غیر قانونی سیمنٹ فیکٹری سیل، مینوفیکچررز کا خیرمقدم
- غیرقانونی سیمنٹ سازی نہ صرف ٹیکس چوری کے ذریعے خزانے کو بھاری نقصان پہنچاتی ہے بلکہ ماحولیاتی، معیار، حفاظت اور دیگر ریگولیٹری تقاضوں کو نظرانداز کرتی ہے
آل پاکستان سیمنٹ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن نے سرگودھا فیصل آباد روڈ پر روہڑی سیمنٹ سے منسلک میسرز ریڈ بُل سیمنٹ کے نام سے کام کرنے والی ایک غیر قانونی سیمنٹ مینوفیکچرنگ یونٹ کے خلاف متعدد ایجنسیوں کے مشترکہ کریک ڈاؤن کا خیرمقدم کیا ہے۔
سیمنٹ مینوفیکچررز نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)، انوائرنمنٹ پروٹیکشن ایجنسی (ای پی سے) اور ڈسٹرکٹ انڈسٹریز ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے میسرز ریڈ بُل کو تحریری احکامات کے ذریعے اس غیر مجاز یونٹ کے خلاف بروقت اور فیصلہ کن کارروائی کرنے پر ان کی کوششوں کو سراہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، متعلقہ حکام نے تفصیلی معائنے کے بعد پایا کہ یہ یونٹ قانون کے تحت درکار لازمی منظوریوں، رجسٹریشن، ماحولیاتی کلیئرنس اور دیگر قانونی اجازت ناموں کے بغیر کام کر رہا تھا جس کے پیشِ نظر حکام نے احاطے کو سیل کرکے آپریشن معطل کردیا ہے۔
ایسوسی ایشن نے منگل کو یہاں جاری اپنے بیان میں قانون کی حکمرانی کو برقرار رکھنے اور جائز کاروباروں کے تحفظ کے لیے متعلقہ سرکاری اداروں کے عزم کو سراہا۔
بیان میں کہا گیا کہ غیرقانونی سیمنٹ سازی نہ صرف ٹیکس چوری کے ذریعے قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچاتی ہے بلکہ ماحولیاتی، معیار، حفاظت اور دیگر ریگولیٹری تقاضوں کو نظرانداز کرکے منصفانہ مسابقت کو بھی نقصان پہنچاتی ہے جن کی پابندی قانون پر عمل کرنے والے مینوفیکچررز پر لازم ہوتی ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026



















Comments