ایران معاہدے پر خلیجی اتحادیوں سے مشاورت، مارکو روبیو یو اے ای، کویت اور بحرین کا دورہ کریں گے، ترجمان محکمہ خارجہ
- علاقائی حکام کے لیے خاص طور پر تشویش کا باعث ایک معاملہ تہران کے لیے 300 ارب ڈالر کے ممکنہ تعمیرِ نو فنڈ کا قیام ہے
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو منگل سے جمعرات تک متحدہ عرب امارات، کویت اور بحرین کا دورہ کریں گے، جس کے دوران ٹرمپ انتظامیہ کو ایران کے ساتھ طے پانے والے ابتدائی معاہدے کی تفصیلات اپنے خلیجی عرب اتحادیوں کے سامنے براہِ راست پیش کرنے کا موقع ملے گا۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے پیر کو بتایا کہ بحرین میں قیام کے دوران روبیو خلیج تعاون کونسل ( جی سی سی) کے رہنماؤں سے بھی ملاقات کریں گے۔ اس چھ ملکی اتحاد میں سعودی عرب، قطر اور عمان بھی شامل ہیں۔
اگرچہ جی سی سی کے رہنماؤں نے عمومی طور پر امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کی کوششوں کی حمایت کی ہے، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گزشتہ ہفتے دستخط کیے گئے مفاہمتی معاہدے کی بعض مخصوص شقوں پر انہیں شدید تحفظات لاحق ہیں۔
علاقائی حکام کے لیے خاص طور پر تشویش کا باعث تہران کے لیے 300 ارب ڈالر کے ممکنہ تعمیرِ نو فنڈ کا قیام ہے۔ خلیجی رہنماؤں کا خیال ہے کہ ایران اس رقم کو اپنی عسکری صلاحیت کی بحالی اور خطے میں اپنے اتحادی گروہوں کی مالی معاونت کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔
اسی طرح مفاہمتی معاہدے میں ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کا کوئی واضح ذکر نہ ہونا بھی واشنگٹن کے خلیجی اتحادیوں کے لیے باعثِ تشویش ہے، کیونکہ حالیہ مہینوں میں وہ ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کی زد میں آتے رہے ہیں۔
متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، کویت، بحرین اور قطر میں امریکی فوجی اڈے موجود ہیں، جو مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کے سکیورٹی نظام کی بنیاد سمجھے جاتے ہیں۔ اگر ان ممالک میں سے کوئی بھی امریکہ کے ساتھ اپنے سکیورٹی تعلقات پر نظرثانی کرتا ہے، خواہ محدود پیمانے پر ہی کیوں نہ ہو، تو اس کے خطے میں امریکی عسکری حکمتِ عملی پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
مارکو روبیو کا یہ دورہ ایران سے متعلق سفارتی سرگرمیوں میں تیزی کے پس منظر میں ہو رہا ہے۔ بدھ کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون سے ورسائی میں ملاقات کے دوران ایران سے متعلق مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت واشنگٹن اور تہران کو ایک جامع معاہدے تک پہنچنے کے لیے 60 روز کی مہلت حاصل ہو گئی ہے۔
ادھر ہفتے کے اختتام پر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں امریکی مذاکراتی ٹیم نے سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکرات میں شرکت کی، جن کی ثالثی قطر اور پاکستان کے حکام نے کی۔ ان مذاکرات کا پہلا دور پیر کو اختتام پذیر ہوا، جبکہ تکنیکی سطح پر بات چیت پورے ہفتے جاری رہنے کی توقع ہے۔
روبیو کے دورے کی تفصیلات، بشمول متحدہ عرب امارات، کویت اور بحرین میں ان کی ملاقاتوں کے درست اوقات اور وہ کن رہنماؤں اور حکام سے ملاقات کریں گے، فوری طور پر سامنے نہیں آ سکیں۔






















Comments