پاکستان اور اٹلی کے درمیان زرعی مہارتوں کے فروغ کے لیے دو کروڑ یورو قرض کے معاہدے پر دستخط
- قرض زرعی فنی و پیشہ ورانہ تعلیم و تربیت (ٹی وی ای ٹی) کو مضبوط بنانے، زیادہ قدر والی فصلوں کی پیداوار سے متعلق مہارتیں بڑھانے اور دیہی روزگار و آمدنی میں بہتری کے لیے استعمال ہوگا
پاکستان اور اٹلی نے پیر کے روز 2 کروڑ یورو (تقریباً 6.3 ارب روپے) کے رعایتی قرض کے معاہدے پر دستخط کیے۔ اس قرض کا مقصد پاکستان کے قومی فنی و پیشہ ورانہ تعلیم و تربیت (ٹی وی ای ٹی) اصلاحاتی پروگرام کے تحت زرعی شعبے میں پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو فروغ دینا ہے۔
سرکاری بیان کے مطابق، معاہدے پر وزارتِ اقتصادی امور کے سیکریٹری محمد ہمایوں کریم اور پاکستان میں اٹلی کی سفیر ماریلینا آرمیلین نے دستخط کیے۔ اس موقع پر اطالوی ترقیاتی تعاون ایجنسی، وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق اور صوبائی محکمہ جاتِ زراعت کے اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔
اس منصوبے کا مقصد زرعی شعبے پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے پاکستان کے فنی و پیشہ ورانہ تعلیم و تربیت (ٹی وی ای ٹی) کے نظام کو مضبوط بنانا ہے۔ اس کے لیے زرعی ویلیو چینز میں پیشہ ورانہ مہارتوں، تکنیکی سرٹیفکیشن اور جدت کو فروغ دیا جائے گا۔
42 ماہ پر محیط اس پروگرام کے تحت کسانوں، زرعی توسیعی خدمات (ایکسٹینشن) کے عملے، تربیت کاروں اور دیگر متعلقہ افراد کو جدید اور مارکیٹ کی ضروریات سے ہم آہنگ تربیت فراہم کی جائے گی، جس کا مقصد زرعی پیداوار میں اضافہ، پائیدار کاشتکاری کے فروغ اور دیہی آبادی کے معیارِ زندگی میں بہتری لانا ہے۔
اس منصوبے میں زیادہ قدر والی زرعی فصلوں اور ایگرو فوڈ ویلیو چینز کی ترقی کو ترجیح دی جائے گی۔ تربیتی پروگرام میں باغبانی سے متعلق فصلوں کی پیداوار، پروسیسنگ اور مارکیٹنگ شامل ہوگی۔ اس کے لیے زیتون، پستہ، کھجور، مشروم، چیری، انگور، آڑو اور بادام جیسی فصلوں پر توجہ دی جائے گی، جبکہ جدید زرعی طریقوں کے حوالے سے اٹلی کی مہارت سے بھی استفادہ کیا جائے گا۔
وزارتِ اقتصادی امور کے مطابق اس پروگرام کے تحت 720 تربیتی کورسز کرائے جائیں گے، جن سے تقریباً 18 ہزار 398 افراد مستفید ہوں گے، جن میں کسان، خواتین، نوجوان اور تربیت کار شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 11 معیاری تربیتی نصاب بھی تیار کیے جائیں گے۔
منصوبے کے تحت 12 ماڈل باغات اور نرسریاں، ماحولیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ ٹیکنالوجی سے آراستہ 8 ایکو ویلیجز، 5 ایگرو فوڈ پروسیسنگ یونٹس اور دو قومی مراکزِ امتیاز (نیشنل سینٹرز آف ایکسیلینس ) قائم کیے جائیں گے۔ یہ مراکز پنجاب کے سرگودھا میں ترشاوہ پھلوں (سٹرس) اور بلوچستان کے تربت میں کھجور کی فصل کے لیے قائم ہوں گے۔
اس منصوبے پر عمل درآمد پاکستان آئل سیڈز ڈیپارٹمنٹ صوبائی محکمہ جاتِ زراعت کے تعاون سے کرے گا۔
حکومت کے مطابق اس منصوبے سے دیہی علاقوں میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، کسانوں کی آمدنی میں اضافہ ہوگا، فصلوں کی برداشت کے بعد ہونے والے نقصانات میں کمی آئے گی، کسانوں کی کوآپریٹو تنظیمیں مضبوط ہوں گی اور پاکستان کے زرعی شعبے کی مسابقتی صلاحیت بہتر ہوگی۔
حکومت کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ پاکستان اور اٹلی کے درمیان دیرینہ ترقیاتی شراکت داری کی عکاسی کرتا ہے اور اس امر کا مظہر ہے کہ دونوں ممالک دوطرفہ تعاون کے ذریعے پائیدار زرعی ترقی، مہارتوں کے فروغ اور جامع معاشی نمو کے لیے پرعزم ہیں۔






















Comments