حزب اللہ نے امریکی ثالثی میں طے پانے والے اسرائیل لبنان سکیورٹی معاہدے کو 'ہتھیار ڈالنے' کے مترادف قرار دے کر رد کر دیا
- یہ پیش رفت اسرائیل اور لبنان کے درمیان معاہدے پر دستخط کے ایک روز بعد سامنے آئی
لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم نے ہفتے کے روز امریکہ کی ثالثی میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان طے پانے والے سکیورٹی معاہدے کو، دستخط کے صرف ایک روز بعد، مسترد کرتے ہوئے اسے ”اسرائیل کے سامنے ہتھیار ڈالنے“ کے مترادف قرار دیا ہے۔
بار بار ہونے والی جنگ بندیوں اور معاہدوں کے باوجود کشیدگی برقرار رہنے کی تازہ مثال میں، اسرائیل نے جنوبی لبنان میں ڈرون حملہ بھی کیا۔
ایران کے ساتھ وسیع تر جنگ کے متوازی جاری رہنے والے اس تنازع کے باعث 10 لاکھ سے زائد لبنانی اپنے گھروں سے بے دخل ہو چکے ہیں۔
حزب اللہ اور ایران کا کہنا ہے کہ امریکہ نے دو ہفتے قبل وسیع تر جنگ کے خاتمے کے لیے طے پانے والی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کے تحت لبنان میں بھی دشمنی ختم کرانے کا وعدہ کیا تھا۔
جمعہ کو طے پانے والے فریم ورک کے مطابق جنوبی لبنان کے بعض علاقوں سے اسرائیلی افواج مرحلہ وار انخلا کریں گی، جبکہ ان کی جگہ لبنانی فوج تعینات کی جائے گی۔ تاہم معاہدے پر مکمل عمل درآمد تک اسرائیلی فوج کو توسیع شدہ سکیورٹی زون میں عارضی طور پر موجود رہنے کی اجازت ہوگی۔
ایک بیان میں نعیم قاسم نے معاہدے کو ”کالعدم اور ناقابلِ قبول“ قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ لبنانی حکومت نے یکطرفہ رعایتیں دے کر ملک کی خودمختاری کو نقصان پہنچایا ہے۔
انہوں نے معاہدے کی ان شقوں پر بھی تنقید کی جن میں اسرائیلی انخلا کو حزب اللہ کے غیر مسلح ہونے سے مشروط کیا گیا ہے۔ ان کے بقول یہ شرائط عملاً جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوجی موجودگی کو جائز قرار دیتی ہیں اور ”تمام سرخ لکیریں عبور کر چکی ہیں۔“
انہوں نے کہا کہ حزب اللہ اپنی مسلح مزاحمت جاری رکھے گی۔
”ہم نے انتہائی مشکل حالات میں بھی میدان نہیں چھوڑا تھا اور اب بھی نہیں چھوڑیں گے۔“
لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق ہفتے کے روز اسرائیلی ڈرون نے نبطیہ الفوقہ پر حملہ کیا۔ یہ علاقہ اس سکیورٹی زون سے باہر واقع ہے جسے اسرائیل نے اپنے زیرِ کنٹرول رہنے والے علاقے کے طور پر نقشے میں ظاہر کیا ہے۔
اسرائیلی فوج نے رائٹرز کو بتایا کہ اس نے یہ حملہ ڈرون کے ذریعے کیا کیونکہ اس علاقے میں اس کے زمینی دستے موجود نہیں تھے۔ فوج کے مطابق حملے کا ہدف ایک ایسا شخص تھا جو اس کے اہلکاروں کے لیے خطرہ بن رہا تھا، تاہم اس دعوے کے حق میں مزید تفصیلات یا شواہد فراہم نہیں کیے گئے۔
نعیم قاسم نے کہا کہ رواں ماہ کے آغاز میں ایران اور امریکہ کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت، جس میں لبنان کی علاقائی سالمیت کی ضمانت دی گئی ہے، تنازع کے خاتمے کی بنیاد ہونی چاہیے، نہ کہ واشنگٹن کی ثالثی میں جمعہ کو طے پانے والا نیا معاہدہ۔
























Comments