تین ڈسکوز کی نجکاری کے لیے عالمی سرمایہ کاروں سے رابطہ مہم شروع
- چین کے دورے کے دوران وفد کو سی پیک کے تحت قائم چینی آئی پی پیز کے واجبات سے متعلق سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی کی سربراہی میں پاکستانی وفد نے تین بڑی بجلی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کی نجکاری کے لیے غیر ملکی سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کی مہم شروع کر دی ہے، تاہم چین کے دورے کے دوران وفد کو پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت قائم چینی آئی پی پیز کے واجبات سے متعلق سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
وفد ترکیہ کے دورے کے بعد اب چین اور سعودی عرب جائے گا، جہاں اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئیسکو)، فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (فیسکو) اور گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی (گیپکو) کی نجکاری کے مواقع سرمایہ کاروں کے سامنے پیش کیے جائیں گے۔
محمد علی نے کہا کہ انہیں اس بات کا ادراک ہے کہ چینی آئی پی پیز کو ادائیگیوں میں تاخیر نئے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کر سکتی ہے۔ ان کے بقول انہوں نے سنجیدگی سے غور کیا تھا کہ آیا موجودہ حالات میں چینی سرمایہ کاروں سے رابطہ کرنا مناسب ہوگا یا نہیں، تاہم حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ سرمایہ کاروں کو ضروری یقین دہانی کرائی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت اس بات کو یقینی بنائے گی کہ چینی سرمایہ کاروں کے بقایا واجبات کو آئندہ سرکاری ادائیگیوں میں ایڈجسٹ کیا جا سکے تاکہ ان کے تحفظات دور ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ نجکاری کے معاہدے اس انداز میں ترتیب دیے جائیں گے کہ سرمایہ کاروں کے مفادات مکمل طور پر محفوظ رہیں۔
سرکاری تخمینوں کے مطابق سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے-جی) پر چینی آئی پی پیز کے تقریباً 560 ارب روپے واجب الادا ہیں۔ یہ صورتحال بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی کمزور وصولیوں اور گردشی قرضے میں اضافے کے باعث پیدا ہوئی ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت نے چینی آئی پی پیز کو دیگر بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کی طرز پر رعایت دینے کی تجویز دی ہے تاکہ 1.225 کھرب روپے کی بینک فنانسنگ کے ذریعے بقایا ادائیگیاں کی جا سکیں، تاہم چینی کمپنیوں نے اب تک اس تجویز پر آمادگی ظاہر نہیں کی۔ ان کا مؤقف ہے کہ اس حوالے سے حتمی فیصلہ بیجنگ میں متعلقہ حکام کریں گے، اس لیے پاکستان کو براہ راست چینی حکومت سے بات کرنا ہوگی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حالیہ پاک چین مذاکرات میں بجلی خریداری کے معاہدوں پر نظرثانی کا معاملہ بھی زیر بحث آیا، مگر اس حوالے سے کوئی نمایاں پیش رفت نہیں ہو سکی۔ حکام کے مطابق حکومت کی نجکاری مہم کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ وہ سرمایہ کاروں کے ادائیگیوں کے تحفظ، معاہدوں کے استحکام اور توانائی کے شعبے میں اصلاحات سے متعلق خدشات کس حد تک دور کر پاتی ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026























Comments