بے احتسابی کی قیمت
- جمعرات کی پریس کانفرنس میں اختیار کیا گیا غیر معمولی حد تک معذرت خواہانہ لہجہ اس سانحے کی سنگینی کی عکاسی کرتا ہے
پنجاب پولیس اور کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کے اعلیٰ حکام کی جانب سے جمعرات کی پریس کانفرنس میں اختیار کیا گیا غیر معمولی حد تک معذرت خواہانہ لہجہ اس سانحے کی سنگینی کی عکاسی کرتا ہے، جس نے پورے ملک کو صدمے میں مبتلا کر دیا ہے۔
یہ تسلیم کرتے ہوئے کہ سی سی ڈی کے اہلکاروں نے چکوال میں ایک خاندان کی گاڑی پر غلطی سے فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں نو سالہ ہانیہ جاں بحق ہو گئی جبکہ اس کے والد اور بھائی زخمی ہوئے، حکام نے اس واقعے کو مجرمانہ غفلت اور ناکافی تربیت کا نتیجہ قرار دیا۔ انہوں نے ایک آزادانہ تحقیقات کا وعدہ کیا اور عوام کو یقین دلایا کہ ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ تاہم، اگرچہ غلطی کا اعتراف قابلِ ستائش ہے، لیکن اس کی جو وضاحتیں پیش کی گئیں، وہ جواب دینے سے کہیں زیادہ نئے سوالات کو جنم دیتی ہیں۔
سرکاری مؤقف کہ یہ سانحہ بنیادی طور پر تربیت کی کمی کا نتیجہ تھا، مکمل وضاحت کے طور پر قبول کرنا مشکل ہے۔ تربیت کی خامیوں نے شاید اس بات میں کردار ادا کیا ہو کہ ایک اہلکار صورتِ حال کا درست اندازہ نہ لگا سکا، لیکن یہ اس بات کی وضاحت نہیں کرتیں کہ محض شک کی بنیاد پر ایک شہری گاڑی پر مہلک طاقت کیوں استعمال کی گئی۔ اس نوعیت کا طرزِ عمل ایک زیادہ گہرے مسئلے کی نشاندہی کرتا ہے: پولیسنگ کی ایسی ثقافت، جس میں مہلک طاقت کا استعمال معمول بنتا جا رہا ہے، اور احتیاط، تصدیق اور قانونی گرفتاری جیسے بنیادی اصول پسِ پشت ڈال دیے گئے ہیں۔
اس لیے یہ کوئی حیرت کی بات نہیں کہ سرکاری سطح پر اس قدر ندامت اور معذرت کا اظہار صرف اس وقت سامنے آیا جب شدید عوامی غم و غصہ اور بین الاقوامی توجہ نے دباؤ پیدا کیا۔ مقتولہ ایک آسٹریلوی شہری تھی، اور آسٹریلیا کے وزیراعظم انتھونی البانیز نے بھی اس قتل کی شفاف تحقیقات کا عوامی طور پر مطالبہ کیا تھا۔ اس نتیجے سے بچنا مشکل ہے کہ اگر مقتولہ ایک عام پاکستانی بچی ہوتی، جس کی موت پر نہ بین الاقوامی توجہ حاصل ہوتی اور نہ ہی سفارتی دباؤ پیدا ہوتا، تو شاید حکومتی ردعمل اتنا فوری یا کھلا نہ ہوتا۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ احتساب کا انحصار کبھی بھی شہریت، میڈیا کی توجہ یا سفارتی دباؤ پر نہیں ہونا چاہیے۔ ریاستی تشدد کا ہر غیر قانونی شکار یکساں انصاف کا حق دار ہے۔
چکوال کا یہ سانحہ کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کے انکاؤنٹر پر مبنی جرائم پر قابو پانے کے طریقۂ کار سے متعلق دیرینہ خدشات کے تناظر میں بھی دیکھا جانا چاہیے۔ صرف پنجاب میں ہی اپریل سے دسمبر 2025 کے دوران سی سی ڈی کی قیادت میں ہونے والے 670 دستاویزی انکاؤنٹرز میں کم از کم 924 مشتبہ افراد مارے گئے۔ رواں سال بھی صوبے بھر میں مختلف مبینہ انکاؤنٹرز میں متعدد مشتبہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں طویل عرصے سے پنجاب میں پولیس مقابلوں میں مارے جانے والے مشتبہ افراد کی بڑی تعداد اور مشتبہ افراد اور پولیس کے جانی نقصانات کے درمیان نمایاں فرق پر سوالات اٹھاتی رہی ہیں۔ ایسے اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ماورائے عدالت ہلاکتیں اب غیر معمولی واقعات کے بجائے ادارہ جاتی رویہ بنتی جا رہی ہیں۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ آیا قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ایسے حالات میں بھی مہلک طاقت استعمال کرنے کی آزادی دے دی گئی ہے، جہاں اصولی طور پر گرفتاری، تفتیش اور قانونی کارروائی کو ترجیح ملنی چاہیے۔
عوامی تحفظ انصاف کے نظام کو نظرانداز کر کے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ قانونی تقاضوں کی تکمیل مؤثر قانون نافذ کرنے میں رکاوٹ نہیں ہے، اگرچہ اکثر یہ شکایت کی جاتی ہے کہ عدالتیں مشتبہ افراد کو آسانی سے رہا کر دیتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہی قانونی تقاضے جائز اور قانونی پولیسنگ کی بنیاد ہیں۔ انصاف کا حقیقی پیمانہ یہ نہیں کہ کتنے مشتبہ افراد مارے گئے، بلکہ یہ ہے کہ ریاست اپنے سامنے آنے والے ہر فرد کے قانونی حقوق اور انسانی وقار کا کس حد تک احترام کرتی ہے۔ ننھی ہانیہ کی المناک موت اس اصول کو ترک کرنے کی قیمت کی دل دہلا دینے والی یاد دہانی ہے۔ اگر اس سانحے سے کوئی دیرپا سبق حاصل کیا جا سکتا ہے، تو وہ احتساب، قانون کی حکمرانی اور اس بنیادی اصول سے نئی وابستگی ہونی چاہیے کہ کسی بھی شخص کو مناسب قانونی عمل مکمل کیے بغیر زندگی سے محروم نہیں کیا جانا چاہیے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026























Comments