BR100 Decreased By (-0.91%)
BR30 Decreased By (-1.47%)
KSE100 Decreased By (-0.78%)
KSE30 Decreased By (-0.75%)
BAFL 56.47 Decreased By ▼ -0.40 (-0.7%)
BIPL 24.63 Decreased By ▼ -0.33 (-1.32%)
BOP 30.12 Decreased By ▼ -0.23 (-0.76%)
CNERGY 12.98 Decreased By ▼ -0.14 (-1.07%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 187.22 Decreased By ▼ -5.23 (-2.72%)
FABL 93.71 Decreased By ▼ -0.43 (-0.46%)
FCCL 51.65 Decreased By ▼ -1.14 (-2.16%)
FFL 14.49 Decreased By ▼ -0.23 (-1.56%)
GGL 19.04 Decreased By ▼ -0.52 (-2.66%)
HBL 303.78 Decreased By ▼ -2.32 (-0.76%)
HUBC 198.96 Decreased By ▼ -2.46 (-1.22%)
HUMNL 9.85 Decreased By ▼ -0.31 (-3.05%)
KEL 6.06 Decreased By ▼ -0.03 (-0.49%)
LOTCHEM 26.17 Decreased By ▼ -0.29 (-1.1%)
MLCF 91.23 Decreased By ▼ -1.93 (-2.07%)
OGDC 313.39 Decreased By ▼ -3.34 (-1.05%)
PAEL 35.24 Decreased By ▼ -0.39 (-1.09%)
PIBTL 14.71 Increased By ▲ 0.03 (0.2%)
PIOC 239.62 Decreased By ▼ -3.59 (-1.48%)
PPL 221.36 Decreased By ▼ -5.55 (-2.45%)
PRL 91.22 Decreased By ▼ -1.80 (-1.94%)
SNGP 90.87 Decreased By ▼ -0.97 (-1.06%)
SSGC 23.30 Decreased By ▼ -0.51 (-2.14%)
TELE 7.61 Decreased By ▼ -0.19 (-2.44%)
TPLP 12.56 Decreased By ▼ -0.41 (-3.16%)
TRG 55.79 Decreased By ▼ -0.77 (-1.36%)
UNITY 8.02 Decreased By ▼ -0.05 (-0.62%)
WTL 1.00 Decreased By ▼ -0.01 (-0.99%)
کاروبار اور معیشت

ایران: سالانہ بنیاد پر مہنگائی کی شرح 88.6 فیصد تک پہنچ گئی

  • دسمبر 2025 میں، جب مہنگائی اور بڑھتی ہوئی زندگی کی لاگت کے خلاف احتجاج شروع ہوئے تھے، جو بعد ازاں سیاسی مطالبات تک پھیل گئے، اس وقت سالانہ افراطِ زر کی شرح 52.6 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی۔
شائع اپ ڈیٹ

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے اثرات کے باعث ایران میں جون کے دوران مہنگائی میں تیزی سے اضافہ ہوا اور سالانہ بنیاد پر افراطِ زر کی شرح بڑھ کر 88.6 فیصد کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔

ایرانی ادارۂ شماریات کے مطابق فارسی مہینے خرداد (22 مئی تا 21 جون) کے دوران خوراک کی قیمتیں گزشتہ سال کے مقابلے میں دوگنی سے بھی زیادہ ہو گئیں۔ ایران پہلے ہی بین الاقوامی پابندیوں کے باعث کئی برس سے شدید مہنگائی کا شکار ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق روٹی اور اناج کی قیمتوں میں 138.8 فیصد، دودھ، پنیر اور انڈوں کی قیمتوں میں 151.9 فیصد جبکہ سرخ گوشت اور مرغی کی قیمتوں میں 178.2 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

اس کے برعکس، فروری میں، یعنی اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے جنگ شروع ہونے سے قبل، سالانہ مہنگائی کی شرح 68 فیصد تھی۔

دسمبر 2025 میں، جب مہنگائی اور بڑھتی ہوئی زندگی کی لاگت کے خلاف احتجاج شروع ہوئے تھے، جو بعد ازاں سیاسی مطالبات تک پھیل گئے، اس وقت سالانہ افراطِ زر کی شرح 52.6 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی۔

ایران میں معاشی اعداد و شمار فارسی کیلنڈر کے مطابق ماہانہ بنیادوں پر جاری کیے جاتے ہیں، جس میں نیا سال مارچ سے شروع ہوتا ہے۔

ایرانی معیشت کئی برس سے مسلسل بلند افراطِ زر اور ملکی کرنسی ریال کی تیزی سے گرتی ہوئی قدر کے باعث مشکلات کا شکار ہے، جس کی بڑی وجہ ملک پر عائد بین الاقوامی پابندیاں ہیں۔

مہنگائی نے ایرانی عوام کی قوتِ خرید کو بری طرح متاثر کیا ہے، جبکہ حالیہ مہینوں میں اس بحران میں مزید شدت آئی، جس کے نتیجے میں دسمبر میں ملک گیر احتجاج بھی دیکھنے میں آئے۔

مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ نے ایران کے معاشی بحران کو مزید گہرا کر دیا ہے۔

Comments

200 حروف