,000 میگاواٹ گھنٹہ تک توسیع کی گنجائش ہوگی، تاہم یہ مارکیٹ کی طلب، کاروباری کارکردگی اور ذیل میں بیان کردہ شرائط سے مشروط ہوگی۔
کے ای ایل نے مزید کہا کہ مفاہمتی یادداشت غیر پابند نوعیت کی ہے جبکہ اس کے تحت زیرِ غور لین دین مزید جائزے اور ڈیو ڈیلیجنس، متعلقہ منظوریوں اور حتمی معاہدوں سے مشروط ہیں۔
پاکستان قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں ایک نمایاں خاموش انقلاب سے گزر رہا ہے جہاں لیتھیم آئن بیٹری پیکس اور بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹمز کی مارکیٹ تیزی سے فروغ پا رہی ہے۔
تخمینوں کے مطابق 2030 تک پاکستان میں لیتھیم آئن بیٹری پیکس کی درآمدات 8.75 گیگاواٹ گھنٹہ تک پہنچ سکتی ہیں۔ جولائی 2026 میں لیتھیم بیٹریوں کی ماہانہ درآمدات کی مالیت ریکارڈ بلند ترین سطح 88 ملین ڈالر تک پہنچ گئی۔ اس اضافے کی وجہ بجلی کی بلند قیمتیں، سولر توانائی کی گرتی ہوئی قیمتیں اور نیٹ بلنگ کے نظام میں ہونے والی تبدیلیاں قرار دی جارہی ہیں۔
























Comments