پہلی مالیاتی کلوزنگ مکمل، حکومت نے پی آئی اے کا کنٹرول انویسٹر کنسورشیم کو سونپ دیا
- پہلی کلوزنگ کے تحت کنسورشیم نے 10 ارب روپے ادا کر دیے، نجکاری کمیشن
حکومت نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کارپوریشن لمیٹڈ (پی آئی اے سی ایل) کی نجکاری کی پہلی مالیاتی کلوزنگ مکمل ہونے پر اس کا انتظامی کنٹرول عارف حبیب کارپوریشن لمیٹڈ کی سربراہی میں قائم سرمایہ کار کنسورشیم کے حوالے کر دیا ہے۔
نجکاری کمیشن نے ایک بیان میں بتایا کہ یہ منتقلی شیئر پرچیز اینڈ سبسکرپشن ایگریمنٹ (ایس پی ایس اے) کے تحت تمام لازمی شرائط پوری ہونے کے بعد عمل میں آئی ہے۔پہلی کلوزنگ کے تحت کنسورشیم نے طے شدہ فروخت کی رقم کے حصے کے طور پر حکومت کو 10 ارب روپے ادا کیے ہیں، جبکہ ایئرلائن کی مالی حالت مضبوط کرنے، فضائی بیڑے کی توسیع و جدت، روٹ نیٹ ورک بڑھانے اور آپریشنز کو بہتر بنانے کے لیے پی آئی اے سی ایل میں 80 ارب روپے کی نئی ایکویٹی شامل کی ہے۔
نجکاری کا یہ سودا، جسے 23 دسمبر 2025 کو ہونے والی بولی کے ذریعے حتمی شکل دی گئی تھی، مجموعی طور پر 180 ارب روپے کی سرمایہ کاری کے عزم پر مبنی ہے۔ اس میں پی آئی اے سی ایل میں حکومتی حصص کے لیے 55 ارب روپے اور ایئرلائن کے لیے 125 ارب روپے کا نیا سرمایہ شامل ہے۔
دوسری مالیاتی کلوزنگ اگلے 12 ماہ کے اندر ہوگی، جس کے تحت کنسورشیم پی آئی اے سی ایل میں مزید 45 ارب روپے داخل کرے گا۔ اس کے علاوہ کنسورشیم نے معاہدے (ایس پی ایس اے) کی شرائط کے مطابق مزید 45 ارب روپے کے عوض ایئرلائن کے بقیہ 25 فیصد حصص حاصل کرنے کے لیے اپنا کال آپشن بھی استعمال کر لیا ہے۔
نجکاری کمیشن کا کہنا ہے کہ اس لین دین کے لیے متعدد شرائط کو پورا کرنا ضروری تھا، جن میں ریگولیٹری منضوریاں، ایوی ایشن پالیسی اصلاحات، طیاروں کی فنانسنگ کے انتظامات، گورننس میں تبدیلیاں، ماضی کے واجبات سے متعلق ٹیکسوں کی تنظیم نو اور تجارتی رضامندیاں شامل تھیں۔
نجکاری کے لیے وزیرِ اعظم کے مشیر محمد علی نے کہا کہ یہ سودا اقتصادی اصلاحات اور نجی شعبے کی زیادہ سے زیادہ شمولیت کے لیے حکومت کے پختہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔






















Comments