پاکستانیوں کی اکثریت سوشل میڈیا انفلوئنسرز پر 5 فیصد ٹیکس کی حامی،سروے
- فنانس بل 2026 میں اس تجویز کے اعلان کے بعد کیے گئے آن لائن سروے میں 45 مرد اور 55 خواتین نے حصہ لیا۔
پریس نیٹ ورک آف پاکستان (پی این پی) کی جانب سے جاری کیے گئے ایک سروے کے مطابق پاکستان میں اکثریت سوشل میڈیا انفلوئنسرز کی آمدنی پر حکومت کی مجوزہ 5 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس کی حمایت کرتی ہے، تاہم زیادہ تر افراد نے چھوٹے کانٹینٹ کریئیٹرز کو ٹیکس سے استثنا دینے کی بھی سفارش کی ہے۔
فنانس بل 2026 میں اس تجویز کے اعلان کے بعد کیے گئے آن لائن سروے میں 45 مرد اور 55 خواتین نے حصہ لیا۔
سروے کے مطابق شرکا کی اکثریت نے انفلوئنسرز پر ٹیکس عائد کرنے کے اصول کی حمایت کی، تاہم اس بات پر بھی زور دیا کہ ٹیکس پالیسی ایسی ہونی چاہیے جو نوجوان کاروباری افراد اور ابھرتے ہوئے ڈیجیٹل کانٹینٹ کریئیٹرز کی حوصلہ شکنی نہ کرے۔
حکومت نے فنانس بل 2026 میں سوشل میڈیا انفلوئنسرز اور ڈیجیٹل کانٹینٹ کریئیٹرز کی آمدنی پر 5 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے حاصل ہونے والی آمدنی کو باضابطہ ٹیکس نظام میں شامل کر کے حکومتی محصولات میں اضافہ کرنا ہے۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے حکام کے مطابق ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے حاصل ہونے والی آمدنی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، تاہم اس کا بڑا حصہ اب بھی ٹیکس نیٹ سے باہر ہے۔ حکومت کا اندازہ ہے کہ پاکستان میں سوشل میڈیا سرگرمیوں سے سالانہ 4 ارب سے 10 ارب روپے تک آمدنی حاصل ہوتی ہے۔
سروے کے مطابق شرکا نے انفلوئنسرز کی آمدنی پر مجوزہ 5 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس کے حق میں اوسطاً 5 میں سے 3.42 نمبر دیے، جو اس تجویز کی مجموعی حمایت کو ظاہر کرتا ہے۔
ٹیکس کے عمومی اصول کی حمایت اس سے بھی زیادہ مضبوط رہی، جہاں شرکا نے اس مؤقف کو کہ سوشل میڈیا انفلوئنسرز کو بھی دیگر کاروباری اداروں اور پیشہ ور افراد کی طرح ٹیکس ادا کرنا چاہیے، 5 میں سے اوسطاً 3.89 نمبر دیے۔
تاہم شرکا نے خدشہ ظاہر کیا کہ مجوزہ ٹیکس نوجوانوں کو ڈیجیٹل کانٹینٹ کریئیٹر بننے سے روک سکتا ہے۔ اس خدشے کو 5 میں سے 3.34 نمبر دیے گئے۔
سروے میں کم آمدنی والے کانٹینٹ کریئیٹرز کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دینے کی تجویز کو بھی بھرپور حمایت ملی، جسے اوسطاً 3.88 نمبر حاصل ہوئے۔
اسی طرح شرکا نے حکومت پر زور دیا کہ ٹیکس کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل کانٹینٹ کریئیٹرز کی حوصلہ افزائی کے لیے مراعات بھی متعارف کرائی جائیں۔ اس تجویز کو سب سے زیادہ 3.92 نمبر ملے۔
سروے کے مطابق 53.8 فیصد شرکا کا خیال ہے کہ مجوزہ ٹیکس سے سب سے زیادہ یوٹیوب کریئیٹرز متاثر ہوں گے، جبکہ 24.6 فیصد نے کہا کہ اس کا اثر تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر یکساں ہوگا۔ 9.2 فیصد نے انسٹاگرام، 6.2 فیصد نے ٹک ٹاک جبکہ 3.1، 3.1 فیصد نے بالترتیب فیس بک اور بلاگرز/ویب سائٹس کو زیادہ متاثر ہونے والا پلیٹ فارم قرار دیا۔
پی این پی کی رپورٹ کے مطابق پاکستانی عوام مجموعی طور پر اس بات کی حامی ہے کہ سوشل میڈیا انفلوئنسرز بھی قومی ٹیکس نظام میں اپنا حصہ ڈالیں، تاہم ٹیکس پالیسی منصفانہ ہونی چاہیے اور اس کے ساتھ ایسی حکومتی پالیسیاں بھی متعارف کرائی جائیں جو جدت، ڈیجیٹل معیشت اور نوجوان کاروباری افراد کی حوصلہ افزائی کریں، نہ کہ ان کی ترقی میں رکاوٹ بنیں۔























Comments