BR100 Increased By (0.44%)
BR30 Increased By (1.39%)
KSE100 Increased By (0.62%)
KSE30 Increased By (0.61%)
BAFL 58.79 Decreased By ▼ -0.35 (-0.59%)
BIPL 26.82 Increased By ▲ 0.20 (0.75%)
BOP 35.38 Increased By ▲ 0.26 (0.74%)
CNERGY 8.20 Increased By ▲ 0.05 (0.61%)
DFML 19.77 Increased By ▲ 0.08 (0.41%)
DGKC 221.94 Increased By ▲ 3.32 (1.52%)
FABL 96.91 Decreased By ▼ -0.15 (-0.15%)
FCCL 58.36 Increased By ▲ 1.61 (2.84%)
FFL 17.84 Decreased By ▼ -0.04 (-0.22%)
GGL 23.54 Decreased By ▼ -0.12 (-0.51%)
HBL 294.10 Increased By ▲ 1.11 (0.38%)
HUBC 231.41 Decreased By ▼ -0.40 (-0.17%)
HUMNL 11.07 Decreased By ▼ -0.05 (-0.45%)
KEL 8.75 Increased By ▲ 0.33 (3.92%)
LOTCHEM 28.07 Decreased By ▼ -0.15 (-0.53%)
MLCF 107.15 Increased By ▲ 3.85 (3.73%)
OGDC 339.96 Increased By ▲ 1.79 (0.53%)
PAEL 44.49 Increased By ▲ 1.02 (2.35%)
PIBTL 18.64 Increased By ▲ 0.94 (5.31%)
PIOC 273.85 Increased By ▲ 3.85 (1.43%)
PPL 247.98 Increased By ▲ 3.66 (1.5%)
PRL 35.29 Decreased By ▼ -0.14 (-0.4%)
SNGP 123.17 Decreased By ▼ -2.49 (-1.98%)
SSGC 32.04 Decreased By ▼ -0.90 (-2.73%)
TELE 8.87 Decreased By ▼ -0.04 (-0.45%)
TPLP 10.57 Decreased By ▼ -0.26 (-2.4%)
TRG 64.40 Decreased By ▼ -0.50 (-0.77%)
UNITY 11.12 Increased By ▲ 0.09 (0.82%)
WTL 1.26 Increased By ▲ 0.01 (0.8%)
کاروبار اور معیشت

ایران: سالانہ بنیاد پر مہنگائی کی شرح 88.6 فیصد تک پہنچ گئی

  • دسمبر 2025 میں، جب مہنگائی اور بڑھتی ہوئی زندگی کی لاگت کے خلاف احتجاج شروع ہوئے تھے، جو بعد ازاں سیاسی مطالبات تک پھیل گئے، اس وقت سالانہ افراطِ زر کی شرح 52.6 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی۔
شائع June 27, 2026 اپ ڈیٹ June 27, 2026 11:56pm

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے اثرات کے باعث ایران میں جون کے دوران مہنگائی میں تیزی سے اضافہ ہوا اور سالانہ بنیاد پر افراطِ زر کی شرح بڑھ کر 88.6 فیصد کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔

ایرانی ادارۂ شماریات کے مطابق فارسی مہینے خرداد (22 مئی تا 21 جون) کے دوران خوراک کی قیمتیں گزشتہ سال کے مقابلے میں دوگنی سے بھی زیادہ ہو گئیں۔ ایران پہلے ہی بین الاقوامی پابندیوں کے باعث کئی برس سے شدید مہنگائی کا شکار ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق روٹی اور اناج کی قیمتوں میں 138.8 فیصد، دودھ، پنیر اور انڈوں کی قیمتوں میں 151.9 فیصد جبکہ سرخ گوشت اور مرغی کی قیمتوں میں 178.2 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

اس کے برعکس، فروری میں، یعنی اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے جنگ شروع ہونے سے قبل، سالانہ مہنگائی کی شرح 68 فیصد تھی۔

دسمبر 2025 میں، جب مہنگائی اور بڑھتی ہوئی زندگی کی لاگت کے خلاف احتجاج شروع ہوئے تھے، جو بعد ازاں سیاسی مطالبات تک پھیل گئے، اس وقت سالانہ افراطِ زر کی شرح 52.6 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی۔

ایران میں معاشی اعداد و شمار فارسی کیلنڈر کے مطابق ماہانہ بنیادوں پر جاری کیے جاتے ہیں، جس میں نیا سال مارچ سے شروع ہوتا ہے۔

ایرانی معیشت کئی برس سے مسلسل بلند افراطِ زر اور ملکی کرنسی ریال کی تیزی سے گرتی ہوئی قدر کے باعث مشکلات کا شکار ہے، جس کی بڑی وجہ ملک پر عائد بین الاقوامی پابندیاں ہیں۔

مہنگائی نے ایرانی عوام کی قوتِ خرید کو بری طرح متاثر کیا ہے، جبکہ حالیہ مہینوں میں اس بحران میں مزید شدت آئی، جس کے نتیجے میں دسمبر میں ملک گیر احتجاج بھی دیکھنے میں آئے۔

مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ نے ایران کے معاشی بحران کو مزید گہرا کر دیا ہے۔

Comments

200 حروف