BR100 Decreased By (-1.08%)
BR30 Decreased By (-1.33%)
KSE100 Decreased By (-0.64%)
KSE30 Decreased By (-0.81%)
BAFL 57.00 Decreased By ▼ -1.79 (-3.04%)
BIPL 26.82 No Change ▼ 0.00 (0%)
BOP 35.00 Decreased By ▼ -0.38 (-1.07%)
CNERGY 8.16 Decreased By ▼ -0.04 (-0.49%)
DFML 19.35 Decreased By ▼ -0.42 (-2.12%)
DGKC 220.88 Decreased By ▼ -1.06 (-0.48%)
FABL 97.50 Increased By ▲ 0.59 (0.61%)
FCCL 57.51 Decreased By ▼ -0.85 (-1.46%)
FFL 17.66 Decreased By ▼ -0.18 (-1.01%)
GGL 23.69 Increased By ▲ 0.15 (0.64%)
HBL 289.80 Decreased By ▼ -4.30 (-1.46%)
HUBC 227.88 Decreased By ▼ -3.53 (-1.53%)
HUMNL 10.90 Decreased By ▼ -0.17 (-1.54%)
KEL 8.56 Decreased By ▼ -0.19 (-2.17%)
LOTCHEM 27.54 Decreased By ▼ -0.53 (-1.89%)
MLCF 106.59 Decreased By ▼ -0.56 (-0.52%)
OGDC 334.00 Decreased By ▼ -5.96 (-1.75%)
PAEL 44.95 Increased By ▲ 0.46 (1.03%)
PIBTL 18.28 Decreased By ▼ -0.36 (-1.93%)
PIOC 270.00 Decreased By ▼ -3.85 (-1.41%)
PPL 243.50 Decreased By ▼ -4.48 (-1.81%)
PRL 34.91 Decreased By ▼ -0.38 (-1.08%)
SNGP 118.55 Decreased By ▼ -4.62 (-3.75%)
SSGC 30.75 Decreased By ▼ -1.29 (-4.03%)
TELE 8.69 Decreased By ▼ -0.18 (-2.03%)
TPLP 10.22 Decreased By ▼ -0.35 (-3.31%)
TRG 63.15 Decreased By ▼ -1.25 (-1.94%)
UNITY 10.81 Decreased By ▼ -0.31 (-2.79%)
WTL 1.25 Decreased By ▼ -0.01 (-0.79%)
دنیا

امریکہ ایران مذاکرات سے قبل ثالثوں نے تناؤ کم کرنے کیلئے رابطہ چینلز قائم کر دیے

  • چینلز کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی صورت میں کشیدگی کم کرنے کے لیے بنائے گئے ہیں،ذرائع، تکنیکی مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق
شائع June 29, 2026 اپ ڈیٹ June 29, 2026 06:32pm

ہفتے کو ہونے والے جوابی حملوں کے باعث عبوری امن معاہدے کو لاحق خطرات کے بعد ایران اور امریکہ کی تکنیکی ٹیمیں آئندہ چند روز میں دوحہ میں ملاقات کر سکتی ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کو ایک ذریعے نے بتایا کہ ثالثوں نے کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی صورت میں کشیدگی کم کرنے کے لیے رابطہ چینلز قائم کر دیے ہیں اور تکنیکی مذاکرات جاری رہنے کی امید ہے۔ تاہم ایک اعلیٰ ایرانی عہدیدار کے مطابق ابھی ان ملاقاتوں کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔

امریکہ اور ایران نے چار ماہ سے جاری تنازع کے خاتمے کے لیے 17 جون کو ایک 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت دونوں فریقین نے دشمنی ختم کرنے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے پر اتفاق کیا تھا، جہاں سے دنیا کے ایک تہائی تیل اور ایل این جی کی ترسیل ہوتی ہے۔ اس آبی گزرگاہ کی بندش سے خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی تھیں، جس نے عالمی سطح پر مہنگائی کو ہوا دی اور مڈ ٹرم الیکشن سے چند ماہ قبل پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے سیاسی مشکلات کھڑی کر دیں۔ یہ معاہدہ مزید 60 روز کے گہرے مذاکرات کی راہ ہموار کرتا ہے جس میں ایران کے جوہری پروگرام جیسے پیچیدہ مسائل شامل ہیں، اگرچہ دونوں فریقین کے بیانات میں تضاد پایا جاتا ہے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق صدر مسعود پزشکیان نے بتایا کہ اس معاہدے کے نتیجے میں قطر میں منجمد 12 ارب ڈالر کے اثاثوں میں سے 6 ارب ڈالر بحال کرکے ایران کو واپس کیے جائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ معاہدے نے ایران کے پیٹرولیم اور پیٹروکیمیکل سیکٹرز پر سے پابندیاں اٹھا دی ہیں جسے انہوں نے ایرانی عوام کی عظیم فتح قرار دیا۔ دوسری جانب ایک امریکی عہدیدار نے بھی تصدیق کی کہ دونوں فریقین نے دشمنی روکنے پر اتفاق کیا ہے اور اب جہازوں کی نقل و حرکت آزادانہ ہو سکے گی۔ تاہم ایرانی نائب وزیرِ خارجہ کاظم غریب آبادی کا کہنا تھا کہ اس ہفتے تکنیکی ورکنگ گروپ کے اجلاس طے نہیں ہیں اور قطر مذاکرات کی تصدیق نہیں ہوئی۔

سفارت کاری کی بحالی کی خبروں پر عالمی مارکیٹ میں برینٹ کروڈ کی قیمت 72 ڈالر فی بیرل پر مستحکم ہو گئی۔ مذاکرات کی طرف واپسی کا یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب جمعرات کو آبنائے ہرمز میں ایک تجارتی جہاز پر ایرانی حملے کے بعد دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام لگاتے ہوئے کئی حملے کیے۔ اتوار کی صبح ایران نے کویت اور بحرین میں امریکی فوجی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے، جو صدر ٹرمپ کی اس سوشل میڈیا پوسٹ کے فوراً بعد ہوئے جس میں انہوں نے دھمکی دی تھی کہ اگر امریکہ کو فوجی طاقت کا استعمال کرنا پڑا تو اسلامی جمہوریہ ایران کا وجود ختم ہو جائے گا۔

ٹرمپ کی پوسٹ کے ایک گھنٹے بعد کویت اور بحرین میں سائرن بج اٹھے۔ ایران کے پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ یہ امریکی فضائی حملوں کا جواب تھا اور خطے میں امریکی اڈے اب جہنم کا تجربہ کریں گے۔ بحرین نے بتایا کہ ایک ایرانی حملے سے رہائشی عمارت کو نقصان پہنچا، جس پر اس نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل سے ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا، جبکہ کویت نے دو بیلسٹک میزائل فضا میں ہی تباہ کرنے کا دعویٰ کیا۔

دوسری جانب لبنان کے اسپیکر نبیہ بری نے اسرائیل اور لبنان کے درمیان امریکی ثالثی میں ہونے والے سیکیورٹی معاہدے کو مسترد کرتے ہوئے اسے ملک کو تقسیم کرنے کی سازش قرار دیا اور کہا کہ اس پر عمل درآمد نہیں ہوگا۔ حزب اللہ نے بھی اسے انعقادِ ہتھیار (اطاعت) قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ تہران کا مؤقف ہے کہ لبنان میں جنگ کا خاتمہ اور جنوبی لبنان سے اسرائیلی افواج کا انخلا، امریکہ کے ساتھ ہونے والے کسی بھی وسیع تر امن معاہدے کا لازمی حصہ ہے۔

Comments

200 حروف