تجارتی جہازوں پر تازہ حملوں، اور اس کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان دوبارہ فوجی جھڑپوں نے مارکیٹ کو یاد دلایا کہ آبنائے ہرمز اگرچہ کھلی ہے، لیکن اب بھی محفوظ نہیں۔
تازہ حملوں میں ایرانی میزائل اور ڈرون تنصیبات، بحری عسکری صلاحیتیں، اسلحہ ذخیرہ کرنے کے مراکز، مواصلاتی نیٹ ورک اور ساحلی نگرانی کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔