BR100 Decreased By (-0.72%)
BR30 Decreased By (-1.31%)
KSE100 Decreased By (-0.65%)
KSE30 Decreased By (-0.6%)
BAFL 56.50 Decreased By ▼ -0.37 (-0.65%)
BIPL 24.80 Decreased By ▼ -0.16 (-0.64%)
BOP 30.15 Decreased By ▼ -0.20 (-0.66%)
CNERGY 13.00 Decreased By ▼ -0.12 (-0.91%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 187.81 Decreased By ▼ -4.64 (-2.41%)
FABL 93.90 Decreased By ▼ -0.24 (-0.25%)
FCCL 52.40 Decreased By ▼ -0.39 (-0.74%)
FFL 14.50 Decreased By ▼ -0.22 (-1.49%)
GGL 19.19 Decreased By ▼ -0.37 (-1.89%)
HBL 304.00 Decreased By ▼ -2.10 (-0.69%)
HUBC 199.30 Decreased By ▼ -2.12 (-1.05%)
HUMNL 9.91 Decreased By ▼ -0.25 (-2.46%)
KEL 6.05 Decreased By ▼ -0.04 (-0.66%)
LOTCHEM 26.35 Decreased By ▼ -0.11 (-0.42%)
MLCF 91.35 Decreased By ▼ -1.81 (-1.94%)
OGDC 313.97 Decreased By ▼ -2.76 (-0.87%)
PAEL 35.24 Decreased By ▼ -0.39 (-1.09%)
PIBTL 14.74 Increased By ▲ 0.06 (0.41%)
PIOC 240.45 Decreased By ▼ -2.76 (-1.13%)
PPL 221.24 Decreased By ▼ -5.67 (-2.5%)
PRL 91.30 Decreased By ▼ -1.72 (-1.85%)
SNGP 91.38 Decreased By ▼ -0.46 (-0.5%)
SSGC 23.25 Decreased By ▼ -0.56 (-2.35%)
TELE 7.60 Decreased By ▼ -0.20 (-2.56%)
TPLP 12.70 Decreased By ▼ -0.27 (-2.08%)
TRG 55.95 Decreased By ▼ -0.61 (-1.08%)
UNITY 8.02 Decreased By ▼ -0.05 (-0.62%)
WTL 1.01 No Change ▼ 0.00 (0%)
کاروبار اور معیشت

آفات سے نمٹنے کے لیے فنڈنگ بڑھا دی گئی

  • بجٹ دستاویز کے مطابق ماحولیاتی ہم آہنگی کے فنڈز 85.44 سے کم کر کے 70.46 ارب اور نقصانات میں کمی کا بجٹ 603 سے گھٹا کر 124.07 ارب روپے کر دیا گیا
شائع اپ ڈیٹ

وفاقی حکومت نے بجٹ 2026-27 میں ماحولیات کے اہم شعبوں کے فنڈز میں کمی کر دی ہے، تاہم قدرتی آفات سے نمٹنے کے فنڈز میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔

اس کے ساتھ ہی 50 ارب روپے کا کلائمیٹ سپورٹ لیوی لگانے کی تجویز دی گئی ہے اور ماحول دوست اقدامات کے لیے 476 ارب روپے کی گرین سبسڈیز مختص کی گئی ہیں۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق ماحولیاتی مطابقت کے فنڈز 85.44 ارب روپے سے کم کرکے 70.46 ارب روپے اور ماحولیاتی نقصانات میں کمی کے فنڈز 603 ارب سے نچلی ترین سطح یعنی 124.07 ارب روپے پر لا دیے گئے ہیں۔ اس کے برعکس آفات سے نمٹنے کی تیاریوں کے فنڈز بڑھا کر 42.84 ارب روپے کر دیے گئے ہیں اور ہنگامی امداد کے بجٹ کو دگنا کرکے 32.77 ارب روپے کر دیا گیا ہے۔ بحالیِ نو کے لیے 21.49 ارب روپے، جبکہ تعمیرِ نو کے لیے 19.14 ارب روپے کی نئی رقم رکھی گئی ہے۔ اس کے علاوہ قدرتی آفات کے لیے 20 ارب روپے کا ہنگامی فنڈ بھی مختص کیا گیا ہے۔

دوسری جانب مجموعی گرین سبسڈیز میں سے سب سے بڑا حصہ یعنی 423 ارب روپے توانائی کے شعبے کو دیے جائیں گے۔ شعبہ زراعت کے لیے 21 ارب، خوراک کے لیے 19 ارب، صنعت کے لیے 8 ارب اور ٹرانسپورٹ کے شعبے کے لیے 5 ارب روپے کی ماحول دوست سبسڈیز تجویز کی گئی ہیں۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ بجٹ میں براہ راست ماحولیاتی فنڈز میں کمی لیکن آفات سے نمٹنے کے بجٹ میں بھاری اضافہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ حکومت کا اصل فوکس اب ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات اور سیلاب یا ہیٹ ویو جیسی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے پر ہے۔ تاہم ان اقدامات کی کامیابی کا دارومدار ان پر عملدرآمد اور متاثرہ کمیونٹیز تک ریلیف پہنچانے پر ہوگا۔

Comments

200 حروف