ایران نے اس بات کی تردید کی ہے کہ اس نے اپنے جوہری پروگرام پر کسی قسم کی بات چیت شروع کی ہے یا بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے معائنہ کاروں کو دوبارہ ملک میں آنے کی اجازت دینے پر اتفاق کیا ہے
امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ مفاہمت، جس میں پاکستان نے مبینہ طور پر سہولت کاری کا کردار ادا کیا ہے، نہ صرف خطے میں کشیدگی میں کمی کی علامت ہے بلکہ اسلام آباد کے لیے ایک نادر سفارتی موقع بھی پیش کرتی ہے
تاہم اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان اس سفارتی پیش رفت کو محض علامتی کامیابی کے طور پر دیکھے گا یا اسے ٹھوس معاشی، تزویراتی اور علاقائی فوائد میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہو سکے گا
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا، ’’یہ خبریں کہ اسلامی جمہوریہ ایران اور امریکہ نے چند روز قبل ایک دوسرے سے بات چیت بند کر دی ہے، جھوٹی اور گمراہ کن ہیں۔‘‘